پنجاب کب کھڑا ہوگا؟ اکمل شہزاد گھمن

0
  • 153
    Shares

پنجاب اور پنجابیوں کے حوالے سے عمومی تاثر یہ ہے پاکستان اور اسلام کی ٹھیکیداری کے دعوے میں ان کا کوئی اپنا مفاد پنہاں ہے اور اس نعرے اور دعوے کی بنیاد پر وہ دوسری قوموں کے حقوق اور وسائل غصب کرتے ہیں۔

پنجاب اور پنجابی اس بات کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ صدق دل سے سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے بھی شدو مد سے دوسری قوموں کی طرح اپنے حقوق کی بات کی یا دوسروں کے اعتراضات کا کھل کر جواب دیا تو پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے وسیع تر قومی مفاد پر ضرب پڑے گی۔

 

پنجاب کے اس مخصوص اور معذرت خواہانہ رویے کی وجہ سے پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ اور پنجاب کو ایک ہی دھڑا تصور کیا جاتا ہے۔

اس رویے سے ایک طرف تو دوسری قومیں انہیں مفاد پرست گردانتی ہیں تو دوسری طرف پنجاب اس پہلو کی بنا پر اپنے حقوق سے دست بردار ہوتا چلا جاتا ہے۔

 

جب پنجاب پوری طرح اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں کرتا اور بلند آواز نہیں اُٹھاتا بلکہ اُلٹا پہلو تہی یا نظر انداز کرتا ہے، تو دوسری اکائیوں کی طرف سے اس رویے کو مشکوک انداز سے دیکھا جاتا ہے۔

 

یہ حقوق دراصل ہیں کیا؟ جن کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔

ان حقوق میں زبان، پہچان یعنی ثقافت اور وسائل کا حصہ ہے۔

اس بات کو وضاحت سے سمجھنے کے لئے ہمیں ماضی میں جانا پڑے گا۔ جب سے کائنات وجود میں آتی ہے اکثر تحاریک کا مرکز فطری طور پر عموماً شہری آبادیاں ہوتی ہیں۔ عام لوگوں کی اجتماعی قسمت کا فیصلہ بھی ہمیشہ ایک طاقتور اقلیت ہی کرتی ہے۔

 

تحریک پاکستان بھی عمومی طور پر شہری تحریک ہی قرار دی جا سکتی ہے جس میں بڑے شہروں میں آباد لوگوں نے ہی واضح طور پر اپنا کردار ادا کیا۔ ایسا نہیں تھا کہ گلی گلی اور گاؤں گاؤں کی عام آبادی بھی اس تحریک سے وابستہ تھی اور نہ ہی اطلاعات کے جدید ذرائع کی عدم دستیابی کے پیش نظر ایسا ممکن تھا۔

انگریز دور میں اپنے سامراجی عزائم کی تکمیل کے لئے پنجاب سے انگریزوں نے فوج میں خوب بھرتی کی۔ یہ نہیں کہا جا سکتاتھا کہ یہ بھرتی محض زور زبردستی ہی کی گئی بلکہ روٹی روزی کے لئے ایک عام دیہاتی کے لئے پکی نوکری کا نظریہ بہت کارگر تھا خواہ اُس کے لئے جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔

 

جب پاکستان بنا تو پاکستان کے حصے میں آنے والی فوج کا غالب حصہ بھی فطری طور پر پنجابی تھا۔ بانیان پاکستان نے زبان اور ثقافت کے حوالے سے ایک خاص موقف اپنایا جسے سب سے پہلے تو مشرقی پاکستان کے لوگوں نے تسلیم نہیں کیا اور بعد ازاں پشتون، اردو، سندھی اور بلوچ قوموں نے بھی مختلف اوقات میں اپنے اپنے حقوق کے لئے مختلف طریقوں سے آواز بلند کی اور عملی کوشش بھی کی۔ عملی کاوشوں میں قومی پرستی کی سیاسی تحاریک بہت نمایاں ہیں۔ علمی، ادبی اور سیاسی تحریک تاحال جاری ہے جب کہ پنجاب میں صورت ِحال یہ ہے کہ دور دور تک کوئی نمایاں سیاسی تحریک پنجاب کے حقوق کے حوالے سے نظر نہیں آتی۔ اسی طرح پنجاب کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی ایک بھی سیاسی پارٹی موجود نہیں ہے۔ 

 

یہی وہ رویہ ہے جو پنجاب کے لئے گالی کا باعث بنتا ہے۔ جب کہ عام پنجابی کو اس گالی کی پرواہ تک نہیں۔

جہاں تک پنجاب کے حکمران طبقے کا تعلق ہے وہ بھی اس رویے کا شکار ہے۔ دیگر صوبوں میں قوم پرست پارٹیاں نہ صرف اپنے حقوق کے لئے جد وجہد کرتی ہیں بلکہ وہ بڑھ چڑھ کر پنجاب کو گالیاں دیتے ہیں اور پنجاب کو استعمار اور سامراج کا نام دیتے ہیں۔ وہ طاقتور طبقات کا تو کچھ بگاڑ نہیں پاتے مگر عام پنجابی مزدور کسان اور ملازم پیشہ افراد ان قوم پرست انتہا پسندوں کی نفرت اور گالی کا نشانہ بنتے ہیں۔

یہ قوم پرست سیاسی دھڑے پنجاب میں آباد مختلف ثقافتی اکائیوں کو اُکساتے اور بھڑکاتے ہیں اور پنجاب اور پنجابیوں کی تذلیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ نام نہاد پنجابی  دانش ور اور کالم نگار بھی ان کے اسی پراپیگنڈے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تاریخ کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کئے بغیر وہ انھی خیالات اور نظریات کی جگالی شروع کر دیتے ہیں جن کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

 

مثال کے طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ پنجاب نے ہر آنے والے حکمران یا حملہ آور کو خوش آمدید کہا اور کبھی مزاحمت نہیں۔ یہ صریح کذب بیانی اور بہتان ہے (حوالے کے لئے دیکھیے پنجاب اور بیرونی حملہ آور از پروفیسر عزیز الدین پبلشر بک ہوم لاہور)

اس حوالے سے گزارش ہے کہ ہر عہد کے اپنے معروضی حقائق ہوتے ہیں اور ہر عہد کا انسان انہی حقائق کے مطابق حالات سے نپٹتا ہے۔

پنجاب کے باسیوں نے بھی اپنی بساط اور معروضی حالات کے مطابق ہر حملہ آور کے سامنے مزاحمت کی ہے۔ جہاں تک فتح یا شکست کا سوال ہے تو دفاع کرنے والوں کے پاس ہمیشہ فتح کے امکانات کم ہوتے ہیں اور اگر یہ امکان ہوں بھی تو اس کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے۔ 

حالیہ تاریخ میں افغانستان اور عراق اس پہلو کی نمایاں مثالیں ہیں۔ ماضی میں جتنے بھی بیرونی حملہ آور پنجاب میں وارد ہوئے انہوں نے سب سے پہلے ان قوموں کو ہی تہہ و بالا اور تاراج کیا جنھیں ناقابل تسخیر قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد پنجاب کی باری آئی۔

پنجاب کے شہروں اور دیہاتوں کو درجنوں مرتبہ مسمار کیا گیا۔ آگ لگائی  گئی اور لوگوں کو تہہ تیغ کیا گیا۔ اگر وہ مداخلت نہ کرتے اور حملہ آوروں کے آگے کھڑے نہ ہوتے تو ان کا خون بھی نہ بہتا۔ راجہ پورس سے لے کر دلا بھٹی، رائے احمد خان کھرل اور بھگت سنگھ تک پنجابیوں نے اپنا خون دے کر اپنی بہادری کے نشان چھوڑے۔

پنجاب کو ہر حملہ آور کو خوش آمدید کہنے کا طعنہ دینے والے بھول جاتے ہیں کہ برصغیر میں پنجاب سب سے آخر میں انگریزوں کے قبضے میں آیا۔

قبل ازیں کا بل تک اپنی حکمرانی کے جھنڈے گاڑ کر ناقابل تسخیر ہونے کا دعویٰ کرنے والوں پر پنجابی اپنی دھاک بٹھا چکے تھے۔

اصل بات یہ ہے کہ بنیادی طور پر نہ کوئی انسان اور نہ ہی کوئی قوم بہادر یا بزدل ہوتی ہے بلکہ اس کے حالات اس کو خاص کیفیت میں ڈھال دیتے ہیں۔

پنجاب اور پنجابی اگر اپنی عزت کے لئے کھڑے نہیں ہوں گے تو اُن کے لئے کوئی دوسرا یہ کام کرنے سے تو رہا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے حقوق کے حصول اور حفاظت کے لئے اٹھ کھڑے ہوں بلکہ دوسری قوموں کے جائز حقوق کے لئے بھی ان کے ہم نواء بنیں۔ یہ عزت اور بقا کا رستہ ہے۔ ایک دوسرے کے وجود، شناخت، زبان اور ثقافتی حقوق کو تسلیم کر کے ہی ہم ایک مضبوط پاکستانی قوم میں ڈھل سکتے ہیں۔ ورنہ ہم ایک ہیں کا نعرہ، محض نعرہ ہی رہے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: