مغربی طرز زندگی، مشرقی روایات اور F-9 پارک —- احمد اقبال

0
  • 66
    Shares

شاید کچھ بھی نہیں۔ اس کا تمام ترانحصارفرد کے ذاتی رویے پر ہے۔ اور فرد کوئی کمپیوٹر نہیں جس کا ری ایکشن ہر جگہ متعین رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ہمیشہ ہر جگہ معاشرے میں اخلاقی تنزل کی شکایت ہر دور میں کرتے رہے مگر اخلاق کی قانونی حیثیت ہمیشہ صفر رہی۔ یہ صرف الہامی کتب کی تعلیمات تھیں جن میں ہدایت کی گئی کہ بچوں پر شفقت کرو اور بزرگوں کے ساتھ عزت کا برتائو رکھو۔ سچ بولو، لیکن کیا ایسا نہ کرنے والے کے لیے کوئی سزا تجویز کی گئی؟ یہ کہا گیا کہ وہ گناہ گار ہوں گے؟ یا ان کے لیے آخرت کاؑعذاب ہے؟ غالباً نہیں۔ نوشیروان عادل سے کوئی روایت نہیں کہ اس نے کسی جوان بیٹے کو باپ سے بد سلوکی پر سزا دی ہو، نہ زنجیر عدل والے شہنشاہ جہانگیر سے کوئی داستان منسوب ہے کہ اس نے بد اخلاقی کے الزام میں کسی کو طلب کیا ہو۔

اخلاقیات کی قانونی حیثیت بھی کچھ نہیں۔ یہ آپ کی مرضی پر ہے کہ کسی ضعیف کے لیے کرسی یا بس کی سیٹ خالی کریں۔ ضعف سے گر جانے والے کو سہارا دے کر اٹھائیں اور نابینا کا ہاتھ تھام کے سڑک پار کرائیں۔ دنیا بھر کے ترقی یافتہ مما لک میں اولڈ ہوم ریاست کی ذمے داری ضرور ہیں لیکن کسی بیٹے کو قانون پابند نہیں کر سکتا کہ وہ ماں باپ کی ضروریات پوری کرے یا خدمت کرے۔

نتیجہ یہ کہ معاشرے میں اخلاقی بے راہروی کی شکایت تو ہمیشہ کی طرح آج بھی سب کو ہے۔ اس کا غلغلہ ہر سطح پر ہر جگہ سنائی دیتا ہے۔ میڈیا پر ہر شخص چلاتا نظر آتا ہے کہ یہ ہم اخلاقی طور پرکدھر جا رہے ہیں؟ لیکن کوئی کچھ کرتا نہیں۔ سب کا موقف ایک ہے کہ یہ میری نہیں حکومت کی ذمے داری ہے۔

جو شخص ایک پسماندہ بستی میں رہتا ہے، ترقی کر کے کسی پوش آبادی تک پہنچ کے گھر کا سازو سامان ہی نہیں بدلتا اخلاق و کردار میں بھی مغربی اقدارکا مقلد ہو جاتا ہے۔ کسی دیہی قبیلے کے غریب اور ان پڑھ خاندان سے کراچی لاہور یا اسلام آباد کے تعلیم یافتہ خوشحال گھرانے تک اخلاقیات کے ان گنت معیار ہیں۔ یہی تضادات سارے انتشار کا سبب ہیں۔

پاکستان کے بیس کروڑ آبادی میں سے نصف ووٹر ہیں تو وہ سب بالغ ہیں۔ اور وہ سب اخلاق و کردار کے ذاتی معیارات رکھتے ہیں۔ معیارجو وقت اور مقام کے ساتھ بدلتے ہیں۔ آپ خود جانتے ہیں کہ اس دور سے جب مسلمان عورت چادر اوڑھ کے صرف رات کے وقت ہی پالکی میں پردے گرا کر کہیں جاسکتی تھی آج کی یونیورسٹی جانے والی، ملازمت پیشہ اور کار چلانے سے جہاز اڑانے والی عورت تک ’’شرافت‘‘ کا مفہوم کیا سے کیا ہوگیا ہے۔ ہمارے مذہبی اور معاشرتی اخلاق و کردار کے پیمانے مسلسل بدلتے جارہے ہیں اور اسے ہم ’’زوال‘‘ کا نام دے کر واویلا مچانےکے سوا کچھ نہیں کرتے۔ طے شدہ طور ہم طرز زندگی میں مغرب کی پیروی کرتے ہیں اور مشرقی روایات کے اسیر ہیں۔ جو شخص معاشی مجبوری کے باعث ایک پسماندہ بستی میں رہتا ہے ترقی کر کے کسی پوش آبادی تک پہنچ کے گھر کا سازو سامان ہی نہیں بدلتا اخلاق و کردار میں بھی مغربی اقدارکا مقلد ہو جاتا ہے۔ کسی دیہی قبیلے کے غریب اور ان پڑھ خاندان سے کراچی لاہور یا اسلام آباد کے تعلیم یافتہ خوشحال گھرانے تک اخلاقیات کے ان گنت معیار ہیں۔ یہی تضادات سارے انتشار کا سبب ہیں۔

اجتماعی سوچ میں اخلاق کی اہمیت صرف تعلیم سے آتی ہے۔ برطانیہ امریکہ جیسےممالک میں آپ کسی کو ماں بہن کی گالی دیں وہ مشتعل نہیں ہوگا لیکن کسی کو جھوٹا کہیں تو وہ آپ کے گلے پڑ جائے گا کہ یہ تم نے کیسے کہا۔ مجھے جھوٹا ثابت کرو۔ تاریخ میں نکسن واحد امریکی صدر ہے جس نے واٹر گیٹ اسکینڈل میں سچ بول کے استعفےٰ دیا۔ اسے تیس سال قید کی معطل شدہ سزا ہوئی لیکن امریکن قوم کی نظر میں اس کی عزت بڑھ گئی۔ کینیڈی نے ناجائز تعلقات کے الزم میں جھوٹ بولا اوربالآخر ذلت اٹھائی۔ جنوبی افریقہ کی مضبوط ترین کرکت ٹیم کے کپتان نے از خود تسلیم کیا کہ وہ میچ فکسنگ میں ملوث تھا تو وہ تاحیات نااہل قرار دیا گیا لیکن اس کی توقیر میں کمی نہیں آئی۔ وہ شک کی صورت میں اٹھارہ سال سے کم عمر والے کو شراب نہیں دیتے۔ دکاندار سگرٹ فروخت نہیں کرتا۔ وہ اپنے معاشرتی اخلاق کی مشترکہ پابندی کوفرض سمجھتے ہیں۔ اب یہاں اخلاقی زوال کا واویلا کرنے والوں کی حالت دیکھیں کہ صرف 40 روپے میں ایک دس بارہ سال کا بچہ بھی سر عام ملنے والی پورن فلم خرید سکتا ہے۔ سگرٹ کیا چیز ہے۔ اس کا بھی بہت شور ہے کہ منشیات فروش کس طرح اسکول کے بچوں کو اس کا عادی بنا رہے ہیں لیکن جو یہ سب جانتے ہیں اور مانتے ہیں۔ علما، قانون داں، سیاسی راہنما، اسمبلی کے ارکان، نظام انصاف کے علمبردار، آج تک کسی نے ان مسائل کو اپنی اخلاقی ذمے داری سمجھ کے کتنی اہمیت دی؟ جواب ہے صفر۔ مہم چلانا یا ’’سو موٹو‘‘ نوٹس لینا تو دور کی بات ہے کسی نے بیان تک نہیں دیا۔ نہ پریس کانفرنس میں نہ اسمبلی میں۔

نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ تعلیم کا معیار اچانک گر گیا ہے۔ جنسی جرائم کی وارداتوں میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔ اچانک تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ بقول شاعر

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

میں 2 اگست کو پاکستان کے دارا لخلافہ اسلام آباد کے سب سے بڑے ’’ایف نائن‘‘ پارک میں ایک طالبہ کی اجتماعی آبرو ریزی کے واقعہ کا حوالہ دیتا ہوں۔ کیا یہ اچانک ہوا؟ اچانک ایک طالبہ نے اچانک ایک بوائے فرینڈ کے ساتھ پارک کا رخ کیا؟ اچانک چار ہوس پرست مردوں نے جو وہاں ملازم تھے ان کو دیکھ لیا اور اچانک ان کے ذہن میں ایک شیطانی خیال آیا؟ نو سر، آپ سن اور پڑھ سکتے ہیں ان بیانات کو جو تعلیمی خصوصاً بالغوں کے اعلیٰ تعلیمی ادروں میں طلبا اور طالبات کی بڑھتی ہوئی ’’روشن خیالی‘‘ اور آزادانہ اختلاط کے بارے میں آتے رہتے ہیں۔ وہ طالبہ جو اس وقت خبروں کا محور ہے ہزاروں میں ایک تھی جو اسی بے خوفی سے ہر پارک، ہوٹل اور تفریحی مقامات پر اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ نظر آتی ہیں اور نہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہوگا۔ وہ چار جن میں دو مالی اور دو چوکیدار تھے اچانک منصوبہ بندی کر کے اس جرم کے مرتکب نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے مشترکہ طور پراتفاق رائے سے ایک پلان پر عمل کیا۔ یہ کام وہ پہلے بھی کر چکے ہوں گے چنانچہ انہوں نے پہلے ڈرایا، پھر دو ہزار رشوت لی، پھر لڑکے کو ’’باعزت فرار‘‘ کی رعایت دی اور لڑکی کو بحفاظت باہر پہنچانے کی شریفانہ ذمے داری کا یقین دلایا۔ سب ان کے پلان کے مطابق ہو گیا جس کا انہیں یقین تھا کہ ناکام نہیں ہو سکتا۔

آفرین تو ہے اس لڑکی کو جس نے اس معاشرے میں عزت دائو پر لگا کے ان کی رپورٹ کی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ ایک خالص مردوں کا بے حس معاشرہ ہے جس میں ’’دوشیزگی‘‘ کا تصور یک طرفہ ہے اور مرد کی عصمت دس عصمتوں کو لوٹنے کے بعد بھی محفوظ رہتی ہے، اب وہ میڈیا کی سنسنی خیزی کا شکار ہے اور یہ ظلم تب تک ہوتا رہے گا جب تک ہم انفرادی طور پر اپنی معاشرتی اخلاق سے روگردانی کے لیے صرف حکومت کو ذمے دار ٹہراتے رہیں گے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: