زیست کا حاصل باقرؔ ـــ عزیز ابن الحسن

0
  • 236
    Shares

سجاد باقر رضوی کی مختلف حیثیتیں تھیں، شاعر نقاد مترجم استاد مگر سچ پوچھئے تو خود باقر صاحب اپنی ہر حیثیت سے آگے تھے.  باقر صاحب 4 اکتوبر، 1928ء کو تحصیل پھول پور، ضلع اعظم گڑھ (انڈیا) میں پیدا ہوئے اور 13 اگست، 1992ء کو لاھور میں انکا انتقال ہوگیا۔ اس حساب سے آج انکی 26 ویں برسی ہے۔ ذیل کی تحریر میں باقر صاحب کے بارے میں جو کچھ بیان کی گیا ہے اسکا بڑا حصہ ذاتی تجربے اور مشاہدے پر مبنی ہے۔

میرے لیے باقر صاحب کا پہلا تعارف ان کا وہ شعر تھا جو ایک لحاظ سے ان کی پہچان بن گیا تھا۔ یہ ۸۴۔ ۱۹۸۳ء کی بات ہے۔ سانگھڑ میں ہمارے دوستوں کی ایک چھوٹی سی منڈلی تھی جس کا مستقل ٹھکانہ اکبر معصوم کا گھر یا خیر محمد انجم کا ڈاکخانہ ہوتا۔ ہم لوگ جب وہاں سے اٹھتے تو راتوں کو شہر سے باہر ٹھنڈی ہواؤں میں سڑکوں پر آوارہ گردی کرتے اور شعر و شاعری کی باتیں ہوتیں۔ ان دوستوں میں صرف میں ہی ایک ایسا آدمی تھا جسے شاعری کا چسکا تو بہت تھا، مگر عموماً فیض اور ناصر سے اُدھر ہی رہتا۔ آگے آنے کی نہ تو مجھے کوئی خواہش تھی اور نہ کوئی دلچسپی نظر آتی جبکہ اکبرقدیم کے ساتھ ساتھ جدید کا بھی متوالا تھا۔ نئے شاعروں کا زیادہ تر کلام میں نے اسی کی زبانی سناتھا۔ ایک رات ہم ٹہلتے ہوئے شہر سے کافی باہرنواب شاہ روڈ پر نکل آئے۔ اکبر پر کبھی کبھی چھا جانے والی خاموشی طاری تھی۔ ایسے میں وہ صرف پان چباتا رہتا یا پھر کبھی کبھار کوئی شعر اس کے ہونٹوں پر آجاتا۔ میں نے سنا وہ ایک شعر پڑھ رہا تھا اور نئی شاعری والوں کا یہ شعر مجھے بہت اچھا لگا تھا:

جس کے لیے اک عمر کنویں جھانکتے گذری
وہ ماہ کراچی مہ کنعاں کی طرح تھا

بہت عرصے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ شعر کسی سجاد باقر رضوی کا ہے۔ یہ اور اس طرح کے ناموں کو میری بلا جانے۔ اپنے نزدیک تو شاعری بس غالب، اقبال، فیض اور قدرے ناصر کو آتی تھی۔ نہیں صاحب میر صاحب کو بھی نہیں!! کتنا سخن ناشناس تھا میں۔

پھر میں لاہور آگیا۔ سال تھا 1986ء کسی محفل میں سجاد باقر رضوی کا ذکر تھا۔ کہنے والے نے کہا: ’’دو نام ایسے ہیں جن کی پیروڈی خوب ہوتی ہے۔’’ پوچھا گیا کیا؟ تو جواب ملا: ’’سجادباقر، فدوی اور طاہر الپادری‘‘۔ باقر صاحب کو تو میں زیادہ نہیں جانتا تھا مگر طاہرالقادری کے بارے میں اتنی سچی بات میں نے آج تک کوئی اور نہیں سنی۔ یاد رہے طاہر القادری اُس وقت تک ابھی کینیڈا جہانی نہیں ہوئے تھے۔ ۱۹۸۸ء میں ایک روز سراج منیر نے بیٹھے بیٹھے ایک نئی ادبی تنظیم بنانے کا شوشہ چھوڑ دیا۔ اس وقت علی اکبرعباس، تحسین فراقی اور میں ان کے پاس بیٹھے تھے۔ لگتا تھا کہ سراج بھائی کی اور باتوں کی طرح یہ بات بھی ہوا ہو جائے گی، اس لیے میں نے اصرار کے ساتھ کہا: ’’تو پھر دیر کاہے کی ہے، آج ہی اعلان کیجیے‘‘۔ پھر دیکھتے دیکھتے ’’بزمِ داستان گوئیاں‘‘ کے ایسے اجلاس ہونے لگے کہ انتظارحسین نے اپنے کالم میں لکھا: ’’پچھلے دنوں شہر میں اک نیا گل کھلا، ایک نئی ادبی انجمن قائم ہوگئی۔ ایسے کتنے دانے کہ حلقۂ اربابِ ذوق کے اجڑنے کے بعد نگھرے ہو گئے تھے، یہاں دیکھے گئے۔ ۔ ۔ ‘‘ انتظار کا یہ لفظ ’’نگھرے‘‘ مجھے کچھ نامانوس سا لگا تھا، مگر بعد کو معلوم ہوا کہ انتظار حسین تو نام ہی ایسے نگھرے لفظوں کی بازیافت کا ہے۔ ’’بزم داستان گویاں‘‘ حلقہ ارباب ذوق کا ابتدائی نام تھا۔ اسی مناسبت سے یہ نام رکھا گیا تھا۔ راقم کو اس بزم کا جوائنٹ سیکرٹری بنا دیا گیا۔ (1) ’’بزمِ داستان گوئیاں‘‘ کی ۱۴ اپریل ۱۹۸۸ء کی نشست میں ڈاکٹر سہیل احمد خان نے ایک شگفتہ سا مضمون بعنوان ’’بڑے بھائی صاحب‘‘ پڑھا جس میں سرپرست قسم کے ادب پروروں کا خاکہ اڑایا گیا تھا۔ اس روز اجلاس میں مختار مسعود، صلاح الدین محمود، انجم رومانی اور سراج منیر وغیرہ شریک تھے۔ سب نے مضمون پر بات کی مگر ایک صاحب نے چونکا دیا۔ چھوٹا سا قد، چہرہ اور بال بے رونق، بظاہر متاثر کرنے والی ان میں کوئی شے نہیں تھی مگر نہایت پاٹ دار آواز میں انہوں نے بات شروع کی، گفتگو میں وقفے کم کم آئے، اور الفاظ آبشاروں کی طرح بہہ رہے تھے ’’مضمون میں جس بڑے بھائی صاحب کا ذکر ہے، مجھے یوں لگتا ہے کہ وہ میں ہی ہوں۔ ‘‘ اس روز معلوم ہوا کہ مہ کنعاں والے یہی صاحب ہیں۔ یہ واقعی ’’فدوی‘‘ قسم کے بزرگ نکلے جنہوں نے’’پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو‘‘ جیسی آمادگی کے ساتھ چھوٹے بھائیوں کے آگے سرِتسلیم خم کر دیا تھا۔ چلتے چلاتے باقر صاحب نے ایک بڑا تیکھا فقرہ کہا:

’’ایسے مضمون ضرور لکھے جانے چاہئیں مگر ان پر بات کرنے کا حق مجھ سے زیادہ دوسروں کو ہے۔ ہم تو اس مقولے پر عمل پیرا ہیں کہ سگ باش برادر خورد مباش۔ ‘‘

میرا پہلا تأثر یہ تھا کہ یہ گفتگو بہت عمدہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد باقر صاحب سے کچھ دلچسپی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ بہت بعد میں اندازہ ہوا تھا کہ باقر صاحب اور ڈاکٹر سہیل احمد خان کے مابین ایک خاموش سی رنجش ہے۔ یہ جملہ شاید اسی کشیدگی کا اظہار تھا۔  عسکری صاحب کے خطوط سے معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنا یہ ہونہار شاگرد بطور خاص لاہور میں لاٹھی چارج کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ میں نے ان کا یہ زمانہ نہیں دیکھا مگر بتانے والے بتاتے ہیں باقر صاحب کی گھن گرج سن کر بڑے بڑوں کا پتا پانی ہوجاتا تھا۔ میری راہ رسم ان سے جس وقت شروع ہوئی تب ان کی تگ و تاز لاہور کی معروف نہر کے کنارے واقع “سہیل افتخار انسٹیٹیوٹ” تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ امجد طفیل سے مجھے معلوم ہوا تھا کہ باقر صاحب روزانہ شام کو وہاں بیٹھتے ہیں۔ ان دنوں مجھے ایک مسئلہ بری طرح پریشان کیے ہوئے تھا: ’’سائنسی شعور شاعری کا موضوع بن سکتا ہے یا نہیں۔ ‘‘ میں چونکہ پرانے خیالوں کا آدمی ہوں اس لیے سائنس سے دلچسپی رکھنے کے باوجود اس کا زیادہ قائل نہیں ہوں۔ میرا خیال تھا کہ سائنسی تصوّر شاعری کا موضوع نہیں بن سکتا، یا زیادہ صحیح الفاظ میں اسے بننا نہیں چاہیے۔ کہاں شاعری جیسی لطیف و ارفع شے جو زندہ جذبوں اور دھڑکتے لفظوں سے بحث کرتی ہے اور کہاں سائنس جیسی مادیت زدہ چیز، جسے نہ احساسات سے کچھ غرض ہے اور نہ لفظوں کی تخلیق سے کچھ سروکار، ان کا تال میل کیسے ہوسکتا ہے، یعنی اس وقت میں اس طرح سوچتا تھا۔ ایک روز شام کو میں باقر صاحب کے پاس سہیل افتخار انسٹیٹیوٹ پہنچ گیا۔ ان سے کوئی تعارف یا جان پہچان نہیں تھی۔ قدرے خوف سا تھا کہ باقر صاحب کہیں انتظارحسین نہ ثابت ہوں۔ ایسا ہوا تو بڑی مشکل ہوجائے گی۔ مگر پتا چلا کہ باقر صاحب سے تو کسی تعارف کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، وہ تو خود سراپا تعارف و تعلق ہیں۔ ابتدائی باتوں کے بعد میں نے سوال داغا ’’اچھا یہ بتائیے کہ سائنسی شعور شاعری کا موضوع بن سکتا ہے یا نہیں؟‘‘۔ ۔ ۔ ’’بھائی بات یہ ہے کہ سائنس ہی کیا، شاعری کا موضوع ہر شے بن سکتی ہے۔ ‘‘ میرے مؤقف کی دیوار تو انہوں نے پہلے جملے میں ہی گرا دی۔ میں مایوس سا ہوا مگر باقر صاحب بولے جا رہے تھے:

’’مگر سائنس شاعری کا موضوع اپنے طریقے پر نہیں شاعری کے طریقے سے بنے گی۔ سائنس کا طریقِ کار Analytical ہوتا ہے جبکہ شاعری کا طریقِ کار Synthetic ہے۔ سائنس تجزیہ کرتی ہے، چیزوں کو ٹکڑوں میں بانٹ کر انہیں جزئیات میں دیکھتی ہے جبکہ شاعری چیزوں کی کلیت میں دیکھتی ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں پر سائنس یا کسی بھی شے کے جو اثرات ہوتے ہیں، شاعری ان سے جنم لینے والے خیالات و احساسات کو مجتمع کرکے ان میں امتزاج و ترکیب پیدا کرتی ہے۔ ۔ اس لیے دنیا کا ہر علم شاعری کا موضوع بن سکتا ہے بشرطیکہ اسے شعری روایت میں کھپایا جاسکے۔‘‘

باقر صاحب بولے جارہے تھے اور میں محویت کے عالم میں سوال کرنا تک بھول بیٹھا تھا۔ جب اٹھا تو ان کے حسنِ کلام کا ایک ان مٹ نقش میرے دل پر ثبت ہوچکا تھا۔ وہ دن اور آج کا دن میں نے اپنے دل کو کبھی ان کی محبت اور عقیدت سے خالی نہیں پایا۔ گھر آنے کے بعد بھی دیر تک دل ہی دل میں ان کی باتوں کا لطف لیتا رہا۔

باقر صاحب سے میرا تعلق کوئی اتنا پرانا نہیں تھا، بس گنتی کی چند ایک ملاقاتیں تھیں اور ان میں بھی بعض اوقات مہینوں کا وقفہ ہوجاتا تھا۔ مگر ان وقفوں میں ان سے ملنے کی ایک تڑپ سی ہمیشہ دل میں رہتی کہ ان سے ملیے اور ان کی باتیں سنیے مگر اس کارِ دنیا میں بڑے دھبے لگے ہم کو۔ ۔ ۔ اور میں باقر صاحب سے کم کم مل پاتا۔ اب یہ یاد نہیں آتا کہ ان سے کس ملاقات میں کون سی باتیں سنیں یا ان کا کونسا پہلو دیکھا۔ مگر وہ جو وارث علوی نے کسی کے حوالے سے لکھا ہے ناں کہ ہم کتابیں پڑھ کر بھول جاتے ہیں، پھر جو کچھ ذہن میں محفوظ رہ جاتا ہے وہ کلچر ہوتا ہے، اس طرح باقرصاحب سے ان ادھوری ملاقاتوں نے بھی ان کا ایک ’’کلچر‘‘ میرے ذہن پر نقش کر رکھا ہے۔ یہ نقش ایک ایسے نحیف و ناتواں مگر بلند ہمت و بالیدہ روح آدمی کا ہے جو ہمیشہ کچھ کہنے سننے کو بے تاب ہے۔ آپ کوئی بات نہ چھیڑیں تو وہ خود کسی مسئلے پر شروع ہوجائیں گے اور پھر آپ کو اپنے ساتھ بہائے لیے پھریں گے۔ پھر جب آپ ان کی محفل سے اٹھیں گے تو اپنے دل و دماغ کو پہلے سے زیادہ روشن اور سوچنے والا پائیں گے۔ میں نے باقر صاحب کو کبھی صحت مند نہیں دیکھا تھا، میں ہی کیا بلکہ شاید کسی نے بھی نہ دیکھا ہو۔ ایک رومانوی عارضہ ان کی زندگی بھر کا ساتھی تھا۔ مگر بتانے والے بتاتے ہیں اور خود مجھے بھی اس کا مشاہدہ ہے کہ اس طویل اور صبرآزما بیماری سے انہوں نے ایک لمحے کو بھی شکست نہیں مانی تھی۔ ڈاکٹرسہیل احمد خان کی گواہی موجود ہے کہ بیماری کی شدّت میں ان کے اندر ایک تازہ سرخوشی اور سرگرمی پیدا ہوجایا کرتی تھی۔ گفتگو کے دوران جب انہیں کھانسی کا دورہ پڑتا تو ان کی بے رونق سی آنکھیں اور بھی بجھ جاتیں، چہرے کی رنگت تانبے کی طرح ہوجاتی اور گردن کی رگیں اُبھر آتیں۔ دیکھنے والا خود کو اس اذیّت میں مبتلا پاتا جوکہ درحقیقت انہیں ہونی چاہیے تھی، مگر اگلے ہی لمحے باقرصاحب پھر نہایت اطمینان کے ساتھ اسی بلند آواز میں بات کا سرا پھر وہیں سے پکڑ لیتے جہاں سے چھوٹا ہوتا۔ ان کی آواز بلند اور بھاری تھی۔ دیکھ کر مشکل ہی سے یقین آتا کہ یہ آواز اس جسم زار و نزار سے نکل رہی ہے۔ وہ میر کے اس شعر کی مکمل تصویر تھے:

پژمردہ اس قدر ہیں کہ ہے شبہ ہم کو میر
تن میں ہمارے جان کبھی تھی بھی یا نہ تھی

باقرصاحب جسمانی طور پر جتنے کمزور تھے، نفسیاتی اور روحانی اعتبار سے اتنے ہی قوی تھے۔ وہ اپنے جسم کی طاقت کی بجائے روح کے زور پر زندہ تھے۔ ان کے اندر جو امنگ اور ترنگ تھی، لگتا ہے کہ اس کی وجہ بھی ان کی بیماری ہی تھی۔ اس مجبوری کو انہوں نے پاؤں کی زنجیر نہیں بننے دیا تھا بلکہ اسے اپنی قوت بنا لیا تھا۔ ردِّعمل کی اسی قوت نے ان کی زندگی کو رجائی رویے اور شاعری کو بلند آہنگی بخشی تھی۔ ان کی عام زندگی، بول چال اور شعری لہجے میں ایک متجانس قسم کی ہم آہنگی و یک رنگی تھی۔ ان کے بات چیت کے انداز میں ایک وفور، ابال، زندگی آمیزخروش، خطیبانہ للکار اور رواں دواں قسم کا طنطنہ تھا اور یہی چیز ان کے شعری مزاج اور بلند تخلیقی لہجے میں ڈھل کر ایک رزمیہ پکار بن گئی تھی۔

یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ انہوں نے عسکری صاحب کے چہیتے شاگردوں میں شامل ہونے کے باوجود ان کے شعری ذوق اور مزاج کے بالکل مخالف دھارے میں تیرنا شروع کیا تھا۔ عسکری کے بارے میں شمیم احمد نے یہ بہت پتے کی بات لکھی ہے کہ ان کا ذوق ان کے مزاج کے تابع تھا۔ انہیں بلند آہنگ اور اونچے لب و لہجے والے شاعر مثلاً غالب، اقبال، جوش و انیس وغیرہ کبھی پسند نہ آسکتے تھے۔ مگر باقرصاحب عسکری سے تربیت پانے کے باوجود وہ نہ ہوئے جو عسکری تھے۔ وہ عسکری اور سلیم احمد کی روایت کے آدمی ہو کر بھی اپنا شعری ذوق ان کی دست برد سے صاف بچا لے گئے تھے۔ باقرصاحب میر کو مانتے تھے مگر اپنے کمرے میں تصویر انہوں نے غالب ہی کی لگائی۔ یہ تصویر صرف ان کے کمرے کی زینت ہی نہ تھی بلکہ ان کے نہاں خانہ دل اور وہاں سے ان کے شعری لہجوں اور تیوروں تک میں سجی ہوئی تھی۔ اس کی آخر کیا وجہ ہے؟

مجھے اس کے دو اسباب نظر آتے ہیں۔ ایک داخلی اور دوسرا خارجی۔ داخلی سبب وہی ہے جس کی طرف اوپر اشارہ ہوا کہ یہ ان کے جسمانی عارضے اور نحیفی کا ردِّعمل تھا جو متبدّل ہو کر ان کی زندگی کے رویوں اور شعری لہجوں میں خطیبانہ آہنگ بن گیا تھا۔ دوسری اور خارجی وجہ یہ ہے کہ باقرصاحب عروس البلاد کراچی سے قریہ لاہور میں وارد ہوئے تھے۔ ان کے لاشعور میں سمندر کی شوریدگی اور بقول ناصرکاظمی، کراچی کی ہنگامہ خیز زندگی نے وہ ذائقہ ابتدا ہی سے پیدا کر دیا تھا جس کو جلا پنجاب کی مردانہ آب و ہوا نے دی۔ الہٰ آباد کی مٹی کراچی کے سمندری پانی میں گندھ کر جب لاہور کی گرمی میں آکر پکی ہے تو اس کے اندر وہ کھنک پیدا ہوئی جس سے باقر صاحب کے شعری لہجے نے جنم لیا ہے۔ پنجاب کا مردانہ بانک پن مجھے ناصرکاظمی اور انتظار حسین میں اتنا محسوس نہیں ہوتا جتنا کہ باقرصاحب میں۔ کسی باہر والے نے یہاں کے کلچرل لہجے کو باقر صاحب سے زیادہ اپنے مزاج کا حصّہ نہیں بنایاہے۔ وجہ وہی کہ یہاں زمین پہلے ہی ہموار تھی۔

باقر صاحب سے مختلف شاعروں پر جب گفتگو ہوتی تو فراق اور ناصرکاظمی کے بارے میں ان کے رویے سے میں ایک عجیب تأثر سے دو چار ہوتا تھا۔ جہاں تک میں اندازہ کر پایا ہوں وہ فراق کے کوئی اتنا زیادہ قائل نہ تھے۔ ایک دفعہ کہنے لگے کہ فراق کے ہاں یہ جو بے کیفی سی، درد سا، اشک سا، جھجک سی، کی طرح کی شے ہے یہ کیا بات ہوئی۔ آدمی میں تیقن اور اعتماد ہونا چاہیے۔ دوسری طرف وہ ناصرکاظمی کو بہت مانتے تھے اور اس کی لفظ شناسی کے بہت معترف تھے۔ اداسی، نرمی، آہستہ روی، سوزوملال، جھلملاہٹ، سکوت و سکون، رس اور رچاؤ کی جو کیفیتیں فراق اور ناصر کے لہجوں میں موجود ہیں، باقرصاحب اپنے مزاج کی وجہ سے قابل فہم طور پر ان سے دور تھے۔ مگر وہ فراق کو ناپسند اور ناصر کو پسند کرتے تھے۔ ایسا کیوں ہے؟ میرے خیال میں اس کی وجہ یہ تھی کہ فراق کے معاملے میں تو ان کا اپنا مزاج ان کے آڑے آتا تھا اور ناصر کی طرف جو نرم رویہ تھا وہ اس کی شاعری سے زیادہ اس کی عقابی نظر کی وجہ سے تھا۔ ناصر نے باقرصاحب کی شاعری کے قفل کو جس طرح ’’شہری فرہاد‘‘ کی کنجی سے کھول دیا تھا وہ خود باقر صاحب کے لیے بھی اپنی پہچان بن گیا تھا۔ ناصر کی ’’لفظ شناسی‘‘ بلکہ میں کہوں گا کہ روح شناسی کے وہ ’’تیشۂ لفظ‘‘ کے دیباچے کے روز سے گھائل ہوچکے تھے۔ یہ میری توجیہہ ہے، ضروری نہیں کہ درست ہو۔ بہرحال بات باقرصاحب کے بلند آہنگ لہجے کی ہورہی تھی جس میں جوش و خروش بہت زیادہ ہے۔ آئیے اس چیز کو ایک اور حوالے سے دیکھیں۔

عسکری صاحب نے آفتاب احمد صاحب کے نام خطوط میں پنجاب میں میر کے مقابلے میں غالب کے زیادہ مقبول ہونے کے اسباب پر بات کرتے ہوئے اہلِ پنجاب کے مزاج کی طرف کچھ اشارے کیے ہیں اور کہا ہے کہ شعر کی Overtones اور Undertones ان کی گرفت میں نہیں آتیں۔ انہیں صرف وہی شعر پسند آسکتے ہیں جن میں کوئی خیال یا جذبہ نمایاں ہو کر بیان ہوا ہو۔ عسکری صاحب کی اس تشخیص کے حوالے سے دیکھیے تب بھی باقرصاحب مزاجاً پنجاب کے آدمی لگتے ہیں۔ ان کے مزاج کی یہی وہ انفرادیت ہے جو عسکری جیسے زعیم کی شاگردی کے باوجود ان کے شعری ذوق کی اسیر ہونے سے بالکل محفوظ رہ گئی۔ سراج بھائی نے سلیم احمد کے عسکری صاحب سے بعض اختلافات کے ضمن میں کہیں لکھا ہے کہ خانوادۂ عسکری میں شاگردی کی دستار استاد سے بیچ میدان کے پنجہ آزما ہوئے بغیر نہیں ملتی۔ باقرصاحب نے بھی عسکری صاحب کی دستبرد سے خود کو بچا کر اور اپنی انفرادیت کوقائم رکھ کر درحقیقت اپنی شاگردی کو مستند کیا ہے۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ عسکری کے ان پر کوئی اثرات ہی نہ ہوں۔

انتظار حسین نے باقرصاحب کے بارے میں تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ لڑائیاں بہت کیا کرتے تھے۔ ان میں اپنی بات منوانے کی ضد ہوتی تھی۔ ان کے معاصرین جب ان کی طرف متوجہ نہ ہوئے تو مایوس ہو کر انہوں نے اپنے شاگردوں کو ہی اپنا اصل مخاطب بنا لیا تھا۔ انتظارصاحب کا باقرصاحب سے ایک عمر کا یارانہ تھا مگر لگتا ہے کہ یارانہ چشمک بعد میں بھی باقی رہی۔ ناصرکاظمی نے مجھ جیسی نئے نسل کو بتایا ہے کہ باقرصاحب سے پہلے تعارف پر ہی انتظار حسین کے ماتھے پر ایک بھنور سا بن گیا تھا۔ ان کے ماتھے کی جو گرہ اس وقت عسکری صاحب اور کرار حسین کا نام سن کر بھی نہیں کھلی تھی، وہ اب بھی نظر آرہی ہے۔ اپنی تو باقرصاحب سے ملاقاتیں ہی کم رہی ہیں مگر ان چند ایک ملاقاتوں میں میرا جو تأثر ہے اور جس پر مہرِتصدیق ان سے ملنے والوں کی ایک کھیپ نے ثبت کی ہے، وہ یہ ہے کہ باقرصاحب کبھی اپنی بات پر اڑتے نہیں تھے۔ کئی دفعہ دورانِ گفتگو ہم نے ان سے اپنی کم علمی اور بے بصیرتی کے باوجود محض زورِ جہالت کی بنا پر اختلاف کر دیا اور ٹوٹی پھوٹی دلیل سے اپنی بات واضح کرنے کی کوشش کی تو دیکھا کہ باقرصاحب نے نہ صرف اپنے مؤقف سے رجوع کر لیا بلکہ ہماری دلیل کو بہتر طریقے سے بیان کرکے اس مؤقف کی تائید کی۔ ایسے موقعوں پر ان کے الفاظ ہمیشہ اس قسم کے ہوتے تھے: ’’بھئی میں اس بارے میں زیادہ نہیں جانتا، آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ ‘‘ ایسے موقعوں پر محسوس ہوتا کہ انہیں اپنے مخاطب (چاہے وہ ان سے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو) کی عزتِ نفس کا کتنا خیال رہتا ہے۔ مجھے اب یاد نہیں پڑتا کہ انہوں نے اپنے کسی شاگرد کے بارے میں کہاں لکھا ہے کہ مجھے ان کا استاد ہونے کا شرف حاصل ہے۔ غرض کہ ہم نے تو ان میں تواضع، انکساری، بے نفسی اور سادگی کی عجب شان دیکھی ہے۔ یہ میں انتظار حسین کی بات کی تردید نہیں کر رہا بلکہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ممکن ہے کہ باقرصاحب نے یہ ’’فدویت‘‘ آخر آخر میں اختیار کی ہو اور جوانی میں وہ خاصے خوانخوار رہے ہوں۔ (2)

قسام ازل نے جب باقرصاحب کو نوازا تھا تو ظاہر و باطن کے پیمانوں میں دولت حسن کا تناسب خاصہ غیرمتوازن رہ گیا تھا۔ ان کے حصے کا حسن ظاہری بھی ان کے باطن کو دے دیا گیا تھا۔ حضرت جگرمراد آبادی کے بارے میں سنا ہے کہ خاصے کم رو تھے۔ مگر باقر صاحب مقابلہ حسن میں ان سے بھی بازی لے گئے تھے، لیکن ان کا اصل جمال، جس سے کہ ہر قسم کے عدم توازن کی تلافی ہوگئی تھی، ان کے اندر کا تہذیبی رچاؤ تھا۔ وہ جو باتیں کرتے اور کہتے ان کی خوشبو خود ان میں محسوس بھی ہوتی تھی۔ اپنے بارے میں یہ شعر انہوں نے غلط نہیں کہا تھا:

باقر سے مل کے آپ نے صورت تو دیکھ لی
اب دل میں آ کے حسنِ طبیعت بھی دیکھیے

یہ ان کا حسن طبیعت ہی تھا جو ہر مخاطب کو اسیر کر لیتا تھا۔ ان جیسے خوبصورت باطن کے لوگ میں نے کم ہی دیکھے ہیں۔ ان کے پاس بیٹھ کر اکتاہٹ یا بوریت نام کی کوئی شے قریب بھی نہیں پھٹکتی تھی۔ ان کے ہاں چھوٹے بڑے کی کوئی تمیز نہیں ہوتی تھی، وہ اتنا احترام دیتے تھے کہ مخاطب خود کو خواہ مخواہ معزز سمجھنے لگتا تھا۔ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ کسی کے اندر جو ذرا سی بھی خوبی اور امکان ہے وہ اظہار پائے۔ وہ حتی المقدور دوسروں کے جوہر کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے اور انتہائی حدوں تک حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ تعارفی ملاقات میں ہی جب انہیں میرے بارے میں یہ معلوم ہوا کہ میں نے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ لیا ہے اور اب اسے چھوڑ چھاڑ کر اس کوچے میں نکل آیا ہوں تو کہنے لگے تم اپنے اس علم اور تجربے کو ضائع مت کرو بلکہ اپنے علمی ادبی شوق کے ساتھ ساتھ اسے بھی جاری رکھو، کوئی چھوٹی موٹی دکان ہی کھول لو۔ میں نے ان کی بات سنی ان سنی کر دی، اور وقت یوں ہی گذرتا رہا۔ ہر ملاقات میں وہ مجھ سے یہ بات ضرور کہتے اور اصرار کرتے مگر میں ٹال جاتا کہ ’’اب طبیعت ادھر نہیں آتی‘‘۔

۵ جون ۱۹۹۲ء کو ان سے ایک آخری طویل نشست ہوئی۔ ان پر دمے کا ایک شدید حملہ ہوچکا تھا اور وہ اسپتال سے گھر آئے تھے۔ اور باتوں کے بعد کہنے لگے کہ ’’آخر تم میری بات کیوں نہیں مانتے، کیا رکاوٹ ہے؟‘‘ میں نے ٹالنے کے لیے کہا کہ جناب! بات یہ ہے کہ اس کے لیے جتنے پیسوں کی ضرورت ہے وہ میں مہیا نہیں کرسکتا۔ پوچھا: ’’تمہیں کتنا سرمایہ چاہیے؟‘‘ میں نے کہا کم از کم ساٹھ ستر ہزار روپیہ چاہیے۔ بولے کہ ’’اچھا فکر نہ کرو، دیکھتے ہیں، کوئی بندوبست کرتے ہیں۔ ‘‘ میں دل ہی دل میں ہنستا رہا، کیونکہ اتنا تو میں جانتا تھا کہ باقرصاحب بے چارے کہاں سے اتنا روپیہ فراہم کریں گے مگر اس احساس نے مجھے عجیب خوشی دی کہ مجھ جیسے ایک آدمی کے لیے جس سے ان کا کوئی گہرا تعلق نہیں، وہ کتنا سوچتے ہیں۔ ۷ اگست کو جب ان پر دمے کا آخری شدید حملہ ہوا اور انہیں اتفاق اسپتال میں داخل کیا گیا تو اسی رات آفتاب حسین اور میں انہیں دیکھنے گئے۔ وہ ’’آئی سی یو‘‘ میں تھے۔ آکسیجن ماسک ان کے منہ پر لگا ہوا تھا، چہرے اور ہاتھوں پر ورم تھا۔ سانس تیز تیز چل رہی تھی مگر اس کے باوجود ان کا موڈ بہت شگفتہ تھا۔ ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ ضیاء الحسن اور دوسرے دوستوں کا پوچھا۔ ان کے دونوں بیٹوں حسن اور ہاشم کے علاوہ ان کی بیگم بھی وہیں تھیں۔ بیگم سے میرا تعارف کروایا اور کہنے لگے کہ ’’میں ٹھیک ہوجاؤں تو پھر میں اور یہ مل کر الیکٹرونکس کی دکان کھولیں گے۔ ‘‘ اللہ اکبر! ایک آدمی بسترِ مرگ پر پڑا ہے اور ایسے میں بھی کوشاں ہے کہ کسی کے اندر کوئی صلاحیت ہے تو اسے ضائع ہونے سے بچایا جائے۔

؎ پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ

یہ ایک ذاتی سا حوالہ میں نے اس لیے نقل کر دیا کہ آپ ان کی اس تڑپ کا اندازہ کرسکیں جو ان کے اندر کسی جوہر کو نکھارنے اور چمکانے کے لیے کی ہوتی تھی۔ اسی طرح کی ایک اور بات، جب میں نےانہیں بتایا کہ میں نے موٹرسائیکل خرید لی ہے۔ اب آپ کے پاس اکثر آیا کروں گا تو موٹرسائیکل دیکھ کر کہنے لگے ’’میں تمہارا کمال تب جانوں گا جب تم اسے پرانی نہ ہونے دو۔ ‘‘ میں نے کہا یہ پرانی ہی خریدی ہے تو کہا کہ ’’یہ اب جس حالت میں ہے بس اس سے زیادہ خراب نہ ہو۔ ‘‘ یعنی وہ ہر شے کو اس کی موجودہ حالت سے بہتر حالت میں دیکھنے اور لانے کی لگن میں رہتے تھے۔

باقرصاحب کی جو بہت سی حیثیتیں تھیں ان میں نمایاں ترین وصف ان کا استاد ہونا تھا۔ جب میں یہ بات کہتا ہوں تو ان کی دیگر حیثیتوں کو کم کرنا کسی طرح مقصود نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ بحیثیت ایک استاد کے وہ اپنے زمانے کے نمایاں ترین اور منفرد ترین انسان تھے۔ لاہور کے موجودہ ادبی حلقوں میں اس وقت جن لوگوں سے رونق ہے ان میں سے بیش از بیش وہ لوگ ہیں جنہیں پہلی مرتبہ باقرصاحب نے حلقہ اربابِ ذوق کی راہ دکھائی۔ انہیں جہاں کوئی ذرہ ملا اسے آفتاب بنا دیا اور جہاں کوئی پھول نظر آیا اسے گلستان بنا دیا۔ ایک روایتی اور تہذیبی استاد کی جو خصوصیتیں ہم نے سنی ہیں وہ ان کی ذات میں مجسم دیکھی ہیں۔ وہ جزوقتی استاد نہیں تھے کہ ادھر کالج یا کلاس کا وقت ختم ہوا، ادھر آپ خرانٹ قسم کی شے بن گئے اور کلاس کے باہر آکر کسی نے بھولے سے کچھ پوچھ لیا تو آپ اسے یاد دلائیں کہ ’’میاں اب گھر جانے کا وقت ہے۔ ‘‘ باقرصاحب تو ایسے استاد تھے جن کے نزدیک وقت اور کلاس کی کوئی قید نہیں تھی۔ وہ ہمہ وقت بتانے اور پڑھانے کو تیار رہتے تھے، کیا کلاس، کیا چائے کی میز، اور گھر کی مجلس، بس ان کے نزدیک اصل شے مکالمہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ’’بے قاعدہ‘‘ ئشاگردوں کا دائرہ بھی اتنا ہی وسیع تھا جتنا کہ باقاعدہ یونیورسٹی کے شاگردوں کا۔ مجھ ایسے بے شمار لوگ ہیں جنہوں نے باقرصاحب سے کبھی باقاعدہ طور پر نہیں پڑھا مگر خود کو ان کا شاگرد کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ قدیم نظامِ تعلیم کی ایک انفرادیت یہ تھی کہ اس میں نصاب سے زیادہ استاد اہم ہوتا تھا۔ آج کے نظامِ تعلیم نے اس نسبت کو اُلٹ دیا ہے۔ نتیجہ معلوم ہے، مگر باقرصاحب قدیم معنوں میں استاد تھے۔ اپنے شاگردوں میں بھی انہوں نے یہی روح پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ اپنے بعض شاگردوں سے ٹوٹ کر پیار کرتے تھے۔ 1990ء میں سراج منیر کا انتقال ہو گیا تو باقر صاحب بہت دکھی ہوئے۔ سراج صاحب ان کے مایہ ناز اور چہیتے شاگرد تھےمگر بے قاعدہ شاگرد۔ 1991ء میں سراج بھائی کی پہلی برسی کے موقع پر حلقۂ اربابِ ذوق کی ایک نشست کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ

’’بعض لوگوں کے لیے وقت کا پیمانہ وہ نہیں ہوتا جس کے مطابق عام لوگ زندگی بسر کرتے ہیں بلکہ ان کے اندر ایک پیمانہ ہوتا ہے جو باہر کے پیمانے سے تیز چل رہا ہوتا ہے۔ سراج منیر کے اندر بھی ایک ایسا ہی پیمانہ تھا جو بہت تیز چلا۔ ۔ ۔ جانے کے دن تو میرے تھے، میں چاہتا تھا کہ وہ میرے جنازے کو کندھا دیتا مگر وہ چلا گیا اور میں زندہ ہوں۔‘‘

ایک دفعہ دوستوں کی کچھ باتوں سے مجھے یوں لگا کہ باقرصاحب اور سراج صاحب کے مابین کچھ کھنچاؤ سا ہے۔ میں نے اس رنجش کو ختم کرنے کی کوشش کرناچاہی۔ سراج بھائی سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے نہایت تاثر انگیز لہجے میں کہا تھا کہ ’’میں کیا تھا، اک ادنٰی سا گمنام سا طالبِ علم، جسے لاہور میں کوئی نہیں جانتا تھا، میں آج کسی قابل ہوں تو باقرصاحب ہی کی وجہ سے ہوں۔ ‘‘ اسی طرح جب میں نے باقرصاحب سے اس بارے میں بات کرنا چاہی تو وہ کہنے لگے کہ ’’سراج منیر اگر نہ ہوتا تو میں آج سڑک پر پڑا ہوتا، اس گھر میں جو میں عزت سے رہ رہا ہوں تو یہ سراج منیر کی وجہ سے ہے۔ اس کے مجھ پر بڑے احسانات ہیں۔‘‘ اللہ اللہ! یہ کیسے استاد شاگرد تھے، جو ایک دوسرے کے احسانوں کا تذکرہ نعمت کے طور پر کر رہے تھے، جو ایک دوسرے کے محسن بھی تھے اور احسان مند بھی۔ یہ باقرصاحب کی تربیت تھی جو سراج بھائی کی زبانی کلماتِ محبت بن کر ٹپک رہی تھی اور یہ سراج بھائی کی سعادت تھی کہ ان کا استاد ان کی ممنونیت میں نغمہ سرا تھا۔

میں باقرصاحب کے ہاں اکثر آفتاب حسین، ضیاءالحسن یا امجد طفیل کے ساتھ جاتا۔ کبھی کبھی اکیلے بھی جرأت کرلیتا۔ جب بھی ان کے پاس جاتا، وہ ایک خصوصی محبت سے ملتے تھے۔ آفتاب حسین نے خواہ مخواہ مشہور کر رکھا تھا کہ اسے فارسی شعر بہت یاد ہیں۔ باقرصاحب سنانے کو کہتے، میں ڈرتے ڈرتے سناتا۔ کبھی کبھی کہتے ’’اچھا اس شعر کا ترجمہ کرو۔ ‘‘ میں ٹوٹی پھوٹی کوشش کرتا۔ پھر باقرصاحب اسی میں سے کوئی نکتہ اٹھاتے اور پھر تہذیب، کلچر، ادب، عشق، جنس اور جانے کہاں کہاں کی باتیں ہوتیں۔ ان کی ایک خوبی یہ تھی کہ خود تو بولتے ہی تھے، کوشش کرتے کہ سننے والا بھی بولے۔ آفتاب حسین اور ضیاء الحسن میں کسی بات پر نوک جھونک چلتی تو باقرصاحب کسی طرف ایک آدھ لقمہ دے کر کوئی نئی جہت سجھا دیتے، یہ دونوں حضرات پھر جٹ جاتے اور باقرصاحب چپکے چپکے مسکراتے رہتے اور ہنستے رہتے، بیچ بیچ میں ان کی کھانسی بھی جاری رہتی، مگر وہ اسے رکاوٹ نہیں سمجھتے تھے بلکہ گفتگو کے وقفے کے طور پر استعمال کر لیتے۔ یہ گویا ان کی دمساز تھی۔ ان کی مجلس کی رونق جس طرح ان کے احباب تھے اسی طرح یہ کھانسی بھی ان کی رفیقِ حیات تھی۔ میں نے انہیں کبھی اس بیماری کا شاکی نہیں پایا۔

جا شوق پر ، نہ جا تن زار و نزار پر
اے ترک صید پیشہ ہمیں بھی شکار کر

باقرصاحب مصرعِ اوّل کے مصداق تو تھے ہی مگر ترک صید پیشہ بھی خود ہی تھے۔ وہ مخاطب کو ایسے شکار کرتے تھے کہ اسیر خود ہی اپنے بال نوچ ڈالنے کی خواہش کرنے لگتا تھا۔ انہوں نے اپنے شاگردوں کو ہمیشہ اپنا دوست بنا کر رکھا۔ ان سے کسی موضوع پر بھی بات کرتے ہوئے ہچکچاتے نہیں تھے۔ خاص طور پر جنس کو بھی اسی بے تکلّفی سے زیرِبحث لاتے تھے۔ روایتی اور مربوط معاشرے میں جس طرح جنس شرمانے لجانے کی شے نہیں تھی اور اس پر مردانہ دار گفتگو ہوتی تھی اسی طرح باقرصاحب کا چھوٹا سا معاشرہ بھی ’’مردوں‘‘ کا معاشرہ تھا۔ پختہ فکری کے جس مقام پر وہ خود تھے اسی پر اپنے خورد سال دوستوں کو بھی لے آیا کرتے تھے۔ اپنے بچوں کے ساتھ بھی ان کا نہایت بے تکلّفی کا رویہ تھا۔ ان کی تربیت بھی انہوں نے دوستوں کی طرح کی۔ جب بھی ان سے کوئی کام وغیرہ کرواتے، شکریہ ضرور ادا کرتے تھے۔ غرض کہ وہ جیسے دوست تھے ویسے ہی استاد تھے، ویسے ہی باپ تھے۔

باقرصاحب شاعر اور نقّاد کس پائے کے تھے؟ اس بارے میں سرِدست میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ویسے بھی یہ گہری باتیں ہیں اور گہری باتوں تک میری رسائی نہیں ہے، میں تو چند ظاہری چیزوں ہی کو دیکھ سکتا ہوں۔ ان کے طرزِ گفتگو کی دلربائی کا میں بہت شیدائی تھا مگر ان کے اُسلوب تحریر سے مجھے کچھ زیادہ رغبت نہ تھی۔ میں نے ہمیشہ اس میں کچھ غرابت اور ادق پن محسوس کیا ہے۔ یہ ایک عمومی خامی ہے جو خوش کلام لوگوں میں میں نے دیکھی ہے۔ میرے ممدوح اور محبوب سراج بھائی میں تو یہ چیز حدِکمال کو پہنچی ہوئی تھی۔ اپنے تھوڑے بہت مطالعے سے میری یہ عادت ہوگئی ہے کہ شعر ہو یا نثر، میری توجہ موضوع کے ساتھ ساتھ بلکہ اس سے کچھ زیادہ زبان اور اُسلوب کی طرف رہتی ہے۔ موضوع جس قدر اہم ہو، لیکن اگر اس کی نثر بے ذائقہ ہے تو اسے پڑھنے میں مجھے خاصا زور لگانا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باقرصاحب کی تحریریں میں نے قدرے بے لطفی سے پڑھی ہیں۔ (ممکن ہے کہ میرا ذوق ہی ناقص ہو)

ایک دفعہ باقرصاحب سے میں نے اپنا یہ احساس بیان بھی کیا تھا کہ مجھے آپ کے موضوعات میں ثقاہت اور اُسلوب میں ثقالت ایک ہی درجے کی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے حیرت ہے کہ تم یہ کہہ رہے ہو، حالانکہ لوگ تو کہتے ہیں تم جیسا بولتے ہو، ویسا ہی لکھتے ہو۔ ‘‘ لوگوں کی یہ بات سن کر میں نے ان کی تحریریں پھر سے پڑھنا شروع کیں۔ مگر مجھے تو لوگوں کی بات جچی نہیں۔ میرا تأثر اب بھی وہی ہے۔ باقرصاحب کے اُسلوب میں ایک وضع دارانہ قسم کی متانت ہے جو بعض اوقات خشکی کی حد کو جا پہنچتی ہے۔ میں نے ایسے کلف زدہ لوگ دیکھے ہیں جو ہونٹوں پر ہلکی سے مسکراہٹ کو بھی خلافِ وضعِ شرفا سمجھتے ہیں۔ باقرصاحب شخصی طور پر ایسے بزرگ بالکل نہیں تھے، مگر ان کی تحریر پر بزرگی کا سایہ ضرور ہے۔ گو کہیں کہیں ایک کاٹ دار فقرہ آ جاتا ہے مگر مجموعی فضا سنجیدہ ہی رہتی ہے۔ ان کے جملے بظاہر سادہ سے ہوتے ہیں مگر مفہوم کی راہ میں بعض اوقات آڑ بن جاتے ہیں۔ تفہیم کے لیے بار بار پڑھنا پڑتا ہے۔ میرے نزدیک اچھی نثر کی خوبی یہ ہے کہ آپ اسے پڑھ کر موضوع کا فہم اور زبان کا لطف بیک وقت حاصل کریں۔ باقرصاحب نے جن مسائل سے بحث کی ہے، یہ بات نہیں کہ وہ اجنبی ہیں۔ ان کے مسائل مشکل ضرور ہیں مگر ان کو زیادہ مشکل ان کی بوجھل نثر کردیتی ہے۔ یوں تو عسکری صاحب سے زیادہ مشکل اور اجنبی مسائل کس ادیب نے چھیڑے ہیں مگر ان کی نثر مستقل طور پر شگفتہ اور رواں رہی ہے جبکہ باقرصاحب کے ہاں اُسلوب کی مشکل بھی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ زبان کے جس چٹخارے سے ہم عسکری، سلیم احمد، اور انتظار حسین کی نثر میں آشنا ہوتے ہیں وہ باقر صاحب میں ذرا کم ہے۔ عسکری صاحب سے انہوں نے تہذیبی مسائل میں ایک خاص نقطۂ نظر مثلاً سرسیّد، حالی اور اکبر کے حوالے سے ہندوستان کے مسلمانوں کو سمجھنے کی کوشش، ادب کا فوری افادی پہلو نہ ہونے مگر اس کے تہذیبی اظہار کا تصوّر اور دیگر کئی مسائل میں اکتساب تو کیا ہے مگر جس طرح وہ ان کے ذوق شعری سے پہلو بچا کر نکل گئے ہیں، اسی طرح عسکری کے’’از دل خیزد بر دل ریزد‘‘ والے اسلوب کو بھی انہوں نے زیادہ نہیں اپنایا۔ مطلب یہ نہیں کہ انہیں عسکری کا نقال ہونا چاہیے تھا بلکہ عسکری صاحب یا دیگر اچھے نثرنگاروں میں زبان کی جو بات ہوتی ہے وہ باقرصاحب میں کم ہے۔ جملہ معترضہ کے طور پر عرض ہے کہ عسکری کی یہ خوبی کسی قدر ہندوستان کے بے مثال نقّاد وارث علوی کے حصّے میں ضرور آئی ہے۔ علوی کے ہاں عسکری کی جملے بازی اور سلیم احمد کے ڈرامائی اسٹائل کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ البتہ کاٹ کھانے کا انداز انہیں شمیم احمد کے گروہ میں لے جاتا ہے۔ باقرصاحب کے اُسلوب نثر اور زبان کے بارے میں آج جو کچھ سمجھا ہوں، وہ یہی ہے۔ ممکن ہے کہ کل مجھے ان کے بارے میں کچھ اور کہنا پڑجائے تو میرے لیے یہ کوئی ہچکچاہٹ کی بات نہیں ہوگی، میں تو اس قبیلے کا فرد ہوں جہاں اگر دیانتداری کا تقاضا ہو تو اپنی ہی بات کی تردید بڑی ڈھٹائی کے ساتھ بے شرمائے کر دی جاتی ہے۔

باقرصاحب کراچی کے چاند تھے، مگر انہوں نے ضوفشانی کے لیے پنجاب کے آسمان کو پسند کیا۔ جب وہ لاہور کے ادبی افق پر طلوع ہوئے تو آسمانِ لاہور پر بہت سے ستارے جگمگا رہے تھے مگر باقرصاحب کی چمک دمک سب میں ممتاز تھی۔ وہ چاند جو محمد حسن عسکری جیسے سورج کی روشنی سے مستنیر تھا، فیض رسانی اور نورافشانی کی روایت کو تقریباً چالیس برس آگے بڑھاتا رہا۔ یہاں کی سرزمین نے ان کے پاؤں اس مضبوطی سے پکڑے کہ وہ پھر کراچی نہ جاسکے۔ اس طرح یہ ماہ کراچی کہ مہ کنعاں کی طرح تھا، ہمیشہ کے لیے ارضِ لاہور کا حصّہ بن گیا۔

بمرگِ من کہ پس از من بمرگ من یاد آر
فغانِ زاہد و فریادِ برہمن یاد آر
ہزار خستہ و رنجور در جہاں داری
یکے ز غالب رنجور و خستہ تن یاد آر

وہ اپنی زندگی کی آخری رات تک کے شعر و سخن کی بزم سجائے رہے اور اپنے ایسے اشعار پڑھتے رہے جن میں موت و حیات کی کیفیتیں لرزاں تھیں۔ اگلے روز صبح ان پر بے ہوشی طاری ہوگئی اور یہی وہ لمحہ تھا جب قزاقِ اجل نے موقعِ غنیمت جانا کہ اب یہ ہزار داستان اسے اپنی دلفریب باتوں کا اسیر نہیں کرسکے گا، اور ایک کاری وار کیا۔ پھر وہ اس شعر کی تصویر بن گئے۔

باقر یہ دانت بیچ زبان بند کیوں ہوئی
قائل تو آپ بھی تھے بہت قیل و قال کے

حواشی:
1۔ اس تاریخی ادبی تنظیم کے چند ہی اجلاس ہوئے تھے۔ راقم کے سر اسکے جلسوں کی کاروائی لکھنے کی ذمہ داری تھی جس میں امجد طفیل اور ضیاء الحسن میری مدد کیا کرتے تھے۔ وہ کاروائی کے نوٹس لیے اور میں انہیں ضبط تحریر میں لا کر اگلے اجلاس میں پیش کرتا۔ یہ سارا ریکارڈ راقم کے پاس بڑی حد تک محفوظ ہے اس کی روداد کبھی الگ سے پیش کی جائے گی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: