عمران خان اور کِسان —– محمد عنصر عثمانی

0
  • 30
    Shares

ملک میں گیارویں الیکشن کا مرحلہ مکمل ہوچکا۔حالات سازگار نہ تھے۔خدشوں، وسوسوں، مشکلات، رکاوٹوں اوربے یقینی کی فضا بن گئی تھی کہ جس سے الیکشن کا ہونا ممکن نہیں لگ رہاتھا۔ملک ہر طرف سے اندیشوں کی زد میں آچکا تھا۔یہ تاثر مل رہا تھا کہ انتخابات بروقت، پر امن نہیں ہوں گے۔دہشت گردی کے واقعات نے بروقت انتخابات نہ ہونے کی نوید سنا دی تھی۔عالمی سیاسی کھلاڑیوں نے بھی ناخوش گوار ارادوں، عزائم کا اظہار کیا۔اس بار بھی الیکشن کو غیر معینہ مدت تک التوا کا شکار کرکے عبوری بندوبست کو طول دینے کی کوششیں کی جانے لگیں۔ ایسے میں قوم بد امنی اور دہشت گردی سے سخت نبرد آزما ہوئی۔عوام نے 25جولائی کو ملک دشمن عناصر کو مسترد کیا۔جمہوری استحکام پر یقین کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکلی۔اور ’’خونی الیکشن‘‘ کا شوشہ پسِ پشت ڈال کر اپنا قومی فریضہ اد اکیا۔ ووٹ دیا جس سے جمہوری عمل سے انتقال اقتدار کا راستہ ہم آہنگ ہو ا۔اس الیکشن کے نتیجہ میںمرکز، صوبہ پنجاب، اورخیبرپختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف حکومت بنانے کی پوزیشن میں آچکی ہے۔ملک کے یقینی وزیراعظم چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا قوم سے پہلا پالیسی خطاب بھی عوام میں بہت مقبول ہوچکا ہے۔

سوشل میڈیا پہ اس بیان سے متعلق بھری ستائشی پوسٹس نظر سے گزریں۔مختلف نظریات اور سوچ کے حاملین کی تحریروں کو پڑھا۔ لکھت سے انسان کی سوچ و نظریات کا پتا چلتا ہے کہ وہ کیا نظریہ رکھتا ہے۔جس طرح کا پروپگینڈہ الیکشن سے قبل عمران خان کے خلاف کیا جا رہا تھا، تقریر کے بعد وہ آگ ٹھنڈی پڑتی دکھائی دی۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ پہلی دفعہ کسی سیاسی لیڈر نے وعدے نہیں عزائم کا اظہار کیا ہے۔ وعدوں کا بھروسہ نہیں ہوتا ہے، وعدوں کا پاس آج تک کسی سیاست دان نے نہیںرکھا۔جو بھی اقتدار کی کرسی پر جمتا، وہ سحر میں گرفتار ہو کر وعدوں کو بھول جاتا۔لیکن اس بار کسی بھی وعدے کی بات کاسایاکم ہی نظر نہیں آیا۔ملک کے لئے جن ارادوں کا اظہار کیا گیا، یقینی تو نہیں مگر متوقع ضرو ر ہیں کہ وہ پورے ہوں گے۔اس بارووٹنگ کا ٹرن اوٹ بھی بتاتا ہے کہ ووٹنگ ہوئی ہے، نوجوان نکلے ہیں، انہوں نے باریاں لینے والوں کو اس بار یکسر مسترد کیا۔ الیکشن میں دھاندلی ہوئی یا نہیں، اس بارے عوامی و عالمی رائے متضاد ہیں۔ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ عوام نے اپنا پسندیدہ لیڈر چنا۔ کیوں کہ عوام چاہتی ہے کہ ملک کی حالت سدھارنے کا موقع اس بار انہیں ملنا چاہیے۔ عمران خان جس تیزی سے پاکستان کو توانائی مہیا کرنا چاہتے ہیں، نوجوانوں کو جوان نیا پاکستان دیکھانا چاہتے ہیں، اس کے لئے انہیں کڑی محنت کی ضرورت ہے۔

اگر نیک نیتی، ملک کادرد رکھنے، عوام کو خوش حال کرنے اور غریب کے دکھوں کا مداوا کرنے کی بات کی جائے تو یہ پہلی حکومت ہو گی جو عملی طور پہ عوامی بنے گی۔ملک میں غریب کے اتنے مسائل ہیں کہ اگر وہ حل کرلیے جائیں تو ملک اپنے پاؤں پہ کھڑا ہو کر خود انحصاری کا چولا پہن سکتا ہے۔ پھر ملک کو مقروضی پیوند کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ حکومت کو بڑی دانش مندی سے چلنا ہوگا۔اس بار عوام کے اعتماد کا بوجھ اس کے کاندھوں پہ ہے۔ پہلے کی حکومتیں ووٹ سے اقتدار میں آتی رہی ہیں، اس بار پاکستان تحریک انصاف کو عوام نے ووٹ ہی نہیں دیا بل کہ ان پہ اعتماد کیا ہے، اور اعتماد کا وزن بہت بھاری ہوتا ہے۔عام آدمی جن مسائل کا شکار ہے اس سے عمران خان صاحب باخوبی واقف ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ان کے گلے میں شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال کا میڈل ہے، جو کہ عام آدمی کو بہترین اعلیٰ معیار کا علاج و معالجہ مفت فراہم کرتا ہے۔ اب کی بار منصب بڑا ہے، تو ذمہ داری کی انجام دہی بھی خوب ہونی چاہیے۔اس بار کام کی نوعیت شوکت خانم سے مختلف ہوگی۔عمران خان صاحب اگر اس میں سرخرو ہوتے ہیں تو آئندہ کی نسلوں پہ ان کا احسان عظیم ہوگا۔ ملک میں اس وقت بڑے مسلوں میں ایک بے روزگاری ہے۔ ملک کا نوجوان بے کار ہو رہا ہے۔ٹیلنٹ کی بے تحاشا ناقدری کی وجہ سے ملک کو نوجوانوں کاتازہ خون نہیں مل رہا، جس کی وجہ سے ایک طرف تو ملک معاشی، معاشرتی گراوٹ کا شکار ہے، تو دوسری طرف ہم ایسے باصلاحیت نوجوانوں سے محروم ہو رہے ہیں جو ملکی ترقی میں قابل افضا اضافہ ثابت ہو سکتے ہیں، وہی نوجوان باہر ملکوں میں اپنا ہنر، صلاحیت بہتر روزگار کے حصول کے لیے کھپا دیتے ہیں۔

ملک پہ قرضوں کا اژدھا بیٹھا ہو اہے۔ ان قرضوں اتارنے کے جو وعدے کیے گئے ہیں، اس میں بہت وقت و قوت درکار ہے، لہذا ایسے کام میں وقت کا اصراف کرنے سے بہتر ہے کہ اس کے متبادل سے زیادہ معاشی فوائد حاصل کیے جائیں، کیوں کہ متبادل کی تلاش بعید نہیں۔عمران خان صاحب غریب کسانوں کو ریلیف دیں اور انہیںبہتر سہولیات فراہم کریں۔ان کے لیے ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جن سے کسان کو براہ راست فائدہ پہنچے۔ہمیں یہی کسان 40 فیصد قرضوں سے نکال کر لے آئے گا۔ ملک میں ذراعت کے شعبے سے جوپچھلی حکومتوںنے زیادتیاں کیں، وہ اب قابل متروک سمجھی جائیں۔ نواز حکومت نے خوش حال کسان کا نعرہ تو لگایا تھا، مگر افسوس کہ پنجاب کے کسان کو سود کی لعنت میں غرق کردیا گیا، جس چیز سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ ولیہ وسلم نے معیشت کی بربادی کی جڑ کہا اسے کسان کو خوش حال بنانے کا نسخہ اکسیر سمجھ لیا گیا۔ پنجاب کا عام کسان جس کی ایک دوایکڑ زمین ہے وہ بھی بنک کا مقروض ہے۔سود کی لعنت میں پھنس کر ملکی معیشت کی کامیابی کے خواب نہ دیکھے جائیں، بل کہ ترجیحی بنیادوں پر پہلی فرست میں صوبہ پنجاب سے سودی لین دین کا خاتمہ کر کے کسانوں کو قرضہ حسنہ دیا جائے۔ قرض حسنہ کا بدلہ جنت ہے، پھر یہی کسان ملک کی معیشت کا پہیہ چلائے گا۔سود کی لعنت سے جان چھڑائے بغیر ملک کو خوش حالی نہیں دی جاسکتی۔کسانوں کے لئے بنائی جانے والی پالیسیاں ایسی ہوں جن کا معاشی فائدہ عام کسان کے گھر پہنچے نہ کہ اس سے سرمایہ دار کی جیب بھاری ہو۔عمران خان کے کرنے یہی کام ہیں کہ وہ اپنی توانائی کاموں میں خرچ کریں، اور ملک کو خود انحصاری کے پاؤں پہ کھڑا کریں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: