الیکشن، دھاندلی اور مولانا فضل الرحمان — ذیشان منور

0
  • 58
    Shares

الیکشن 2018 تقریباً پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہو گیا۔ ہر الیکشن کی طرح اس میں بھی ایک پارٹی اکثریت لے گئی اور باقی پارٹیاں دھاندلی کا راگ الاپنے لگیں۔ پاکستان میں ہونے والے ہر الیکشن کے بعد یہ رواج چل نکلا ہے کہ ہارنے والی پارٹیاں (ماسوائے چند ایک کے) اپنی شکست تسلیم نہیں کرتیں اور اپنی سابقہ کارکردگی اور غلطیوں پہ غور کرنے کی بجائے دھاندلی اور مینڈیٹ چوری ہونے کا شور مچانا شروع کر دیتی ہیں۔ غالباً اس امر میں یہ راز پوشیدہ ہے کہ اس طرح کرنے سے ان کا اپنے ورکرز اور ووٹرز کی نظر میں سافٹ کارنر باقی رہے گا، پے در پے احتجاجی کالز کے بعد شاید وہ اپنے ورکرز میں ایسا تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں لیکن اس کے نتیجے میں ہر الیکشن کے دھاندلی زدہ ہونے کے غلغلہ تقویت پاتا رہتا ہے اور یہ عفریت اگلے الیکشن کو نگلنے کے لیے تیار رہتا ہے۔

اس الیکشن میں بھی چند ضابطے کی خلاف ورزیاں سامنے آئیں جو کہ پچھلے ہر الیکشن میں ہوتی رہیں ہیں فرق صرف اتنا ہے 2013 سے پہلے ٹیکنالوجی کا استعمال اتنا عام اور سہل نہیں تھا جتنا ہر گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے اور موبائل کیمرے اور سوشل میڈیا کے کمبینیشن سے ہر خامی اور خلاف ورزی فوراً سامنے آ جاتی ہے جس کا تصور دو الیکشن پہلے بالکل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ الیکشن کے عمل میں موجود لوپ ہولز کو تلاش کیا جائے اور اگل الیکشن میں انکو دور کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔

موجودہ الیکشن میں پولنگ ایجنٹس کی طرف سے سب سے بڑا اعتراض فارم 45 مہیا نہ کرنا تھا۔ پولنگ اسٹیشن پہ تعینات کیے جانے والے اکثریتی پولنگ ایجنٹس نہ تجربہ کار ہوتے اور انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ انکی کیا ذمہ داریاں ہیں۔ سارا دن پولنگ اسٹیشن پہ بیٹھنا کافی مشکل کام ہوتا اور بعض پولنگ اسٹیشنز پہ رزلٹ بننے میں کافی دیر ہو جاتی ہے (پیپر ورک کافی زیادہ ہوتا)۔ میرے پولنگ اسٹیشن پہ رزلٹ دس بجے بن گیا تھا لیکن پولنگ ایجنٹس کو تھکاوٹ کی وجہ سے جانے کی اتنی جلدی تھی وہ رزلٹ مکمل ہونے سے پہلے ہی فارم 45 کی تکرار کیے جا رہے تھے ایسے میں ہر کوئی پولنگ ایجنٹ پہلے چلا جائے اور بعد میں کہہ دے کہ فارم 45 مہیا نہیں کیا گیا تو کیا کیا جا سکتا ہے۔ ووٹوں کی گنتی اور رزلٹ کی تیاری بہت صبر طلب کام ہے جو فریقین کی طرف سے تعاون کا متقاضی ہے۔

الیکشن کے نتائج کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے نپے تلے انداز میں الیکشن کے نتائج پہ اپنے تحفظات کا اظہار کیا لیکن ساتھ ساتھ ملکی مفاد میں جمہوریت کو پنپنے کے لیے وقت دینے کا اعادہ کیا گیا لیکن اپوزیشن میں متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن تا دم حال اس الیکشن کو ماننے سے انکاری ہیں اور آج کل واشگاف انداز میں فوج کو للکار رہے ہیں کہ انکا مینڈیٹ چوری کر لیا گیا، اور یہ کہ یہ الیکشن ملکی تاریخ کے بدترین الیکشن تھے۔

جے یو آئی ف کے اس احتجاج سے متاثر ہو کر سوچا کہ ان کی پچھلے الیکشنوں کی کارکردگی دیکھی جائے کہ ان کا مینڈیٹ کس حد تک چوری ہوا ہے۔

پاکستان کے پچھلے تمام الیکشن کے رزلٹ دیکھے تو کافی حیرانی ہوئی۔ مولانا پہلی دفعہ 1988 میں ڈی آئی خان کی سیٹ سے الیکشن میں کامیاب ہوئے اور انکی جماعت 1۔ 8% ووٹوں کے ساتھ 7 نشستیں جیت سکی۔ 1990 کے جنرل الیکشن میں مولانا اپنی سیٹ نہ بچا سکے لیکن انکی جماعت نے 2۔ 9% ووٹوں کے ساتھ اسمبلی میں 6 سیٹیں سنبھالیں۔ 1993 کے الیکشن میں مولانا نے اسلامی جمہوری محاذ کے پلیٹ فارم پہ الیکشن لڑا اور ممبر اسمبلی منتخب ہوئے اس الیکشن میں اسلامی جمہوری اتحاد نے 2۔ 4%ووٹ لیکر 4 سیٹیں جیتیں۔ 1997 کے جنرل الیکشن میں میاں نواز شریف کی پارٹی نے جہاں کلین سویپ کیا وہاں مولانا کی پارٹی کے لیے یہ الیکشن ڈراؤنا خواب ثابت ہوا وہ اپنی سیٹ بھی نہ بچا سکے اور انکی پارٹی نے 1۔ 7% ووٹوں کے ساتھ دو سیٹیں حاصل کیں۔ 2002 کے الیکشن کا ذکر آخر کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں۔ 2008 کے جنرل الیکشن میں مولانا چوتھی دفعہ ممبر اسمبلی منتخب ہوئے اور انکی پارٹی کو 2۔ 21% ووٹوں کے ساتھ 8 سیٹیں ملیں۔ 2013 کے جنرل الیکشن میں مولانا پانچویں دفعہ ممبر اسمبلی منتخب ہوئے اور انکی جماعت نے 15 نشتیں (جن میں 4 مخصوص نشستیں شامل ہیں) حاصل کیں جبکہ جماعت اسلامی 4 نشستیں حاصل کر سکی البتہ ان کا ووٹ بینک 3۔ 22% رہا۔ 2018 کے جنرل الیکشن میں مولانا اپنی دونوں سیٹیں ہار گئے لیکن ان کا اتحاد 4۔ 85% ووٹوں کے ساتھ 12 سیٹیں جیت چکا ہے اور امید ہے کہ انکو 4 مخصوص سیٹیں بھی ملیں گیں جس کے بعد انکی سیٹوں کل تعداد 16 ہونا متوقع ہے۔

اب بات کرتے ہیں 2002 کے الیکشن کی، جس فوج کو مولانا آج کل للکار رہے ہیں اسی فوج کی چھتری تلے ہونے والے 2002 کے جنرل الیکشن جے یو آئی ف کے لیے بریک تھرو الیکشن تھے جس میں مولانا کا اتحاد 11۔ 3% ووٹوں کے ساتھ 63 سیٹیں جیت گیا۔

ان سارے اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 2002 کے بدنام الیکشن کے علاوہ مولانا کا مینڈیٹ تھا ہی کب، جو چوری کر لیا گیا۔ مولانا کی جماعت اور اتحاد ہمیشہ سے اتنی ہی سیٹیں جیتتی آئی ہے اور اس دفعہ بھی انہیں کم و بیش اتنی ہی سیٹیں ملیں جس کی وہ حقدار ہے۔ اگر پچھلے کسی الیکشن میں دھاندلی پہ اتنا واویلا نہیں کیا تو اس دفعہ بھی نہیں کرنا چاہیے۔ شور مچانے کا بہترین وقت 2008 کے الیکشن نتائج تھے جس میں مولانا کی جماعت دھڑام سے زمین پہ آ گئی تھی لیکن شاید اس دفعہ یہ شور اسلئے نہ مچایا گیا کہ وہ اپنی نشست جیت چکے تھے۔

نوٹ: اعداد و شمار کی رپورٹنگ میں ہونے والی کوئی غلطی نادانستہ ہو گی اور نشاندہی پہ بخوشی اسکو درست کر دیا جاے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: