فارس مغل کا خونِ دل سے لکھا ناول ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

0
  • 5
    Shares

فارس مغل کوئٹہ بلوچستان میں پیدا ہوئے۔ جامعہ بلوچستان سے شعبہ سماجی بہبود میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ کچھ عرصہ ریڈیو ایف ایم 101 سے وابستہ رہنے کے بعد درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہوگئے۔ بطور افسانہ نگار ان کے افسانے پاک و ہند کے مختلف ادبی رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ بطور ناول نگار دو ہزار بارہ میں ان کا پہلا ناول ’’ہمجان‘‘ منظرِ عام پر آیا۔ ان کی نظموں پر مشتمل شعری مجموعہ ’’سرخ ہونٹوں کی کُنج گلی میں‘‘ شائع ہو چکا ہے۔ حال ہی میں ان کا دوسرا ناول ’’سو سال وفا‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ اسے بلوچستان کے منفرد افسانہ اور ناول نگار آغا گل نے ایک دلیرانہ ناول قرار دیا ہے۔ جب کہ میں اسے خونِ دل سے لکھا ناول سمجھتا ہوں۔

اپنے تعارف میں آغا گل کا کہنا ہے کہ ’’فارس مغل‘‘ ہمارا ابھرتا ہوا تخلیق کار ہے۔ ٹالسٹائی نے کہا تھا کہ روس کے سارے ادیب نکولائی گوگول کے’’ اوور کوٹ‘‘ سے نکلے ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ بلوچستان کے نوجوان ناول نگاروں پر میرے ناول ’’دشتِ وفا‘‘ کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ سو سال وفا ایک خاص انداز ’’ڈاڈا ازم‘‘ میں لکھا گیا ہے۔ انیس سو اکسٹھ میں چلنے والی یہ تحریک استجابی ہے۔ عالمی حالات سے برگشتگی، بوریت، انفرادی خود نمائی اور خود اشتہاری سے پیدا ہوئی۔ اسے تجریدیت کا سائن بورڈ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ تحریک کا مقصد روایت شکنی اور ریاستی جبر کے خلاف بیزاری کا اظہار گویا باغیانہ تحریک سے توڑنا ہے۔ ناول ’سوسال وفا‘ کے بیانیہ میں ڈائری کا التزام رکھا گیا ہے۔ یہ انداز سترہویں صدی سے ہی مقبول ہوتا چلا گیا۔ فارس مغل زمینی حقائق کو فینٹسی اور امیجینیشن کے ساتھ باہم ملا کر لکھتا ہے۔ تلخ حقائق کو قدرے شوگر کوٹڈ کر دیتا ہے۔ ناول کے اندر بلوچستان کی تاریخ، ثقافت، معاشیات، سیاسیات اور رحجانات یوں ملتے ہیں کہ پورا بلوچستان بولنے لگتا ہے۔ اس ناول میں مسخ شدہ لاشوں، گمشدہ بلوچوں، گولیوں کا نشانہ بننے والے آبادکاروں کی تصویریں ملتی ہیں۔ ویمن یونیورسٹی میں زندہ جل جانے والی طلباء کا ذکر ملتا ہے۔ یہ ناول بھری تاریخ ہے۔ عطا شاد کی گہری رومانیت بھی فارس کی نثر میں دکھائی دیتی ہے۔ ناول کے اکثر فقرے اس قدرپُر اثر ہیں کہ تحریر کے بعض حصوں پرنثری نظم کا گمان ہوتا ہے۔ میٹھی کومل زبان جو ایک نابینا لڑکی کا دکھ بھی سموئے ہوئے ہے۔ یہ ایک بڑا ناول ہے جسے لکھنے کے لیے علمیت اور تپسیا کے علاوہ فارس مغل نے تحریر میں خونِ جگر بھی شامل کیا ہے۔‘‘

فارس مغل ناول میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں کوشاں ہیں کہ جو بلوچ پیاس کے وقت ایک پیالہ پانی پلانے والے سے سو سال وفا کرتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں بندوق کس نے تھمائی۔

’’سو سال وفا‘‘ ایک محب وطن بلوچی کی اپنی قوم اور ملک دونوں سے وفا کا قصہ ہے۔ ہمارا پیارا وطن جس میں اشرافیہ نے ہمیشہ عام لوگوں کو غلام ہی سمجھا اور ان سے غلاموں جیسا ہی سلوک کیا گیا۔ رقبے کے اعتبار سے ہمارا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان معدنیات کی دولت سے مالا مال اور بلوچ قوم اپنے ہزاروں سال قدیم اور شاندار کلچر اور روایات کی حامل ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہمیشہ ایک نوآبادی جیسا رویہ ہی رکھا گیا۔ فارس مغل ناول میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں کوشاں ہیں کہ جو بلوچ پیاس کے وقت ایک پیالہ پانی پلانے والے سے سو سال وفا کرتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں بندوق کس نے تھمائی۔ بے مثال تحریر میں ناصرف بلوچستان کامسئلہ بخوبی اجاگر کیا گیا ہے بلکہ مصنف نے اس کا حل بھی پیش کیا ہے۔ انہوں نے مقامی اور غیرمقامی کی تفریق مٹانے کی مثبت کوشش کی ہے۔ جس کے لیے کسی کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا بلکہ ہرایک کی غلطی واضح کرتے ہوئے اس کے تدارک کا الم اٹھایا ہے۔

ناول کا نام بلوچستان کے نامور اردو شاعر عطا شاد کی چند خوبصورت لائنوں سے لیا گیا ہے۔ جس میں عطا شاد کہتے ہیں کہ ’’میری زمیں پر اک کٹورے پانی کی قیمت سو سال وفا ہے آؤ ہم بھی پیاس بجھائیں اور زندگیوں کا سودا کر لیں۔‘‘

سو سال وفا میں انوکھی محبت کی دھیمی دھیمی آنچ بھی ہے۔ بلوچستان کی سیاسی صورتحال اور اس کا دیگر صوبوں سے موازنہ بھی۔ ایک عام پڑھے لکھے بلوچ نوجوان کے ذہن میں پلتے سوال اور ان کے جواب بھی موجود ہیں۔ ناول کے ہیرو اور اس کی نابینا پنجابی دوشیزہ کے نام داستان اور فاتحہ بھی علامتی نظر آتے ہیں۔ یہ نام بذات خود ایک پیغام دیتے ہیں۔ کتاب کا قدرے طویل اور دل سوز انتساب موضوع سے قاری کو آگاہ کر دیتا ہے۔

’’ریل گاڑی کی آخری المناک سیٹی کے نام‘‘۔ جس کی گونج ابھی تک مہردر کے سینے پرسَر پھوڑتی ہے۔ ہجرتوں کا عذاب کاندھوں پر اٹھائے۔ ان درختوں کے نام اپنی مٹی سے جنہیں جڑوں سمیت اُکھاڑ دیا گیا ہے۔ تاریک گوشے میں سمٹے ہوئے شہرِ جاناں کے نام جس کا امر حُسن بگڑا نہیں بگاڑا گیا ہے۔ بے کفن مسخ شدہ خوابوں کے نام جوزندگی کے تعاقب میں اک بند گلی میں گئے اور وہیں کھو گئے۔ چشم براہ ماؤں کے نام آج پھر جن کے تخیل میں لاپتہ بیٹے اُن سے لپٹ کے وہیں سو گئے۔ اُن شہداء کے نام جنہیں ابھی اور جینا تھا مگر ہوا میں گھلا زہر کھا گیا۔ مسند نشینوں کے نام جنہیں اور کچھ ہوا میں زہر گھولنے کا ہنر آ گیا۔ سہاگنوں کی زخمی آنکھوں کے نام جن سے رِستا ہوا اشک وقت کے ہونٹ پر بددُعا لکھ رہا ہے۔ مورخ کے بے ادب قلم کے نام جو عطا کی دھرتی پہ بیٹھا ہے اور اک لہو بھر پیالے کی قیمت سو سال وفا لکھ رہا ہے!‘‘

ایک کہانی نویس کو خضدار کے کباڑی کی بوری میں ٹھنسی ایک سرخ ڈائری ملی جس کے پچھلی طرف جمے خون کے نشانات سے اندازہ ہوتا کہ کسی نے اپنی لہولہان انگلیوں کی پوروں سے تھامنے کی کوشش کی ہے۔ سرسری نگاہ سے کسی سوختہ دل کے ایک ہی قلم سے شب و روز کی واقعات سامنے آتے ہیں۔ اس ڈائری میں بہت سے واقعات اور سانحات تاریخ اور وقت کے ساتھ انتہائی تفصیل سے درج تھے اسے لکھنے والا کوئی صحافی تھا۔ جسے کہانی نویس نے ناول کی شکل میں پیش کر دیا۔ ان ابتدائی تفاصیل سے ہی ناول قاری کی مکمل توجہ حاصل کر لیتا ہے۔ جسے ڈائری کی شکل میں لکھا گیا ہے۔

فارس مغل کی کردار نگاری لا جواب ہے۔ یوں تو ناول میں بہت سے کردار ہیں۔ لیکن مرکزی کردار پانچ ہیں۔ جن کی گرد تمام تانا بانا بنا گیا ہے۔ داستان، نابینا فاتحہ، داستان کااستاد واجہ منصور، اس کا دوست حافظ اور ایک اہم ترین کردار بیلا کا ہے۔ ان کے ساتھ، شمسہ، یوسف ماما در بدر کے ذیلی کردار ہیں۔ جو وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔ داستان ایک لا اُبالی نوجوان ہے۔ جو اپنی پرکشش اور سحر انگیز شخصیت کی وجہ سے کالج اور یونیورسٹی میں لڑکیوں کا مرکزِ نگاہ رہا اور فلرٹ بھی کرتا رہا۔ لیکن جب اس کا تعارف نابینا فاتحہ سے ہوا۔ تو وہ پہلی ہی نظر میں اس کا اسیر ہو گیا۔ فاتحہ کی منگنی اپنے خاندان ہی میں ہو چکی ہے۔ لیکن داستان کی بے لوث محبت اسے بھی پیار کی ڈور میں جکڑ دیتی ہے۔ یہ انوکھی لو اسٹوری ہے۔ جس میں دونوں محبت کرنے والے پورے ناول میں چند ملاقاتوں اور فون کالز کے سوا کچھ زیادہ وقت ساتھ نہیں گزارتے۔ ہر مرتبہ جب ان کا پیار ملن کے قریب پہنچتا ہے تبھی داستان کسی نئی افتاد میں گرفتار ہو جاتا ہے لیکن ان کی محبت تمام تر رکاوٹوں کے باوجود قائم و دائم رہتی ہے۔ سو سال وفا میں بلوچ رومانی کردار مست توکلی اور سمل کی کہانی ٹکڑوں میں پیش کر کے ناول کو آگے بڑھانے میں بہت خوبصورتی سے استعمال کیا گیا ہے۔

داستان نے بچپن سے باغیانہ طبیعت پائی تھی۔ گھر کا ماحول بلوچ روایات کا پاسدار، قدامت پسند اور مذہبی تھا۔ مطالعہ کے شوق نے بہت سے مصنفین کے افکار و نظریات کا حامل بنا دیا۔ اچھی تصانیف پر گفتگو اس کی عادت بن گئی۔ انقلاب پر مبنی فلمیں دیکھنے کا اسے جنون تھا۔ علمیت سے بھرپور اس کی شخصیت ساتھیوں کے لیے پرکشش بن گئی۔ پھولوں کی ایک نمائش میں داستان کی دوست شمسہ نے اسے فاتحہ چوہدری سے ملوایا۔ جس نے نیرہ نور کی گایا فیض احمد فیض کا کلام ہم کے ٹھہرے اجنبی کتنی مداراتوں کے بعد سنا کر حاضرین پر سحر طاری کر دیا لیکن یہ جان کر داستان دکھ میں ڈوب گیا کہ فاتحہ نابینا تھی۔ داستان نے پھولوں کی نمائش کا سارا احوال دوست کی دی ہوئی سرخ ڈائری میں لکھ ڈالا۔ دو روز میں اسے فاتحہ سے شدید محبت کا احساس ہوا تو شمسہ سے فون پر اپنے جذبات کا اظہار کر دیا اور جلد از جلد دوبارہ ملاقات کا اصرار کرنے لگا لیکن ملاقات پر فاتحہ نے کزن سے رشتہ طے ہونے کا بتا کر داستان کا دل توڑ دیا۔

یہ منفرد پریم کہانی سو سال وفا کا صرف ایک پہلو ہے۔ ناول کے اور بہت سے شیڈز ہیں۔ تنظمی ساتھی یوسف سے بحث میں داستان کہتا ہے کہ ہمارے دلیر، غیور، مہمان نواز آباء کی سرزمین جہاں ایک پیالہ پانی کے بدلے ہم سو سال وفا کرتے ہیں۔ اسی دھرتی پر جب ایک نہتی پنجابی نابینا لڑکی مجھ سے کہتی ہے اسے مجھ سے خوف آتا ہے اسے میر نصیر خان کے وارثوں سے خوف آتا ہے۔ تو میں شرمسار ہو جاتا ہوں۔ یہیں فارس مغل بتاتے ہیں کہ ’’بلوچستان میں تین قسم کی ذہنیت کے بلوچ بستے ہیں۔ ایک وہ جوبلوچستان کی پسماندگی کا ذمہ دار پنجابی اسٹیبلشمنٹ کو سمجھتی ہے۔ دوسرے وہ جو پنجابی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے سرداروں، نوابوں اور صوبے کے کرپٹ سیاستدانوں کو بھی موردِ الزام قرار دیتے ہیں۔ اول الذکر لوگ بلوچستان کو اسلام آباد سے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ بندوق اٹھا کر آزادی کی تلاش میں پہاڑوں پر چڑھ گئے۔ موخرالذکر لوگ وفاق میں رہتے ہوئے صوبائی خود مختاری کے حامی ہیں۔ یہ افراد سیاسی، سماجی پلیٹ فارموں پر آزادی اظہار کے ذریعے وفاق کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ لڑائی سیاسی سے زیادہ معاشی ہے۔ بلوچستان کے معدنی ذخائر اور محل وقوع عالمی طاقتوں کی نگاہ میں کھٹک رہے ہیں۔ تیسرے وہ افراد ہیں جو اپنے آباء و اجداد کی زمین پر قدیم رسم و رواج کو گلے لگائے چپ چاپ زندگی بسر کر رہے ہیں۔‘‘

واجہ منصور ناول کا مضبوط ترین کردار ہے۔ واجہ، داستان کااستاد ہے۔ لیکن ان کاتعلق استاد شاگرد سے کہیں بڑھ کر ہے۔ واجہ اسٹوڈنٹس ونگ کا صدر تھا۔ وہ ریاست کے مقابل لڑتا رہا۔ جوانی کے پانچ سال پہاڑوں پر گوریلا جنگ میں گزارے۔ جب سمجھ آئی تو اس نے ریاست کو گالی دینا چھوڑ دیا۔ چاہتا تو یونیورسٹی میں لیکچرر بن جاتا۔ مگراس نے اسکول کا معلم بننا پسند کیا تا کہ ننھے پودوں کا آبیاری کا مشن سنبھال سکے۔ واجہ، داستان سے کہتا ہے کہ پچیس سال قبل اپنے غصے پر قابو نہ پاتا تو کسی وردی والے کومار کر خود بھی مرکھپ چکا ہوتا۔ لیکن اب میری میت اس شان سے اٹھے گی کہ لوگ کہیں گے کہ ایک معلم کی سواری آئی ہے۔

واجہ منصورکس طرح اپنے شاگردوں اورقریبی افراد کوعدم تشدد کا درس دیکر ریاست کے خلاف بیانیہ کا شکار ہونے سے بچاتا ہے۔ وہ ناول کا بہترین پہلو ہے اوربعض جگہ اس کی طویل گفتگو قاری کوبیزار کرنے کے بجائے مسئلے اور اس کے حل سے آگاہ کرتی ہے اور دلچسپی کو برقرار رکھتی ہے۔ لاپتہ افراد، بلوچستان میں دہشت گردوں کے حملے، ریاست اور غیردوستانہ رویہ کوئی بات اسے اپنے مقاصدسے دور نہیں کرتی اور وہ ایک حقیقت پسندمصلح کے روپ میں سامنے آتا ہے۔ ایسے ہی اچھے کردار کے حامل افراد عام بلوچ شہریوں کو ریاست کیخلاف کھڑے ہونے سے روکے ہوئے ہیں۔ جن کی ہرصورت حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔

واجہ کے قتل کے بعد داستان نے اس کی اکیڈمی کو سنبھالا۔ وہ بخوبی جانتاہے کہ ’’چین کے ساتھ اقتصادی معاہدوں کے بعدبلوچستان میں پہلے سے موجود احساسِ محرومی پر کس نے تیل چھڑکا اور کس نے آگ لگائی اور پھر ساٹھ سالوں کی پسماندگی سے اٹھتے ہوئے شعلوں میں سیاسی وعدے اور طفل تسلیاں راکھ بن کر وفاقی ایوانوں پراُڑنے لگیں۔ سرداری اثر و رسوخ کو بڑھاوا دیتی سرکاری پالیسیوں میں زبان بندی جسے امن پسندی سے تعبیر کیا جاتا بالآخر باغی آوازیں زنجیریں توڑ کرپہاڑوں پر چڑھ گئیں۔ ریاست جنہیں ساٹھ سالوں میں اپنا نہ سمجھ سکی اغیار نے انہیں ساٹھ دنوں میں اپنا بنا کر ریاست کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگا دیا۔ دیر تو شائد اب بھی نہیں ہوئی، محروم ِ محبت دکھیاروں کواسیرِ محبت بنایا جا سکتا ہے۔ زخموں پر نمک کی بجائے مرہم رکھا جا سکتا ہے۔ سرداروں کی خوشنودی کی بجائے عوام کی بھلائی پر توجہ دی جا سکتی ہے۔ خالی ہاتھوں میں بندوق سے پہلے قلم تھمایا جا سکتا ہے۔ معدنیات سے مالا مال خطے کی قلیل آبادی میں روٹی کپڑا اورمکان کی وعدہ وفا ہو سکتا ہے۔ لوگ دور ضرور ہوئے ہیں لیکن شائد اب تک اتنی دیر نہیں ہوئی کہ فاصلے قربتوں میں نہ بدل سکیں۔‘‘

داستان کے ایک کالم کی بنیاد پر اسے اٹھا لیا گیا۔ وہ چند روز خفیہ اداروں کی تحویل میں رہا۔ جہاں اسے برف کی سل پر برہنہ کر کے لٹایا گیا۔ تشددکے بعد اسے فٹ پاتھ پر پھینک دیا گیا۔ جہاں سے اسپتال پہنچا دیا گیا۔ اس روز داستان کو چھبیس اگست دو ہزار چھ یاد آیا۔ جب نواب اکبر بگٹی کو مار دیا گیا تھا۔ واقعے کوبلوچستان کانائن الیون قرار دیا گیا۔ بلوچ قوم پرستوں کے جذبات آتش فشاں کی مانند پھٹ پڑے۔ اس کے بعد کابلوچستان آگ اور خون میں سلگتا، تڑپتا، بلکتا دکھائی دیا۔

ناول کااختتامی حصہ بہت دلچسپ اور چشم کشاہے۔ ڈائری کی مدد سے ناول تحریر کرنے والے کہانی نویس نے بڑی کوشش سے داستان کے جس دوست کوتلاش کیا تھا وہ دراصل داستان ہی تھا۔ جو مصنف کو بتاتا ہے کہ چہرہ جھلس جانے کے باوجود فاتحہ کے ساتھ اس کی شادی ہو گئی اور ان کا تین سال کا بیٹا بھی ہے۔ وہ دونوں بلوچستان کے دور دراز گاؤں میں جا کر واجہ علم کی شمع پھیلاتے ہیں۔ جس میں لوگ اور سردار بھی ان کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ یہ کہنا کہ تمام سردار علم کے خلاف ہیں۔ ایسا نہیں بلکہ ڈاکٹرز اور استاد دور دراز علاقوں میں آنا نہیں چاہتے۔ جس سے لوگوں کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ بیلا در اصل بھارتی ایجنٹ تھی جو کئی برس سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں یوسف جیسے افراد کی مدد سے تخریب کاری کرتی تھی۔ اسے داستان کی برین واشنگ کامشن سونپا گیا تھا لیکن وہ اس کے عشق میں گرفتار ہو گئی۔ اغوا کے بعد داستان کو بچاتے ہوئے بیلا اور یوسف ایک دوسرے کی گولیوں کاشکار ہو گئے۔

آخر میں ناول کے چند بے مثال اور لاجواب فقرے اور مختصر اقتباسات جن سے میرے تجزیے کی تائید ہوتی ہے۔

  • جس سماج میں تعصب کے چشموںکی فروخت عروج پر ہو، اس جگہ ذات برادری کی حدود سے باہر محبت کرنے والوں کے صرف جنازے نکلتے ہیں اور اس سمے دین، دھرم، کلمہ، قرآن کچھ یاد نہیں رہتا۔ رِیت رواج مقدم ٹھہرتے ہیں۔ پگڑیوں اور اونچے شملوں کے آگے خانہء خدا کے غلاف کی حُرمت ہیچ ہو جاتی ہے۔
  • عالمی منڈی میں مذہب کی قیمتیں عروج پر ہیں جبکہ لبرل ازم ارزاں نرخوں پر دستیاب ہے ہم سب جرائم پیشہ افراد ہیں۔ جو روزانہ بھیس بدل کر ایک دوسرے کے جرم سے کنی کتراتے گزر جاتے ہیں۔ من حیث القوم ہماری پہلی ترجیح دولت کمانا ہے۔
  • ہم مزدور پیشہ لوگ ہیں۔ آپ کے خادم ہیں۔ ہم وہاں دولت کمانے نہیں بلکہ آٹا کمانے آئے تھے تا کہ اپنا اور اپنے بھوکے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔
  • عام بلوچ ہو کہ پنجابی انہیں انتقامی کارروائیوں کانشانہ بنانا یا ان کی نعشوں پر سیاست کرنا کسی خباثت سے کم نہیں مگر گلہ اُن پنجابی شاعروں، دانشوروں، کالم نگاروں اور کہانی کاروں سے تو بنتاہے جو آج بلوچستان کو جلتا دیکھ رہے ہیں لیکن ان کے قلم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
  • مجھے کہنے والے کی بے بسی پرترس آتا ہے جو دراصل مسند نشین پنجابیوں سے نالاں ہے مگر ان کے عہدے اور ادارے کانام لینے سے ڈرتا ہے۔ چنانچہ پنجابی کابے دریغ استعمال کر کے اپنی بھڑاس نکالتا ہے جبکہ میری نظر میں اس ملک کے تمام مسندنشینوں کا قوم، قبیلہ اور فرقہ صرف اقتدار ہے۔
  • ادب کو دیکھ لو، دو چار گنے چنے شعراء وادباء کے علاوہ قومی افق پربلوچستان کے نمائندہ کون ہیں؟ بلوچی، براہوی پشتو میں عمدہ ادب تخلیق ہواہے لیکن انہیں قومی سطح پرکون جانتاہے؟ بلوچ وطن پر لکھے کتنے ناول منظرِ عام پر آئے ہیں؟ کتنا آرٹ تخلیق کیا گیا؟ اس جدید صدی میں جب ہر جانب الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے قومیں اپنی شناخت اور نظریات دنیا میں پھیلا رہی ہیں، ہم کہاں کھڑے ہیں؟
  • تعصب، نفرت اور جاہلیت کے پھندوں سے نکلے بغیرآزادی کا حصول ناممکن ہے۔
  • کیا ریاست کو برا بھلا کہنا، کسی سردار کا گریبان پکڑنے سے آسان نہیں؟ کیا ریاست کاجھنڈا جلانا، وڈیروں کے اناج بھرے گوداموں کے دہانے کھولنے سے سہل نہیں؟
  • اے مست! تو کس قدر گنہگار ٹھہرے گا اگر تیری تلوار سے کسی عاشق کا خون ہو گیا، پھر تمام عمر اس کی محبوبہ کی اپنی دل سوز بددعاؤں کے ساتھ تیرا تعاقب کرے گی۔
  • عدم برداشت انسان کی مہلک کمزوری ہے اور نا امیدی اس سے بھی خطرناک بیماری۔ حالات سے نتائج اخذ کرنا سیکھو، پسِ پردہ حقائق جاننے کی کوشش کرو۔ انتقام کی عینک پہنی ہو تو ہر چیز دھندلی دکھائی دیتی ہے۔
  • آزادی کی آرزو ہے توسب سے پہلے اپنے سامنے والے کی آزادی تسلیم کرو اگر سامنے والا تمہاری آزادی کوتسلیم نہیں کرتا تو ان محرکات پر غور و فکر کرو جس کی بنیاد پر وہ تمہیں کمزور تصور کرتا ہے۔ گریبان میں جھانک کر اپنا احتساب کرو۔
  • زندہ ہو تو زندہ نظر بھی آؤ۔ نفرت کی زبان سے محبت کی بولی بہت شیریں اور دلنشین ہے۔ نفرت نقصان کا دروازہ کھولتی ہے جبکہ محبت مسیحائی کا درس دیتی ہے۔
  • انسانوں کوذات پات، رنگ، نسل، زبان، مذہب، علاقے کی بنیاد پرنہیں بلکہ مہر و وفا کی کسوٹی پر پرکھنا سیکھو۔ اس جہانِ فانی سے انسان کُوچ کرتے ہیں مگرانسانیت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
  • اس دھرتی کا پانی پینے والوں کو بتانا کہ اس سرزمین پرہر اُس انسان کا حق ہے جو اس کی مٹی سے سو سال وفا کا عہد باندھ کر جیتا ہے کسی کی وفا پر شک کرنے سے پہلے اپنی وفا کے معیار پر دھیان ضرور رکھنا۔

غرض ہمارے اپنے صوبے بلوچستان کے باسیوں کے دکھ درد اور وفا کا انتہائی دلچسپ اور چشم کشا ناول ہے۔ جسے ہر صاحبِ دل، حساس قاری کو ضرور پڑھنا چاہئے۔ یہ ناول نصاب میں شامل کئے جانے کے قابل ہے۔ اس کی مدد سے ہم اپنے وطن کے مختلف خطوں کے باسیوں کو ایک دوسرے کے قریب لاسکتے ہیں۔ جیو فارس مغل تمہاری ایسی مزید تحریروں کا انتظار رہے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: