مڈل کلاسیے ——- محسن رضا

0
  • 10
    Shares

مڈل کلاس ایک ایسی کلاس ہوتی ہے جو نہ تین میں ہوتی ہے نہ تیرہ میں لیکن کسی بھی ملک کی معیشت کو مستحکم اور متوازن رکھنے میں بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے کیونکہ پیشہ ور ملازمین اور ٹیکس ادا کرنیوالے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسی کلاس سے تعلق رکھتی ہے یہ الگ بات کہ ٹیکس کی ادائیگی بوجہ مجبوری کرتے ہیں۔ انکی مثال بالکل آلو کی سی ہے کہ جو ہمارے ہاں ہر موسم میں اور ہر علاقے میں بکثرت پائے جاتے ہیں، فی نفسہ تو انکی کوئی خاص قدرومنزلت اور وقعت نہیں ہوتی مگر یہ ہر سبزی کا گہنہ اور مانگ کا سندور ہو تے ہیں انکے بغیر موصوفہ بیوہ ہو جائے، انکا وجود معاشرے میں اتنا ضروری ہے جتنا خاندان میں پھپھو کا۔ بات سخن گسترانہ ہے چنانچہ کنایہ پر ہی گزارہ کر لیجیے۔

اب کچھ سادھو لوگوں کے ذہن میں فوراً ایک بھونڈا سا سوال اٹھے گا، اجی یہ مڈل کلاسیے ہوتے کیسے ہیں، کیسے دکھتے ہیں، کہاں پائے جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ تو انکے لیے عرض ہے۔

محل وقوع: ملک بھر کے ہر شہر ہر بستی ہر قریہ میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک بے تحاشہ، بلا وجہ، بے تُکا اور بے حساب و بیشمار پائے جاتے ہیں۔

مزید نشانیاں:  مہینے کے اوائل میں یہ عیش و عشرت کیساتھ رہتے ہیں، ان دنوں میں یہ آپ کو اے ٹی ایم کی لائن میں لگے نظر آئینگے، بازار میں سب سے اونچی مُنڈی اور کوہان انہیں کی ہوگی، طبیعت میں اچانک چھچھورا پن کود آتا ہے نتیجتاً گنگناتے ہوئے نظر آئینگے، خریداری کا یہ عالم کہ اس شاپنگ مال سے نکلے تو اس میں جا گھسے وہاں سے نکلے تو کہیں اور جا دھمکے، یہ راشن لیا جارہا ہے، بیگم کپڑے والی دوکان سے جو نکلی تو جوتوں والے کے درپے ہوگئی ادھر سے جو نکالا تو منیاری والے کیطرف لپک گئیں، گویا مالِ مفت دل بے رحم والی مصداق غالب آئے، بل اتارے جا رہے ہیں، بچوں کے واجبات ادا کیے جارہے ہیں گویا آج یہ حاتم طائی ثانی بنے پڑے ہیں۔

مگر رکیے، ٹھہرئیے فلم کا ڈراپ سین بھی دیکھتے جائیے! وہ کہتے ہیں نا کہ ‘چار دن کی چاندنی پھراندھیری رات’ مہینے کے اواخر میں یہ ایسے عزلت گزیں اور مردم بیزار ہو جاتے ہیں کہ گلی کوچوں میں یوں گھومتے نظر آئینگے گویا یادداشت رفع ہو گئی ہو، تمام شوفر و بانکپن رفع ہو جاتا ہے، اندر کا گلوکار گم گشتہ و لب بستہ و گنگ ہو جاتا ہے اور ہاتھوں سے بالکل ایسے ہی خالی ہوبیٹھتے ہیں جیسے دُنیا میں آئے تھے، چال ڈھال میں بلا کی متانت، شرافت، انکساری اُمڈ آتی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موصوف کسی تبلیغی جماعت کے امیر ہیں۔ اپنی اسی معصومیت کے بل بوتے پر یہ ان دوکانداروں سے بھی ادھار سودا سلف مار لاتے ہیں جنہوں نے اپنی دوکان کے نام سے بڑا بورڈ یہ لکھ کر آویزاں کیا ہوتا ہے ‘اُدھار محبت کی قینچی ہے’ یا ‘اُدھار مانگ کر شرمندہ مت کریں’۔

ملنے کا ہتہ:  ملنے کا پتہ یہ ہے کہ جب بھی کبھی آپکا گزر کسی گلی محلے سے ہو تو جس گھر کے پایۂ چوکھٹ پر خبروں کا ایک پلندہ (اخبار) پڑا جمائیاں لے رہا ہو یا جس گھر کے سامنے کوئی سائیکل موٹر کسی گیس پائپ کیساتھ بذریعہ لاک بغل گیر ہو یا کوئی صاحب اپنی قسطوں والی بوسیدہ مہران کو مانجھ رہے ہوں یا بجلی کے میٹر کو گومگو کی حالت میں دیکھ رہے ہوں اور گھر کے باہرایک عدد گھسی ہوئی گھنٹی جو کہ غالب امکان یہی ہے کہ معدوم و بیزار حیات ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسمیں برقی رو دوڑ رہی ہو اور اسکو چھونے پر آپکی جو چیخ برآمد ہو وہی انکے کیلیے گھنٹی کا کام دے اور مابدولت بڑی طمانیت کیساتھ برآمد ہوں۔ اسی گھنٹی کی بغل میں نام پلیٹ کے اوپر نام کیساتھ جلی حروف میں ڈاکٹر، وکیل، انجینئیر، پاک فوج یا پروفیسر درج ہو گا۔

کھانا:  جیسے چینی لوگ ہر سال کو کسی نام کیساتھ منسوب کرتے ہیں اسی طرح کھانے کے اعتبار سے بھی انکے ہاں مہینے کے تمام ہفتوں کے نام کچھ یوں ہوتے ہیں:

پہلے ہفتے میں بڑے زوروں سے ‘باہر کے کھانوں’ سے گلچھرے اڑائے جاتے ہیں۔
دوسرے ہفتے میں ذرا زور کم ہوتا ہے تو ‘مٹن، بیف اور بریانیوں’ کے دور چل نکلتے ہیں۔
تیسرے ہفتے میں مرغ شریف کو ‘مختلف سبزیوں’ کے ساتھ یکے بعد دیگرے عقد نکاح میں باندھا جاتا ہے۔
جبکہ آخری ہفتے میں ایسا غدر پڑتا ہے کہ حالات از حد جانکاہ ہو جاتے ہیں اور ‘دال دال’ کا ورد پکایا جاتا ہے۔
ایک مہمان کی ستم ظریفی کہ وہ ایسے صاحب کے گھر عین آخری ہفتے میں وارد ہوئے اور کسی وجہ س یہ دورانیہ طوالت پکڑ گیا ایک دن کھانے کی میز پر یونہی بیٹھے بیٹھے میزبان نے ازراہِ معلومات تاریخ دریافت کی، ادھر مہمان تو دال کو دیکھ کر جلے بھنے بیٹھے تھے جھینپتے ہوئے بولے اجی صاحب تاریخ کا تو معلوم نہیں مگر دال کی آج سات تاریخ ہو گئی ہے’ یہ کمبخت ہفتہ ایسا منحوس ہوتا ہے کہ اگر اس ہفتے میں یہ اپنے طوطے سے بھی ہوچھ لیں کہ میاں مٹھو چوری کھانی تو وہ بھی جھلا کر بولے گا، ‘کیوں مرچیں ختم ہو گئی ہیں ‘
خیر یہ بھی ‘ہر رنج رفتنی ہے اور ہر عیش گزشتنی’ کا خیال دل میں رکھے یہ ابھاگن گھڑیاں گزارتے ہیں۔ اور کیلنڈر پر نظریں جمائے زیرِ لب و زیرِ قلب تاریخوں کو برق پا رہتے ہوئے یکم تاریخ کو یوں مدعو کرتے ہیں کہ

قاصد! پیام شوق کو اتنا نہ کر طویل
کہنا فقط یہ ان سے کہ آنکھیں ترس گئیں

زبان:  زبا ن کے معاملے میں یہ انتہائی ستیہ گر ثابت ہوتے ہیں۔ نہ اردو میں وہ روانی رہتی ہے نہ اپنی مادری زبان پہ گرفت اور انگریزی تو ایسی کہ ساری زندگی کی بھی اکٹھی کرلیں تو بمشکل ساڑھے تین یا چار منٹ کی بول پائیں اسکے بعد انکی تھوتھنی سے انگریزی کم اور آآ، ای ای، ریں ریں اور روں روں کی آوازیں زیادہ نکلتی ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: