جماعت اسلامی کی شکست: تاریخ، وجوہات، حل (2) —- محمد معاویہ

0
  • 42
    Shares

گذشتہ سے پیوستہ (اس مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے)

جماعت اپنی بقا اور نَشو نُما چاہتی ہے تو بہت تفصیل سے اندرونی اصلاحات کرے۔
فرد، معاشرہ، دعوت، تنظیم، تحریک، سیاست، دستور، مناصب، ذمہ داران، ارکان، شوریٰ اور مجلسِ عاملہ؛
اِن سب مُعاملات پر اپنی روایات اور طرزِعمل کا دیانتدارانہ تجزیہ کرے اور بدلتے دور کے مُطابق ضروری فیصلے کرے۔

تھرڈ پارٹی آڈٹ مثلاً عوام اور معاشرے کے مُختلف طبقات سے اپنے بارے میں مجموعی تأثر، عدم قبولیت کی وجوہات اور ناکامیوں کا تفصیلی سروے کروائے۔ پلاننگ اور مؤثر حکمتِ عملی کے لئے اپنے کارکنان کے علاوہ دوسرے طبقات کی آراء کو بھی مشاورتی عمل سے گُزارے تاکہ ہماری پالیسی ہر طرح کے سُقم سے پاک ہو۔

پلاننگ کرنے اور حکمتِ عملی ترتیب دے لینے کے بعد حتمی منظوری سے پہلے اس پر تفصیلی بحث کروائی جائے، تجاویز، تبصرے اور مزید بہتری کے لئے ارکان میں اوپن ڈسکشن کروائی جائے اور خُوب شرح صدر ہو جانے کے بعد ایک جامع پلیسی تشکیل دی جائے اور پھر دس پندرہ سال یا اھداف کے حصول تک اس پر یکسُو ہو کر کام کیا جائے۔ میری دانست میں پلاننگ فیز 6 ماہ بھی چلتا رہے تو کوئی حرج نہیں لیکن اس بار یہ طے ہو کہ ہم اندرونی اصلاحات کر کے رہیں گے۔

تاریخ میں حالات کا رُخ بدلنے میں نوجوان لِیڈر شپ کا فیصلہ کُن کردار رہا ہے۔ سیدنا اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، محمد بن قاسم، طارق بن زیاد، صلاح الدین ایوبی اور تاریخ کی کئی دیگر شخصیات کا مُطالعہ کرلیں کہ اُنہوں نے اپنی عُمر کے کس حصے میں کیا کیا کارہائے نُمایاں سرانجام دیے۔
ہر سطح پرکم فہم اور سُست لوگوں کوفارغ کریں؛ اوسط ذھنی سطح کی ناکارہ لیڈرشپ کی بجائے یُونین کونسل، زون، شہر، ضلعی اور صوبائی و مرکزی سطح پر جدید دور کے چیلنجز سے نپٹنے والی نوجوان قیادت سامنے لائی جائے۔

میچوریٹی یا زھنی پُختگی کا تعلق عُمر رسیدہ ہونے سے نہیں بلکہ مُطالعہ، تعلق باللہ، فکری بالیدگی، حالاتِ حاضرہ پر نظر اور قوتِ فیصلہ سے ہے۔ ہم شہر، ضلع یا صُوبائی امیر لگانے کے لئے اُس کے بالوں کی سُفیدی کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ جماعت کی پالیسیاں جس نہج پر چل رہی ہوتی ہیں بندہ اپنے آپ سے چومُکھی لڑائی لڑتے لڑتے اور عُمر کے اُس پہر تک پہنچتے پہنچتے ویسے ہی زھنی طور پر تھک چُکا ہوتا ہے اورکسی قدرمایُوس بھی۔

جماعت اپنے ارکان کے لئے ایسے بریفنگ سیشنز کا انتخاب بھی کرے جن میں ارکان کو ممبرانِ شُوریٰ کے انتخاب کی اہمیت اور بہترین افراد کی سلیکشن کی ضرورت پر رہنمائی دی جائے۔ فیصلہ سازی کا فورم جس قدر باصلاحیت اور مؤثر ہوگا جماعت کی مجموعی کارکردگی اُتنی ہی بہتر ہوجائیگی۔

عمومی طور پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر کوئی امیرِ ضلع یا قیم یا مشہور لِیڈر رُکنِ شُوریٰ مُنتخب نہیں ہو سکا تو اُسے بعد ازاں نامزد رُکنِ شُوریٰ کے طور پر شُوریٰ میں لے لیا جاتا ہے۔ یہ روایت ختم کرکے اگر مجلسِ شُوریٰ کی تیس فیصد نشستیں ارکان میں سے مُختلف امور کے ماہرین، برادر تنظیمات اور بیرونِ مُمالک حلقہ جات مثلاً اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ یا دیگر کے لئے مُختص کردی جائیں تو فیصلہ سازی کے فورم میں تحریک کے سبھی طبقات کی نُمائندگی بھی ہو جائیگی اور بہت سے وسیع النظر اور قابل افراد ہمارے فیصلہ سازی کے فورم کا حصہ بھی بن جائینگے۔ ہرمَنصب پر بہترین اور باصلاحیت افراد کی تعیناتی سے ہی تنظیم اور اس کے اداروں کو کارکردگی کا بہترین ماڈل بنایا جاسکتا ہے۔

فرد اور معاشرے کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر پلاننگ کریں؛ یہ سوال سب سے اہم ہے کہ ہم کیسا معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں؟ معاشرے کے مُختلف طبقات کے مسائل اور تقاضے مُختلف ہیں ان سب کو اچھی طرح سمجھ کر ان سب کی مدد سے ایک مثبت معاشرے کی تشکیل میں ہم کیسے ایک مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں؟

یہ واضح رہے کہ اسلامی انقلاب ہمارا مطمع نظر تو ہو سکتا ہے لیکن معاشرے کا مُطالبہ نہیں؛ ہمیں ایک مُسلم معاشرے اور دارالکُفر میں کام کے فرق کو سمجھنے کی بھی از سرِ نَو ضرورت ہے۔

معاشرے کی ترجیحات کو سمجھ کر جب تک ہم اپنے قائدانہ کردار کا تعین نہیں کریں گے تب تک ہمیشہ دریا کے ایک کنارے پر ہم اور دُوسرے پر معاشرہ ایکدوسرے کو حیرت زدہ تکتے رہیں گے۔
عوام ہمارے اسلامی انقلاب کے فلسفے پر جَلد یا بَدیر کبھی نہیں آئینگے۔ ایک مثبت اور محفوظ مُعاشرے کی تشکیل کو ٹارگٹ کرکے محنت کی جائے تو یہ نتیجہ خیز ہو سکتی ہے۔

ہمیں اِس خوش فہمی سے نکلنا ہوگ کہ ہم مُعاشرے سے بہت بہتر لوگ ہیں۔ یہ سوچ تَعلّی، خود ستائشی اور تکبر کے زُمرے میں آتی ہے اور یہی سوچ ہمیں عوام میں گُھلنے مِلنے نہیں دیتی؛

اس کی بجائے اگر ہم یہ سوچ اپنائیں کہ معاشرے میں ہم سے بہت بہتر لوگ بھی موجود ہیں لیکن ہماری یہ اضافی ذمہ داری ہے کہ ہم اس معاشرے کو ایک بہتر معاشرہ بنانے کے لئے ان لوگوں کو احساس دلائیں، اپنے ساتھ جوڑیں، مُنظم کریں اور ایک بہتر، مثبت اور محفوظ مُعاشرے کی تشکیل کے لیے ملکر اپنا کردار ادا کریں۔ صرف سوچ کا زاویہ بدلنے سے ہی جدوجہد کی سمت اور نتائج مُختلف ہو سکتے ہیں۔

مُعاشرے کے مُختلف طبقات کی مثبت اور محفوظ مُعاشرے کی تشکیل میں مُعاونت اور ورکنگ ریلیشن شِپ قائم کرنے کے لے سوسائٹی کے مُختلف طبقات اور دانشوروں پر مُشتمل ڈِسکشن فورمز تشکیل دیے جائیں۔ میڈیا میں موجود ہمارے لوگ اس محاذ کو سنبھالیں۔ سیکولر دانشوروں کی اکثریت [چند ایک کو چھوڑ کر] مُسلمان ہی ہے اِن کو مجموعی طور پر بے دین سمجھنا غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ یہ لوگ دین سے بیزار نہیں بلکہ دینداروں کے کردار اور رویّوں کے ناقد ہیں۔

باہمی احترام، رواداری، برداشت، تہذیب و شائستگی اور دلیل سے اپنے نُقطۂ نظر کا اظہار وہ مُشترکہ نُکات ہو سکتے ہیں جن پر معاشرے کے تمام طبقاتِ فِکر اکٹھے ہوکر ایک مُتفقہ ضابطۂ اخلاق ترتیب دیں اور اِس پرعمل کریں تو مُعاشرے کو عدم برداشت کے نُقصانات سے بچایا جا سکتا ہے۔ عدم برداشت جِس درجہ کو پہنچ چُکا ہے اس کا مُظاہرہ حالیہ الیکشن کمپین میں سوشل میڈیا پر ہم سب دیکھ چُکے ہیں۔
مثبت معاشرے کی تشکیل میں ڈاکٹرز، وکلاء، تعلیمی اداروں کے سربراہان، اساتذہ وغیرہ کو بھی ساتھ مِلا کر اسے ایک مُلک گیر تحریک کی شکل دی جا سکتی ہے۔

ایلیٹ کلاس کو فوکس کرنے کی ضرورت ہے، ان کے بارے میں خواہ مخواہ یہ گُمان رکھنا کہ یہ لوگ دین بیزار ہیں ایک غلط گُمان ہے اور بد گمانی از خود ایک گُناہ ہے؛ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ جس ماحول میں پروان چڑھتے ہیں اُسی تہذیب و ثقافت کو اپنالیتے ہیں۔ ان لوگوں کے قریب ہونے اور ان میں مثبت مُعاشرے کا شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ پَلٹ جائیں تو معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لئے ہم سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

نوجوان نسل میں کام کے لیے پہلا مرحلہ اجنبیت کے خاتمے کا ہے۔ اس کے لئے اُنکی عُمر کے مطابق گلی محلوں اور رہائشی آبادیوں کی سطح پر کِڈزکلب، سپورٹس کلب، ٹورازم اینڈ ایڈونچرکلب، موٹرسائیکلنگ کلب، اور سوشل سروس کے کلب بنائیں تاکہ ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گُزارنے کا موقع مِل سکے۔
ان بچوں، طلبہ و طالبات اور نوجوانوں کی تربیت کے لئے ٹھنڈے مزاج کے ایسے نوجوانوں کا انتخاب کیا جائے جو خوش مزاج اور ہَنس مُکھ ہوں، نظریاتی طور پر یکسُو ہوں، علمی اور فکری طور پر مضبوط ہوں، مُستقل مزاج ہوں، دھیمے لہجے اور دھیرے دھیرے تربیت کے مدارج طے کرنے پر یقین اور عمل کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ زندگی بھر کے تعلق کی اہمیت سے واقف ہوں۔

یہ بھی پڑھئے:  دیر میں جماعت اسلامی کی شکست کے اسباب

 

جو نوجوان راتوں رات اسلامی انقلاب لانے کے خواہاں ہوں اُن کو اِس پراجیکٹ سے دُور رکھنا بہت ضروری ہے وگرنہ اسلامی انقلاب تو آئے گا نہیں مگر یہ نوجوان بھی ہم سے جائیں گے۔ یہ پراجیکٹ ہمارے عُجلت پسند مزاج اور مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے برعکس ہے اس لیے فوری سمجھ میں نہ آئے گا یا طبیعت پر گراں گُزرے گا۔
میری نظر میں مثبت ثمرات کے حساب سے اس پراجیکٹ کے مدارج، پروسَیس اور نتائج کو کم از کم تین سال پر ڈیزائن کیا جائے تو 75 فیصد سے زیادہ پُر تاثیر ہوسکتا ہے باقی 25 فیصد کو آپ انسانی اندازے کی غلطی پر مُنطبق کر سکتے ہیں۔

اَجنبیت کے خاتمے سے لیکر دوستیوں، کھیل، ٹورازم اور تربیت کے مدارج کا ایک بہت ہی تفصیلی نصاب ترتیب دیا جائے جس میں بچوں، طلبہ و طالبات اور نوجوانوں کی عُمر اوردلچسپی کے لحاظ سے سال بھر کی سرگرمیوں کی تفصیل بھی ہو اور جدید طرز پر رہنُمائے تربیت بھی۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ طلبہ و طالبات میں جنس کی تفریق کی بُنیاد پر الگ الگ ہی کام کیا کیا جائے گا اور ٹرینرز بھی الگ الگ ہی ٹرینڈ کیے جائیں گے۔
اس پراجیکٹ پر کام کے آغاز سے پہلے تربیت کرنے والوں کی تربیت پرعرق ریزی سے کام کیا جائے، کم از کم 3 ماہ تک ہر ویک اینڈ پر جمعیت، بزمِ پیغام اور جماعت کے نوجوان دوستوں کواس پراجیکٹ پر کام کی تربیت دی جائے۔

رہائشی آبادیوں کی سطح پر طلبہ وطالبات اور نوجوانوں کے مابین تقریری مُقابلے، مُباحثے، بیت بازی، ڈرائنگ، پینٹنگ، دستکاری، کمپیوٹر ڈیزائننگ، سافٹ ویئرز، اورسائنس پراجیکٹس کے مُقابلے کروائے جائیں اورحصہ لینے والوں کو سرٹیفکیٹس اور انعامات دیئے جائیں۔

نئی نسل کےلئے ایک نصاب مُرتب کرکے لائف سکلز یا کسی اور نام سے اسلامک لرننگ کے 8 سے 12 ہفتے کے کورسز بینکوئیٹ ہالز یا ہوٹلز میں کروائیں اوراسکی کامیاب تکمیل پرسرٹیفکیٹس بھی دیں۔

جماعت جب تک تحریک رہی اسکی پیشقدمی جاری رہی۔ تحریک مُسلسل دعوت، کلمۂ حق بُلند کرتے رہنے اور باطل نظام سے کشمکش کی مُتقاضی ہے۔ لیکن اب جماعتِ اسلامی کا سارا کا سارا فوکس اس کی تنظیم ہے؛ جماعت کے دوست جماعت کے قیام کے مقاصد کا از سرِنَو جائزہ لیکر بتائیں کہ کیا اسکی بُنیاد ترجیح تحریک تھی یا تنظیم؟ تنظیم تو تھی ہی تحریک برپا کرنے کے لئے؛ تحریک نجانے کہاں گُم ہے اور تنظیم حواس پہ یُوں سوار ہے کہ اصل کام کرنے ہی نہیں دے رہی۔
ارکان و ذمہ داران کا زیادہ تر وقت اور توانائیاں لایعنی میٹنگز میں صرف ہو جاتا ہے نتیجتاً وہ تحریک اور دعوت کے لئے دستیاب ہی نہیں ہوپاتے۔ مثلاً ہفتہ وار اجتماعِ کارکنان، یُونین کونسل کا اجتماعِ ارکان، ماہانہ اجتماعِ عام، تنظیمی کمیٹی، سیاسی کمیٹی، زونل شُوریٰ، مقامی شُوریٰ اور پھر جِن جِن کمیٹیوں کے آپ ممبر یا کنوینر ہیں اُن سب کی میٹنگزاور اس پر مستزاد یہ کہ وقتاً فوقتاً احتجاجی مُظاہرے بھی۔
قحط الرجالی کے باعث فی الوقت یہی دستیاب ارکان ہی ہر پروگرام اور ہرفورم پر شریک رہتے ہیں۔ حالانکہ ایک مؤثر ویب پورٹل اور موبائل اپلیکیشن کے ذریعہ کارکردگی کی آن لائن رپورٹنگ سے بہت سے قیمتی افراد کا میٹنگز کا وقت بچا کر اسی وقت کو دعوتی امُور کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ہمارے سسٹم میں ایک سُقم یہ بھی ہے کہ یہ زھین اور تیز طرار افراد پر اپنی گرفت نہیں کرپاتا اس لئے وہ ڈی ٹریک ہو کر یا تو کوئی نیا ایڈونچر کرتے ہیں یا کسی دُوسرے کیمپ میں جا کر طبع آزمائی کرتے ہیں۔ مثلاً اگر شیخ رشید، جاوید ہاشمی، احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، بابراعوان، جعفراقبال وغیرہ اسلامی جمعیت طلبہ میں سرگرم رہنے کے بعد جماعتِ اسلامی میں نہیں آئے جب آپ قابل لوگوں کو جماعت میں سنبھال پائیں گے اور سیاسی طور پر کامیابی کی حکمتِ عملی اپنائیں گے تو ایسے مسائل پر قابو پالیں گے۔

ایک اور مسئلہ بھی بہت اہم ہے؛ کس فرد سے کیا کام لیا جائے؟ ہم پی ایچ ڈی ڈاکٹر سے بھی قربانی کی کھالیں اکٹھی کروانا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ ویسے میں ذاتی طور پرکبھی بھی قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے کے حق میں نہیں رہا، قربانی کی کھالوں کی یہ آمدن کسی بھی پراجیکٹ کی زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کی ضروریات ہی کے لئے کافی ہوتی ہوگی۔ جماعت کو اپنے پراجیکٹس کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا کبھی بھی کوئی مسئلہ نہیں رہا۔
قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے کا فیصلہ نجانے کب کِس ماحول میں ہُوا ہوگا لیکن یہ کام ہم تب سے کیے جا رہے ہیں جیسے اور بہت سے کام کیے جارہے ہیں محض اس لیے کہ وہ کبھی کسی نے طے کر دیے تھے تو بس اب کیے جاؤ۔ دوبارہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں۔

جماعت کو چاہیے کہ معاشرے میں نفوز کے لیے یہ حکمتِ عملی بنائے کی جماعت کے جو ارکان جس گلی میں رہائش پذیر ہیں اُن کو اپنی گلی کے سو فیصد گھروں کی تربیت کا ذمہ دار بنائے؛ وہ یُوں کہ ارکانِ جماعت اپنی گلی کے تمام رہائشیوں پر کام کریں، اُن کے احوال کو جانیں، اُن کے دُکھ درد کو سمجھیں، اُن کے معاشی اور سماجی مسائل کی خبر رکھیں، اُن کی غمی خوشی میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوں، اُن کے بچوں کی تعلیم و تربیت، روزگار اور شادی بیاہ تک کے معاملات میں ان کے بھائی، دوست اور غمخوار بن کر رہنمائی فراہم کریں اور ان ہی کے ہو کر رہیں۔

جماعت کے یہ دوست درس قرآن کا اہتمام کریں تو اپنی گلی کے انہی رہائشیوں کو دعوت دیں، لٹریچر تقسیم کریں تو اپنی ہی گلی میں۔ تربیت اور افراد سازی کریں تو ان ہی لوگوں میں۔ ارکانِ جماعت کا تعلق اپنے اہلِ محلہ سے جب خیر خواہی اور بھائی چارے کا ہوگا محض رسمی کاروائی کا نہیں تو اسکے ثمرات یقیناً ملیں گے، شہر بھر میں لا حاصل بھاگ دوڑ سے کہیں زیادہ مؤثر۔ جیسے قدیم تربیت گاہوں میں اُسرہ جاتی نظام ہوتا تھا یہ اُسی کی ایک نئی صُورت سمجھ کر اپنا لیں۔

مُحلے کا دوکان دار کسی بھی آبادی میں فوکل پرسن کی حیثیت رکھتا ہے، اس کو اپنی دعوت کا مرکز بنائیں؛ دھیمے دھیمے اور دھیرے دھیرے؛ جب تک کوئی بھی تعلق ذاتی دوستی کے درجے میں نہ چلا جائے اپنی دعوت نہ دیا کریں ورنہ سَر کے اُوپر سے گُزر جائے گی۔
خواتین کے نظم کو جماعت ہی کی طرح تنظیمی اور سیاسی طور پر بہت زیادہ مُتحرک کرنا ایک غلط فیصلہ تھا، اس کا جس قدر جلد جائزہ لیکر اس فیصلے سے رجوع کرلیا جائے گا خیر کی سمت مُتعین کرنے اور منزل کی جانب پیشقدمی میں اُتنی ہی آسانی ہوگی۔

اگلے دس سال تک خواتین کی کسی بھی سیاسی سرگرمی اور جماعتِ اسلامی کے کسی بھی بڑے پروگرام میں شرکت پر پابندی لگا دی جائے۔ خواتین اور طالبات کی سرگرمیوں کی مرکزیت ختم کر کے ان کو گلی محلے اور رہائشی آبادیوں تک محدود کرنے کے زبردست نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

جماعتِ اسلامی حلقہ خواتین کی بین الاقوامیت ختم کروائی جائے اور اُنہیں صرف اپنی ہمسائیگی میں تربیت بالقُراۤن تک محدود کردیا جائے۔ جماعت کی یہ خواتین، اسلامی جمعیت طالبات اور بزمِ گُل کی مقامی کارکنان کی مدد سے محلے کی بچیوں، نوجوان لڑکیوں اور گھروں میں خواتین کو روازانہ کی بُنیاد پر ناظرہ قُرآن پڑھائیں، ترجمۂ قرآن کی کلاسز لگائیں، اور ورکنگ ویمنز کے لئے ہفتہ وار ایک درسِ قُرآن کا اہتمام کریں۔ ان کا دائرہ کار خواتین اور انکی فیملی کی تربیت تک ہی محدود رکھا جائے۔

جماعت کی خواتین ڈاکٹر فرحت ہاشمی، نگہت ہاشمی اور ڈاکٹر زیبا وقار وڑائچ کی مثال سامنے رکھیں، ان خواتین میں سے ہر ایک سکالر کی کاوش جماعت کے حلقۂ خواتین کی مجموعی کوششوں پر بھاری ہے۔ اگر ہم نے ہر ضلع اور ہر شہر میں ان جیسی صرف ایک ایک خاتون سکالر بھی تیار کی ہوتی تو آج خواتین کی ایک ایسی نسل تیار ہو چُکی ہوتی جو گھروں پر جدید تہذیب اور مُختصر لباسی جیسے چیلنجز کے آگے بند باندھتی اور اسلامی انقلاب کا ہراول دستہ بھی ہوتی۔

جماعت کی خواتین سماجی رابطے اور دعوتی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے رہائشی آبادیوں میں خواتین کی صحت اور نفسیاتی و سماجی مسائل پر ڈسکشن فورمز کروائیں اوران میں خواتین کو درپیش مسائل، خاندان کی تربیت، اسلامی اخلاقیات اور گھرانے کوبنانے اور سنبھالنے میں خواتین کی اھمیت جیسے موضوعات پر بات کی جائے۔ سماجی تعلقات کی یہی وسعت تحریک کی دعوت کے پھیلاؤ کے لیے کام میں لائی جائے۔

لڑکیوں کے لئے پینٹگز، کرافٹ میکنگ اور کُوکنگ کورسز کو بھی اجنبیت کے خاتمے، دوستیوں اور دعوت کی توسیع کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔

جماعتِ اسلامی 1988 تا 2018 پِچھلے تیس سال صرف اپنے جھنڈے اور نشان کے ساتھ سولو فلائیٹ ہی کرتے رہتی تو آج مُلکی سیاست میں اپنا الگ مقام بنا چُکی ہوتی، اتحادی سیاست ایک ایسا ٹریپ ہے جس نے آپ سے آپ کا ووٹر بھی لے لیا، کُچھ قیمتی افراد بھی جبکہ کارکن کو بھی مایوسی کے سوا کُچھ نہیں مِلا۔ انتخابی سیاست ہارنے کے لئے نہیں جیتنے کے لئے کی جاتی ہے۔

یکسُو ہو کر قومی سیاست کی پالیسی واضح کریں، عام عوام کی سمجھ کے مُطابق مُختصر، عام فہم پروگرام تیار کریں اور کوئی ایسا نعرہ بھی تخلیق کریں جو زبان زدِ عام ہو جائے۔

آپ کے گلی محلوں میں ضرور ایسے افراد اور نوجوان رہتے ہوں گے جو بہت ایماندار بھی ہوں گے اور عوام میں گُھلنے مِلنے والے بھی، ایسے افراد پر مُشتمل لوکل امدادِ باہمی کی کونسلز بنائیں اور مقامی ایشوز پر فوکس کریں۔ بلدیاتی الیکشن میں علاقے کے صاف سُتھرے اور پاپولر لوگوں پر مُشتمل اُمیدواروں کا پَینل بنائیں اور مقامی سیاست میں اپنے لئے آگے بڑھنے کی راہ ہموار کریں۔

جماعتِ اسلامی میں امارت یا ذمہ داری کے لیے خود کو پیش کرنا یا اس کا اظہار کرنا بھی جُرم ہے اور ایسا کرنے والا کسی بھی تنظیمی منصب کے لیے نا اہل قرار پاتا ہے۔ لیکن عوامی نمائندگی کے لیے بھی جماعت اپنی اسی روایت پر عمل پیرا ہے حالانکہ ایسی کوئی دستوری رکاوٹ نہیں ہے۔
عوامی نمائندگی کے لیے جماعت بھی اپنے آپ کو اوپن کرے، جماعت کے جو کارکنان یا معاشرے میں سے جو بھی صاف سُتھرے اور ایماندار لوگ آپ کے ساتھ مقامی یا مُلکی سیاست میں آگے بڑھنے کے خواہاں ہوں جماعت عوامی نمائندگی کے لیے انہیں خُود کو پیش کرنے کی اجازت دے اور اِنکی چھان پھٹک کرنے کے بعد ان کے ساتھ ایک ورکنگ ریلیشن شِپ میں آگے بڑھے؛ اس بات کا امکان موجود ہے کہ آپ کو اپنی جماعت کے اندر اور باہر سے بہتر وژن والے لوگ مل جائیں۔

بڑے شہروں لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر چند شہروں میں صرف 20 فیصد حلقے مُنتخب کرکے مُتعلقہ صوُبے کے تمام انسانی و مادی وسائل کے ساتھ فیلڈ میں محنت کریں۔ اگر کارکنان پانچ سال تک روزانہ 2 گھنٹے عوام کی زھن سازی کا کام کریں اور ان شہروں میں قومی وصُوبائی اسمبلی کی کُل نشستوں میں سے صرف 20 فیصد پرانتخابی فتح کو یقینی بنادیں تواسکےاثرات پُورے مُلک کی سیاست پر پڑیں گے۔

ایسے حضرات جو دو بارجماعت کی طرف سے قومی یا صُوبائی اسمبلی کے رُکن مُنتخب ہوچُکےہیں اور وہ بغیر کسی اتحاد کے اپنے اپنے حلقوں میں جماعت کی الیکشن میں فتح کی تحریری ضمانت نہیں دیتے تو ایسے حضرات کو تیسری بارٹکٹ ہی نہ دیا جائے؛ خُواہ اسکی کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ چُکانی پڑے، کیونکہ ایسے حضرات عوامی نُمائندگی کے لئے درکار وژن سے ہی محرُوم ہیں۔

تُرکی میں نجم الدین اربکان کی پارٹی کو صرف استنبول کی میئرشِپ مِلی اور وہ اُسی کارکردگی کی بُنیاد پر اگلی بار تُرکی کی قومی حکومت میں کامیاب ہو گئی تھی۔
انتخابی سیاست کے لیے ووٹر خاندانوں سے مُلاقاتوں کا سلسلہ سال کے 365 دن اور پُورے پانچ سال جاری رکھا جائے، اگر آپ ہر ووٹر سے سہ ماہی ایک بار ملتے رہیں، سال میں دو بار جماعت اِن ووٹرز کی دعوت کا اھتمام اور ان کے ایشوز پر بات کرتی رہے تو عوام میں اجنبیت بھی ختم ہو جائے گی اور آپ عوام کے مُوڈ سے بھی باخبر رہیں گے۔ اس کے علاوہ پانچ سال میں ووٹر خاندانوں سے بار بار مُلاقات اور انکے مسائل اور مُعاملات کے حل کی کوشش ہوتی رہے گی تو ووٹ بھی مِل جائینگے۔ مقامی سیاست میں لوکل ایشوز پر فوکس کریں۔

جولوگ انتخابات میں ووٹ نہیں ڈالتے یعنی خاموش اکثریت، ان کو فوکس کریں، اپنےمدِ مُقابل باطل نظام کا تعیُن کریں ہریُوسی کا الگ حق اورالگ باطل والی کنفیوژن سے باہر تشریف لائیں؛ صرف دس سال ویسی ہی محنت کرلیں جیسی 1970 اور80ء کی دہائی کے کارکُنان نےکی تھی تو حالات کا منظر نامہ بدل سکتا ہے؛ اِن شاءاللہ

میڈیا پر جو حضرات جماعت کی نُمائندگی کے لیے جاتے ہیں اکثر اوقات اُنکی طویل تمہید اور لمبی بات میں سے جواب تلاش کرنا پڑتا اگر ہم وابستگانِ جماعت کو بھی جواب کی سمجھ نہیں آتی تو عوام کیا سمجھ پاتے ہوں گے!

میڈیا پر نمائندگی کے لیے کُچھ نئے افراد تیار کیے جائیں جو زندگی کے مُختلف شُعبہ جات مثلاً معاشیات، کرنٹ افیئرز، خارجہ پالیسی، بین الاقوامی امور، تعلیم وغیرہ کے ماہرین ہوں۔ یہی لوگ میڈیا پر جماعت کی ترجمانی کریں۔
سوشل میڈیا کی پالیسی، اھداف اور زیادہ سے زیادہ فوائد سمیٹنے کی پلاننگ کریں، پاکستان کے سو اضلاع سے اوسطاً 100 کارکنان فی ضلع سوشل میڈیا پر مُتحرک ہوں اور کسی مرکزی کنٹرولڈ سوشل میڈیا پالیسی کے تحت سب ایک ہی سمت میں ورکنگ کریں تو کوئی بھی مُہم اپنی قبولیت کی راہ بڑی آسانی سے بنا سکتی ہے۔
[ کراچی، لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، مُلتان جیسے بڑے شہروں سے ایک ایک ہزار سوشل میڈیا ایکٹیوِسٹ کارکنان بھی دستیاب ہو سکتے ہیں ]۔

نوجوان نسل کے لئے نئے حالات کےمطابق موٹیویشنل اورپبلک سپیکرزتیارکریں جوانگلش اوراردو دونوں زبانوں میں بات کرنے والےہوں۔

انقلابی تحریکیں ہر آن اپنی حکمتِ عملی، افرادِ کار کی صلاحیت، معاشرے میں نفوز کی رفتار پر نظر رکھتی ہیں اور خُود احتسابی پر بھی توجہ دیتی ہیں تاکہ جہاں ضروری ہو وہاں فوری اقدامات سے خرابی کو دُور کیا جا ئے اور تیزی سے آگے بڑھا جائے۔

اپنی حالتِ زار اور کام کی رفتار سے ہمیشہ مُطمئن رہنا انقلابی تحریکوں کا نہ تو وطیرہ ہے اور نہ ہی ایسا طرزِعمل وہ ایفورڈ کرسکتی ہیں، اس لیے اپنے ہر عمل کے اثرات پر نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ اگر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ہر پہلو سے اپنے مُعاملات کا جائزہ لیں اور جہاں جہاں توجہ، دوا اور آپریشن کی ضرورت ہے؛ فوری اقدامات کریں۔

صُورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب

جماعتِ اسلامی کے زیرِ انتظام بہت سے رفاہی ادارے اس وقت مُلک بھر میں خدمتِ خلق میں مصروف ہیں۔ ان میں الخدمت فاؤنڈیشن سرِفہرست ہے جس نے بلا شُبہ گزشتہ پندرہ برسوں میں اپنے وسائل، پراجیکٹس اور پیشہ وارانہ صلاحیت میں بہت زیادہ اضافہ کیا ہے جو کہ ایک قابلِ تحسین اَمر ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے پراجیکٹس کی تفصیل الخدمت فاؤنڈیشن کی ویب سائیٹ پر موجود ہے۔

اسی طرح جماعتِ اسلامی کے زیرِانتظام ہزاروں سکولز پر مُشتمل تعلیم کا ایک مُلک گیر نیٹ ورک ہے جن میں سے اکثر سکولز میں طلبہ بالکل مُفت تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ بعض سکولوں میں معمولی فیس کے عوض ایک معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔
اِن سکولز کے علاوہ جماعت کے کارکنان کے مُلک کے ہر شہر میں ذاتی سکولز بھی ہیں جوکہ بہت کامیاب ہیں بلکہ کُچھ سکولز کے سینکڑوں سکولز پر مُشتمل مُلک گیر نیٹ ورک ہیں۔
اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ایک نظریاتی تحریک سے وابستگی کی بُنیاد پر یہ سب سکولز مِلکر سوسائٹی اور تحریک کو کیا ڈلیور کر رہے ہیں؟
اگر کُچھ مُنفرد نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہُوا کہ معاشرے کے عام سکولز اور جماعت یا جماعت کے کارکُنان کے تعلیمی اداروں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بچوں کو دس پندرہ دُعائیں یاد کروا دینے سے یا سکولز میں ناظرہ و حفظ کی کلاسز دینے سے تعلیمی ادارے کیا اِسلامِک سکولز کہلاسکتے ہیں؟
اپنے نظریاتی لٹریچر کوعام فہم کریں، 1935 سے 1975 تک لکھی گئی کُتب میں اُردو کے مُشکل الفاظ کو آسان اُردو سے تبدیل کریں، جہاں ضرورت ہو مُتبادل اصطلاح کے لیے انگریزی زبان استعمال کریں کیونکہ نئی نسل کی زبان اب اُردو اور انگش کا مِکسچر ہے یعنی بائی لِنگوئل ہو چُکی ہے۔
عام افراد تک اپنے لٹریچر سے آگہی کے لیے مُختلف کتابوں کی تعلیمات پر مبنی شارٹ ڈاکومینٹریز تیار کروائی جائیں تاکہ سوشل میڈیا کے ذریعے انکو نشر کیا جاسکے۔

جماعتِ اسلامی نے پچھلے سال پاکستان کے کُچھ شہروں میں اسلامی جمعیت طلبہ کے 1500 ایسے سابقین کو دریافت کیا اور کھانے پر مدعُو کیا جو مُختلف مضامین میں پی ایچ ڈی ہیں؛ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اِن حضرات کے ذمے کوئی اسائنمنٹ لگائی گئی؟ جب تک ہم محض کاروائی پروگرام سے باہر نکل کر نہیں سوچیں گے ہم اپنی تحریک کا کوئی فائدہ نہیں کرسکتے۔

ہم گُزشتہ کئی برسوں سے سُنتے چلے آرہے ہیں کہ ہم اپنا ٹی وی چینل لارہے ہیں، پھر یہ سُننے کو مِلا کہ اپنا چینل مُمکن نہیں اس لیے کُچھ ہم خیال کاروباری دوستوں کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ وہ ایسا کرلیں۔
میرا خیال ہے کہ یہ نہیں ہو پائے گا، کیونکہ مسئلہ سرمائے کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔ آپ آج طے کرلیں کہ اگلے سال مارچ میں کُل پاکستان اجتماعِ عام کرنا ہے اُس کے لیے طے شُدہ ٹارگٹ کے مُطابِق کروڑوں روپے بطور اجتماعِ عام فنڈ اکٹھے ہو جائیں گے۔
اِس کا ایک حل یہ ہے کہ ایک سوشل میڈیا چینل بنالیں، یہ کام کُچھ نظریاتی دوست مِلکر کسی ایک سپانسر کو ساتھ مِلا کر بھی بڑی آسانی سے کرسکتے ہیں، کوئی زیادہ سرمایہ بھی نہیں لگے گا، ٹیکنیکل سپورٹ کے لیے افراد بھی شہرِ لاہور اور کراچی میں پہلے سے موجود ہیں۔ بیرُونِ مُمالک مُقیم کُچھ ساتھی اس جانب توجہ کریں تو یہ پراجیکٹ آسانی سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا کی طاقت اور اثرات کا اندازہ اب سبھی کو ہے؛ ضرورت صرف عملی اقدامات کی ہے۔
مَسلکی اور فرقہ وارانہ بُنیادوں پر قائم دینی جماعتوں کے انتخابی اتحاد سے بغیر کسی کو مطعُون کیے باہر تشریف لے آئیں، میں اِس موضوع پر اگرچہ بہت تفصیل سے لِکھ سکتا ہوں لیکن چُونکہ بحث مطلُوب نہیں اِس لئے جماعت کے دوستوں کو سمجھانے کے لیے صرف اِتنا عرض کیے دیتا ہوں:
قومی اسمبلی کے ایک حلقہ میں 6 لاکھ ووٹرز ہیں اور اس حلقے میں مسلکی یا مذھبی جماعتوں کا ووٹ بنک صرف 20 ہزار ہے، ہم نے بقیہ 5 لاکھ 80 ہزار ووٹرز پر چُونکہ پانچ سال کوئی محنت ہی نہیں کی ہوتی اِس لیے الیکشن قریب آجانے پر یہ مذھبی ووٹ بنک ہمیں اپنی پناہ گاہ محسوس ہوتا ہے۔
حالانکہ یہ ووٹ دینی جماعتوں کے اتحاد کے باوجود بھی سارا کا سارا ہمیں پھر بھی نہیں مِلتا۔ مسالک میں بھی ذیلی کئی کئی گروہ ہیں، ایک مشہور و معروف مولوی کی اپنے ہی مسلک کے دُوسرے عالِمِ سے نہیں بنتی، یہاں تک کہ مدارس میں طلبہ کی تعداد کے حساب سے بھی مولویوں کا اپنا اپنا الگ دھڑا ہے۔ اِسلام پَسند اگر آج خِفت سے دوچار ہوکر زمیں بوس ہیں تواُس کی وجہ بھی یہ خود ہی ہیں۔

افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تُو
دیکھے نہ تری آنکھ نے فطرت کے اشارات
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات!!!

جماعتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام کُچھ علاقوں میں گُزشتہ دو تین برسوں سے جاری دھڑا دھڑ شمولیتی جلسوں اور وقتی ہاہوکار کے نتیجے میں جو بھِیڑ جمع کی گئی اُس کا حاصل کیا ہُوا؟؟؟ یہ جماعت کے دعوتی و سیاسی مزاج کے خلاف بھی ہے؛ پناہ گاہوں میں سر دینے کی بجائے میدانِ عمل میں اپنے قوتِ بازو کو آزمائیں، یقینی نفع ہوگا۔

بینظیر بُھٹو کے بعد پاکستان کی سیاست میں پاور بیلنس ختم ہوگیا تھا اور یہ خدشہ موجود تھا کہ جب نوازشریف ناکام ہوگا تو اِس خلا کو پُر کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اسٹیٹ آرکیٹیکٹس نے اسی خیال کے پیشِ نظر ایک نئے گھوڑے کو میدان میں اُتارا، اس پراِنویسٹمنٹ کی اورکامیاب بھی ٹھہرا لیا۔

ہم اِس دوران کہیں اور مصروف رہے اور عوامی قیادت کے خلا کو پُر کرنے کی کوشش نہیں کی۔ کیا ہم زمینی حقائق کے ادراک اور مُستقبل بینی دونوں ہی صلاحیتوں سے محروم ہیں یا دائروں میں گھومتے رہنے کو ہی جدوجہد سمجھ بیٹھے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: