جماعت اسلامی کی شکست: تاریخ، وجوہات، حل —- محمد معاویہ

0
  • 270
    Shares

اِسلام پَسند دوستو! تُمہیں یاد تو ہوگا وہ سب ذرا ذرا

کُچھ سُفید رِیش بزرگ جو اپنی مُستقبل بِین نگاہوں سے تمہاری اِسی زبوں حالی کو دیکھتے اور تمہیں جھنجھوڑنے کی اپنی مقدُور بَھر کو شش کرتے اور یہ سمجھاتے سمجھاتے دُنیا سے رُخصت ہوئے کہ:
ہجوم نہیں؛ قابلیت،
عددی اکثریت نہیں؛ صلاحیت،
فقط نعرے نہیں؛ قُرآن و سُنت،
شارٹ کٹ نہیں؛ ایک لمبی انتھک جدوجہد۔

مگر ہماری پیشانیاں یہ سب سُن کر نہ صرف شکن آلود ہُوئیں بلکہ ہم اُن کی آہ و فغاں کو نظر انداز کرتے ہوئے لپکے بیلٹ بکسوں کی طرف کہ ہمارے تئیں اسلامی انقلاب کو یہیں کہیں سے برآمد ہونا تھا، جو نہ ہونا تھا نہ ہُوا نہ ہو سکے گا،
نامُمکن تو نہیں یہ سب؛ لیکن اس کے لئے درکار زادِ راہ ہَمراہ نہیں،
بصیرت بھی نہیں دستیاب، جبکہ صالحیت اور صلاحیت بھی نہ ہیں ہمرکاب۔
منزل تو پہلے ہی دُور کہیں بہت دُور کھو آئے ہو،
پھر یہ کِس کی تلاش میں بَگٹٹ دوڑے چلے جاتے ہو؛
یہ جو دھماچوکڑی اور اُچھل کُود ہے نا یہ سب لاحاصل ہے،
فقط دِل کے بہلانے کا ساماں ہے یا لہُو گرم رکھنے کا اِک بہانہ۔

مصنف

ابھی بھی وقت ہے ٹھہرجاؤ، سکوت اختیار کروکُچھ دیر، ٹھنڈی سانس لو،
جذبات کی دُنیا سے نکلو اور سوچو کہ منزل کب، کہاں اور کیسے کھو گئی؟؟

آؤ کُچھ پگڈنڈیوں پر کُچھ اُونچے نیچے رَستوں پر تھوڑا دُور چلتے ہیں متاع گُم کردہ کی تلاش میں، زیادہ دُور نہیں بس ایسے ہی جنرل ایوب خان کے دور سے اپنے آج کی طرف چہل قدمی کرتے واپس آتے ہیں۔
فیلڈ مارشل ایوب خان اور مادرِ مِلّت مُحترمہ فاطمہ جناح کی کشمکش، بڑی بُرائی اور چھوٹی بُرائی کے فلسفہ کی تخلیق، عورت کی حُکمرانی جائز، بھٹو کی مُخالفت جبکہ جنرل ضیاءالحق کی حمایت، رُوس کے خلاف افغان جہاد میں شرکت، اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت؛ مرکز میں مزاحمت صُوبہ پنجاب میں وزارت، نواز شریف اور بینظیر بھٹو کی کشمکش، عورت کی حُکمرانی ناجائز، پاکستان اسلامک فرنٹ کی تشکیل، بینظیر بھٹو اور نوازشریف کی حکومتوں کے خلاف کامیاب دھرنے، کرپٹ حکومتوں کا یکے بعد دیگرے خاتمہ، دھرنوں کے بعد انتخابات کا بائیکاٹ، ملّی یکجہتی کونسل، جنرل مُشرف کے دور میں افغانستان میں نیٹو فورسز کی دراندازی اور ہمارا کمزور ردِعمل، کے پی کے میں مُتحدہ مجلسِ عمل کی کمزور حکومت، کراچی میں انتخابات کے روز بائیکاٹ، ضمنی انتخابات میں شرکت، بلدیاتی الیکشنز میں ہر یُونین کونسل میں مدِ مُقابل الگ حق اور الگ باطل، اور اب سابق دورِحکومت میں مرکز اور کے پی کے میں بہترین پارلیمانی کارکرگی کے باوجود پانچ سال پُرانی کیلکولیشنز کی بُنیاد پر مُتحدہ مجلسِ عمل کی دوبارہ بحالی اورانتخابات میں شرکت؛
بس یہیں کہیں اِنہی پگڈنڈیوں پر، اِنہی راہوں میں دستار ہماری چِھن گئی ہے!!!

کون سا فیصلہ صحیح تھا اور کون سا غلط، میں نہ مانوں والی بحث مقصود نہیں ؛
ہاں مگر احساسِ زیاں ضروری ہے؛ اگر یہ بھی نہیں رہا تو پھر لگے رہیں یُونہی ایک صدی اور۔

1970ء سے اب تک ہم انتخابی سیاست میں ایک اِنچ آگے نہیں بڑھ سکے بلکہ مُلکی آبادی اور ووٹرز کی تعداد کے تناسب سے موازنہ کریں تو موجودہ کیفیت کو خسارے سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

اسلامی انقلاب کی جانب پیشقدمی اور انتخابی سیاست میں کامیابی کے لئے جہاں عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سمجھنے والی بیدار مغز قیادت کی ضرورت ہوتی ہے وہیں نظریاتی طور پر یکسُو اور مُستعد کارکنان بھی دینی سیاسی جماعتوں کا اثاثہ ہوتے ہیں۔

لیکن انتخابی سیاست کے تناظر میں چُونکہ اھمیت نمبر گیم کی ہے لہٰذا اس ٹارگٹ کے حصول کے لئے سیکولر سیاسی پارٹیوں کے ہاں ہر طرح کے ہتھکنڈے اختیار کرنا نہ صرف جائز تصور کیا جاتا ہے بلکہ اپنے راستے کی ہر رکاوٹ کو ہٹانے کے لئے پیسے، دھونس دھمکی اور دھاندلی جیسے حربے اختیار بھی کئے جاتے ہیں۔ اِدھر ریاست کے طاقتور اداروں کا ریاستی امُور اپنی مرضی کے مُطابق چلانے کی خواہش اس بات کی مُتقاضی ہے کہ پبلک پاپولر پارٹیوں یا انکی لیڈر شِپ کو گود لے لیا جائے اور یُوں پیسے، طاقت اور اشرافیہ کا ایک ایسا گٹھ جوڑ وجود میں آجاتا ہے جس سے نبرد آزما ہونا دینی جماعتوں کے لئے ایک چیلنج سے کم نہیں۔

دینی جماعتیں اس نظام کی لپیٹ میں تب آئیں جب 1988ء میں پیپلزپارٹی کو اَینٹی سٹیٹ پارٹی ڈکلیئر کرکے اُس کے مُقابل دائیں بازو کی 9 سیاسی پارٹیوں بشمول دینی جماعتوں پر مُشتمل اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے ایک گرینڈ الائنس تشکیل دیا گیا، اس اتحاد کو پہلے 1988 میں صُوبہ پنجاب میں اور بعدازاں 1990 میں مرکز میں حکومت بنانے کا موقع مِلا اور یُوں میاں مُحمد نواز شریف وزیرِاعظم پاکستان بننے میں کامیاب ہوگئے۔ نواز شریف نے حکومت ملنے کے بعد دینی جماعتوں سے بے اعتنائی برتی۔ نتیجتاً یہ اتحاد 1990 میں حکومت بننے کے فوراً بعد ہی ختم ہو گیا۔

1993ء میں نواز شریف کی شخصیت کا سَحر سر چڑھ کے بول رہا تھا۔ دینی جماعتیں جب انتخابات میں اُتریں تو اُنہیں انتخابی نتائج سے خبر ہوئی کہ اُن کا ووٹر تو نواز شریف کے ساتھ رہ گیا ہے اور وہ تہی دَست۔ بس اُس کے بعد سے ووٹرز کی تلاش میں بھاگ بھاگ کر ہم اَدھ مُوئے ہو چُکے اور بضد ہیں کہ ووٹ تو لے کر ہی چھوڑیں گے۔

دائیں بازو کے ووٹرز کی اکثریت ایک عرصے تک نوازشریف کو اپنا نجات دہندہ سمجھتی رہی۔ جب نوازشریف سٹیٹ آرکیٹیکٹس کے ساتھ اپنے سِینگ بار بار پھنسانے سے باز نہ آئے تو اُس کا تِیا پانچا کرنے کی ٹھان لی گئی۔ اب رہ گیا ووٹ بنک تو اس ووٹر کو نواز شریف سے مُتنفرکرنے کے لئے کُچھ مذھبی جنونی میدان میں اُتارے گئے۔ تحریک لبیک پاکستان کی لانچنگ بھی اِسی سٹریٹیجی کا حصہ تھی۔ دائیں بازُو کا ووٹر ذھنی طور پر جُونہی مُنتشر ہُوا اُن کو مذھبی دھڑوں میں مزید مُنقسم کرنے کے لئے کُچھ اور دینی جماعتوں کو الیکشن2018 میں سامنے لایا گیا۔

تحریک لبیک پاکستان، ملی مُسلم لیگ یا تحریک اللہ اکبر یا جماعت الدعوۃ، اھلِ سُنت والجماعت (سابقہ سپاہِ صحابہ یا مِلّتِ اسلامیہ) اور مُتحدہ مجلسِ عمل خم ٹھونک کر میدان میں اُتریں اور اپنے ترکش کے سبھی تِیر چلا کر جو سمیٹ پائیں وہ ہم سب کے سامنے ہے۔
اس ساری ایکسرسائز کے نتیجے میں سٹیٹ آرکیٹیکٹس نے نہ صرف ن۔ لیگ کو پِچھاڑ دیا بلکہ اپنی نئی کٹھ پُتلی کو بھی کامیاب کروا لیا اور ساتھ ہی دینی جماعتوں کے بیلٹ بکس کے ذریعے کسی بھی ایڈونچر کے خواب کو چکنا چُور بھی کردیا۔

انتخابی نتائج کے بعد اِتحادی دینی جماعتوں کے کارکنان ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زَن ہیں اور لگے ہیں اِک دُوجے پر طعن و طنز کے تیر چلانے؛ یہ سٹیٹ آرکیٹیکٹس کی ایک اور بڑی اچِیومَینٹ ہے۔

لیکن میرا یہ کنسرن ہی نہیں! سٹیٹ آرکیٹیکٹس نے جو چاہا وہی کرتے چلے آئے ہیں، وہی کیا ہے اور جو چاہیں گے وہی کرتے رہیں گے۔ اسکو کاؤنٹر کیسے کیا جائے اِس پر بات پھر کسی وقت کریں گے؛ فی الحال میرا موضوع دینی قیادت کی سادگی اور اِن کے کارکنان کی خاموش تقلید ہے۔

میرا گُمان اب یقین میں بدلتا جارہا ہے کہ دینی قیادت اپنے شاندار ماضی میں ابھی تک محوِسَفر ہے، یہ بات درست ہے کہ 1970 اور80ء کی دہائی میں اسلام پسند ایک بڑی طاقت تھے۔ یہ اُس طاقت کو اُس وقت اپنے حق میں استعمال نہ کرسکے اور وہ وقت ہاتھ سے نِکل گیا۔

تین دہائیوں میں بہت سا پانی پُلوں کے نیچے سے گُزر چُکا ہے۔ اِس دوران ایک ایسی نَسل پروان چڑھ چُکی ہے جو نہ صرف یہ کہ مذھب سے مُتعارف ہی نہیں (میں نے مذھب بیزار نہیں کہا) بلکہ اُس کے نظر میں دینی قیادت اور اِسلام پسندوں کا جو اِمیج ہے وہ کُچھ بہتر نہیں۔
اس میں قصُوروار نئی نسل ہے یا کہ دینی قیادت؟ میری دانست میں دینی قیادت!

دین کے علمبرداروں کو دو دھڑوں میں تقسیم کرکے میں اپنی بات کو آگے بڑھاتا ہوں۔ جمعیت عُلماء اسلام اور جماعتِ اسلامی:

میری دانست میں اسلام پسند طبقے کی سیاسی نُمائندگی انہی دو جماعتوں کے پاس ہے۔ دیگر جماعتیں صرف فوٹو شُوٹ کے لئے اِن کے ساتھ کبھی کبھی آن کھڑی ہوتی ہیں۔ مزید برآں جمعیت عُلماء پاکستان کے اُمیدواران اور ووٹرز دونوں ہی فی الحال تحریک لبیک پاکستان لے اُڑی ہے جسکی جلد واپسی کا اِمکان بہت کم ہے؛ اسی لئے میں جمعیت عُلماء پاکستان کا تذکرہ دانستہ نہیں کررہا۔

مُتحدہ مجلسِ عمل کی سب سے بڑی اتحادی جماعت؛ جمعیت عُلماء اسلام مسلکِ دیوبند کی نُمائندہ جماعت ہے اور 1919ء میں قائم ہونے والی جمعیت عُلماء ھند ہی کا تسلسل ہے۔ مسلک کے نام پر سیاست جمعیت کی پُرانی روایت ہے۔ 1985ء میں جب میں ہائی سکول کا طالبعلم تھا تَب مُجھے خانیوال میں مُحترم مولانا فضل الرحمٰن کو پہلی بار براہِ راست سُننے کا اِتفاق ہُوا۔ اُس وقت وہ جنرل ضیاءالحق کے خلاف اپوزیشن کے ایم۔ آر۔ ڈی نامی گرینڈ الائنس کا حصہ تھے۔

مولانا دلیل کے بادشاہ ہیں اور اُنکی یہ خُوبی ہے کہ وہ اپنے مؤقف کو پُورے اعتماد سے درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن، جمعیت اور ایم ایم اے کے حوالے سے چند پوائنٹس پر بات کرنے کے بعد جماعتِ اسلامی کا تذکرہ قدرے تفصیل سے کروں گا۔

جمعیت علماءاسلام کی سیاست کا تمام تر انحصار مسلکِ دیوبند پر ہے، کبھی مولانا سمیع الحق اور مولانا اجمل قادری بھی اپنے اپنے دھڑے بنا کر فعال رہے ہیں لیکن کامیابی مولانا فضل الرحمٰن کے ہمرکاب ہُوئی اور یُوں وہ اکیلے ہی اب اس قافلے کے سالار ہیں۔ بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ مولانا اپنے جیتے جی اپنے ہم پلہ کوئی مُتبادل شخصیت پَنپنے نہ دیں گے؛ پنجاب میں مولانا کی جماعت کی پیشقدمی نہ ہونے کی وجہ بھی یہی ہے۔

مولانا کے پاس کے پی کے اور بلوچستان میں کُچھ مخصوص پاکِٹس ہیں جن کی بُنیاد پر وہ پارلیمنٹ میں ہمیشہ ایک خاص حُجم کے ساتھ پہنچتے چلے آرہے ہیں۔ سِندھ میں اُن کی جماعت نے سومرو صاحب کی قیادت میں کُچھ پیش رفت کی ہے لیکن ابھی سیاسی طور پر کوئی قابلِ ذکر کامیابی نہیں سمیٹی جا سکی جبکہ پنجاب مُکمل طور پر نظرانداز ہے یا دیگر مذھبی جماعتوں کی طرح پنجاب میں وہ اپنے لئے کوئی جگہ نہیں بنا پا رہے۔

پنجاب میں دیوبند مَسلک کی بُنیاد پر 1985ء میں مولانا حق نوازجھنگویؒ نے ایک مؤثر تحریک برپا کی جسے زبردست مقبولیت اور طاقت حاصل ہوئی۔ لیکن جلد ہی یہ تشدد کی راہ پر ڈال دی گئی یا از خود چل پڑی؛ نتیجتاً ریاست نے اسے بالکل محدود کرکے دم لیا۔ جمعیت علماءاسلام اُن کے شدت پر مبنی بیانیے کی وجہ سے اُن سے گُریزاں ہوئی۔ محدود ہوجانے کے باوجود سابقہ سپاہِ صحابہ بعد ازاں مِلّتِ اسلامیہ اور اب اہل سُنت والجماعت ابھی تک اپنی الگ شناخت قائم کئے ہوئے ہیں اور محسوس یہی ہوتا ہے کہ اہل سُنت والجماعت اور جمعیت علماءاسلام ایک دوسرے سے گُریزاں ہی رہیں گی۔

ایک جماعت البتہ پنجاب میں ابھی تک سائیلنٹ موڈ میں موجود ہے جو دیوبند مسلک کی ترجمانی و قیادت کا فریضہ بطریقِ احسن سرانجام دے سکتی ہے اور وہ ہے امیرِشریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس احرارِاسلام۔ مجلس احرارِاسلام نے تحریک آزادیٔ ھند، تحریک ختمِ نبوت اور تحریک نظامِ مُصطفےٰ میں عوام الناس کی قیادت کا فریضہ سرانجام دیا اور قربانیوں کی ایک لازوال داستاں رقم کی؛ امیرِشریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے پوتے اور نواسے اب اس تحریک کے سالار ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن بہت زیرک اور مُنجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور ایک خُود مُختار جماعت کے سربراہ ہونے کے ناطے یہ اُن کا حق ہے کہ وہ اپنے لئے جو بھی بہتر سمجھیں وہی فیصلہ کریں یا جس حکومت کا چاہیں حصہ بنیں؛ لیکن اِس بار اُن سے یہ چُوک ہُوئی کہ وہ نواز شریف کے آخری دورِحکومت میں سٹیٹ آرکیٹیکٹس کے بدلتے تیور نظر انداز کرگئے، دوسرا یہ کہ نواز شریف کے اقتدار کی ڈوبتی کشتی سے بَروَقت چھلانگ لگانے کی بجائے حکومت کے آخری دن تک نواز شریف کی وکالت کرتے رہے۔

مذھبی قیادت کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے خِلاف پروپیگنڈے یا عوامی پَرسَیپشن کی پرواہ نہیں کرتی اور مولانا کے مُعاملے میں بھی یہی ہُوا۔ مثلاً عمران خان نے جب پہلی بار مولانا کی جلسۂ عام میں کردار کُشی کی تو مولانا نے اُس کی پرواہ ہی نہ کی، نتیجتاً مولانا کا تذکرہ ہر جَلسے کا لازمی جُزو بن گیا۔ نئی نسل میں مقبول ہوتے لِیڈر نے مولانا کی شخصیت کے بارے میں ایک منفی تأثر کو زبان زدِ عام کر دیا اور یُوں مولانا کی شخصیت داغدار ہوگئی جسکا خمیازہ مُتحدہ مجلس عمل کو بُھگتنا پڑا۔

مَسلک کے پیشوا ہونے کے ناطے مولانا کی شخصیت، حَیثیت اور مقام و مرتبہ عقیدت کے ایک ایسے بُت کی شکل اختیار کر چُکے ہیں جہاں اُنکے کارکنان یا مُقلدین یہ جسارت کر ہی نہیں سکتے کہ وہ اُنہیں کوئی بھی ایسا مشورہ دے سکیں جس کا تعلق اُن کی اپنی ذات یا اندازِ سیاست کے ساتھ ہو؛ حافظ حُسین احمد والا مُعاملہ سب کے سامنے ہے۔

انتخابی نتائج وہی آئے جو سٹیٹ آرکیٹیکٹس ڈیزائن کر چُکے تھے لیکن انتخابی شکست کے بعد مُحترم مولانا فضل الرحمٰن کا انتہائی سخت بیان سب کو حیرت زدہ کر گیا اور ضرب کی اُس شِدّت کو بھی افشا کرگیا جو ان انتخابات کے نتیجے میں اُنہیں اور مُتحدہ مجلسِ عمل کو لگائی گئی۔ مولانا فضل الرحمٰن کے ردعمل سے لگا کہ وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ کو لے کر آگے چلیں گے؛ اس پر اِس آرٹیکل کی تکمیل کے بعد الگ سے بات کروں گا۔

جماعتِ اسلامی مُتحدہ مجلسِ عمل کی دوسری بڑی اتحادی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان احیائے اسلام کی ایک پُراَمن تحریک ہے جس کا آغاز بیسویں صدی کے مُفکرِاسلام سید ابوالاعلی مودودی نے قیام پاکستان سے قبل 26 اگست1941ء کو لاہور میں کیا تھا۔

جماعت اسلامی لوگوں کو اپنی پوری زندگی میں اللہ اور حضرت محمد صلی اللہ وعلیہ وسلم کی پیروی اختیار کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ جماعت سیاست میں خدا کے نافرمان لوگوں کی بجائے زمام کار مومنین وصالحین کو سونپنے کا کہتی ہے تاکہ نظام سیاست کے ذریعے خیر پھیلے اور لوگ اسلامی ضابطۂ حیات کی خیروبَرکت سے مُستفید ہوسکیں۔

جماعتِ اسلامی میں لوگوں کے لئے کشش کی وجہ سید ابوالاعلی مودودی کی فِکر ہے۔ سید مودودی نے اپنے لٹریچر میں جدید تعلیم یافتہ طبقے کے زھن میں اسلام کے حوالے سے اُٹھنے والے سوالات اور شُبہات کا مُدلل جواب دیا ہے۔ سید مودودی کے پولیٹیکل اسلام اور اسلامی ریاست کے تصورکو نہ صرف برصغیر پاک وھند بلکہ عالمِ عرب میں بہت زیادہ پذیرائی مِلی۔ مصر کی اخوان المسلمون بھی اسی فکرکی علمبردار ہے۔

پاکستان میں اسلامی جمعیت طلبہ کی صُورت میں نوجوان طلبہ اس تحریک کا ہراول دستہ بنے جنہوں نے اپنی انتھک محنت اورقربانیوں سے پاکستان کے تعلیمی اداروں کو70ء اور 80ء کی دہائی میں کمیونزم، لادینیت اور بدتہذیبی کے عفریت سے نجات دلائی۔ جماعتِ اسلامی نے تحریک ختمِ نبوت اور تحریک نظامِ مصطفےٰ میں ایک فعال کردار ادا کیا جبکہ مُلک سے آمریت اور کرپشن کے خاتمے کی تحریکوں کی روحِ رواں بھی رہی۔

انتخابات میں مُسلسل ناکامیوں اور نوجوانوں میں پائے جانے والے اضطراب اور غم وغُصے کے باوجود جماعت کی قیادت اور ارکان کا اپنی دعوت اور پُراَمن جدوجُہد سے جُڑے رہنا اور انتخابی عمل (بیلٹ باکس) ہی کو ایک صاف سُتھری اورصالح قیادت کی کامیابی کی اُمید قرار دینا ہی اس کا سب سے بڑا کمال ہے۔

مُلکی سیاست میں اسقدر فعال رہنے کے باوجود جماعت آج تک معاشرے کی ایک بڑی تعداد کو اپنا ہمنوا بنانے میں کامیاب کیوں نہ ہوئی اور کوئی بڑی انتخابی کامیابی کیوں نہ حاصل کر سکی؟ اسی پر بات کرتے ہیں:

جماعت کا دعوتی لٹریچراورتنظیمی ڈھانچہ جس طرح کے افرادِ کار کا مُتقاضی ہے اُس پرعام فرد کا پُورا اُترنا بہت مُشکل ہے، کوئی بھی عام فرد جماعت کی دعوت سے مُتفق ہوتے ہی فوراً جماعت کا رُکن نہیں بن سکتا۔ جماعت میں باقاعدہ شمولیت کافی لمبا پروسَیس ہے۔

جماعت جو نہیں کرسکی وہ یہ ہے کہ ایک عام پاکستانی کے لئے کوئی ایسا عام فہم پروگرام یا سادہ سا نعرہ نہیں دے سکی جو زبان زدِ عام ہو جائے اور وہی اس مُلک کے عوام کے دِل کی آواز بن جائے۔ جب آپ ایک سیاسی جماعت ہیں تو ووٹر کی زباں بولیں گے یا اُس کے مُنہ میں اپنی زباں رکھ پائیں گے تب ہی بات بنے گی۔ جماعت کا اصرار ہے کہ وہ اسلامی نظامِ حکومت ہی کے نام پر ووٹ لے گی جبکہ قوم بھی مُصر ہے کہ وہ اسلام کے نام پر ووٹ نہیں دے گی۔

مذھب کی بُنیاد پرمسلکی جماعتوں کا اپنا ایک ووٹ بنک ہے جو صرف اُنہی کو مِلتا ہے جبکہ جماعت اسلامی کسی الگ مسلک کا پرچم اُٹھائے ہوئے بھی نہیں ہے۔ عوامی جماعت نہ بن پانا ہی جماعت کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے اور اس چیلنج سے جماعت کی قیادت نبرد آزما نہیں ہو پا رہی۔ جماعت میں عوامی نمائندگی کی خواہش توموجود ہے لیکن انتخابی کامیابی کا چیلنج اسکی ترجیحات میں شامل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت پانچ سال مُختلف سرگرمیوں میں مصروف رہتی ہے اور جب الیکشن کا وقت آتا ہے تو ووٹ مانگنا شروع کر دیتی ہے جو نہی مِلتے۔

1988 میں اسلامی جمہوری اتحاد میں شمولیت اور حکومت میں بغیر کوئی کردار ادا کیے اسلامی جمہوری اتحاد سے علیحدگی جماعت کا وہ فیصلہ تھا جس نے جماعت کی سیاسی ساکھ کو زبردست نقصان پہنچایا۔ تبھی جماعت کا ووٹر زھنی انتشار کا شکار ہوکر اِدھراُدھر بکھر گیا۔ جبکہ 1993 سے 2018 تک کسی ایک پالیسی پر یکسُوئی سے کھڑے نہ ہونا بھی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

مثلاً 1996 میں کرپشن کے خلاف تحریک سابق امیرِجماعتِ اسلامی قاضی حُسین احمد کی ایک زبردست کاوش تھی، سب سے پہلے اِس مُلک میں قاضی صاحب ہی نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن۔ لیگ دونوں کرپشن کی علامت ہیں۔ دونوں ایک ہی تھالی کے چَٹے بَٹے ہیں، ایک ہی کھوٹے سکے کے دو رُخ ہیں اور یہ کہ ان دونوں پارٹیوں نے باریاں لگائی ہوئی ہیں۔

انکی اس تحریک میں جماعت کے کارکنان نے انتھک جدوجہد کی اور پیپلزپارٹی اور ن۔ لیگ کے خلاف تاریخی دھرنوں میں حکومتی ظُلم و جبر کا سامنا کیا اور قید و بند کی صعوُبتیں بھی برداشت کیں۔ نتیجتاً دوحکومتوں کو اسی تحریک کی وجہ سے کرپشن چارجز پر گھر جانا پڑا لیکن جماعت نے اپنی ہی کامیاب تحریک کے بعد ہونے والے قومی انتخابات کا بائیکاٹ کردیا۔

اگلے انتخابات میں جماعت نئے پروگرام اور نئے نعروں کی طرف مُتوجہ ہوئی جبکہ کرپشن کے خلاف قاضی حُسین احمد کے اُسی نعرے کو عمران خان نے اپنا لیا اور یہ نعرہ مقبولِ عام ہوگیا۔

اِدھر 2013 کے بعد جماعت نے گُزشتہ پانچ سال اپنے جھنڈے اور اپنے نشان پرالیکشن لڑنے کے لئے اپنے کارکنان کو چارج کیا اور جب وہ پُوری طرح مُتحرک ہوچُکے تو مُتحدہ مجلسِ عمل کو دوبارہ زندہ کردیا گیا۔ کارکنان نے جماعت کے اس فیصلے کو بے دِلی سے قبول کیا۔

اس کی وجہ تھی مولانا فضل الرحمٰن کی نواز شریف حکومت کی وکالت کا مُمکنہ نقصان؛ کیونکہ جُونہی مُتحدہ مجلسِ عمل کے پہلے مُشاورتی اجلاس کے حوالے سے خبریں میڈیا کی زینت بنیں تو عوام نے ہمیں سینگوں پر اُٹھا لیا مساجد اور مارکیٹوں میں جولوگ ہم سے مُتعارف تھے اُنہوں نے یہ کہنا شُروع کردیا کہ یہ اتحاد جماعت کی بہت بڑی غلطی ہوگی؛ آپ نے ووٹ کِن سے لینے ہیں؟ عوام سے!
جبکہ عوام کا مُوڈ مُتحدہ مجلسِ عمل کے دوبارہ فعال کئے جانے سے بہت پہلے کارکنان کے سامنے آچُکا تھا۔ کارکنانِ جماعت اس فیصلے پر بہت سٹپٹائے، شور بھی خُوب مچا لیکن ان کی بات کو کوئی خاطر میں نہ لایا نتیجتاً عوام جماعت کو خاطر میں نہیں لائی۔

مُتحدہ مجلسِ عمل کی بحالی کے لئے 2013 میں کے پی کے میں ہونیوالے انتخابی نتائج پر کیلکولیشن کی گئی اور یہ دلیل دی گئی کہ جماعتِ اسلامی اور جمعیت علماء اسلام مِل کر اتنی اضافی سیٹیں نکال سکتے ہیں؛ پنجاب اور سندھ کے کارکنان کے جذبات کا اِس جمع تفریق میں کہیں ذکر نہ تھا۔ ویسے بھی یہ کیلکولیشن پانچ سال پُرانی تھی۔ سٹیلائیٹ اور سوشل میڈیا کے اِس دور میں جہاں پروپیگنڈے اور اطلاعات کے طوفان رائے عامہ کو ہر روز اِک نیا رُخ دیتے ہیں وہاں پانچ سال پُرانی جمع تفریق پر سیاسی فیصلے حکمت سے بالا تر ہیں۔

جماعت کی ہزیمت کی اصل ذمہ داری جماعت کے ارکان پرعاید ہوتی ہے وہ ایسے کہ اگر امیرِ جماعتِ اسلامی یا مرکزی شُوریٰ کوئی بھی ایسا فیصلہ کریں جو ارکانِ جماعت کی دانست میں جماعت کو کسی گہری کھائی میں دھکیل سکتا ہو یا جماعت کے مُستقبل پر منفی اثرات مُرتب کر سکتا ہو تو ایسے کسی بھی فیصلے کے خلاف جماعت کا دستور اپنے ارکان کو یہ رہنمائی اور اختیار دیتا ہے کہ وہ اس فیصلے پر اپنے فورم پر کُھل کر اظہارِ خیال کریں اور اگر اُنکی بات نہ مانی جائے یا وہ اپنے فورم کی وضاحت سے مُطمئن نہ ہوں تو ایسی صُورت میں جماعت کے فیصلے کے خلاف پاکستان بھر کے ارکان سے اس مُعاملے پر رائے لی جا سکتی ہے۔

لیکن 1993 میں پاکستان اسلامک فرنٹ کی انتخابی شکست کے بعد مُحترم قاضی حُسین احمد کے استعفیٰ کے علاوہ گُزشتہ 25 سالوں میں ارکان سے رائے لینے والی ایسی کوئی ایکسرسائز نہیں ہوئی۔

جب ارکان کسی بھی حکمتِ عملی کو خاموشی سے قبول کرلیں اور بعدازاں اُس پرعمل کرنے کے نتیجے میں کوئی خِفت اُٹھانی پڑے تو پھر ارکان کا ایسے فیصلوں پر تحفظات جماعت کی روایت کے خلاف ہے۔ اگر ارکانِ جماعت کی بھی یہی منشاء ہے کہ جماعت دائروں میں ہی سفر کرتی رہے تو پھر خاموشی سے یہ سب دیکھتے رہیں اور جواباً جو آپ کے ساتھ ہورہا ہے اسکو تحمل سے برداشت کریں کیونکہ یہ آپ کا خود اختیار کردہ راستہ ہے۔

جماعت اگر اپنے ایک نئے جنم پہ راضی ہوجائے یعنی ایک نئی پَنیری کی کاشت کی طرح؛ تیرہ سے چالیس سال تک کی نوجوان نسل پر کام کرے، جلد بازی کا مُظاہرہ نہ کرے اور دس سے پندرہ سال اَنتھک جدوجہد کرے جو ایک ہی خاص ڈائریکشن میں ہو، ہمہ جہت بھی ہو اور مربُوط بھی ہو تو اپنی مرضی کے نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔

لیکن تجاویز سے پہلے بحیثیت ایک عام پاکستانی اور ووٹر کے جماعتِ اسلامی کے دوستوں کے لئے غوروفکر کے کُچھ پہلو ہیں:

آپ کے تقویٰ کی بُنیاد پر میں آپ کو ووٹ کیوں دوں؟
تقویٰ اللہ اور آپ کا مُعاملہ ہے مُجھے اِس سے کیا لینا دینا؟
مُجھ سے تو آپ میرے صُبح و شام کی بات کریں؛ پینے کو صاف پانی نہیں، دو وقت کی روٹی مُیسر نہیں، بجلی کے بِل ادا ہو نہیں پاتے، تعلیم مہنگی بہت، ڈگری ہے تو نوکری نہیں، سیٹھ کی نوکری میں تحفظ نہیں، میری دستار و رِدا شریفوں، زرداریوں اور عمرانیوں کی دسترس میں ہیں؛
جبکہ تُم ہو کہ دُور کہیں دُور تلک میدان میں نظربھی آتے نہیں!
پھرمَیں اپنا ووٹ تُمہیں ہی کیوں دُوں؟؟؟
بحیثیت ایک عام پاکستانی کے اسلامی نظامِ حکومت آپ کا مسئلہ ہو سکتا ہے میرا نہیں!
فَقر انسان کو کُفر تک لے جاتا ہے؛ جب میرا دین مُجھے فاقہ کشی سے مرنے کی بجائے جینے کے لئے حرام کھانے کی بھی اجازت دیتا ہے تو اِس کا مطلب ہے کہ بُھوک، غُربت اور اَفلاس کا خاتمہ کسی بھی فرد کی پہلی ترجیح ہے؛
اِکنامِک ڈویلپمنٹ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سمجھے کُچھ!!!
ویسے بھی1973ء کا آئین بنوانے میں سب دینی جماعتیں شامِل تھیں تو پھر اِس کے بعد کون سا اسلامی نظامِ حکومت ہے جو تُم لانا چاہتے ہو؟
سوچ سکتے ہو کبھی اِس زاویے سے؟؟؟

ہمارے دوست کبھی کبھی اس پہلو پر بھی سوچنا شُروع کردیتے ہیں کہ جماعت اپنا ایک پولیٹیکل وِنگ بنائے اور سیاست اُس پلیٹ فارم سے کرے جبکہ دعوت و تربیت کا کام جماعتِ اسلامی کے پلیٹ فارم سے۔ یعنی سیاست اور دین کو الگ الگ کردیا جائے؛

سوچ کا یہ زاویہ فِکری افلاس کا عکاس ہے۔ فرض کریں ایسا کر بھی دیا جائے تو کُچھ عرصہ بعد یہی دوست تجویز کرسکتے ہیں کہ چُونکہ پولیٹیکل ونگ تو خالِص جماعت نہیں ہے اس لئے اسکو تھوڑا سا اوپن کریں۔
احباب جانتے ہیں کہ اوپن ہونے کے سبھی تقاضے پُورے کرتے کرتے آپ بے راہروی کی ایسی اتھاہ گہرائیوں میں غرقاب ہوسکتے ہیں جہاں سے واپسی مُمکن ہی نہ ہو؛ آپ دس سال بعد شور مچاتے نظر آئینگے کہ ہمارے ساتھ ایک بار پِھر ہاتھ ہوگیا۔
پاکستان اسلامک فرنٹ اور پاسبان کے تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ احیائے اِسلام کی کوئی تحریک اوپن ہونا ایفورڈ نہیں کرسکتی۔

جماعت کی پالیسی اور حکمتِ عملی کی تشکیل میں بُنیادی کردار فیصلہ سازی کے فورم کا ہے، مرکزی، صُوبائی، ضلعی یا مقامی شُوریٰ ہی جماعت میں فیصلہ سازی کا مرکز ہیں اور یہ فورم اتنا مضبوط، طاقتور اور مؤثر ہے کہ امیرِجماعت بھی اسکی مشاورت اور منظوری کے بغیر کوئی فیصلہ مُسلط نہیں کرسکتا۔ لیکن معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ اراکینِ شُوریٰ کے انتخاب کے وقت ارکان اپنی بُنیادی ذمہ داری سے چشم پوشی اختیار کرتے ہیں۔

شُوریٰ ایک ایسا فورم ہے جس نے نہ صرف آنیوالے حالات میں درپیش چیلنجز کا جائزہ لینا ہے بلکہ وہ حکمتِ عملی بھی تشکیل دینی ہے جو اِن چیلنجز سے نبُرد آزما ہونے کے لئے ارکانِ جماعت کو بالخصُوص اور عوام کو بالعموم رہنُمائی دے سکے۔
یعنی جماعت میں شُوریٰ کی حیثیت ایک لائٹ ہاؤس کی سی ہے۔ جب آپ لائٹ ہاؤس میں ایک ایسے ٹِمٹِماتے چراغ کو رکھ دیں جس کی اپنی لَو تیز ہوا کے تھپیڑوں کے سامنے پَھڑپَھڑانے لگے اور ایسے کئی ٹِمٹِماتے چراغ آپ ایک ساتھ جمع کر دیں تو وہ مِل کر پُورے لائیٹ ہاؤس کی روشنی کو مَدھم کر دیں گے۔

شوریٰ کی رُکنیت کے لئے ووٹ ڈالتے وقت عموماً یہی دیکھا جاتا ہے کہ پچھلی شُوریٰ میں میرے زون، مقام یا ضلع سے کون سے افراد رُکنِ شُوریٰ تھے، اُنہی کو پھر سے ووٹ دے دیا جاتا ہے۔
حالانکہ فیصلہ سازی کے فورم کے لئے تقویٰ اور پرہیزگاری کے علاوہ ذی شعُور، زِیرک اور مُعاملہ فہم ہونے کے ساتھ ساتھ حالاتِ حاضرہ پر گرفت رکھنے والے اور بغیر کسی لگی لِپٹی کے ڈنکے کی چوٹ پر اپنا مافی الضمیر بیان کرنے والے افراد کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ امِیر کی ہاں میں ہاں مِلانے والے یا شُوریٰ کے اجلاس میں محض حاضری لگوا کر خاموش تماشائی کی حیثیت سے شرکت کرنے والے اراکینِ شُوریٰ کی۔

تعجب کا مقام ہے کہ ہر حادثے کے بعد ارکانِ جماعت بھی یہ کہتے پائے جائیں کہ پتہ نہیں ایسے فیصلے کہاں سے آتے ہیں؟ فیصلے تو وہیں سے آتے ہیں جہاں کے لئے آپ انتہائی بے توجہی سے افراد کو مُنتخب کرتے ہیں۔

اگر ارکانِ جماعت بیدارمَغزی سے کام لیں اور بے توجہی تَرک کردیں تو نہ صرف خرابیوں اور خِفت سے بچا جا سکتا ہے بلکہ بہتر سِمت میں پیشقدمی کی جا سکتی ہے۔ ارکانِ جماعت جب تک اپنی زندگی کا ثبوت دیتے رہیں گے خیر کی اُمید باقی رہے گی۔
ابھی بھی وقت ہے کہ اپنی بُنیاد کی طرف واپس لوٹ جائیں کہ فلاح کا راستہ وہیں سے نِکلے گا۔ قُرآن وسُنت اور دِل کی دُنیا بدل دینے والا لٹریچر جس نے برسوں تک اِس کھیتی کی آبیاری کی اُسی سے ایک بار پھر اِستفادہ کیا جائے تو بہترین ثمرات سمیٹے جا سکتے ہیں۔

77 سال گُزرنے کے باوجود ہم انقلاب کیوں نہیں لا سکے؟ انقلاب نہ لاسکنے کے بارے میں اگر آپ کا تصور یہ کہ ہم نظام پر قبضہ کیوں نہیں کرسکے تو آپ اسلام کے بُنیادی تصورِانقلاب کی رُوح کو ہی سمجھ نہیں پائے۔ آپ کو نہ صرف اسلامی نظریہ کے مُطالعہ کی از سرِ نَو ضرورت ہے بکہ ایک ایسے صاحبِ بصیرت مُربّی کی بھی جو آپ کی سوچ کے زاویے کو درست سِمت دے سکے۔ کیونکہ اگر آپ انقلاب کے کسی خُود ساختہ تصور کو اپنے دل میں لے کر چل رہے ہیں تو آپ کا وجود اپنی ہی تحریک کے لئے کسی فدائی حملہ آور کا ہے۔

انقلاب دل کی دُنیا بدلنے کا نام ہے۔ عقائد کی درستگی، کردارسازی، اجتماعیت کی تشکیل، صلاحیت و صالِحَت کا اِمتزاج، نوجوانوں کی صف بندی، امامت و قیادت کی تیاری، گرد و پیش سے واقفیت، عالی منظر نامہ سے آگہی، وقت کی رفتار پر گرفت، وسائل کی دستیابی، بصیرت پر مبنی فیصلے اور مُسلسل پیشقدمی انقلاب کے ایسے مدارج ہیں جن کو طے کئے بغیراسلامی انقلاب برپا کرنا محض دیوانے کا اِک خواب ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: فکر مودودی اور جماعت اسلامی: تجزیہ ۔ مجاہد حسین

 

اسلامی انقلاب کے لیے نوجوان نسل کی فکری آبیاری، تعلیم و تربیت اور صف بندی میں اسلامی جمعیت طلبہ کا ہمیشہ سے ہی ایک مثالی کردار رہا ہے لیکن ان کے مُعاملے میں ہم سے کُچھ ایسے بَلنڈرز سرزد ہوئے ہیں جو فیصلہ سازوں کی فہم و فراست پر سوالیہ نشان ہیں۔
یہ سب نوجوان ایک شاندار اسلامی انقلاب کے خوابوں کو دِل میں بسائے اپنی زندگی کا قیمتی ترین دَور جمعیت کی نذر کرتے ہیں اور اس کے لئے اپنی جان، مال، وقت اور کیریئر کی قُربانی دیتے دیتے ایک روز ایسے مقام پر آن کھڑے ہوتے ہیں جہاں سے اِن کا تعلیمی زندگی سے تعلق ختم اور عملی زندگی سے جُڑتا ہے؛ بس اِسی مقام پر لمحوں کی خطا تھی صدیوں نے سزا کاٹی ہے والا مُعاملہ ہُوا جس نے اسلامی انقلاب کے خواب کو زمیں بوس کردیا۔

اپنے ہیومن ریسورس کی تعلیم اور صلاحیت کے مُطابق عملی زندگی میں اُن نوجوانوں کی ایڈجسٹمنٹ کا کوئی جامع منصوبہ نہ ہونا ہی ہماری حکمتِ عملی کا وہ سُقم ہے جس کے سبب فکری بالیدگی کے حامِل نظریاتی طورپر تربیت یافتہ لاکھوں نوجوان معاشرے میں جاکر گُم ہوگئے اور انقلاب کی جانب پیشقدمی کی تحریک تہی داماں و تہی دَست بِیچ چوراہے اِن جوانوں کی مُنتظر کھڑی ہے۔

فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے ؛ کبھی کرتی نہیں ملّت کے گناہوں کو معاف

مثلاً جمعیت کے رُفقاء سے ارکان تک جتنے طلبہ تھے اُنکی کیریئرپلاننگ جمعیت سے انکی فراغت سے ایک سال پہلے کرلی جاتی اور جُونہی کوئی فرد جمعیت سے فارغ ہونے لگتا وہ اپنے لئے پہلے سے طے شُدہ فیلڈ جوائن کر لیتا اور زندگی آپ کے نام کردیتا۔
فرض کریں اگر جماعت سب کے لئے یہ لازم کر دیتی کی ہمارا ہر نظریاتی طالبعلم اپنی تعلیم اور قابلیت کے مُطابق سرکاری جاب ہی کرے گا چاہے وہ کلرکی ہو، سکول ٹیچنگ، فوج، پولیس، یا سِول سروس کی افسری ہو؛ تو آج ریاستی اداروں کی ہئیت کُچھ اور طرح کی ہوتی۔
مُناسب رہنمائی نہ ہونے کے سبب یہ نوجوان از خود فِیلڈ میں نکلے، جو سروائیو نہ کرسکے وہ شرمندگی کے مارے نہ لوٹے اور جو از خود سروائیو کر گئے وہ ویسے ہی فنا فی الدُنیا ہوگئے۔
جماعتِ اسلامی کے ہاتھ کیا لگا؟؟؟

عصرِحاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے
قبض کی روح تیری دے کے تجھے فکرِمعاش

ہم نے 90ء کی دہائی میں اپنے کانوں سے سُنا اور اپنی آنکھوں سے اُن لیڈران کو دیکھ بھی لیا جو یہ پرچار کرتے نظر آئے کہ سرکاری نوکری اس لئے نہیں کرنی کہ آپ اکیلے کارِسرکار میں جا کر کِیا تِیر مار لیں گےِ؟؟؟
عرض کیا گیا: سرکار! اگر سب مِل کر جائیں اور ہر سال جاتے رہیں تو کارِ سرکار کا ماحول رفتہ رفتہ بدل بھی سکتا ہے؛ نقّار خانے میں طُوطی کی بھلا پہلے کب سُنی گئی تھی جو تَب سُنی جاتی؛

یُوں لاکھوں نظریاتی نوجوان جن سے اِس ریاست کی خِدمت کا کام لیا جا سکتا تھا اُنہیں پلاننگ کے اِس سُقم نے سمندر بُرد کردیا، رزقِ خاک بنا دیا اور فکرِمعاش اِس قیمتی اثاثے کو ہڑپ کرگیا۔

پُراَمن اسلامی انقلاب کی قیادت کے لئے بانیٔ جماعتِ اسلامی سید مودودی نے جس ہیومن ریسورس کی ضرورت پر فوکس کیا وہ ایسی افراد سازی کی مُتقاضی ہے جو نہ صرف صلاحیت کے اعتبار سے بہترین افراد ہوں بلکہ صالحیت کا بھی قابلِ رشک نمُونہ ہوں انقلاب کے لئے معاشرے کی قیادت اور اِمامت کے منصب پر جب ایسے بہترین لوگ فائز ہوں گے تو وہ ایک پُراَمن انقلاب کے خواب کو کامیابی سے ہمکنار کر پائیں گے اور مُعاشرہ ایسے لوگوں کی قیادت میں برپا ہونے والے انقلاب میں خُود کو محفوظ تصور کرے گا۔

تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
حق تجھے میری طرح صاحبِ اسرار کرے
ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
جو تجھے حاضر وموجود سے بیزار کرے
موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخِ دوست
زندگی تیرے لئے اور بھی دشوار کرے
دے کے احساسِ زیاں تیرا لہو گرما دے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
فتنہ ملتِ بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطین کا پرستار کرے

معاشرے میں تعلیم یافتہ طبقے کی ایک قابلِ ذکر تعداد نے سید مودودی کی تحریروں سے استفادہ کیا اور جماعتِ اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کا حصہ بنے۔ ہم صرف اسلامی جمعیت طلبہ پر بات کریں گے کیونکہ اس وقت جماعت میں جو لوگ مُتحرک ہیں اُنکی اکثریت جمعیت ہی کے توسط سے جماعت میں آئی ہے۔

عمُومی درجہ بندی کے اعتبار سے تین طرح کے نوجوان اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہوئے۔ بہت زھین و فطین [میڈیکل کالجز اور انجینیئرنگ یُونیورسٹیوں کے طلبہ]، اوسط درجے کی زھنی سطح والے لیکن بہت مُتحرک نوجوان، اور عام طلبہ جو بطور حامی کے ساتھ ہو چلے۔

دُوسری طرح کی درجہ بندی میں پہلے نظریاتی اعتبار سے مضبوط افراد [مُطالعہ لٹریچر، عبادات اور مُعاملات میں بہترین لوگ]، دوسرے بہت مُتحرک لیکن فکری اعتبار سے مُناسب درجہ میں، تیسرے حامی یا کارکن، اور چوتھے تعلیمی اداروں میں اسلامی جمعیت طلبہ کے عروج اورعزت و کے تکریم کو دیکھ کر کسی خاص ایجنڈا کے تحت جمعیت کے ساتھ چلنے والے جوان؛
سمجھنے کے لئے مزید آسان کردوں کہ ایسے طلبہ بھی جمعیت میں شامل ہوئے جو یہ دیکھتے تھے کہ جمعیت کے کارکنوں کو کالج یا یُونیورسٹی میں ہر طالبعلم سلام کرتا ہے تو ہم بھی جمعیت کا بَیج لگا لیں؛ اتنی ننھی مُنھی خواہشات بھی ہوتی ہیں نَوعُمری کے اُس پہر؛
یہ آخری درجے کے لوگ کبھی جمعیت کے نظم پر حاوی نہیں ہو سکے البتہ انہی موقع پرستوں کی بعض منفی حرکات اسلامی جمعیت طلبہ سے منسُوب رہی ہیں۔ ایسے جوان زمانۂ طالبعلمی کے بعد عملی زندگی میں جماعتِ اسلامی کو دستیاب بھی نہیں ہوئے کیونکہ اِن کی نظریاتی تربیت نہیں ہوپائی۔

زھین فطین لوگ اسلامی جمعیت طلبہ سے ہوتے ہُوئے اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں مصرُوف ہوگئے، اسلام پسند جذبے کے تحت ڈاکٹرز اور انجینئرز کے نظریاتی فورمز بنائے اور اپنے تئیں کشمکشِ انقلاب کو جاری رکھنے کی کوشش کی؛ ان افراد نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیت اور معاشی طور پر بہت ترقی کی اور اپنے پراجیکٹس کے زریعے خدمتِ خلق بھی؛ حتٰی کہ بعض لوگوں نے انفرادی طور پر اپنے شُعبے میں بہت بڑے بڑے پراجیکٹس بھی کیے۔

لیکن جماعتِ اسلامی کی مین سٹریم لِیڈرشپ کے لئے یہ لوگ دستیاب نہیں ہوئے اور ان کے بارے میں یہ گُمان بھی کر لیا گیا کی یہ پِیما [پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن] اور انجینیئرز فورم کے لوگ ہیں۔ پِیما تو میڈیکل اور خِدمات کے شُعبے میں کافی کُچھ ڈلیور کر پائی لیکن انجینیئرز فورم کی تحریکِ اسلامی کے لئے خِدمات نشستن، گُفتن و بَرخاستن سے زیادہ کُچھ نہیں؛ روٹری کلب بھی اِن سے زیادہ مُتحرک ہے۔
اسی طرح تنظیمِ اساتذہ پاکستان بھی بہت ہی قیمتی افراد نِگل گئی۔

ہم نے کُچھ نظریاتی دھڑے کسی وقتی ضرورت کے تحت مثلاً مارشل لاء دور میں مُختلف محکموں میں اپنی بقا کے لیے یا نظریاتی کشمکش [ اسلام بمُقابلہ کمیونزم، سوشلزم] کے دور میں بنائے اور پھر کبھی اِن فیصلوں پربدلتے حالات میں نظرِ ثانی کرنے یا رجُوع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ یہ قابل ترین نظریاتی اثاثہ چُونکہ الگ الگ کیمپوں میں چلا گیا اسی لیے یہ افراد جماعت اسلامی کی مین سٹریم لیڈر شِپ اور فیصلہ سازی کے فورم یعنی کہ مجالِسِ شُوریٰ کی رُکنیت کے لئے کبھی مُنتخب ہی نہیں ہوپائے۔

اب بچ گئے اوسط درجے کی زھنی صلاحیت رکھنے والے مُتحرک نوجوان؛ اِن میں سے جو بہت تیز طرار اور تیکھے تھے وہ تو جماعت کے ہاتھ ہی نہیں آئے۔ البتہ کُچھ ایسے مہربان تھے کہ جنہوں نے اپنی اُفتادِ طبع کے پیشِ نظر جماعتِ اسلامی جوائن تو کرلی لیکن جماعت کے مناصب، وسائل، اور روابط کا ناجائز استعمال کرکے اپنے ذاتی کاروباری منصوبوں کی ریت ڈالی اور کامیاب ہونے کے ساتھ ساتھ جماعت میں ایک کاروباری طبقۂ اشرافیہ کی بُنیاد رکھی۔

جماعت میں زھین اور مُخلص لوگوں کے آگے بڑھنے کا راستہ بھی اِنہی لوگوں نے روکا ہے؛ یہ لوگ چند ہیں لیکن اپنی مضبوط لابِنگ اور سرمائے کی بدولت سِسٹم پر اثر انداز ہیں۔

اِن حضرات کے علاوہ باقی ماندہ اوسط درجے کی ذھنی صلاحیت رکھنے والے سادہ لوح لوگ ہی جماعتِ اسلامی کے 35 سال پر مُشتمل قریب کے زمانہ کا ماضی و حال ہیں اور شاید مُستقبل بھی یہی ہیں۔ آنیوالے سالوں میں تازہ دَم خُون جو جماعت میں شامل ہوگا تو وہ بھی اِنہی جیسے ہوں گے۔
سمجھ لینا چاہیے کہ یہی ہمارا نصیب ہے۔

یہ لوگ نظریاتی ہیں، پُرعزم ہیں، محنت کش ہیں لیکن کسی بھی انقلاب یا عوامی مقبولیت پر مبنی سیاست کے لئے جس درجہ کے با شعور، فعال، تیزطرار اور بدلتے حالات کی نبض پر دسترس رکھنے والے صاحبانِ فہم و فراست اور حکمت و بصیرت کی ضرورت ہے جماعت کی یہ موجودہ قیادت اُس معیارِ مطلوب سے کوسوں دُور ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ محض فزیکل لیبر کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ حکمت و بصیرت کے نہ تو مارکیٹ میں انجیکشنز مِلتے ہیں اور نہ ہی کیپسُولز؛ مطلب یہ کہ ایسی کسی فکری و رُوحانی بیماری یا کمزوری کا ازالہ کسی بیرونی علاج سےمُمکن ہی نہیں۔

اسمٰعیل ہانیہ و خالد مشعل [فلسطین]، راشد الغنوشی [تیونس]، مُحمد مُرسی [مصر] اور طیب اردگان [تُرکی] آسمان سے نہیں اُترے بلکہ یہ اسی دھرتی کی مخلوق ہیں اور اہلِ بصیرت ہیں؛
ہم اہلِ وطن بھی کیا ایسا کوئی لیڈر دُور دُور تک اپنے ہاں دیکھتے ہیں؟

کراچی جماعت نے حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں کُچھ انگڑائی لی تو ہے؛ اُنہوں نے لوکل ایشوز پر فوکس کیا ہے اور عوام میں اپنے لئے اعتماد کو بحال کرتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمٰن جیسے کُچھ دیوانے آپ کو ہر بڑے شہر میں درکار ہیں۔

جماعتِ اسلامی کو ایک نئے جنم کی ضرورت ہے جو ارکانِ جماعت کی دلچسپی، بیدار مغزی و مُداخلت، جماعت کے اندر بڑے پیمانے پر احتساب اور اصلاحات، غیرمُبہم اور واضح پالیسی اور مؤثر حکمت عملی کے زریعے ہی مُمکن ہے۔

یہاں میرے مُخاطب اِسلام پسند عوام، دینی جماعتیں اور مذھبی گروہ بھی ہیں؛ ہم نے اپنے ماضی میں دینی مُعاملات اور سیاسی حماقتوں کی ایسی تاریخ رقم کی ہے کہ مزید تجربات کے لئے عالمی منظر نامہ ہمیں شاید دس پندرہ سال سے زیادہ کی مُہلت ہی نہ دے۔ 20 مارچ 2003ء کو عراق پر امریکی حملے سے شُروع ہونیوالی لڑائی عراق، لیبیا، بحرین و شام کو اپنی لپیٹ میں لے چُکی ہے؛ پھینٹی لگنے کا یہ سلسلہ اِک نہ اِک روز ہمارے گھروں تک پہنچ کر ہی رہے گا۔

جس روز سعودی عرب یا ایران میں سے کوئی ایک بھی اس کی لپیٹ میں آگیا اُس کے بعد ہمارے لئے مُہلتِ عمل شاید ختم ہوجائے۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے سے خطرات کبھی ٹَلتے نہیں۔

جماعت کے نئے جنم میں نئے دَور کے تقاضوں کے مُطابق پیشقدمی کی نئی جَہتیں کیا ہونی چاہئیں؟ اسی ضِمن میں کُچھ تجاویز حاضر ہیں:

جماعت اگر اپنے ایک نئے جنم پر راضی ہوجائے یعنی ایک نئی پَنیری کی کاشت کی طرح؛ تیرہ سے چالیس سال تک کی نوجوان نسل پر کام کرے، جلد بازی کا مُظاہرہ نہ کرے اور دس سے پندرہ سال اَنتھک جدوجہد کرے جو ایک ہی خاص ڈائریکشن میں ہو، ہمہ جہت بھی ہو اور مربُوط بھی؛ تو اپنی مرضی کے نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔

بزمِ پیغام، اسلامی جمعیت طلبہ، جے آئی یُوتھ، لیبرونگز، طالبات، خواتین اور جماعتِ اسلامی سب ہی اپنے اپنے مُعاملات، لیڈر شپ، فیصلہ سازی کے فورمز، پالیسیز اور حکمتِ عملی کو از سرِ نَو ترتیب دیں۔ مزاحمت کی بجائے دلیل کو اپنا مطمع نظر بنائیں تاکہ فکری طور پر ایک مضبوط معاشرہ ترتیب دیا جا سکے۔

اس فکر انگیز مضمون کا دوسرا اور اہم حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: