خان صاحب! اس بستی کی آنکھوں کی مستی لوٹا دیں — سحرش عثمان

1
  • 60
    Shares

بہت سے دوستوں نے پوسٹس لگائییں کہ تجاویز دیں نئی حکومت کو کیا کرنا چاہیے۔

بہت سے لوگوں نے بہت خوب باتیں کیں۔ کسی نے یہ لکھا یہ تھنک ٹینکس کا کام ہے۔ ظاہر ہے یہ انہیں کا کام ہے لیکن ہمارے ہاں حکومتوں نے کبھی عوام کو، اس قابل سمجھا ہی نہیں تو تھنک ٹینکس کہاں سے آتے۔ ہمارے ہاں تھنک ٹینکس بھی حکومتی “تھکنکنگ” کر لیا کرتے ہیں۔

خیر ایسی ہی ایک پوسٹ پہ ہمیں بھی بلایا گیا ہم اتنے قابل لوگوں کے درمیان کیا ہی بات کرتے۔

لیکن سچ پوچھیں تو کئی بار وہ پوسٹ کھول کر دیکھ چکی یہ خوشی ہی نہیں جا رہی کہ اس حکومت کو ہر شخص کیسے اون کر رہا ہے اپنا سمجھ رہا ہے۔ سرشاری کچھ لکھنے ہی نہیں دے رہی۔ کچھ لکھنے لگتی ہوں تو ٹرین جذباتی ٹریک پر چڑھ دوڑتی ہے۔ تو کبھی دھرنا یاد آجاتا ہے کبھی دو ہزار تیرہ کا الیکشن، پہلا ووٹ اس سے جڑا رومانس اس کے بعد کی مایوسی اور “دوستوں” کی باتیں یاد آجاتی ہیں۔

کبھی جی چاہتا ہے خان کو خط لکھوں اور بتاؤں کیسے کیسے نشتر چلائے گئے ہیں۔ یہ بتاؤں خان صاحب یہ جو آج گریس ڈیسینسی کی باتیں کرتے نہیں تھک رہے نا یہ ہمیں کہا کرتے تھے اگلے سو سال بھی روتے رہنا۔ کبھی کہتے تھے ڈی چوک پہ کھیل لو حکومت حکومت۔ خان صاحب یہ سب لوگ ہمیں کہا کرتے تھے سیاست سیکھ کر آؤ۔

ایک مہاشے تو ہمیں ضیاءالحق نسل کہا کرتے تھے۔ ہم۔۔۔ ہم ضیاءالحق نسل خان صاحب جنہوں نے اس نسل کی غلطیوں کا تاوان بھرتے آنکھ کھولی۔

ان سب نے کھویا ہی کیا ہے۔ ہم نے میری نسل نے کالجز سکولز یونیورسٹیز میں دھماکے دیکھے ہیں اپنے دوست کھوئے ہیں۔

ہم نے عید گاہوں مسجدوں امام بارگاہوں میں خون کی ہولی کھیلتے مکروہ کردار دیکھے ہیں۔

میری اہل تشیع دوست کوئٹہ میں بلاسٹ کے بعد یہ کہہ کر کالج اور بعد میں ملک چھوڑ گئی تھی کہ “تم” لوگ مارنا چاہتے ہو۔ اور ان آنر ایبل لوگوں نے ہمیں ہی دہشت گردوں کے ساتھ لا کھڑا کیا۔

یک بیک جنبش قلم انہوں نے اے پی ایس اور شوال مدرسے کے بچوں کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کردیا۔ ہمارے بچے مرے اور ہمیں ہی کٹہرے میں بھی کھڑا کردیا ان ظالموں نے۔

جی چاہتا ہے ایسا خط لکھوں ایسے مکروہ کرداروں کے خلاف جن کے قلم کی سیاہی نے میری نسل کے روشن خواب روندنا چاہے۔ جی چاہتا ہے خان صاحب آپ کو اپنی نسل کے داغ دل دکھاؤں سارے۔۔ اور شائد لکھ ہی دیتی پر آپ نے بات ختم کردی تھی معاف کر کے۔ خان صاحب جب آپ نے معاف کردیا تو ہمارا دکھ کسی شمار قطار میں نہیں۔ یہ تحریر لکھنے سے پہلے کئی لوگوں کے روئیے بھلانے پڑے کئی لہجوں کے دشت پار کرنے پڑے کہ آپ ان سب کو معاف کرچکے ہیں۔لیجئے ہم بھی معاف کرتے ہیں۔

خیر یوں ہے کہ اگر آنسہ ایسی تحریریں نہ لکھیں تو یقین کریں اپنے ہی خاتون ہونے کا گمان دھندلانے لگتا ہے۔ کہیں کی بات جب گھما کر کہیں لے جاتی ہوں تو خواتینی فن پر فخر کرتی ہوں۔

تجاویز پہ ہوئی پوسٹ سے بات شروع کر کے جو آنسہ نے قلمی دہشتگردی کا محاسبہ کیا ہے وہ یقینا آپ کو لطف دے گا پڑھتے ہوئے۔۔ نہ دیے تو دانش والوں کو پکڑییے کہ تحریر انہوں نے چھاپی۔ خیر وہاں تو یہ کامنٹ کردیا۔

” سب سے پہلے تو خان صاحب کزنز میریجز پہ پابندی لگائیں نا۔۔

دوسرا ہر موٹی آنٹی پر پابندی ہو اوروں کے شادی بیاہ بچوں کی پیدائش ان میں وقفہ اس کی پیچیدگیوں اور سسرالی معاملات نیز ’’تمہارے ساتھ تو ٹھیک رہتا ہے نا‘‘ جیسے سوال نہیں پوچھیں گی۔۔ اگر پوچھیں گی تو تعزیرات پاکستان کے تحت پورے دو سال شوہر و سسرال کی ہر بات بلا چوں چراں ماننا پڑے گی۔۔ اور پورے سال میں صرف چار سوٹ ملیں گے۔

یہ مذاق میں کہی ایک بات ہے بلکہ لیکن یہ ہمارے سماج کا وہ چہرہ ہے جس پر ہم میک اپ کئے رکھتے ہیں۔ اپنی سوکالڈ روایات کا۔

اتنے دن سے بہت سوچا کہ کیا ایسا ہو کہ واقعتا دل جھوم جائے کہ تبدیلی آئی رے، بہت سے جملے ترتیب دے کر مٹا چکی تھی۔ گرہ آج صبح کھل گئی۔ آج نیوز چینلز بتا رہے تھے کہ زینب کے قاتل سفاک قابل نفرین کردار کو بار بار پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے کہ وہ تین اور کلیوں کو مسلنے کا مجرم ثابت ہوا ہے۔

خان صاحب زینب واقعہ نے ہفتوں اداس اور فرسٹریٹ رکھا تھا اور یہ اداسی صرف میری نہیں تھی ہر اس شخص کی تھی جو سوچتا سمجھتا تھا۔ اپنی بیٹیوں کا چہرہ دیکھتا تھا۔

خان صاحب اس اذیت کے خلاف ہماری ریاست کو ماں جیسی کردیں۔۔ جس کی گود میں سر رکھیں تو ہمیں درد بھول جائیں اور جس کے پیچھے چھپ جانا احساس تحفظ کی آخری سطح ہو۔

خان صاحب زینب کے قاتل درندے سے شروع کریں۔ مجھے یہ سطر لکھتے ہوئے تکلیف ہورہی ہے۔ پر یہ اس تکلیف سے کہیں کم ہے جو زینب نے سہی ہوگی۔ خان صاحب اس کو سب کے سامنے پھانسی پر لٹکا دیں۔ اور آئندہ اس کو اصول مان لیا جائے۔ جس پر جرم ثابت ہوجائے اسے لٹکا دیں۔ ہر ہسپتال میں “ون سینٹر” قائم کردیں جہاں انیشئل ٹیسٹنگ سے ایویڈینس کلیکٹنگ اور پراسیکیوشن جیسی ساری سہولیات ایک چھت تلے میسر ہوں۔ کوئی درندہ مجرم شک کا فائدہ بھی نہ اٹھا سکے۔ اس معاملے میں اتنا سخت رویہ اپنا لیا جائے کہ مجرم کی حمایت کرنے کی بھی جرات نہ کرسکے کوئی۔

مجھے پورا یقین ہے معاشیات قانون اور سوشل سیکورٹیز جیسے مسائل نئے پاکستان کی اولین ترجیح ہی ہوں گے۔

ان سب کے ساتھ۔ ہمیں بہتر سماجی رویوں والا نیا پاکستان چاہیے۔ ہمیں معلوم ہے حکومتیں سماجی روییے نہیں بدل سکتیں۔ لیکن ریاستیں تو بدل سکتیں ہیں نا۔

تو کیوں نا سماجی ڈھانچے کی تعمیر نو ریاستی فرض بنا دیا جائے۔

میں چاہتی ہوں نئے پاکستان میں گھٹن والے سماجی رشتے اور چبھن والے سماجی روییے کم سے کم ہوں۔

میں چاہتی ہوں میری جنس کو فیصلہ کا اختیار اور آزادی دی جائے۔

اس کے لیے چاہے اس سماج کی سرجریز کرنا پڑیں تو کی جائیں۔ قانون سخت ہوں یا نرم ان کی پابندی سانس لینے جتنی ضروری قرار پائے۔

میں یہ بھی چاہتی ہوں کہ میرے بچے جب سماج کے پہلے ادارے خاندان کی بنیاد رکھیں تو وہ اس کی ٹرم این کنڈیشنز سے واقف ہوں۔ نکاح نامہ ہمارے نصاب کا حصہ ہو۔ شادی ایک سول انسٹیٹیوٹ ہو جس کو میونسپلٹی میں رجسٹر کراتے ہوئے دونوں فریق موجود ہوں۔ اور جس کی رجسٹریشن میں لڑکی کو آزاد گارنٹر چننے کا حق حاصل ہو۔

جہاں “دلہن کا وکیل” جیسا شخص نہ پیش ہو جہاں خاتون کو پورے فرد کا سٹیٹس دیا جائے۔

میں یہ بھی چاہتی ہوں نکاح نامے کی شقیں کاٹنے اور کٹوانے والے مہر اور وراثت معاف کرنے اور کرانے والوں ہر دو فریقوں کو قرار واقعی سزائیں ملیں۔

میں یہ بھی چاہتی ہوں اکنامک انڈیپینڈنس کا جھانسہ دے کر میری جنس کا استحصال بند کیا جائے۔

جانے کیا کیا چاہتیں ہیں جن کو لکھنے بیٹھا جائے تو زمانے لگ جائیں اور ہر تمنا ایسی ہی ضروری گویا بقول شاعر

ہر خواہش پہ دم نکلے۔

ہمیں تسلیم ہے ہمارے زیادہ تر مسائل کی وجہ معیشت ہے اور مادی طور پر مضبوط ملک اور قومیں ہی اپنے سماجی مسائل کے حل کے لیے کوشش کرتے ہیں۔

لیکن سماج کے مسائل کا ادراک اور اس کا حل اگر کسی حکومت کی اولین ترجیح نہ ہو تو انجام کار بہت اچھا نہی ہوتا۔ لوگوں کو معاشی طور پر مضبوط کرنا ہی نہیں سماجی طور پر محفوظ کرنا بھی ریاستوں ہی کی ذمہ داری ہوا کرتی ہے۔ لہذا سماجی معاملات میں قوانین سازی اور ان پر عملدرامد کرنے والی حکومت ہماری ہوگی اتنی ہماری کہ اس کے خلاف ہونے والی “سازشوں” کو ناکام بنانے کی خاطر ہمیں ٹینک وینک واپس بھیجنے پڑے تو کر گزریں گے۔

خان صاحب آپ نے ہمیں اتنا ڈھیٹ تو بنا ہی دیا ہے کہ ہم سڑکوں کو گھر بنا لیتے ہوتے ہیں۔

ہمیں اتنا شعور تو دے ہی دیا ہے کہ ہم مفادات کے تحفظ چوری کی پردہ داری اور سول سپریمیسی کی جنگ میں فرق سمجھ سکیں۔

لہذا آپ بے فکر ہو کر کام کیجئے جہاں ہمیں لگے گا آپ کا اقدام ہماری قوم کے لیے اچھا نہیں یقین کریں سخت ترین ناقد پائیں گے۔

ہمیں دوسری چادر کا حساب لینے کا خواب آپ ہی نے دکھایا ہے۔

اور اگر ہمیں لگے گا آپ کا حق یعنی حکومت اور اقتدار خطرے میں ہے تو پھر ہم برگزز فیسٹویٹی کے شوقین تو ہیں ہی۔

دوجیاں جماعتاں فیر بڑا پٹنا لگا کر دیوانہ وار جھومیں گے۔ اور یہ تو روز روشن کی طرح عیاں ہے انہیں تکلیف پہنچے گی تو ہم تکلیف پہنچائیں گے۔

ہم وہ سوشل میڈیائی انقلابی نہیں۔

خیر چاہتی تو میں یہ بھی ہوں کہ میری بستی کے سارے پرندے واپس آجائیں جو خوشحالی امن کی خواہش لیے دوسری بستیوں میں ڈاروں سے بچھڑی کونجوں کی مانند وطن سے آنے والی ہواؤں میں پنکھ پھیلائے ہم وطنوں کے لیے چھاؤں کا سامان کرتے رہتے ہیں۔

اور یہ میرا یقین ہے ایسا وقت ضرور آئے گا۔۔ جب میری بستی کے لوگوں کو خوشی کی تلاش میں کہیں اور نہیں جانا پڑے گا۔

شاعر کہتا ہے نا۔

سلامت رہے تیری آنکھوں کی مستی
مجھے مئے کشی کی ضرورت نہیں ہے

تو خان صاحب اس بستی کی آنکھوں کی مستی لوٹا دیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: