آزادی —– یگانہ نجمی کا افسانہ

0
  • 53
    Shares

ریلوے لائن کے اس پار کی دنیا بڑی عجیب تھی۔ ایک طرف تو ریلوے افسران کی ہزاروں گز پر بنی کوٹھیاں تو دوسری طرف غریبوں کی بستی جس میں کچے مکان اور جھگیاں جو بارش کی آمد پراس میں رہنے والوں کی بے بسی پر نوحہ کناں تھیں۔

ان کوٹھیوں سے اٹھنے والی کھانوں کی دلفریب خوشبو ہر طرف پھیل جاتی جو بستی میں رہنے والے غریب باسیوں میں غربت کا احساس بڑھا دیتی۔ صابرہ اور شاکر غریب سکینہ کے دو بچے، سکینہ کا شوہر ایک دن مزدوری کرتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے پر ہلاک ہوگیا، سکینہ گھروں میں کام کرتی تھی اور جس سے بامشکل اپنے بچوں کا پیٹ پالتی تھی۔ اس دن سکینہ حسب ِ معمول کام پر گئی ہوئی تھی۔ صابرہ اورشاکرکی آج اسکول سے چھٹی تھی صابرہ نے شاکر سے کہا کہ آئو ہم بھی بنگلے والوں کی طرح کھانا پکائیں شاکر نے کہا کہ پاگل ہوئی ہو صابرہ بھلا ہم بنگلے والوں جیسا کھانا کیسے پکا سکتے ہیں ارے بھائی سچ مچ نہ سہی جھوٹ موٹ ہی سہی تم مجھے ریلوے لائن سے پتھر اٹھا کر لادو، شاکر نے دوڑ کے جاکر پتھر لادئیے۔ صابرہ نے مٹی کے تیل کا چولھا جو تیل نہ ہونے کے سبب دو دن سے بجھا ہوا تھا، اس پر ہانڈی رکھی اور اس میں بہت سارے پتھر بھر کر پکنے کے لیے رکھ دیا۔ آج میں مرغ کڑھائی بنا رہی ہوں تمھیں پسند ہے نامرغ کڑھائی واہ صابر نے مزہ لیتے ہوئے کہا میرے تو ابھی سے منھ میں پانی آگیا دونوں کھانا پکانے میں مگن ہوگئے۔

اتنی دیر میں سکینہ کام کاج سے واپس آگئی اس کے چہرے پر زندگی کی صعوبتوں سے ان گنت لکیریں ابھر آئیں تھیں اور وہ اپنی عمر سے کئی گنا بڑی لگنے لگی تھی پر آج ان لکیروں میں اور اضافہ ہوگیا۔ کیونکہ بنگلے والی باجی نے اسے ٹکا سا جواب دے دیا تھا کہ ۱۰ تاریخ سے پہلے تنخواہ نہیں ملے گی۔ انھوں نے کہا کہ تم لوگوں کا کیا بھروسہ پیسے لے کر غائب ہوجائو۔ وہ گھر آتے ہوئے یہ سوچنے لگی کہ جب دال سبزی کے لیے ہی پیسے مشکل سے بچتے ہیں تو باوجود سرکاری اسکول میں مفت تعلیم کے اسکول کے باقی اخراجات کا پورا کرنا اس کے بس سے باہر ہے۔

جو روپے اس کے پاس تھے وہ بھی اب ختم ہوچکے ہیں۔ آج تو بچوں کو بھلا پھسلا کربھوکا سلا دوں گی پر کل کیا ہوگا۔ اتنے میں دونوں بچے اپنی ماں کے پاس آکربیٹھ گئے شاکر نے کہا ماںکل ۱۴اگست ہے ہمارے اسکول میں۱۴اگست منائی جائے گی۔ استانی صاحبہ نے بتایاکہ ۱۴اگست آزادی کا دن ہے اس دن مسلمانوںنے اپنی جان ومال کی قربانی دے کر انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کی تھی۔ اور لاکھوں مسلمانوں نے اللہ کے نام پر ہجرت کی۔ یہ ہجرت بالکل اسی طرح سے تھی جیسے مکہ سے مدینہ مسلمانوں نے ہجرت کی تھی۔ استانی جی نے یہ بھی بتایاکہ حضرت عمر جب وہاں خلیفہ بنے تو وہ راتوں کو شہر کا گشت کرتے تھے یہ معلوم کرنے کے لیے کہ کوئی ان کی حکومت میں بھوکا تو نہیں سوگیا۔ تاکہ وہ بھوکے کو کھانا کھلائیں اس کی مددکریں۔ اماں ہمارے ملک بھی تو اللہ کے نام پر بنا ہے نا تو یہاں کے حکمران غریبوں کی مدد کرنے کے لیے راتوں کو گشت کیوں نہیں کرتے۔ سکینہ بت بنی شاکر کی باتیں سن رہی تھی اس کو وہ واقعہ یاد آنے لگا جو اس نے محلے کے درس میں سنا تھاجب ایک عورت کی مددکے لیے حضرت عمر راشن اپنی پیٹھ پر لاد کر اس کے گھر پر دستک دی۔ جو ایک پتیلی میں پانی بھر کر پکا رہی تھی تاکہ بچوں کو تسلی رہے کہ کھانا پک رہا ہے۔ اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی، اور سکینہ چونک پڑی اس نے دروازے پر جاکر دیکھا چار پانچ مسٹنڈے قسم کے لوگ ہاتھوں میں ڈنڈے لیے ہوئے تھے ان میں سے ایک نے آگے بڑھ کر کہا چل بی بی مکان خالی کر یہ جگہ سیٹھ حاتم نے خرید لی ہے چلو نکلو یہاں سے اور ان چاروں نے اس کے برتن اور دوسرا سامان اٹھا کر گھر سے باہر پھینک دیا۔ سکینہ کہتی رہ گئی کہ وہ اتنی رات اور بارش میں کہاں جائے گی پر انھوں نے ایک نہ سنی اور کہا کہ ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہیں اور ا ن سب کو باہر نکال دیا۔ وہ بے چاری بے سرو سامانی کی حالت میں بچوں کو ساتھ لے کر نکل پڑی اور ریلوے لائن پر پہنچ گئی۔ وہ کھلے آسمان کے نیچے کھڑی تھی رات کے بارہ بجے تھے قریبی ویٹنگ روم سے ریڈیو پر پاکستان کی آزادی کا اعلان نشر ہو رہا تھا۔ کہ آج مسلمانوں نے ایک آزاد ریاست پاکستان کی صورت میں حاصل کر لی ہے۔

دور سے آتی ہوئی ٹرین کی آواز اب نزدیک آچکی تھی۔ سکینہ نے آسمان کی طرف دیکھا اور اپنے بچوں سمیت ریل کی پٹڑیوں پر لیٹ گئی کہ آج اسے بھی اس دکھ بھری زندگی کی قید سے آزادی نصیب ہونے والی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: