نئی حکومت کو درپیش چیلنجز : سردار جمیل

0
  • 124
    Shares

قومی ہیرو عمران خان جلد وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا لیں گے جو یقینآ پاکستان کی خوش بختی ہو گی لیکن ماضی کے برعکس اس بار نئی حکومت کو بغض و انتقام سے لبریز مضبوط اپوزیشن، طاقتور اسٹیبلشمنٹ، فعال الیکٹرونک و سوشل میڈیا کی موجودگی میں درج ذیل چیلنجز کا فوری سامنا ہو گا۔

*اداروں کی أزادی
*اسٹیبلشمنٹ، اپوزیشن اور میڈیا سے بہتر ریلیشنشپ
*پانی اور لوڈ شیڈنگ کے بحران کا سنجیدہ و دیرپا حل
*گرے لسٹ سے اخراج
*معیشت کی بحالی اور غیر ملکی سرمایہ کاری
٭کرکٹ بحالی
*غربت مہنگائی اور قرضوں کے بوجھ میں کمی
*ٹیکس نیٹ ورک میں دیانتدارانہ وسعت
*کفایت شعاری و احتساب
٭تعلیمی و دفاعی بجٹ میں اضافہ
*یورپی منڈیوں تک پاکستان کی تجارتی رساٸی
*کشمیر ایشو اور انڈیا سے سہ فریقی مذاکرات
*امریکہ سے دوستانہ اور خوشگوار تعلقات
*قبائلی علاقہ جات اور افغانستان سے جڑے مسائل سے نبٹنے کا عزم
پاکستان کے بہتر اور روشن مستقبل کے لیے عمران خان کو دعا بھی دیں اور سپورٹ بھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔

اس موقع پر ضروری ہے کہ داخلی مسائل کے حوالے سے اہم تجاویز حکومت کے گوش گزار کی جائیں۔۔

اصلاحات:-
اصلاحات موجودہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں اور یہ تبھی ممکن ہے کہ پارلیمنٹ متفقہ طور پر

*دیوانی اور فوجداری مقدمات کے لیے ٹائم فریم مقرر کرے

*قاتل کو 90 دن کے اندر پھانسی پر لٹکایا جائے نیز قاتل کے ورثاء مقتول کے ورثاء کو عدالتی اخراجات کے علاوہ 20 لاکھ روپے بطور تاوان ادا کریں

*دیت کی رقم 50 لاکھ مقرر کی جائے جبکہ قتل خطا پر 15 لاکھ تاوان اور حادثے میں مرنے والوں کے لیے 12 لاکھ معاوضہ مقرر کیا جائے۔۔
٭ریپ زدہ اور تشدد زدہ خواتین کے عدالتی اخراجات حکومت برداشت کرے
٭روڈ اینڈ جنرل سیفٹی کے لیے سخت قوانین وضع کیے جائیں تاکہ حادثات پر قابو پایا جا سکے۔

پولیس سسٹم:-
پاکستان کے بیشتر مسائل کی جڑ کرپٹ تھانہ کلچر ہے۔۔
*تھانہ میں کیے جانے والے بہیمانہ تشدد پر پابندی عائد کی جائے اور سائنٹفک بنیادوں پر تفتیش کی جائے۔۔
*رشوت کے سدباب کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے
*آئی جی صوبہ جات کو تقرریوں اور تبادلوں سمیت ہر طرح کے اقدامات کے لیے مکمل با اختیار بنایا جاۓ اور ائی جیز کو ہفتہ وار صوبائی پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دینے کا پابند کیا جائے۔۔

اسلامک ویلفئیر:-
*جمعہ کی چھٹی بحال کی جائے نیز خطباء اور ائمہ کرام کے لیے تنخواہیں مقرر کیے جائیں۔
*بیواؤں یتیموں بیماریوں طلبہ اور ستر سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے مفت علاج کی سہولیات اور وظائف مقرر کیے جائیں نیز سفری رعایات دی جائیں۔
٭اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پہ عملدرآمد نیز اقلیتوں کے معاشی، معاشرتی، سیاسی و تمدنی حقوق کا تحفظ
٭مزدور کی کم سے کم تنخواہ اکیس ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاۓ
* دو طرفہ شخصی سود، جہیز، اسراف اور چائلڈ لیبر پر پابندی عائد کی جائے۔۔

کرپشن کی روک تھام:-
کرپشن کی روک تھام ہی اصلی اور حقیقی چیلنج ہے جسکے لیے ضروری ہے کہ
٭نیب، نادرا، الیکشن کمیشن، پیمرا، ایف آئی اے اور ایف بی آر کو حکومتی اور سیاسی تسلط سے آزاد کیا جاۓ، بائیو میٹرک سسٹم کی تنفیذ نیز اداروں کے سربراہان کے تقرر کا اختیار پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں سپریم کورٹ کو دیا جاۓ
٭ایک لاکھ کی کرپشن پر رقم کی واپسی کے علاوہ ایک ماہ سزا فی لاکھ کے حساب سے ایک کروڑ روپے تک کی کرپشن پر آٹھ سال، ایک کروڑ سے بیس کروڑ تک کی کرپشن ثابت ہونے پر پندرہ سال اور بیس کروڑ سے ایک ارب کی کرپشن پر ریکوری کے علاوہ عمر قید سزا دی جاۓ جبکہ ایک ارب سے زائد کی کرپشن پر سزاۓ موت۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: