اوپن مائیک ایوننگ۔ ۔ ۔ یا اوپن ماؤتھ؟ — شوکت نیازی

0
  • 60
    Shares

بات ہی کچھ ایسی تھی کہ نہ کرتے ہی نہ بنی۔ میری منہ بولی بہن نے فون پر میسیج کیا، “شوکت بھائی، ہم اپنے ٹی ہاؤس میں ایک اوپن مائیک ایوننگ کر رہے ہیں۔ آپ نے ضرور آنا ہے اوراپنا کچھ پڑھنا ہے۔ ہاں ہاں آج شام کو ہی۔ ۔ ۔ بس!” انکار نہ کر سکنے کی چند وجوہات تھیں۔ پہلی وجہ یہ رہی کہ مذکورہ خاتون انتہائی مہذب اور تعلیم یافتہ ہیں اور شائستہ اور وضع دار علمی گھرانے سے تعلق کی بنا پر علم و ادب، شعر وشاعری اور موسیقی سے گہرا شغف رکھتی ہیں۔ پہلی سے منسلک دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کی محافل میں ہمیشہ اعلیٰ پائے کی شاعری، گائیکی اور موسیقی سے لطف اندوز ہونے کامو قع ملتا ہے۔ ان دونوں سے منسلک تیسری وجہ یہ بھی تھی کہ ان کے ہاں اکثر مشترکہ دوستوں سے ملاقات رہتی ہے۔ لیکن سب سے بڑی اور ناگزیر وجہ یہ ہے کہ مجھے بھائی کہتی ہی نہیں، مانتی بھی ہیں۔ اب آپ ہی بتائیے خاموش سے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ تھا؟

بہن کا اکثر اصرار ہوتا ہے کہ میں وہ کچھ پڑھوں جو پہلے نہ پڑھا ہو۔ مسئلہ یہ تھا کہ شام سے پہلے پرنٹ آؤٹ کروانے کا وقت نہ تھا۔ اس لئے جلدی جلدی دو تین تازہ مضامین بڑے بڑے حروف میں کاپی کئے، ان کے پی ڈی ایف بنائے، خود کو ای میل کئے اور فون میں محفوظ کر لئے۔ آئینے میں چہرے پر نگاہ ڈالی تو دو تین دن کی بڑھی ہوئی حجامت دیکھ جی کو طمانیت ہوئی کہ بڑے لکھاری اکثر ایسی ہی خستہ حالی میں پائے جاتے ہیں۔ گھسی پٹی جینز اور ٹی شرٹ کے ساتھ ہش پپیز کے لوفرز پہنے تو دنیا و مافیہا سے ماورا دانشور اور ادیب کا سوانگ مکمل پایا۔ مقررہ وقت سے آدھ گھنٹے بعد پہنچا اور باہر سے اندر نگاہ دوڑائی تو دیکھا کہ ٹی ہاؤس میں نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کی تسلّی بخش تعداد موجود تھی۔ ادب اور فنون لطیفہ سے نئی نسل کی رغبت اور دلچسپی پر دل نہال ہو گیا۔ اندر داخل ہوا تو بچوں کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے چاروں جانب قائدانہ انداز میں ہاتھ ہلایا۔ جوابی طور پر تہنیتی مسکراہٹوں کا تبادلہ کرنے والوں میں غالب اکثریت ویٹروں کی تھی۔

مجھے اپنے ادبی مقام اور ظاہری شخصیت کے مطابق مائیک کے عین سامنے اگلی نشست پر بٹھایا گیا۔ بعد ازاں جب باتھ روم جانے کے لئے اٹھا تو ایک ویٹر کو دوسرے سے کہتے سنا، “میڈم نے کہا تھا کہ ان انکل کو اگلی کرسیوں پر بٹھانا ہے۔ ان کی عمر ایسی ہے کہ پچھلی نشستوں سے آگے آتے ہوئے کہیں ٹھوکر لگ گئی تو مفت میں مصیبت گلے پڑ جائے گی۔ اس عمر میں ہڈی وغیرہ بھی تو نہیں جڑتی !” واپسی پر اپنی کرسی کی جانب جا رہا تھا کہ ایک جانب بیٹھی ایک ادھیڑ عمر خاتون بولیں، “انکل، ذرا اے سی تو تیز کروا دیں۔ بہت گرمی ہو رہی ہے۔ ” ویٹروں تک تو خیر رہی، تقریباً سارے ہی کم عمر تھے۔ میں کچھ کہنے کو رکا لیکن پھر چل دیا۔ بینائی کا مسئلہ ہو گا بیچاری کو۔ ۔ ۔ حراّفہ !

ہال میں چاروں جانب بیٹھے ناظرین شامعین اور شائقین کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ ایک جوش و ولولہ تھا جو ہال میں پھیلا تھا۔ ابھی پروگرام شائد شروع نہیں ہوا تھا اس لئے تمام لوگ اپنی اپنی چائے کافی میں مصروف تھے۔ اس محفل میں اپنی شرکت کی یادیں محفوظ کرنے کے لئے اکثر لو گ سیلفیاں بنارہے تھے۔ چونکہ سٹیج خالی تھا اس لئے فی الحال سیلفیوں کا محور سامنے پڑی پیسٹریاں اور کیک وغیرہ تھے۔ میں نے اگلی نشستوں پر دائیں بائیں دیکھا تو اپنے چند دوستوں کے علاوہ کوئی جمِّ غفیر دکھائی نہ دیا۔ لیکن جلد ہی ہجوم بڑھنے لگا۔ دلچسپ امر یہ تھا کہ اکثر نوجوان فنکاروں کے ساتھ ان کے نصف درجن ساتھی بھی پہنچے۔ ایسا ہی ایک نوجوان فنکار اپنے ساتھ اپنے ذاتی شائقین لایا تھا۔ اس کی میز سے یہ جملہ سنائی دیا، “دیکھ بھائی، اپنے گانے سے پہلے ہی آرڈر کر دینا۔ بعد میں کیا پتہ تیرا موڈ کیسا ہو ؟”۔ خیر محفل شروع ہونے تک ہال کی تقریباً تمام ہی نشستیں بھری دکھائی دیں۔

چونکہ اوپن ماؤتھ، اوہ میرا مطلب ہے اوپن مائیک شام تھی اس لئے گائیکی، موسیقی اور دیگر فنون لطیفہ کا مظاہرہ کرنے والے مختلف اقسام کے لوگ موجود تھے۔ ایک دو تو بہت اچھے تھے اور اور جی چاہتا تھا کہ بیٹھے رہیں اور انہیں سنتے رہیں۔ کچھ درمیانے درجے کے تھے۔ کچھ کو سن کر صاف ظاہر ہوا کہ شعبے میں نوارد ہیں اور شوقیہ فنکار ہیں۔ زیادہ تعداد ایسوں کی تھی کہ جن سے ہاتھ جوڑ کر معافی کا خواستگار ہونے کا جی چاہنے لگا۔

ابتدا میں کچھ پرانے فنکاروں کو دعوت دی گئی تاکہ عوام الناس میں فوراً ہی بھگدڑ نہ مچنے پائے۔ نجانے کیوں ایسا لگا کہ پروگرام کا یہ حصّہ ایسا ہی تھا جیسے نرس بچے کو ٹیکہ لگانے سے پہلے کھڑکی میں غیرموجود چڑیا دیکھنے کو کہتی ہے۔ میرے حلقہ احباب میں دو خواتین نے گیت پیش کئے۔ ایک خاتون اور ایک صاحب نے شاعری۔ نوجوان موسیقاروں کی ایک جوڑی نے سارنگی اور طبلے پر سر بکھیرے۔ گائیکی اور موسیقی سے دلی شغف رکھنے اورخداداد صلاحیت کی بنا پر حسبِ توقع اچھا گایا اور اچھا بجایا۔

پھرشوقیہ فنکاروں کی باری آئی۔ کچھ نوجوانوں کے فنّی محاسن ایسے تھے کہ جی چاہا انہیں اپنی تعلیم پر پر توجہ مرکوز رکھنے کا مشورہ دوں۔ لیکن ان میں اکثر کے ساتھ آئے ذاتی شائقین اپنے دوستوں کی حوصلہ افزائی میں اس قدر جذباتی تھے کہ نہ صرف سٹیج پر ان کی آمد اور روانگی پر جوش و خروش سے تالیاں بجاتے بلکہ ان کے فن کے مظاہرے کے دوران بھی نعرہ زن رہے۔ دیگر حاضرین کو کچھ سنائی نہ دیا۔ ایسے فنکار اپنی مظاہرے کے بعد جیسے یہ اپنے دوستوں کے درمیان واپس پہنچتے تو سارا گروہ کرسیاں پیچھے دھکیلتا ٹی ہاؤس سے روانہ ہو جاتا۔ کچھ دوست جن کی باری ابھی نہ آئی تھی وہ زِچ ہوئے۔ ایک خاتون نے ان کے پیچھے پکارا، “ارے، ایسے کیسے؟ خود تو سنا گئے ہو، اب ہمارا بھی سن کر جاؤ!”

اب ایک اور خاتون مائیک پر آئیں۔ گیت شروع کیا تو سماں باندھ دیا۔ جانو، جیسے کائنات بھی ان کے سروں میں مخمور ہونے لگی۔ باہر سڑک پر چند کتّوں کے رونے کی آواز بلند ہوئی۔ بجلی کی تار پر بیٹھا ایک کوّا کائیں کائیں کرتا اڑ گیا۔ میں نے اپنے سامنے پڑی تپائی پر سے ایک ٹِشو پیپر اٹھایا اس کی دو گولیاں بنائیں اور دھیرے سے دونوں کانوں میں ٹھونس لیں۔ ارد گرد نگاہ دوڑائی تو سامعین میں بہت سے لوگ انہماک سے ہاتھ چہرے سے ٹکائے علامہ اقبال کے پوز میں بیٹھے تھے۔ ایک انگلی ٹھوڑی پر رکھے اور دوسری کان میں ٹھونسے۔ خاتون نے گیت ختم کیا تو حاضرین نے تشکرانہ داد و تحسین سے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ کاؤنٹر کے عقب سے ملک شیک بنانے والے گرائنڈر کی “گھریں گھریں!!!” کی آواز بلند ہوئی۔ ایک جانب کھڑے ویٹر نے اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھا۔

اچانک میزبان خاتون نے ایک عظیم دانشور اور نامور لکھاری کا تعارف کرایا۔ میں نے چاروں جانب نگاہ دوڑائی کہ یہ موصوف کون ہیں۔ پھر احساس ہوا کہ محترمہ میری جانب دیکھ کر مسکرا رہی ہیں۔ میں متانت سے اٹھا اور مائیک کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ گلا صاف کیا تو ہال کے عقب سے ایک قہقہہ سنائی دیا۔ بدتمیز شخص! کیا سمجھا کہ میں جانوروں کی نقّالی کرنے کا مظاہرہ کرنے لگا ہوں؟ خیر اپنا مضمون شروع کیا۔ تقریباً سارے ہی ویٹر متوجہ ہوئے۔ لیکن چند ہی لمحوں میں معلوم ہو گیاکہ ملکی فلمی صنعت کے عروج و زوال کے موضوع پر میرا مضمون اپنی فکری رفعتوں کی بنا پر سامعین کی عقل و دانش سے کہیں بلند ترہے۔ مضمون میں ایک کلاسیکل پاکستانی فلم کا ایک منظر بیان کر رہا تھا، جس میں ڈاکٹر ایک شوہر کو اس کی بیوی کی موت کی اطلا ع دیتا ہے۔ ۔ ۔ کیمرہ ہیرو کے رنج و اندوہ سے شکستہ چہرے کے قریب جاتا ہے اور ہیرو دکھ سے لبریز بھرّائی آواز میں ڈئیلاگ ادا کرتا ہے۔ ۔ ۔ یکایک ٹی ہاؤس کے ایک کونے سے آواز آئی، “نہ کر یار؟ یہ تو پھر یس ہو گیا کہ!” میں نے اپنا مضمون لپیٹنے میں عافیت جانی۔ لیکن انتقامی کارروائی کے طور پر سٹیج سے اترنے سے پہلے میں نے اعلان کیا، “لیڈیز اینڈ جنٹلمین، اب میں آ پ کو کمِ کارڈیشئن اور کائیلی جینرکی چند تصاویر پروجیکٹر پر دکھاؤں گا” ہال میں یکلخت سناٹا چھا گیا۔ ایک ہی لمحے میں درجنوں کان اور آنکھیں مجھ پر مرکوز ہو گئیں۔ ایک نوجوان اپنی پیالی میں کافی انڈیل رہا تھا۔ پیالی بھر گئی اور کافی میز پوش پر گرنے لگی۔ ایک خاتون آئس کریم کا سکوُپ اپنے ہونٹوں کی نذر کرنے لگی تھی کہ یکایک ٹھٹھک گئیں۔ ایک لمحے بعد آئس کریم کاسکوُپ ان کی گود میں جا گرا۔ میں نے کہا، “اوہ معذرت چاہتا ہوں۔ یہ تصاویر ایک اور تقریب کے لئے ہیں۔” یہ کہہ کر میں حاضرین کی خشمگین نگاہوں سے نظریں چراتے ہوئے اپنی نشست پر آن بیٹھا۔

اس کے بعد ایک صاحب کو دعوت دی گئی۔ نام بھولتا ہوں لیکن نام کے ساتھ سابق عسکری قسم کا لاحقہ منسلک تھا۔ سینہ تان کر مائیک کے سامنے آن کھڑے ہوئے۔ دیکھا کہ ہال میں کسی نے سلیوٹ مارتے ہوئے “یس سار!!!” نہ بولا تو گیت گانے لگے۔ قربانی کے لئے جس گیت کا چناؤ کیا وہ تھا، “آج جانے کی ضد نہ کرو!” پہلے ہی بند میں کھانسی کا دورہ پڑا تو سینے کو مٹھی سے پیٹنے لگے جیسے پسلیاں توڑ کر ہی راگ باہر کھینچ لیں گے۔ ایک ویٹر پانی کا گلاس لئے آگے لپکا۔ میزبان خاتون نے اپنے فون پر فوراً 1122 ڈائل کرنے کا قصد کیا۔ آخری مکّے پر یکایک ہال میں “پھُش!!!” کی زوردار آواز بلند ہوئی۔ معلوم نہیں آواز کا منبع موصوف کی چھاتی تھی یا ٹی ہاؤس کی کافی مشین۔ لیکن بہرکیف صاحب کی جنگجوانہ فطرت غالب اور طبیعت بحال رہی اور وہ پھر سے گانے لگے۔ جی چاہا کہ انہیں کہوں کہ آئندہ “اب تو جانے کی فکر کرو!” گایا کریں۔ خیر رہی موصوف اپنا گیت ختم کر کے واپس بخیر و عافیت اپنی کرسی پر جا بیٹھے۔ ہال میں پھیلی سراسیمگی میں قدرے کمی آئی۔

معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے میزبان خاتون نے فوراً سارنگی اور طبلہ نوا ز دوستوں کو دوبارہ دعوت دی۔ حاضرین پھر سے کھانے پینے میں مشغول ہوئے۔ اس دوران کچھ نوجوانوں نے اپنی فنی صلاحیتوں کے مظاہرے کی اجازت کا مطالبہ کیا۔ میزبان خاتون اب تک حالات کی سنگینی جان چکی تھیں اس لئے ان سب کو مفت ایک ایک لاٹے اور ایک ایک لیمن ٹارٹ کا جھانسا دیا تو وہ سب بخوشی خاموش بیٹھ گئے۔

آتے ہوئے میں نے میز ان خاتون کو مشورہ دیا کہ ایسی تقریب کا نام “اوپن مائیک” کے بجائے “اوپن ماؤتھ ” زیادہ مناسب رہے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: