میرے محلے والے: میجر آفتاب حسن …. پروفیسر احمد علی

0

میں ایک بہت معمولی سا انسان ہوں. میرا تعلق ایک متوسط بلکہ زیریں متوسط گھرانے سے ہے. تعلیم بھی واجبی سی چناںچہ ملازمت بھی عام سی. دو تہائی عمر پردیس میں گذری لیکن دنیا کی سیر بہت کم کی.کسی ہنر میں یکتا نہیں اور کسی فن سے واقف نہیں. لیکن الحمدلله زندگی کسی طور بھی کمتر نہ گذری. عمر کی ساٹھ بہاریں دیکھ لیں اور رب العزت نے اپنے علاوہ کسی کا محتاج نہ ہونے دیا. بہت زیادہ علم حاصل نہیں کیا لیکن کتابِ زندگی کو خوب پڑھا. خود کوئی کمال نہ سیکھا لیکن بے شمار ناموروں کو یا تو کم از کم ایک بار دیکھا اور چند ایک سے ملاقاتیں بھی رہیں. کبھی پیچھے مڑکر دیکھتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں کہ

کہاں میں کہاں یہ مقام..الله الله

اور یقینًا اس میں میرا کوئی کمال نہیں. اکثر سے کسی تقریب میں ملاقات ہوگئی. کوئی یونہی مل گیا

سرِ راہ چلتے چلتے

چند ایک سے اپنے بزرگوں اور دوستوں کے توسط سے ملاقات رہی. اکثر قومی اور بین الا قوامی شخصیات سے میری ھلٹن بحرین اور رمادا ہوٹل داہران کی ملازمتوں کے دوران ملاقاتیں ہوئیں. پھر اس مستقل غریب الوطنی نے اکسایا کہ جب بھی وطن سے کوئی منتخب روزگار آئے اسکی زیارت کرو اور دیس کا حال جانو.
یہ سب اپنی جگہ، لیکن کچھ ایسے بھی تھے جو وہیں رہتےتھے

جس محلے میں تھا ہمارا گھر……

قبلہ نما
ــــــــــــــــــــــــــ

خاکسار نے جب آنکھ کھولی تو اپنے آپ کو، بہار کالونی، میں پایا. یہ کراچی کی ایک قدیم ترین، غلیظ اور عسرت زدہ بستی تھی لیکن جیسے باکمال اور مشہور لوگ یہاں دیکھے،اتنے اسکے بعد کبھی،اتنے سارے اور قریب سے نہیں دیکھے. میںٕ نے بچپن کے چند سال ہی وہاں گزارے لیکن کچھ لوگوںکے دھندلے خاکے اب بھی اب بھی ذہن کے جھروکوں سے جھانکتے رہتےہیں. 
ان شخصیات سے تعارف میرے مرحوم چچا( خدا انہیں غریق رحمت کرے) کے طفیل تھا. میرے یہ چھوٹے چچا مجھ سے عمر میں کچھ سال بڑے تھے لیکن ہم دونوں میں دوستوں جیسی بے تکلفی تھی یہاں تک کہ میں انہیں انکے نام سے پکارا کرتاتھا. میری یہ زیاده تر یاد داشتیں میرے انہی چچا کی مرہون منت ہیں.
چچا کے ایک دوست جو ہمارے گھر اکثر آتے تھے مولانا حسرت موہانی کے نواسے تھے. میں جامع الحسن موہانی کا ذکر پہلے بھی کر چکا ہوں. ہمارے اسکول کے راستےمیں ایک اونچے سے چبوترے والے گھر میں کیپٹن شمشیر علی بیگ رہتے تھے. اپنے نام کی طرح بارعب یہ حضرت،صدر مملکت کے باڈی گارڈ دستے کے کماندار تھے. یہیں مسلم اسکول کے بانی اور کونسل مسلم لیگ کے رہنما آزاد بن حیدر، جو رہتے تو.کہیں اور تھے لیکن اکثر اسکول کے دورے پر آیا.کرتےتھے.
قائد اعظم ٹرافی کے میچ کے دوران جاں بحق ہونے والے نوجوان کھلاری عبدالعزیز اور انکے بھائى عبدالقادر (جنہوں نے بعد میں آسٹریلیا کے خلاف اپنے پہلے ہی میچ میں 95 رنز بنائے) بھی یہیں کہیں رہتےتھے. روم اولمپک کی فاتح ٹیم کے کھلاڑی قمر علیخان اکثر ہمارے مکان مالک کے یہاں آیا کرتے. ماجد جہانگیر نامی ایک نوجوان نے یہاں مسلسل پانچ دن بغیر گدّی کے سائیکل چلائی اور پھر ڈھاکہ کی اردو فلموں میں “کے کمار “کے نام سے مشہور ہوا. اور تو اور جمعہ کے جمعہ، جامع مسجد الفلاح میں مفتی کفایت اللہ کا واعظ ہوتا تھا.

یہ جامع مسجد الفلاح، ٹینری روڈ اور مسان روڈ کو ملانے والی سڑک فلاح روڈ کے عین درمیان تھی. اس سڑک کے ایک طرف گورنمنٹ گرلز اسکول تھا، جسکے کچھ فاصلے پر مخزن ادب لائبریری تھی جہاں سے کتابیں کرائے پر بھی ملتی تھیں اور وہیں بیٹھ کر بھی پڑھی جاسکتی تھیں. کتابوں سے جو تعلق وہاں قائم ہوا، آج تک باقی ہے.
مسجد سے متصل دکانوں میں ایک دکان “مکتبہ ملّی ” کے نام سے تھی جہاں اسکولوں کی کتابیں اور اسٹیشنری ملتی تھیں. اس نام سے آپ وہاں کے باسیوں کے ذوق کا اندازہ کرسکتےہیں.

مسجد کے ساتھ بہار کالونی کا مشہور فٹبال گراؤنڈ تھا جہاں اکثر لیاری اور کراچی کی مشہور ٹیموں کے مقابلے ہوتے. یہیں ہمیں تراب علی،عمر ،اللہ بخش اور غفور جیسے کھلاڑی دیکھنے ملے.
اس میدان کے چاروں طرف مکانات بنے ہوئے تھے اور مسجد کے عین مقابل ایک گھر جس کی پیشانی پر بہت بڑے سمنٹ سے ابھرے ہوئےحروف میں لکھا تھا “قبلہ نما”.

مکان کے سامنے مختصر سے احاطے میں شام کے وقت ایک گول سی
تپائی اور کرسی ہوا کرتی تھی،جس پر ایک باریش،بھاری بھرکم اور کڑکدار آواز والے صاحب، سفید کرتے اور چوڑے پائنچوں والے پاجامے میں اکثر اخبار یا کوئی کتاب پڑھتے ہوئے نظر آتے. ہم اچھل کود کرتےہوئے جب بھی اس مکان کے سامنے پہنچتے تو با ادب ہوجاتے.
جی ہاں اس مکان میں، میجر آفتاب حسن،رہتےتھے. میجر صاحب اس سے پہلے یا بعد میں شاید سعید منزل کے پاس بھی رہے لیکن ان دنوں وہ قبلہ نما میں ہی رہتےتھے.
آپ اس تصویر پر نہ جائیے گا. یہ نجانے کب کی تصویر ہے. ہم نے جن میجر آفتاب کو دیکھا تو وہ ایسے ہی تھے جیسا میں نے بیان کیا.

میجر صاحب،ماہر تعلیم،ماہر لسانیات اور ایک سخت گیر منتظم تھے. ہماری نوین یا دسویں جماعت میں ان کا ایک مضمون پڑھایا جاتا تھا. میجر صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ سائنسی اصطلاحات کو اردو میں ڈھالنا تھا. پاکستان میں سائنسی تعلیم کی ترویج میں ان کا اہم کردارہے. وہ اردو سائنس کالج کے پہلے پرنسپل رہے. بعد ازاں جامعہ کراچی کے شعبه تصنیف و تالیف سے متعلق رہے. 
مقتدرہ اردو زبان کے پہلے معتمد اور کچھ عرصہ قائمقام صدر نشین بھی رہے.
اب اس کا کیا علاج کہ ان کے ذکر پر میرے دوستوں کو صرف اتنا یاد آئےگا کہ جامعہ کے چیف پراکٹر کی حیثیت سے انہوں نے حکم جاری کیا تھا کہ طلبہ و طالبات ایک دوسرے سے کم ازکم تین فٹ کے فاصلے پر رہیںگے.
اس حکم نے ایک قابل اور علم کے محسن کو “ولن” کا درجہ دیدیا. طلباء نے اس نادر شاہی فرمان کو سخت ناپسند کیا لیکن میجر صاحب کے حکم سے سرتابی اتنی آسان بھی نہ تھی.
میجر آفتاب حسن میرے موجودہ محلے گلشن اقبال میں بھی رہے. یہاں ایک عمارت میں، مقتدرہ قومی زبان کا بورڈ میں نے دیکھا لیکن چونکہ میری مستقل رہائش کراچی میں نہیں ہے، مجھے علم نہیں تھا کہ میجر صاحب بھی یہیں رہتےہیں. سنا ہے کہ وہ دفن بھی گلشن اقبال کے قبرستان میں ہوئے.
بازید پور،بہارـ بہار کالونی کراچی سے ہوتا ہوا علم و عمل کا یہ سفر میرے دوسرے محلے میں اختتام پذیر ہوا.

انگلش کاٹیج کا باسی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

بہار کالونی بڑی مظلوم سی بستی تھی. ہندوستان سے آئے ہوئے لٹے پٹے مہاجروں کو اس نے اپنے ٹوٹے پھوٹے آنگن میں ٹھہرایا لیکن جیسے جیسے لوگوں کے حالات میں فراغت آتی گئی وہ یہاں سے نکل بھاگے.اکثر نے نارتھ ناظم اباد،برکات حیدری، انچولی اور ناظم آباد کا رخ کیا. 
میری دادی اورچچا.نے کوکن سوسائٹی کو اپنا ٹھکانا بنایا جہاں ہماری برادری کے لوگ پہلےہی سے آباد تھے. 
سن ساٹھ کی دہائی کا سوسائٹی ک کیا بتائیں. یہ تو ایک اورہی جہاں تھا. سوسائٹیز کا علاقہ بڑی بڑی کوٹھیوں اور متمول لوگوں کا علاقہ تھا. یہ نسبتاﹰ غیر اباد تھا اور اکثر کوٹھیوں کے درمیان کیکر، ببول اور تھوہر کے درخت اور جھا ڑیاں ہوتی تھیں جن میں گرگٹ اور گلہریوں کا بسیرا ہوتا تھا. ھل پارک اور جھیل پارک اس وقت تک نہیں بنے تھے لیکن پہاڑیاں اور جھیلیں تھیں. ہم موجودہ جھیل پارک والی جھیل میں مچھلیاں پکڑنے جاتے،راستے میں گلابی رنگ کی ایک کوٹھی پڑتی جسے ہم “چراغ جلتا رہا”والے کی کوٹھی کہتے تھے کیونکہ ہمین نہیں معلوم تھا کہ اس گھر کے مالک کا نام فضل احمد کریم فضلی ہے.
اس سوسائٹی میں شام کے وقت انگریز اور یورپین عورتیں اور بچے گھڑ سواری کرتے نظر اتے. اس وقت بیشتر سفارتخانے اور قونصل خانے کراچی میں تھے اور اکثر غیرملکی کمپنیوں اور ائرلائنز کے دفاتر بھی کراچی میں تھے.

اسٹریٹ لائٹس نہیں تھیں اور راتیں اکثر سنسان ھوتیں. ایسےمیں کسی زیر تعمیر بنگلے سے کوئی کشمیری مزدور بانسری کی تان چھیڑ دیتا یا کوئی پٹھان ٹوٹے پھوٹے رباب پر گنگناتا یا کہیں کوئی پنجابی ماہیا کی تان لگاتا. جسکی دل کو چھو لینے والی آواز رات کے سنّاٹے میں دور تک سنائی دیتی.

اسی سوسائٹی کے علاقے میں حیدرعلی روڈ سے موجودہ دوہرا جی جانے والی، اونچائی پر چڑھتی ہوئی سڑک پر پہاڑی کے دامن میں ایک پتھروں کی بنی ہوئی خوبصورت سی عمارت، انگلش کنٹری سائیڈ کے کسی کاٹیج کا نقشہ پیش کرتی. 
مجھے علم نہیں کہ وہ بنگلہ اب بھی اسی حال میں ہے یا نہیں لیکن میں نے کراچی میں ایسی خوبصورت اور ارٹسٹک کوٹھی کہیں اور نہیں دیکھی.

طارق روڈ اور بہادر آباد شاپنگ سنٹر ہوا کرتے تھے لیکن اسے موجودہ طارق روڈ اور بہادر آباد پر قیاس نہ کیجے گا. بہادر آباد چورنگی پر چند ایک ہی دکانیں تھیں لیکن اعلیٰ پائے کی تھیں. وہیں ایک خوبصورت دکان تھی “یونیورسل اسٹور” (شاید اب بھی ہو). یہاں جنرل اسٹور کے علاوہ دوائیں اور کتابیں بھی ملتی تھیں. 
میرے چچا اور میں اس دکان میں تھے کہ کتابوں کے حصے میں ایک لمبے بالوں، چھریرے جسم،موٹے فریم کی عینک لگائے ایک صاحب ایک کتاب پر جھکے ہوئےتھے. چارخانے والے کوٹ اور کارٹرائے کی پتلون میں ملبوس یہ حضرت بھی کچھ انگریز نما ہی لگ رہے تھے. 
چچا نے مجھے بتایا یہ “دلّی کی ایک شام، والے پروفیسر علی احمد ہیں.
دلی کی ایک شام شاید انکے اردو کے کورس میں ہوگی. یوں تو میں انکی اردو کی ساری کتابیں پڑھ چکا ہوتا تھا لیکن یہ مضمون میں نے نہیں پڑھا تھا. لیکن چچاکے سامنے اپنی جہالت کا اظہار کیسے کرتا. فوراً کہا اچھا وہ، واقعی. !!!!
ویسے ان صاحب کو میں اچھی طرح جانتا تھا کیونکہ یہ اسی انگلش کاٹیج میں رہتےتھے اور اکثر اسی حلیے میں ایک اسپورٹس کار نما گاڑی میں نظر آتےتھے. 
یہ پروفیسر احمد علی سخت قابل تھے. علیگڈھ اور لکھنؤ یونیورسٹیز سے فارغ ہونے کےبعدبہت ہی کم عمری میں درس و تدریس سے منسلک ہوگئےتھے. پروفیسر صاحب گو ناگوں خصوصیات کے حامل تھے. ماہر تعلیم،ادیب،شاعر،ناول نگار،براڈکاسٹر،سفارتکار اور عالم.
لیکن انکی سب سے بڑی وجہ شہرت،ترقی پسند تحریک تھی جس کے یہ سجاد ظہیر،محمود الظفر،رشیدجہاں وغیره کے ساتھ بانی رکن تھے. ترقی پسندوں کےاولین اعلان جنگ،افسانوی مجوعہ “انگارے ” میں انکا افسانہ بھی شامل تھا.
کچھ عرصہ ہندوستان میں بی بی سی کے نمائندے اور ڈائرکٹر رہے. پھر 
کسی سفارتی ذمہ داری پر یا درس وتدریس کے
لئے چین بھیجے گئے جہاں سے اس وقت کے ہندوستاں کے سفیر نے بھارت واپس نہ جانے دیا چنانچہ 1948 میں پاکستان چلے آئے.

یہاں آکر وزارت خارجہ سے منسلک ہو گئے اور پہلی ذمہ داری چین کیلئے ہی سونپی گئی. 
پروفیسر احمد علی کا سب سے بڑا کارنامہ Twilight in Delhi ہے. اسکے علاوہ اردواور ا نگریزی کے بے تحاشا افسانے. شعری مجموعے، افسانوں کا مجموعہ جیل ہاؤس اور بہت ساراا دبی کام.
اور اب یہ بھی قدرت کے کھیل دیکھو. ترقی پسند تحریک کے بانی پروفیسر احمد علی نے قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ کیا.
سنا ہے اخری دنوں میں کہیں الفلاح سوسائٹی میں منتقل ہوگئے تھے. اور شنید یہی ہے کہ یہ بھی گلشن اقبال میں دفن ہیںہ

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: