’’سلیم چانٹا‘‘ کی ایم کیو ایم ۔۔۔۔۔۔۔۔ عابد آفریدی

0
  • 164
    Shares

پانچ سال بعد اپنے علاقے کے سابق دادا و ایم کیو ایم یونٹ انچارج ’’سلیم چانٹا‘‘ بھائی جیل سے رہا ہوکر گھر آئے۔

زمانہ الطاف حسینی میں آپ کی ہمت و بے دردی کا یہ عالم تھا کہ کاروباری تو کاروباری مسجد کے پیش امام سے بھی بھتہ وصول کرتے اور وصول کرنے کے بعد ایک زور دار چانٹا مارنا اپنی ڈیوٹی سمجھتے۔

جس طرح قوال و دیگر گویئیے اپنے گھروں میں طبلے کے ہلکی ضربوں پر پکا راگ ہر وقت جاری رکھنے کی تلقین کرتے ہیں بعینہ ’’چانٹا بھائی‘‘ یونٹ آفس کے پچھواڑے میں ڈنڈے کی ضربوں پر سزا و جزا کا عمل پکار و فریاد کی آوازوں سمیت جاری رکھنے کی تلقین کرتے۔

زمانہ الطاف حسینی میں پس منظر کی یہ چیخ و پکار صرف ایک یونٹ کا ماحول نہیں تھا۔ ان آوازوں کی ایک طویل کہکشاں تھی جو لندن سے نکل کر سندھ میں مکڑی کے جالے کی طرح پھیل گئی تھی ’’چانٹا بھائی‘‘ جیسے کردار اس جالے کو تننے کا کام دیتے، جس کی گرفت میں اور کوئی آیا نہ آیا البتہ اپنے ہم زبان طبقے کو خوب جکڑے رکھا۔

مشرف نے ایم کیو ایم کو نوازتے ہوئے کراچی، حیدر آباد اور دیگر اردو اسپیکینگ شہروں میں اقتدار بمعہ اختیارات عطا کیا۔

مگر افسوس کہ اس اقتدار کو الطاف حسین اور ان کے چانٹا کارکنان نے اقتدار نہیں بس ایک ’’موقع‘‘ جانا، ایسا موقع جو غنائم کو لوٹتے وقت ملتا ہے وہ موقع جو ’’غیروں پر مختار ہوجانے کے بعد ہاتھ آتا ہے‘‘ متحدہ نے اپنوں کو ہی غیر جانا، اپنی ہی بستیوں کو مقبوضات سمجھ کر لوٹا اور دعویٰ یہ کیا کہ ہم نے شہریوں کے دل لوٹے ہیں، ان کے دلوں میں گھر کئے ہیں!!

بیشک اس بات سے انکار نہیں کہ متحدہ نے سڑکیں گلیاں ضرور بنائیں مگر کیا کبھی کوئی سڑکوں و گلیوں کے راستے عوام کے دلوں میں داخل ہوسکا ہے؟

دلوں میں تو ان راستوں کے ذریعے داخل ہوا جاتا ہے جو راستے تعلیم کے لئے ہموار کئے گئے ہوں، جو راستے شعور کو پروان چڑھانے کے لئے بنائے گئے ہوں جو راستے انسان کو انصاف کی فراہمی کے لئے ہر وقت کھلے رکھے گئے ہوں!!!

اس سب برعکس ایم کیو ایم نے اپنی رعایا کو فقط نقل کا راستہ دکھایا، وہ نسل جن کے پیشرو خطے کو فہم و دانش سکھاتے تھے انھیں کرپشن اور بے ضابطگیاں سکھائی گئیں۔

وہ لوگ جو اپنا زیور بیچ کر اولاد کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتے انھیں زیور بیچ کر اسلحہ خریدنے کے دھندوں میں لگا دیا، پس منظر میں چیخ و پکار سنا کر ڈرانے کے گر سکھاتے رہے۔ یوں لوگوں کے دلوں میں خوف کے جھنڈے تو گاڑ دئے پر محبت کی ننھی سے لو روشن کرنے میں ناکام رہے۔

آج ایم کیو ایم کے کسی ہمدرد سے گلہ کرو کہ تم جن کے درد میں ہمددر ہو انہوں نے لوگوں کو لوٹا ہے تو جھٹ سے سوال کرتا ہے کہ کسی راہنما پر کرپشن کا کوئی کیس دکھائو؟

کیا لوٹ مار و بے ایمانی یہی ہے کہ ریاست کی نقد دولت لوٹی جائے!!! کیا روپیہ و مال ہی صرف دولت ہے۔ کیا بہترین تاریخ دولت نہیں، منفرد تشخص علمیت، عقل و شعور عظیم دولت نہیں؟ آباو اجداد سے منتقل علوم و فنون کا ورثہ دولت نہیں؟

بیشک روپے مال و زر کی دولت چھوڑ کر باقی ہر دولت اس شہر کے لوگوں کی لوٹی گئی ہے۔

ہندوستان سے ہجرت کے بعد ادیبوں، دانشوروں، راہنماؤں کا پورا ایک لشکر آ کر کراچی میں آباد ہوا جن کی بدولت اس شہر کو اور یہاں آباد شہریوں کو ایک نئی شناخت ملی، شہر کو ادب کا گہوارہ کہا گیا۔

مگر انجام دیکھئے، بڑے بڑے علماء و ادباء حکیم و دانا جن کی تحاریر الفاظ و نظم بیرونی دنیا کے لوگ اپنی زبانوں میں منتقل کرتے تھے، وہ ادباء و حکماء میرے شہر میں روز کسی ان پڑھ گٹکا خور ’’چانٹا بھائی‘‘ کے ہاتھ رسوائی کا منہ دیکھتے!! برسوں محنت کے بعد تخلیق کردہ نظم تخلیق پاتی تو چانٹا بھائی اپنے گرو سمیت اس ادیب کو پیٹنے نکلتے!!

آرٹس کونسل کے الیکشن کے دوران کسی آستین کے سانپ نے اپنا حق جتانے کے لئے، مقامی چانٹا بھائی سے مدد مانگ لی ’’چانٹا بھائی‘‘ پستول لہراتے آرٹس کونسل میں داخل ہوا تو اس پر ایک ممتاز ادیب جن کا سینہ ہجرت کی کہانیوں سے بھرا پڑا تھا، سے رہا نہ گیا۔ آپ اٹھ کر اس مسلح چانٹا بھائی کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ چونکہ شہر کراچی کے سارے چانٹا بھائی ایک سے تھے، بات کرتے تو تھپڑ و گولی کی زبان میں کرتے، تڑ سے کہانیوں کے اس مجسمے کو تھپڑ ماردیا، جس کی ’’تڑاخ‘‘ بہت دور تک گئی۔

یہ تھپڑ ایم کیو ایم نے مارا۔ کسے مارا؟؟ اپنے آباو اجداد کی پہچان کو مارا، اپنے قوم کی منفرد شناخت کو یہ تھپڑ مارا گیا تھا۔ جیسے کوئی شرابی شراب کے نشے میں دھت بے خیالی میں خود تھپڑ مار دے۔ بس فرق یہ تھا کہ یہاں نشہ شراب کا نہیں صرف زمام و اختیار کا تھا۔

اگلے روز اخبار میں تھپڑ کی بابت ادیب نے صرف اتنا بیان دیا ’’کہانیاں لکھنے والا اس وقت تک کہانیاں لکھتا ہے جب تک وہ خود کہانی نہ بن جائے‘‘ اس خبر کے بعد کچھ عرصہ خاموشی رہی اور بعد میں یہ خاموشی ان کی موت کی خبر سے ٹوٹی!!

آج یہ تھپڑ تاریخ اور ایم کیو ایم عبرت بن گئی ہے!!

ہمدرد کہتا ہے ایم کیو ایم عبرت بنی نہیں زبردستی بنائی گئی ہے!!
اسے جواب ملتا ہے۔۔
جو تحریکیں مثبت تربیت کے ذریعے قوم تیار کرتی ہیں اس قوم کے ہزار راہنما بھی قتل ہوجائے تو اگلے دن ہزار مزید سینہ تان کر آگے آتے ہیں اور جہاں تحریک اپنی قوم کو تخلیق کے بجائے تخریب سکھائے تو وہ تحریک پھڑ پھڑاتی لو کی مانند ہوجاتی ہے جس کے لئے ایک پھونک ہی کافی رہتی ہے۔

آج میرے محلے کا سلیم چانٹا اپنے گھر سے اجنبی بن کر نکلا، جیسے کوئی اجنبی نئے شہر کا مشاہدہ کرنے نکلا ہو، اپنے شہر سے اس نئے شہر کا موازنہ کر رہا ہوں بیشک وہ جس کراچی شہر سے گرفتار ہوا تھا یہ اب وہ کراچی شہر نہیں تھا۔

ماضی کے اس شہر کراچی میں نائن زیرو کا احاطہ اتنا وسیع ہوگیا تھا کہ اس احاطے میں کراچی سے باہر بلوچستان کے مضافات بھی شامل ہوئے جبکہ عصر حاضر کے کراچی میں تو نائن زیرو کی اپنی چار دیواری بھی منہدم ہے۔

آج ایم کیو ایم کے ہاتھ پھر سے ایک موقع آیا۔ اس چھوٹے سے موقع سے بہت بڑا فائدہ بغیر کسی بیرونی دبائو حاصل کیا جاسکتا ہے۔

ایم کیو ایم کی نئی قیادت اپنی پارٹی سے ’’چانٹا‘‘ کی چھاپ ہٹا سکتی ہے۔ پراگندہ ذہن لوگوں کو منظم کر سکتی ہے۔ بندوق، گولی، دھونس، ان سب روشوں کے بت دفن کر کے ایک نئی روش کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ آباو اجداد کے مسخ کئے ہوئے تشخص کو بحال کرسکتی ہے۔
اگر چاہے تو!!!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: