تعلیم و تربیت کے نفسیاتی پہلو ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد یحییٰ

0
  • 40
    Shares

موجودہ سائنس، ٹیکنالوجی اور جدید ذرائع ابلاغ کے دور میں جہاں زندگی میں بہت سی آسانیاں فراہم ہوئیں ہیں وہیں آج والدین کے لئے فرائض کی ادائیگی بھی مشکل ہو گئی ہے۔ بچوں کی تربیت بہت ہی صبر آزما، طویل المیعاد اور کل وقتی کام ہے جو مہینوں نہیں بلکہ برسوں پر محیط ایک جہد مسلسل کا نام ہے۔ یہ والدین سے ہمہ وقت تحمل، بردباری اور برداشت کے ساتھ وقت کا تقاضہ کرتا ہے کہ والدین اپنی گوناگوں مصروفیات سے وقت نکال کر بچوں کے ساتھ گزاریں کیونکہ اگر بچوں سےتعلق و ربط قائم ہو جائے گا تو تربیت کا عمل آسان اور موثر ہو جائے گا۔ بچہ موم (Plastic) کی طرح ہے اس کو جیسا ڈھالیں گے ویسا ہی نقش بن جا ئے گا اور بچپن کے نقوش گہرے اور دیر پا ہوتے ہیں۔ یہ ایسے انمٹ نقوش ہوتے ہیں جو بڑھاپے تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ لہذا کوشش کی جائے کہ ابتداء ہی سے بچوں کی تعلیم و تربیت صحیح خطوط پر استوار ہو جائے۔ بعد از خرابی بسیار خواہ کسی کو بھی الزام دیا جائے یہ لاحاصل بحث ہو گی۔ وہ وقت واپس نہیں آئے گا اور کف افسوس ملنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو گا۔

ایسا نہ ہو کہ درد بنے درد لازوال
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کرسکو

بہرحال بچوں کی برائیوں کی ذمہ داری والدین پر بھی عائد ہو گی۔ والدین کو دیانتداری سے اپنے رویہ پر غور کرنا چاہئے۔ بچہ جو کچھ بنتا ہے اس میں وراثت سے زیادہ اس کے ماحول اور والدین کی تربیت کا دخل ہوتا ہے۔ ذیل میں بچوں کی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے چند مفید گزارشات پیش خدمت ہیں۔

جسمانی نشوونما:
 بچہ کی ذھنی نشوونما اور تعلیم و تربیت کے ساتھ اس کی جسمانی صحت کا اچھی طرح خیال رکھا جائے کیونکہ Sound mind is in sound body. صحتمند دماغ صحتمند جسم میں ہوتا ہے۔ اس سے غفلت برتنے کے نتیجے میں بچے بیماریوں کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ ایک بزرگ کا قول ہے کہ تندرستی سب سے بہتر لباس ہے اور جہالت سب سے دردناک مرض ہے۔ بقول رالف ایمرسن (Ralph Waldo Emerson 1882) :”سب سے بڑی دولت صحت مند جسم ہے۔”

نہیں صحت کے برابر کوئی نعمت ہرگز
ہو نہ صحت تو میسر نہ ہو راحت ہرگز

مشقت کا عادی بنانا :
 بچوں کو محنت و مشقت کا عادی بنایا جائے۔ ان کے اذہان میں یہ بات راسخ کرائی جائے کہ حرکت میں برکت ہے۔ مسلسل حرکت ہی کا نام زندگی ہے۔ پانی جب تک بہتا رہتا ہے صحیح و تر و تازہ رہتا ہے ورنہ اس میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے۔

؎ جاوداں پیہم رواں ہر دم جواں ہے زندگی

کاہلی سے بچاؤ :
 سستی ایک عالمگیر بیماری ہے۔ جو صحت کے لئے سم قاتل ہے۔ سستی کا شکار افراد ناتوانی کا شکار رہتے ہیں اور آئے دن گوناگوں بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی صحت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور کبھی تندرست و توانا نہیں ہوتے۔

سست لڑکے نہیں ہوتے ہیں توانا ہرگز
اپنی صحت کو نہ سستی میں گنوانا ہرگز

ذہنی نشوونما:

زبان کی نشوونما:
بچپن میں جیسی گفتگو اور آداب بچوں کو سکھائے جائیں گے وہ تمام عمر اس ہی روش پر چلتے رہیں گے۔ بچوں کی زبان کی اصلاح کے لئے ان کے سامنے شائستہ اور اچھی گفتگو کی جائے، اچھے الفاظ منتخب کئے جائیں۔ بچہ کا ماحول صاف ستھرا، پاکیزہ اور اچھا ہو۔ عرب اس حقیقت کو سمجھتے تھے کہ زبان کی فصاحت کے لئے سازگار ماحول درکار ہوتا ہے اسی لئے وہ فصاحت لسان کے لئے بچوں کو قبائلی اور دیہی علاقوں میں بھیجا کرتے تھے۔ اگر بچوں کو دوسری زبانوں کی تعلیم دینی ہو تو اس کے لئے بھی سازگار ماحول بنایا جائے۔ تا کہ دیگر زبانوں کا حصول سہل ہو جائے گا۔ ویسے بھی زبان کی تدریس کے لئے Direct Method زیادہ موثر اور کارگر ہوتا ہے۔

بچوں کو بات چیت اور کلام کے موقع محل سے بھی آگاہ کیا جائے کہ کب، کیسے، کہاں اورکیا بات کرنی ہے اورکس وقت خاموشی بہتر ہے۔ خاموشی کی تلقین بھی ایک اہم اور بنیادی نکتہ ہے۔ اورزباں وزیاں میں اسی ایک نکتہ کا فرق ہے جسے عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

زباں اپنی حد میں ہے بیشک زباں
بڑھے ایک نکتہ تو یہ ہے زیاں

تجسس:
تجسس(Curiosity) کا مادہ ہر انسان میں ہوتا ہے۔ بچوں میں تجسس کا مادہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ بچہ ہر واقعہ اور شے کی جزئیات سے واقف ہوناچاہتاہے۔ اس میں جاننے کی خواہش بدرجہ اتم موجود ہے اور وہ ہمہ وقت کسی نہ کسی جستجو میں رہتاہے۔ یہی وہ مادہ ہے جو آگے بڑھنے اورترقی کرنے میں مدد دیتاہے۔ اس کا مفیداور مثبت استعمال ہونا چاہئے۔ بچہ کوسوال کرنے پر کبھی نہ تو جھڑکا جائے نہ ہی سوال کرنے سے منع کیا جائے۔ اس کے سوالات کا جواب تشفی بخش طریقے سے دیا جائے اور اگر کچھ امور بچے سے پوشیدہ بھی رکھنا چاہتے ہیں تو ایسا کرتے ہوئے بچہ کو یہ محسوس نہ ہونے دیاجائے کہ اس سے کچھ چھپایاجارہاہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے سب کچھ بتادیاجائے لیکن حکمت و دانائی کا مظاہرہ کیاجائے۔ اور اس کے سوالات کا رخ کسی اورجانب پھیر دیاجائے۔ یہ ذہن میں رہے کہ صحیح سوال کرنا علم کی کنجی اور نصف علم ہے۔ مشہور فلسفی فرانسس بیکن (Francis Bacon 1627) کے نزدیک جو جوزیادہ پوچھتا ہے وہ زیادہ سیکھتا ہے اور زیادہ تسکین پاتاہے۔ اس کا مثبت استعمال بہت مفید اور علم کی ترقی میں کارآمد ہے۔

عملی میدان کا انتخاب:
بچہ کی نفسیات سے آگاہی حاصل کرنانہایت ضروری ہے۔ والدین بچوں کی صلاحیتوں، دلچسپیوں کو مد نظر رکھ کر ان کے لئے تعلیم و تعلم کا انتظام کیاجاناچاہئے۔ ہمارے ملک میں بھیڑ چال ہے دوسروں کی دیکھا دیکھی ہم اپنے بچوں کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ مثلاً کمپیوٹر کا دور شروع ہوا تو ہر ایک بچوں کو کمپیوٹر کی فیلڈ میں داخل کرنے کا خواہشمند نظر آنے لگا۔ یہ انتہائی غلط فکر و روش ہے، بچوں کی خواہش، دلچسپی اور انفرادی اختلافات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگر عملی میدان کا انتخاب کیا جائے گا بچہ اس میں شوق، جذبے، لگن اورمحنت سے کامیابی حاصل کرے گا بصورت دیگرہ والدین کے دباؤ کے تحت وہ وقت توگزاردیں گے لیکن اس شعبہ میں کوئی نمایاں مقام حاصل نہیں کرسکیں گے۔

حقیقت آشنائی:
تصور ہمارے ادراکی تجربات کا نتیجہ ہے۔ جو ہم کسی شے یا فرد سے وابستہ کرلیتے ہیں۔ تصور حقیقت سے زیادہ خوش کن یاخوفناک ہوتاہے۔ ۔ بچوں میں یہ اور زیادہ اہمیت رکھتاہے۔ ابتدائی دور میں بچے کے تصورات کوسمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ وہ انتہائی سوچ رکھتا ہے اور دوانتہاؤں پر سوچتاہے۔ بچے کا تصور شدید ہوتاہے۔ وہ اچھائی و برائی کے تصور اورتخیل میں بھی انتہا ئی درجہ تک سوچتا ہے۔ لیکن بچوں کو بتدریج حقیقت آشناکیا جائے اورہر چیز کا صحیح و حقیقی رخ دکھایا جائے اوریہ باور کرانے کی کوشش کی جائے کہ غلطی ہر انسان سے ہوسکتی ہے۔ کوئی شخص معصوم نہیں ہے۔ یعنی اس کے والدین سے بھی خطاہوسکتی ہے اچھے انسان کی خوبی یہ ہے کہ اپنی غلطی کا اعتراف کرلے تو اس سے تائب ہوجائے۔ گرے ہوئے دودھ پر آنسو بہانے، رونے سے بہتر یہ ہے کہ آئندہ اس غلطی کا تدارک کر لیا جائے۔

آزادی اظہار:
بچے والدین سے آزادانہ تبادلہ خیال کرسکیں۔ بالخصوص اگروہ گھرسے باہر کی بات کریں تو انہیں نظرانداز نہ کریں۔ توجہ سے ان کی سنیں، اگر کوئی تنگ کررہا ہے تواسباب جاننے کی کوشش کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے اور جرائم پیشہ افراد بچوں کو اپنا آلہ کار بنانے کی کوشش کریں، کوئی فرد حسد اور رقابت کی وجہ سے بچوں کی تعلیم و تربیت پر منفی طورپر اثر اندز ہونے کی کوشش کرے، کوئی اسے بلیک میل کرکے اس کی شخصیت کو تباہ کردے اور اسے اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرے، بچہ کسی شخص کے خوف کی بناء پر کچھ ایساکام کرلے جس کی تلافی ناممکن ہو۔ اس پر ڈر خوف نہ ہو کہ اگرمیں گھر میں ذکرکروں گا تو گھر والے سزادیں گے بلکہ وہ آزادی سے اپنے معاملات والدین کو بتاسکے۔ ورنہ ان حالات سے دوچار ہونے کے بعد بچہ کی جسمانی، ذہنی، جذباتی اور سماجی نمو کا عمل سست ہوجاتا ہے۔ اوروہ دل میں یہ حسرت لئے پھرتاہے کہ دل میں سینکڑوں باتیں ہیں لیکن کوئی میری سننے والا ہی نہیں۔

سیکڑوں حرف ہیں گرہ دل میں
پرکہاں پائیے لبِ اظہار

جمالیاتی (aesthetical) ذوق :
بچوں کی اس انداز سے رہنمائی کی جائے کہ ان کے اندر حسن وترتیب وتنظیم پروان چڑھے جس سے ان میں جمالیاتی ذوق اور نفاست طبع پیداہوگی۔ ان کے اندر اشیاء کو صحیح مقام پر رکھنے کی خاصیت پیدا ہوگی۔

حسن ہر شے پہ توجہ کی نظر کاہے نام
بارہاکانٹوں کی رعنائی نے چونکایامجھ کو

جذباتی نشوونما:
بچوں کی جذباتی نشوونما بتدریج ہوتی ہے۔ ابتداء میں بچے براہ راست جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور یہ کوئی معیوب بات نہیں۔ اس سادگی وبرجستگی میں بھی حسن ہوتاہے۔ اسی مخصوص بھولپن، معصومیت اور شرارتوں کی وجہ سے وہ مرکز نگاہ ہوتاہے۔ ان کے بغیر وہ بچہ نہیں بلکہ ایک کم عمر بزرگ بن جائے گا۔ بچوں کو بچہ رہنا دیں۔ والدین کے مزاج کی سختی، غصہ، شدت وتندی بچپن میں پچپن سال کا نہ بنادیں ایسا نہ ہو کہ ان کی شخصیت ہی ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہوجائے۔

ایک بزرگ نے اپنے مرید سے بچوں کوساتھ لانے کاکہا۔ وہ شخص اپنے بچوں کو بہت سمجھا بجھا کر شیخ کی خدمت میں لے گیا۔ بچے شیخ کی خدمت میں سرجھکا کر ایک جانب بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد حضرت نے کہا کہ میں نے تم سے بچوں کو لانے کا کہاتھا۔ شیخ نے کہا حضرت یہاں بیٹھے ہیں۔ بزرگ نے فرمایا کہ یہ بچے نہیں یہ توبزرگ ہیں بچے تو وہ ہوتے ہیں جو کچھ شرارتیں کریں کندھوں پر چڑھیں، شوروغل کریں وغیرہ وغیرہ۔

اس دور میں یہ سب سے بڑا ظلم ہوا ہے
بچوں میں وہ پہلی سی شرارت نہیں ملتی

اس لئے ضروری ہے کہ ان کا قدرتی حسن (بھولپن اور شرارتیں ) ان سے نہ چھینی جائیں بلکہ بتدریج ان کی تربیت کی جائے اور ان کی رہنمائی کی جائے کہ ہمہ وقت اپنے جذبات (خوشی، غمی، ہنسنا رونا، خوف، غصہ، جارحیت) کابراہ راست اظہار نہیں کیاجاسکتا۔ موقع ومحل کی مناسبت سے کبھی ان کا اظہار کیاجانا چاہئے اورکبھی اظہار سے رک جاناچاہئے۔

بچوں سے جارحیت (Aggression) کا مکمل خاتمہ ایک ناپسندیدہ اور غیرصحت مندانہ عمل ہے کیونکہ زندگی میں بہت سے ایسے چیلنجز کا سامناکرناپڑتا ہے جہاں ایگریشن کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن اس کی زیادتی نقصان دہ ہے۔ اس لئے راہ اعتدال اپناتے ہوئے اس کو مفید انداز سے استعمال کرنا چاہئے۔ اور زیادتی کی صورت میں والدین صبر و تحمل اورمحبت سے ایگریشن میں اعتدال لائیں۔ حدیث مبارکہ میں جو لاتغضب۔ کے الفاظ آئے ہیں اس کے یہ معانی ہرگز نہیں کہ غصہ آناہی نہیں چاہئے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ غصہ کی حالت میں کوئی کام نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس وقت عقل پر پردہ پڑا ہوتا ہے۔

رہا خوف تو یہ ایک فطری جذبہ ہے۔ انسانی زندگی میں تین بنیادی خوف پائے جاتے ہیں۔ اچانک زورداردھماکہ ہونا، بلندی سےگرنا اورسہارا کاچھوٹ جانا۔ بنیادی طور پر ان تینوں قسموں میں عدم تحفظ کا احساس پایاجاتاہے۔ اس کے علاوہ جتنے خوف ہیں وہ بچہ دوسروں کی باتوں، عملی تجربات اور کہانیوں اور افسانوں سے سیکھتا ہے۔

خوف اللہ رب العزت نے بڑے خطرات سے بچنے کے لئے پیدا کیا۔ مثلاً اگر بچہ بلاخوف وخطربے احتیاطی سے پرہجوم شاہراہ عبور کرے گا وہ کسی بڑے حادثہ کا شکار ہوسکتا ہے۔ حادثہ کاخوف بچے کوایسا کرنے سے روکے گا۔ لیکن بے جا ڈر اور خوف کا تدارک ہونا چاہئے اورکسی حد تک اسے بچے کی زندگی سے نکال دینا چاہئے۔ بالخصوص بچپن کے ڈر اورخوف کے نقوش تاحیات انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اوراس کی شخصیت کی تعمیر رک جاتی ہے۔ خوف اورڈرمنفی جذبات ہیں کیونکہ یہ انسانی جسم کے لئے نقصان دہ ہیں بحالت خوف جسم اور اندرونی اعضاء صحیح طور پرکام نہیں کرتے۔ حالتِ خوف کی طوالت کی صورت میں مختلف پیچیدہ امراض میں مبتلاء ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ بہرصورت اعتدال ہی کی راہ اپنانی چاہئے افراط وتفریط دونوں نقصان کا باعث ہیں۔

نہ تفریط بہتر نہ افراط اچھی
توسط کے درجہ میں ہر بات اچھی

محبت وشفقت :
بچے کلی اور پھول کی مانند نرم و نازک ہوتے ہیں۔ ان سے نرمی، محبت اورشفقت کا رویہ اپنائیں کیونکہ محبت فاتح عالم ہے۔ پیار و محبت ان کا حق ہے اور اس کے ذریعے ان کے قلوب فتح کئے جائیں۔

؎ کم نہیں ملک کی تسخیر سے تسخیر قلوب

فلسفہ سزا (Philosophy of punishment):
سزا کے سلسلے میں اگر حضورﷺ کا اسوہ حسنہ دیکھا جائے تو حضرت انس رضی اللہ عنہ آپ ﷺکی خدمت اقدس میں دس برس رہے لیکن آپ ﷺ نے انہیں نہ صرف یہ کہ کبھی سزانہیں دی بلکہ جھڑکا تک نہیں لیکن پھر بھی اگر کبھی سختی کی ضرورت پیش آئے تو حدیث کی رو سے دس سال کے بعد سختی کی جاسکتی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جس طرح بیماری میں علاج کے لئے کڑوی گولی نگلنی پڑتی ہے اسی طرح بعض اوقات سختی کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر غلطیوں کو بالکل نظرانداز کردیاجائے اورکچھ نہ کہا جائے تو کل بڑی غلطی کا ارتکاب ہوگا جو بعض اوقات ایسی بھی ہوسکتی ہے کہ شاید توبہ کرنے پچھتانے سے بھی کچھ فائد ہ نہ ہو۔ انسان کی فطرت ہے وہ بتدریج چھوٹی برائی سے بڑی برائی کی طرف جاتاہے۔ Nip the evil in the bud ا( برائی کو ابتداء ہی میں ختم کردو)گر اس محاورے پر عمل نہ ہو توبچہ بڑے بڑے جرائم کرنے لگتا ہے۔ اورپیشہ ور مجرم بھی بن سکتاہے۔ اور پھر یہ جرائم سزاؤں سے نہیں رکتے بلکہ بڑھتے ہی رہیں گے۔

ظلم بڑھنے کا ایک سبب یہ ہے
جرم ڈرتا نہیں سزاؤں سے

سزا وجزا کا برمحل نفاذ تعلیم وتربیت میں مفید و معاون ہوتا ہے۔ والدین بچوں پر اپنارعب اور وقارضرور قائم رکھیں لیکن انہیں مستقل ڈراکر نہ رکھیں نہ سزا دینے میں جلدی کریں اور نہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر سزا دیں۔ لیکن اعتدال کے ساتھ۔ سزا ایسی نہ ہو کہ بچہ کو شدید چوٹ آئے۔ اور سزا کا عمل مستقل اور بار بار نہ ہو۔ کسی نقصان یا ذاتی اور وقتی غصہ کی وجہ سے ہرگز نہ سزادیں۔ اسی طرح اگر بچے عادی مجرم نہ ہوں لیکن ان سے نادانستہ کوئی غلط کام ہوجائے تو اسے نظر انداز کریں اور پیار سے سمجھائیں۔ دوسروں کے سامنے اس کے عیوب کا تذکرہ نہ کریں۔ بچے کے سامنے اس تاثر کو قائم کرنے کی کوشش کریں کہ یہ غلط کام ہے اوراگر لوگوں کو علم میں یہ بات آئی تو اس سے وہ لوگوں کی نظروں سے گر جائے گا۔ بے جامارپیٹ اور غلطیوں کی تشہیر اور اعلانیہ باز پرس کے رد عمل کے نتیجے میں بچہ میں بے باکی آجاتی ہے، بچہ ڈھیٹ وبے شرم ہو جاتا ہے، من یهن یسهل الهوان علیه “عزت آنے جانے والی چیز ہے انسان کو ڈھیٹ ہوناچاہئے” پر عمل پیرا ہوجاتاہے اور پھر ڈانٹ اور مار کا اس کی شخصیت پر مثبت کے بجائے منفی اثرہو گا۔ وہ سختی کے باوجود بھی ان سے باز نہیں آتا اور ویسے بھی زیادتی کسی بھی چیز کی نقصان دہ ہوتی ہے۔

Excess of everything is bad.۔ بچہ کی عزت نفس کا خیال رکھنا چاہئے۔ بعض اوقات وہ احساس جرم کا شکار ہوکر خود اعتمادی کھوبیٹھتا ہےجو بہت ہی نقصان دہ صورت ہے۔

احساس جرم ہوگا نہ تذلیل کیجئے
قلب خود اعتماد نہ تبدیل کیجئے

بچے کو واضح طور پر معلوم ہو کہ کس غلط کام کی اسے سزا ملی ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ سزا کے بعد یا اس سے قبل بچے کو سمجھایا بھی جائے کہ سزا کسی دشمنی کی وجہ سے نہیں بلکہ رویوں میں بہتری کے لئے ہے۔ کیونکہ یہ انسان کی فطرت ہے کہ جس معاملہ کے اسباب و پس منظر اس کے ذہن میں نہ ہو وہ اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ ایسا کرنا بغاوت یا سرکشی نہیں بلکہ یہ فطری امر ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے درمیان مکالمہ سے ثابت ہوتاہے۔ قَالَ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا وَکَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰی مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا۔ ” اس بندے نے کہا (ا ے موسیٰ) آپ میرےساتھ صبرکرنے کی طاقت نہیں رکھتے اورآپ صبرکربھی کیسے سکتے ہیں اس بات پر جس کی آپ کو پوری طرح خبرنہیں “۔

یہاں اسی اہم فطری اور نفسیاتی تقاضہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

معاشرتی نشوونما:

آزادانہ فیصلے کرنے دیں :
آزادی ایک نفسیاتی تقاضہ ہے۔ انسان بچپن ہی سے آزادی کا خواہاں ہوتا ہے اور اپنے کاموں میں بڑوں کی مداخلت ناپسند کرتا ہے۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ گھر کے افراد اس کی انفرادیت، شخصیت اور آزادی کو تسلیم کریں۔ والدین بچوں پر ہر وقت احکام نافذ نہ کریں۔ ان کے سامنے متبادل (Alternate Options) رکھیں۔ جن امور میں بچے کی شخصیت کو نقصان پہنچنے کا امکان نہ ہوان امور کو بچے کی مرضی پر چھوڑدیں تاکہ انہیں بہتر چیز کا انتخاب کرنا آئے۔ اس عمل سے بچے کی ذہنی نشوونما میں اضافہ ہوگا۔ بچوں سے دریافت کریں کہ کن وجوہات کی بناء پر اس نے ردکیا یا ترجیح دی۔ بچوں سے خود مشورہ بھی لیں ان کی رائے کو اہمیت دیں۔ ایسا کرنے سے ان کے قوت استدلا ل اورزور بیان میں اضافہ ہوگا۔ ان میں اعتماد کے ساتھ بروقت فیصلہ سازی کی صلاحیت پیدا ہوگی اور وہ آپ کی غیر موجودگی میں بھی بروقت فیصلہ کرنے کے قابل ہوگا۔ بروقت اورصحیح فیصلہ کرنا کامیاب زندگی کی ضمانت ہے۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ آزادی ملنے پربچوں میں دو مختلف قسم کے رویوں کااظہار پایاجاتا ہے۔ ایک جو آزادی ملنے پر اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اپنے معاملات اورفرائض سے غفلت اورلاپرواہی برتتے ہیں اوراس کے برعکس دوسری قسم کا رویہ مزید ذمہ دار ی اور کام میں دلچسپی کا ہوتا ہے۔ آزادی سے ان کے کام میں مزید نکھار پیداہوجاتا ہے۔ ان دونوں قسم کے رویوں کے حامل بچوں کو مختلف انداز سے معاملہ (Deal) کیاجاناچاہئے۔

امر بالمعروف ونہی عن المنکر:
بچوں کی اصلاح احوال کو نظراندازنہ کرنا چاہئے۔ غلط کاموں پربے جا حمایت نہ کی جائے ورنہ یہ محبت مزید بگاڑ کا باعث بنے گی۔ ماضی میں ماں باپ اولاد کی تربیت کرنے والوں کاشکریہ ادا کرتے تھے کہ والدین کی ذمہ داری یعنی اچھی تربیت کرناہے اور وہ اس میں ان کے ساتھ تعاون کررہاہے۔ لیکن آج اس کے برعکس ہے کہ غلط کاموں پرنہ خودروکتے ہیں اور نہ دوسروں کومنع کرنے کی اجازت دىتے ہیں۔ اس ہی شخص سے لڑتے اور اسے برابھلا کہتے ہیں۔ خواہ وہ استاد ہو یا گھرکاکوئی بڑا فرد۔ بہرکیف اس کا نقصان اورخمیازہ پھر بچوں کی تربیت میں کمی کی صورت میں سامنے آتاہے۔

بچوں کوحکمت سے اچھائی کاحکم دیں اور برائی سے منع کریں۔ اچھے کام کاکا کہنا ہو یا کسی برے کام سے منع کرنا ہو تو اس کو ترغیب و تحریص دلائیں فورا حکم صادر نہ کریں۔ بعض اوقات غلط کام کا عمداً کہنے سے بچہ اس کام سے باز آجاتاہے۔ مثلاً بچہ نے کوئی شرارت کی تواسے کہے اب پھر کرلو!اس سے بچہ کے حافظہ میں اس کام سے نفور پیدا ہوجاتاہے۔

اگر بچہ کبھی بغاوت پرآمادہ ہوتو وقتی طور پر نظرانداز کردیں اور کچھ وقت گزرنے کے بعد ماحول اور حالات دیکھتے ہوئے مصلحت اور حکمت سے اسے سمجھائیں۔ لیکن مستقل ضد، انا اور رونے کی وجہ سے اس کی کوئی خواہش پوری نہ کی جائے۔ اگروالدین نے کوئی حتمی فیصلہ کرلیایابچہ کوئی حکم دیا تو اس کی تعمیل کروائیں تاکہ بچہ کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ اگر وہ اپنامؤقف دلیل سے نہ سمجھا سکا تو ضد، ہٹ دھرمی اور رونا فائدہ مندنہ ہوگا۔ مزید برآں وہ جان جائے کہ والدین جو فیصلہ کرلیں اس پر عمل ضرور کرواتے ہیں اس سے ان کی بات میں وزن پیدا ہوگا اور رعب اور وقار قائم رہے گا۔

عمدہ کام کی تحسین:
بچوں میں کوئی اچھی عادت دیکھیں یا بچہ کوئی اچھا کام کرے تو اس کی اچھائی کا اظہار ضرور کریں۔ دوسروں کے سامنے اظہار کرنے سے اس کی وہ عادت مزید پختہ ہوجائیگی اور اس کی فطرت ثانیہ بن جائے گی۔ دیگر بچوں کو تحریص و ترغیب ہوگی۔ تعریف کرنے کے نتیجے میں بچہ دوسرے افراد میں بھی اچھائیوں کااعتراف اوران کی تعریف کرنے والا بن جائے گا۔

تعریف میں جو ان کی کریں آپ گفتگو
اوروں کی خوبیوں کی انہیں ہوگی جستجو

عملی تبلیغ:
والدین بچوں کے سامنے اپنا اچھا کردار پیش کریں۔ ۔ بچے بڑوں کی نقل کرتے ہیں۔ اس لئے اگر والدین چاہتے ہیں کہ بچوں میں اچھی عادات پیدا ہوجائیں تو پہلے خود اچھی عادات اورعملی کردار کا مظاہرہ کریں۔ حضرت ثعبان ثوری کا قول ہے: ”مبارک ہیں وہ لوگ جن کے پاس نصیحت کرنے کے لئے الفاظ نہیں اعمال ہوتے ہیں”۔

گھر میں اچھی عادات کا ماحول بنائیں۔ مثلاً آدابِ سلام، طعام و کلام وغیرہ۔ سنت نماز گھرمیں پڑھنے کی بنیادی وجہ بچوں کو نماز کی ترغیب و تحریص ہے۔ گھرمیں والدین مہذب اور پیار و محبت کا رویہ اپنائیں اوربری عادات سے پرہیز کریں۔ خود بری عادات اپنا کر بچوں سے اچھی عادات کی توقع رکھنا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ خود کبھی جھوٹ نہ بولیں، اسی طرح اگر والدین چاہتے ہیں بچہ تعلیم میں دلچسپی لے توان کوجبراً پڑھنے لکھنے کے لئے نہ بٹھایاجائے۔ جبر کی صورت میں بچوں میں ایک بری عادت پڑجاتی ہے کہ وہ کتابیں لے کر بیٹھے رہتے ہیں اسے اور توجہ سے نہیں پڑھتے ہیں۔ اس سے بچوں میں غیرحاضر دماغی اور ذہنی فرار کی بدعادت پڑتی ہیں۔ جو بہت نقصان دہ ہے۔ بچے جو بھی کام کریں توجہ اوردلچسپی سے کریں۔ اس کے لئے خود ان کے سامنے کتابیں کھولیں اورخود بھی مطالعہ کریں۔ پھر مطالعہ کی تلقین کریں اوربچے کو بتائیں جوشخص اچھی کتابیں پڑھنے کا شوق نہیں رکھتا وہ معراج انسانی سے گرا ہواہے اورکتابیں انسان کی بہترین دوست، مونس اور بہترین سرمایہ ہے۔ یہی بہترین نفسیاتی (Psychological) و عملی(Practical) تبلیغ ہے۔ اورکردار کی زبان اور اس صدا کی بازگشت زیادہ موثر اورہرطرف سنائی دیتی ہے۔

آدمی نہیں سنتا آدمی کی باتوں کو
پیکرِ عمل بن کر غیب کی صدا ہوجا

لڑائی جھگڑا :
بچوں میں لڑائی جھگڑا کا ہوناغیرمعمولی بات نہیں۔ بڑوں کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے حتی الامکان اسے نظر انداز کرنا چاہئے۔ اگر وہ خود والدین تک معاملہ لائیں تو حکمت و دانائی اور انصاف سے فیصلہ کریں۔ کسی ایک فریق کی بے جاحمایت نہ کی جائے ورنہ وہ فریق باربار لڑائی جھگڑا کا سبب بنے گا اورپھر جھوٹ کا سہارا لے کر آپ کی ہمدردیاں سمیٹے گا۔ یہ بات لڑائی سے زیادہ خطرناک ہوگی۔

منصفانہ رویہ:
بچوں میں باہم انصاف کیاجائے۔ اپنا ہو یا غیر سب کے ساتھ انصاف کارویہ اپنایاجائے یعنی حق بحق دار رسید۔ انصاف نہ کرنے سے بہت سے معاشرتی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ایک سے زیادہ بچوں کی صورت میں طرزعمل ایسا نہ ہو کہ ان کے دل میں ضدبغض و عناد پیدا ہو بلکہ آپس میں محبت، الفت، ایثار وقربانی کا جذبہ پیدا ہو۔

فلسفہ تفریح:
سیر و تفریح بچوں کا حق ہے اور ان کی جسمانی اورذہنی نشوونما کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ بچوں کے لئے صحت مندانہ اورموزوں تفریح کے اسباب و ذرائع کا اہتمام والدین کی ذمہ داری ہے۔ والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کو صحت مند تفریح اور کھیلوں کی طرف راغب کریں تفریح درحقیقت فرحتِ دل کی کیفیت ہے یہ ذہنی کیفیت ہے اگربچوں کا مزاج ایسا بنا دیا جائے کہ وہ بامقصد تفریح یعنی ورزش، جسمانی کھیل کود اور کتب بینی سے فرحت حاصل کریں توہم خرما وہم ثواب والی مثل اس پر صادق آئے گی۔ اس لئے والدین پر لازم ہےکہ بامقصد، جسمانی مشقت والے کھیل کودکی بچوں کو ترغیب دلائیں۔ جس طرح حدیث مبارکہ میں آیاہے:”اپنے بچوں کو تیراکی، تیراندازی اورگھڑسواری سکھاؤ اور انھیں قرآن مجید کی صحیح تلاوت کرنا سکھاؤ”۔ تیراکی، تیراندازی اورگھڑسواری اس وقت کے کھیل تھے۔ ان تمام کھیلوں میں ورزش یا جسمانی مشقت پائی جاتی ہے جو صحت کے لئے بہت ضروری ہے۔ ورزشی کھیلوں ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ کچھ دیر کھیل کربچے تھک جائیں گے۔ اوریہ جسمانی طاقتوں میں اضافہ کا سبب بنیں گے اور ان کے بعد وہ تازہ دم ہوکر پڑھ سکیں گے۔ نیز کھیل سے پڑھائی کے دوران وقفہ آنے کی وجہ سے ذہن مستقل دباؤ اوربوجھ سے آزاد ہوگا۔ کیونکہ انسانی ذہن مشین کی طرح یکسانیت سے کام نہیں کرسکتا بلکہ اسے تنوع کی ضرور ت ہے۔ یہ تنوع ہی ذہنی آرام کا دوسرا نام ہے جوبہت اہم ہے، یہ قوت حافظہ و یادداشت کو بہتر بناتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ بیٹھے بیٹھے کارٹون اوروڈیوگیم میں مصروف رہیں گے تو پورادن گزرنے کے باوجود ان کا نہ دل بھرے گا نہ ہی ان کو حقیقی فرحت وخوشی نصیب ہوگی۔ اگر دل میں خوشی وفرحت کا احساس نہ ہو توپھر باغ وبہار گھومنے سے بھی تفریح حاصل نہیں ہوتی۔

چمن میں بھی ہو آئے صحرامیں بھی
کہیں بھی نہ تفریح حاصل ہوئی

جدید ٹیکنالوجی کا محتاط استعمال:
ٹیلیوژن وکمپیوٹر کا استعمال بڑوں کی نگرانی میں کیا جائے تاکہ ان کا غلط استعمال نہ ہو جہاں انٹرنیٹ معلومات کا خزانہ ہے وہیں خرافات کا ایک سیلاب بھی اس کے اندر موجود ہے۔ ۔ خاص طور پرلڑکپن(Teen Age)میں اولاد کی نگرانی کی جائے اور انٹرنیٹ کے استعمال کی صورت میں والدین کی خصوصی توجہ درکار ہوگی۔ مزید یہ کہ وڈیوگیم، ٹیلیوژن دیکھنا ایک طرح سے ذہنی کام کے مشابہ عمل ہے اس میں بھی کتاب کی طرح نظریں ایک جگہ مرکوز ہوتی ہیں، سماعت و بصارت پرثقل کااحساس ہوتاہے جس کی وجہ سے اس کے بعد بچہ ذہنی طورپر تھکا ہوا ہوگا اور صحیح پڑھائی بھی نہ کرسکے گا۔ رہا موبائل کا استعمال تو یہ بچوں کی ضرورت نہیں ہے ان کو اس کے استعمال سے منع کیاجائے جب کہ ہوتا اس کے برعکس ہے کہ بچوں کے ہاتھ میں موبائل اور کانوں میں ہینڈ فری لگی نظرآتی ہے۔ بچہ چونکہ نشوونما کے عمل سے گزررہاہوتاہے۔ ابھی اس کے اعضاء میں پختگی نہیں ہوتی اس لئے ان شعاعوں اوربرقی لہروں سے اس کی سماعت، بصارت اور ذہنی قوتوں کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اس سے بچنا نہایت ضروری ہے۔ بہرکیف اعتدال اور احتیاط کے ساتھ ٹیکنالوجی کا استعمال کارآمد اورفائدہ مند ہے۔

مصلحت کاہے تقاضا احتیاط
دل یہ کہتا ہے کہ دیکھا کیجئے

تربیت بحالتِ مرض:
بچوں کی نشوونماکا عمل یکساں شرح رفتارسے نہیں ہوتا بلکہ اس میں رکاوٹیں بھی آتی ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ مشکل مرحلہ بیماری اور تیمارداری کےدوران ہوتاہے۔ یہ ایسا نازک موقع ہے کہ بعض اوقات تربیت پر کی گئی برسوں کی محنت اکارت ہوجاتی ہے۔ بیماری میں بچہ چڑچڑا، زودرنج اورحساس ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے نظام الاوقات کی پابندی نہیں کرتا۔ بیماری کے باعث اس کو بہت سی رعایتیں مل جاتی ہیں۔ پھرحالت صحت میں بھی وہ ان رعایتوں کا خواہاں ہوتا ہے۔ بیماری کے دوران پیدا ہونے والی جسمانی کمزوری جلد دور ہوجاتی ہے لیکن ذہنی، جذباتی اورسماجی نشوونما بہت متاثر ہوتی۔ اس کی اچھی عادتیں ختم ہوجاتی ہیں۔ بری عادتیں جنم لے لیتی ہیں جن میں سے ایک متمرض بن جاناہے۔ جب بچہ دیکھتا ہےکہ عمومی زندگی میں والدین کی توجہ و پیارجس اندازسے دوران مرض ملتا ہے وہ دوران صحت حاصل نہیں ہوتا تو بچہ متمرض بن جاتاہے۔ یہ بہت ہی خطرناک اور تباہ کن کیفیت ہے۔ اس کا تدارک بہت ضروری ہے۔

متمرض بننے کا ایک نقصان یہ ہے کہ جب انسان کسی مرض کے متعلق سوچتا ہے تو جلد یا بدیر ذہن اس مرض کو قبول کرلیتا ہے اور وہ شخص حقیقتاً اس مرض کا شکار ہوجاتاہے۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ بچہ بڑوں کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کرتاہے وہ زندگی میں محنت، لگن اور جوش سے آگے بڑھنے کے بجائے دوسروں کی بیساکھیوں کا سہارا لینا چاہتا ہے جس سے اس میں آگے بڑھنے کی لگن ختم ہوجاتی ہے۔ اس کا سب سے بہترین حل بچے کی سوچ اور توجہ کو دوسرے امور کی جانب منتقل کرنا ہے۔ بچے کی بیماری کے دوران ماں باپ بچے کواپنا وقت اور توجہ ضروردیں۔ بچہ بڑوں کی توجہ چاہتاہے۔ لیکن اپنے مشاغل وغیرہ ترک نہ کریں۔ بچے کو یہ احساس نہ دلائیں کہ اس کے بیمار رہنے سے کائنات رک گئی۔ بلکہ یہ کارخانہ قدرت اسی طرح جاری و ساری ہے۔ اگرہم اپنے معمولات چھوڑ دیں گے تو ہم زمانے سے پیچھے رہ جائیں گے۔ یہ وقت گزرجائے گا اورپھر نہیں آئے گا۔ اس کی کمی پوری نہ کی جاسکے گی۔ اس دوران اس کے دو ستوں کے بارے میں بتائیں کہ وہ محنت سے پڑھ رہے ہیں اورپڑھنے لکھنے میں اس سے آگے نکل گئے ہیں تاکہ بچہ جذبہ مسابقت کے تحت جلد اپنے پرانے نظام الاوقات پر لوٹ آئے۔ اسے مستقبل کے منصوبے بتائیں کہ ہم نے آپ کے بارے میں یہ سوچا ہے کہ آپ ڈاکٹر یا انجینئر بنیں ؟ تو امید ہے کہ بچہ جلد اس صورتحال سے باہر نکل آئے گا۔ نیزاحتیاط علاج سے بہتر ہے (Prevention is better than cure.)۔ اس محاورہ پر عمل کیا جانا ضروری ہے۔ جس سے بیماری کے دوران پیداشدہ بہت سی بد عادات سے نجات مل سکتی ہےکیونکہ اس سے بچے میں نظم وضبط و برداشت کی کیفیت پیداہوگی۔ جب بچے پر کچھ پابندیاں عائد ہوں گی تو وہ ان سے نجات کے لئے مرض سے چھٹکارا حاصل کرنے کاخواہاں ہوگا جو اسے متمرض بننے سے روکیں گی۔ نیزبچہ کو ڈاکٹر کے پاس جانے کی دھمکی نہ دیں اس سے اس کے دل میں ڈاکٹر اورعلاج سے خوف پیدا ہوجائے گا۔ اس کے دور رس مضر اثرات ہوتے ہیں۔

خلاصہ کلام:
یہ دنیا دارالعمل ہے۔ یہاں مصائب و مشکلات کا زندہ دلی اورخوش دلی سے سامنا کرنا چاہئے۔ کاورکسی بلندمقام اور عظیم مقصد کی تکمیل لئےسخت محنت و مشقت کرنالازم ہےکیونکہ کامیابی صرف تخیل کی بلندی سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے خلوص لگن، جہد مسلسل اور عمل جاوداں کی ضرورت ہے۔ جس میں لمحےبھر کی بھی کوتاہی نہیں کی جاسکتی اورکوتاہی وسستی خود اپنی ناکامی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ بقول اصغرگونڈوی

یہاں کوتاہی ذوق عمل ہے خود گرفتاری
جہاں بازوسمٹتے ہیں وہیں صیاد ہوتا ہے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: