ہماری ذہنی غلامی اور اسکے اسباب : مولانا مودودی — تلخیص: اسد احمد

0
  • 17
    Shares

سید مودودی کی ”تنقیحات” کے پہلے مضمون کی تلخیص

غلامی کی دو قسمیں ہیں: ذہنی غلامی، سیاسی غلامی۔ ذہنی غلامی کا مطلب ہے، کوئی قوم افکار میں اتنی ترقی کر جائے کہ دوسری قومیں ان افکار اور تخیلات پر ایمان لے آئیں اور وہ معیارِ حق کا درجہ حاصل کرلیں۔ دوسری قسم کا غلبہ سیاسی ہے، یعنی ایک قوم بزورِ بازو دوسری اقوم کو زیر کرلے اور وہ ہر معاملے میں غالب قوم کی محتاج بن جائیں۔ چنانچہ مغلوبیت بھی دو طرح کی ہے: ذہنی مغلوبیت اور سیاسی مغلوبیت۔ یہ اس ذہنی اور سیاسی غلبے کا لازمی نتیجہ ہے۔ اب یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی جگہ پر دونوں قسم کی مغلوبیت ہوں۔ لیکن جو قومیں علم کے میدان میں ترقی کرتی ہیں انہیں مادی ترقی بھی نصیب ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جو قوم علم و تحقیق میں تنزلی کا شکار ہوتی ہے اس کی مغلوبیت مزید پختہ ہوجاتی ہے اور طاقت ور ہر حیثیت سے حکمران بن جاتی ہے۔

اس وقت مسلمان دوہری غلامی میں مبتلا ہیں، یعنی ذہنی غلامی اور سیاسی غلامی۔ کوئی بھی اسلامی آبادی مکمل طورپر آزاد نہیں ہے، مادی آزادی بھی نصیب نہیں، جبکہ ذہنی طورپر ہمارے ہر عمل پر مغربی تہذیب حکمران ہے۔ مغربی تہذیب معیار بن چکا ہے اگر کوئی عمل اس پر پورا اترتا ہو تو شعوری یا غیری شعوری طورپر تسیلم کیا جاتا ہے۔ مغرب حق اور باطل کا اصل پیمانہ قرار چکا ہے۔

اس غلامی کی اصل وجہ یہ ہے کہ ذہنی غلبے و استیلا کی بنیاد دراصل فکری اجتہاد اور علمی تحقیق پر قائم ہوتی ہے۔ جو قوم اس میں پیش قدمی کرتی ہے وہ دنیا کا امام بن جاتی ہے اور ان کے افکار دنیا پر چھا جاتے ہیں۔ مسلمان جب تحقیق کے میدان میں آگے تھے تو پوری دنیا ان کی مقلد رہی۔ جب مسلمانوں نے تحقیق و دریافت کرنا چھوڑ دیا تو گویا دنیا کی امامت سےمستعفی ہوگئے۔ مغرب آگے بڑھا اور امام بن گیا۔ مسلمان پانچ صدیوں تک اسلاف کے بچھائے ہوئے بستر پر سوتے رہے، مغرب نے تحقیق و اکتشاف میں مگن رہا۔ جب مسلمان بیدار ئے تو مغرب سیف و قلم دونوں سے یکساں لیس تھا اور دنیا کی فرماں روائی ان کے ہاتھ میں آچکی تھی۔ مسلمانوں میں ایک چھوٹی سی جماعت نے مزاحمت کی کوشش کی لیکن نہ قلم میں سیاہی تھی اور نہ تلوار میں طاقت۔ شکست کھانے کے بعد وہی ہوا جو شکتست خوردہ کرتے ہیں۔ مغرب کی تہذیبی سیلاب نے مرعوب ذہنیتوں کو دین سے بیزار کردیا اور مغربی تہذیب کے اسیر بن گئے۔

مغربی تہذیب کا جن اقوام سے سابقہ پیش آیا تو ان میں اکثر کی کوئی تہذیب نہیں تھی یا وہ اسی ڈھنگ کے مطابق تھی اس لئے وہ بآسانی ضم ہوگئے جبکہ ہماری تہذیب کا معاملہ بالکل برعکس ہے، اسلامی تہذیب ایک مضبوط اور توانا تہذیب ہے، اس لئے اول روز سے ان دونوں کی کشکمش جاری ہے۔

مغربی تہذیب دراصل مذہب کے رد عمل میں پیدا ہوئی ہے۔ مذہب کے خلاف عقل و حکمت کی لڑائی نے اس تہذیب کو جنم دیا ہے۔ عسائی پادریوں نے عسائیت کو قدیم یونانی فلسفے کی بنیادوں پر قائم کیا تھا، انہیں یہ بھی پتا تھا اگر جدید علمی تحقیقات سے ان بنیادوں میں ذرا سا بھی تزلزل واقع ہوا مذہب کی عمارت زمین بوس ہوجائے گی۔ اسی بنیاد پر انہوں نے علمی تحریک کی مخالفت کی اور اس کو روکنے کے لیے مذبی عدالتیں قائم کیں جن میں اس تحریک کے علم برداروں کو سخت سزائیں دی گئیں۔ یہاں سے مذہب اور سائنس کی کشکمش کا اتبدا ہوا اور دونوں نے یکسر ایک دوسرے کے وجود ہی سے انکار کردیا۔ جہاں مذہب ہو وہاں سائنس کے لیے کوئی جگہ نہیں اور جہاں سائنس ہو وہاں مذہب کے لیے۔ دونوں ایک دوسرے کی ضد قرار دئے گئے۔ مافوق الطبیعت معاملات کے علمبردار چونکہ اہل مذہب تھے اس لیے جدید تحریک والوں نے خدا یا فوق الطبیعت ہستی کو کائنات کے معمے حل کرنے سے غیر متعلق کردیا اور اس کو غیر سائنسی قرار دیا۔ یہ خالص کسی علمی بنیاد پر نہیں تھا بلکہ مذہب کے خلاف تعصب پر مبنی۔

اب مغربی محققین کا علمی سفر خدا بیزاری کے سمت پر شروع ہوا، خدا کی جگہ نیچریت نے لی۔ خدا ان کے لیے بالکل ایک غیر متعلق بن گیا۔ جو چیز سائنسی اصولوں کے مطابق نہیں وہ فریب قرار پایا۔ ڈیکارٹ جو اس فلسفے کا باوا آدم سمجھا جاتا ہے، ایک طرف خدا کا قائل تھا مگر اس کی اسی توجیہہ میکانکی طریقے پر کی جس سے مادہ پرستی کا درواہ کھل گیا۔ ہابس ایک قدم آگے بڑھا تو فوق الطبیعت کی کھلم کھلا مخالف کی۔ اور ہر عمل کو علت و معلول کا محتاج قرار دیا۔ جس میں فوق الطبیعت کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔ سپائنوزا نے عقلیت کا علم اٹھایا۔ اس نے مادہ اور روح اور خدا کے درمیان فرق کو مٹا دیا اور خدا کے اختیار مطلق کو تسلیم نہ کیا۔ لائبنز اور لاک خدا کے قائل تھے لیکن دونوں نیچری تھے۔

یہ سترھویں صدی کا فلسفہ تھا، جس میں خدا اور نیچر ساتھ ساتھ چل رہے تھے، اور مکلمل الحاد کا دروازہ ابھی تک نہیں کھلا۔ اس دور کے فلاسفہ خدا کے قائل تو تھے مگر اس کے علاوہ بھی کچھ قوتوں کی تلاش میں تھے جو یہ سسٹم چلارہی ہیں۔ پھر اٹھارویں صدی میں خدا کو یکسر نظر انداز کردیا گیا اور مغرب بابِ الحاد مٰں داخل ہوگیا۔ اس صدی کے فلاسفہ نے باقاعدہ خدا کے وجود سے انکار کردیا۔ ان لوگوں کے لیے ہر وہ چیز بے معنیٰ رہ گی جو تجربے اور مشاہدے میں نہ آتی ہو۔ ہیوم نے اپنی تجربیت اور تشکیک کی زبردست تائید کی اور معقولات کی صحت کے لیے بھی یہی پیمانہ رکھا۔ برکلے نے اس سیلاب کو روکنے کی کوشش کی لیکن نہ روک سکے۔ ہیگل نے مادیت جگہ تصوریت کو فروغ دینے کی کوشش کی مگر اس کو وہ کامیابی نہ ملی۔ کانٹ ان دونوں علم کے دائرے سے ہی نکال دیا۔

بعد ازاں ڈارون کا ظہور ہوا اور نظریہ تخلیق کے بالکل مقابل نظریہ ارتقا پیش کیا۔ جس نے سائنسی دنیا پر بہت گہرے اثرات مرتب کئے۔ جس کی وجہ سے خدا کو مکمل طور پر دیس بدر کردیا۔ آج مغربی تہذیب اسی پر کھڑا ہے، نہ وہاں خدا خوفی نظر آتی ہے، نہ موت کی فکر، بس ہر طرف بہمیت ہی بہیمیت نظر آتی ہے۔ یعنی یہ اسلامی تہذیب کی بالکل الٹ تہذیب ہے اسلامی تہذیب میں خدا خوفی، نفس کا محاسبہ، فکرِ آخرت، حسن وقبح کی تمیز یہ سب اس کے بنیادیں ہییں۔ اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب بالکل دو ایسی گشتیاں ہیں جو بالکل مختلف سمتوں میں سفر کررہی ہیں۔ جو شخص ان میں سے کسی ایک کشتی پر سوار ہوگا اسے لامحالہ دوسری کشتی کو چھوڑنا پڑے گا اور جو بیک وقت دونوں پر سوار ہوگا اس کے دو ٹکڑے ہوجائیں گے۔

جب مغربی تہذیب اس عروج کو پہنچا تو وہیں سے مسلم دنیا میں زوال کی لہڑ دوڑی اور مسلمانوں پر مغرب کی جانب سے سیف وقلم دونوں کا حملہ ایک ساتھ ہوا۔ یہاں پر عذر خواہی کا ایک ایسا رویہ پروان چڑھا کہ اپنی تہذیب سے جان چھڑانے کی ہر ممکن کوشش کی گئ اور مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کا ابتداء ہوا۔ اس رویے میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ اس وقت مسلمانوں میں ایسے اہل علم کی ضرورت ہے جو اپنی تہذیب کی نشاۃ ثانیہ کریں۔ اس کام کو آگے بڑھانا ہوگا اور دنیا کا زمامِ کار دوبارہ اپنے ہاتھوں میں لینا ہوگا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: