ہوشیار پور ——— مدثر احمد

0
  • 59
    Shares

یہ ایک غیر ملکی انٹرنیشنل پرواز تھی۔ جہاز بھارت کے اوپر پرواز کرتے ہوئے بنکاک جا رہا تھا جہاں میں نے ایک سیمینار میں شرکت کرنا تھی۔ یہ آدھی رات کا وقت تھا۔ میں کھڑکی کے ساتھ سیٹ پر بیٹھا ہوا غور سے ہندوستان کے روشنیوں سے ابھرتے ڈوبتے مختلف شہروں کو پہچاننے کی کوشش میں تھا۔ ہندوستان ہر پاکستانی کے لیے خاص ہے۔ یہ کبھی دشمن ہے۔ کبھی ہمسایہ ہے۔ کبھی تاج محل کی خوبصورتی ہماری شاعری کا حصہ بنتی ہے کبھی ہمیں لال قلعہ پر سبز جھنڈا لہرانے کا خیال پریشان رکھتا ہے۔ ہم بچپن سے ہندوستانی فلمیں دیکھتے آئے ہیں۔ کرکٹ کے شیدائی ہیں لیکن ٹنڈولکر کو دل سے سب سے بڑا بلّے باز نہیں مانتے۔ بھارتی چینلز کی بندش ہمارے ٹی وی سے تمام رعنائیاں چھین لیتی ہے۔ ہمارے ہیڈ لائنز میں لائن آف کنٹرول پر بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ اور کسی بھارتی celebrity کی سالگرہ دونوں کی خبریں ملتی ہے۔ الغرض ہم اس سے نفرت کریں یا نا پسند کریں۔ اس کو غیر اہم نہیں قرار دے سکتے۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کا تصور اور بھی مشکل اور مبہم ہوتا جا رہا ہے۔

تو بات ہو رہی تھی ایک فضائی سفر کی۔ میں اصل میں روشنی کے مختلف جزیروں کو جو دور اور پاس دکھائی دیتے نظروں سے اوجھل ہوئے جا رہے تھے ان میں ایک خاص جزیرے کی تلاش میں تھا۔ میں ہوشیار پور کو ڈھونڈ رہا تھا۔ اس شہر کا ذکر میرے بزرگوں کی تمام باتوں میں ملتا ہے۔ میرے ماں باپ اس شہر میں پیدا ہوئے اور اُن کے آباو اجداد اسی مٹی میں دفن ہوئے۔ ہم میں سے کوئی پلٹ کر اس شہر میں واپس نہ جا سکا۔ ہمیں خبر نہیں کہ ہمارے گھر کو بعد کے آباد کاروں نے کس حال میں رکھا۔ اُس کے کمروں کو آپس میں کس ترتیب میں بانٹا۔ گھر کے کس حصّے کو عبادت کے لیے محفوظ کیا گیا۔ جانور باندھنے کے لیے کونسا حصّہ چنا گیا۔ کب کب اُن چھتوں پر بارش برسی۔ اس کی کھڑکیوں سے باہر کا منظر کیسا لگتا رہا۔ گھر کی تزئین، رنگوں کے انتخاب اور گھر والوں کے ذوقِ تعمیر کے بارے میں بعد کے مکینوں نے کیا تعریف، تنقید کی۔ ان مکینوں نے اپنی ضرورتوں کے لیے گھر کے نقشہ میں کیا ترامیم کیں۔ کب اس پختہ گھر کی چھتوں سے پانی رسنے لگا۔ کب اس کو دوبارہ رنگ دیا گیا۔ گرا کر پھر بنایا گیا، ہمیں کوئی خبر نہیں۔

محبت بلاشبہ ایک فطری جذبہ ہے۔ ماں باپ سے، اُن کے آبادی شہر اور گھر سے محبت یا اپنائیت کا احساس سمجھا جا سکتا ہے۔

میں ہوائی جہاز سے ہوشیار پور کو نہیں ڈھونڈ پایا۔ جہاز بہت آگے بڑھ چکا تھا۔ میں اب ایک تحیّر کے سفر پر تھا۔ میں ہوشیار پور کو دیکھ سکتا تھا۔ یہ اگست 1947 ہے۔ ہوشیار پور کی ایک گلی کے کونے پر ایک سہ منزلہ مکان جو گلی کے دونوں طرف تعمیر شدہ اور اوپر سے متصل ہے نظر آ رہا ہے۔ ساری گلی میں غیر مسلم لوگوں کے گھر ہیں۔ اس کونے والے گھر کو پچھلے کچھ دنوں سے پاکستان کے نام سے پکارا جانے لگا ہے۔ گھر میں صرف تین لوگ مقیم ہیں۔ ایک خاتون ایک سات سالہ لڑکا اور ایک شیر خوار بچّی۔

گھر کا سربراہ روزگار کی مصروفیات کی بنا پر اپنے گھر سے کوسوں دور ہندوستان کے دوسرے کونے کلکتہ میں ہے۔ گھر والوں کے پاس اُن سے رابطے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ عزیز و اقربا گھر بار چھوڑ کر واہگہ کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ آس پاس کے لوگ کسی بھی وقت جتھے کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ صورتِ حال ایک سات سال کے لڑکے کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ وہ سوچتا ہے لوگ اپنے گھر چھوڑ کر کیوں جا رہے ہیں۔ پاکستان کیسا دیس ہے اور اس کے گھر کو پاکستان کیوں کہتے ہیں۔ اب وہ گلی میں کیوں نہیں جا سکتا۔ ماں کیوں سہمی سہمی سی رہتی ہے۔ کیا میں بھی اپنا گھر چھوڑ دوں گا۔ تو پھر ہم کہاں جائیں گے۔ پاکستان مگر کس کے پاس۔ ابو کب آئیں گے۔

تین پاکستانیوں کا ایک مختصر سا قافلہ۔ زادِ راہ کو ایک گھٹڑی میں باندھے۔ دن کے اُجالے سے پیشتر اپنے گھر کو تالا لگائے بغیر ایک اَن دیکھے دیس کے لیے چل پڑتا ہے۔ اس سفر کی نوعیت اسلام آباد سے بنکاک کی پرواز جیسی مختصر اور آرام دہ نہیں۔ خوف اور بھوک کا یہ سفر میلوں پہ محیط تھا جو ہفتوں میں طے ہوتا ہے۔ قافلہ جب واہگہ پہنچا تو یہ خاندان اور بھی مختصر ہو چُکا تھا۔

جہاز کا کپتان سیٹ بیلٹ باندھنے کی ہدایت دے چکا تھا۔ میں ٹِشو کی تلاش میں کوٹ کی جیبیں ٹٹول رہا تھا۔ بنکاک میں صبح کا سورج طلوع ہو چُکا تھا۔


یہ بھی ملاحظہ کریں: یومِ آزادی: ایک زاویہ فکر ۔۔۔ ذوالقرنین سرور

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: