بجوابِ آں جوہر افشانی —- منیر احمد خلیلی

3
  • 202
    Shares

’دانش ڈاٹ پی کے‘ ویب سائٹ میرے لیے اجنبی نہیں ہے۔ اِس کے آغاز کے ساتھ ہی میری تحریریں اِس پر شائع ہونے لگی تھیں۔ علمی، فکری، صحافتی اور ادبی حلقوں سے کافی عرصے سے کٹا ہوا ہوں اس لیے مجھے اپنی محرومی کا افسوس ہے کہ جناب محمد دین جوہر جیسے دانشور کی نگارشات پڑھنے کااس سے قبل موقع نہ ملا۔ دانش نے بڑی دھوم دھام سے ان کا ایک فکر انگیز مقالہ بعنوان ’مذہبی جماعتیں، سیاسی عمل اور اقتدار‘ ابھی تازہ تازہ شائع کیاہے۔ موصوف کا پیرایہ ٔ ِ اظہار ’آئے اور چھا گئے‘ کا سا ہے۔ موصوف نے دانش کے پانی پت میں پہلا حملہ پے در پے سوالات اٹھا کر کیا ہے۔ موصوف کے لہجے میں جتنی متانت ہے اسلوب میں اتنا ہی ثقیل اور اگر برا نہ منائیں تو تحریر سے ’ارسخ العلمی‘ یا ہمہ دانی کا تاثر بھی پھوٹ پھوٹ کر نکلتا ہے۔ میری آنکھوں میں سفید موتیا اُترا ہوا ہے۔ اس تکلیف میں کتب کی ورق گردانی اور گہری تحقیق ممکن نہیں۔ لیکن تکلیف کے باوجود جی چاہا کہ اُن کی طویل تحریر کا نکتہ بہ نکتہ جواب نہ بھی دے سکوں تو کم از کم دو تین اہم نکات پر گفتگو کر کے یہ ’رسید‘ دے دوں کہ ’مذہبی‘ نے انہیں پڑھ لیا ہے۔

ان کی تحریر کے آغاز میں اُن کا جو بھاری بھرکم تعارف درج ہے اُس کی روشنی میں یہ حُسنِ ظن رکھا جا سکتا تھا کہ ریاست و سیاست اور جمہوریت، انتخاب جیسے موضوعات پر وہ زیادہ نہیں تو مولانا مودودی ؒ کے خیالات سے اچھی طرح واقف ہوں گے اور انہوں نے علامہ اقبالؒ کے سیاسی نظریات کا بھی گہرائی سے مطالعہ کر رکھا ہو گا۔ لیکن تحریر پڑھ کر یہ حُسنِ ظن رفع ہو گیا۔ اُن کی تحریرمیں سیکولر فکری چمن اور ذہنی فضا کی مہک ہے۔ محمد دین جوہر صاحب کے مضمون کی سرخی ہی سے سوال نکالیں تو پہلا سوال یہ بنتا ہے کہ کیا مذہبی جماعتیں اقتدار کے لیے سیاسی عمل میں کود سکتی ہیں یا نہیں؟ اُن کا رُجحان واضح طور مذہبی جماعتوں کے سیاسی عمل کی نفی کا ہے۔ اُنہیں مذہبی سیاسی عمل کے پیچھے بہت دور شاید کوئی اور نظیر نہیں ملی چنانچہ اُنہوں نے جو مقدمہ قائم کیا وہ یہ ہے کہ بر صغیر کی مذہبی جماعتوں کا سیاسی عمل وہابی تحریک کی رِیس یا نقالی ہے۔ بات کو سمجھنے کے لیے ہم بھی کچھ سوال اٹھا کر اُن کے جواب تلاش کرتے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ اسلام کا سیاست سے کوئی تعلق واسطہ ہے یا نہیں؟ قطع نظر اِس تلخ حقیقت سے کہ پاکستان کے حالیہ انتخابات میں عمران خان کن پوشیدہ قوتوں کی مدد سے جیتے اور اقتدار کی منزل تک پہنچے، بحیثیت PM-in-waiting انہوں نے جو تقریر کی اُس میں مدینہ کی ریاست کی طرز پر نظام چلانے کا عہد کیا۔ آکسفورڈ کا جدید تعلیم سے آراستہ ایک ایسا شخص جس کی جوانی کا بڑا حصہ مغربی لائف سٹائل کے ساتھ گزرا۔ جس نے پہلی دو شادیاں الٹرا ماڈرن خواتین سے کیں، جس کے جوان بیٹے برطانوی شہریت کے ساتھ، برطانوی کلچر کے مطابق برطانیہ ہی میں زندگی گزار رہے ہیں، جس کی پارٹی کے بہت سے لیڈر مذہبیت کی شناخت سے الرجک ہیں، جس کے جلسوں کی رونق زیادہ تر ماڈرن نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوتے تھے، جس کے دھرنوں کی ساری رونق موسیقی سے تھی، وہ جب حکومت میں آ کر مدینہ کی ریاست کے طرز پر چلانے کا عہد کرتا ہے تو اِس کا مطلب ہے کہ مدینہ کی ریاست کوئی افسانوی چیز نہیں بلکہ تاریخ کے اوراق میں ثبت ایک ٹھوس، دائمی اور قابلِ تقلید حقیقت ہے۔ یہ حقیقت ہر مسلمان فرد، سماجی تنطیم اور سیاسی جماعت کو متأثر و متحرک کرتی ہے۔ اور دوسرا سوال جو عمران خان کے مدینہ کی ریاست کو اپنی حکمرانی کے لیے نظیر بنانے کے عہد یا عزم سے پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ کیا یہ عہد یا عزم مذہبی سیاست اور اقتدار سے جڑی ہوئی سچائی نہیں ہے؟ کیا اس سے یہ حقیقت واضح نہیں ہوتی کہ آکسفورڈ کی جدید تعلیم سے آراستہ سیاست دان بھی اقتدار تک پہنچنے یا اس کے استحکام کے لیے مذہبی سیاست کر رہا ہے؟ اگر عمران خان جیسا ماڈرن انسان مدینہ کی ریاست کو اپنی حکمرانی کی بنیاد بنا سکتا ہے توکیا مذہبی جماعتیں اِس عہد اور عزم کے ساتھ سیاست نہیں کر سکتیں کہ وہ بھی مدینہ کی ریاست کی طرح کا نظام قائم کریں گی؟

اب ہم فاضل مقالہ نگارکی اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ مذہبی جماعتوں کا سیاسی عمل وہابیت کے زیرِ اثرہے۔

شیخ محمد بن عبدالوہّاب ؒ کی تحریک کا تجزیاتی مطالعہ کیا جائے تو وہ سیاسی سے زیادہ ایک اصلاحی تحریک تھی جس کے پیشِ نظر عقائد اور اخلاق کی اصلاح اور معاشرے میں پھیلی ہوئی بدعات اور مذہب کے نام پرجاری جاہلی رسومات کا تدارک تھا۔ انہوں نے اِن مقاصد کے لیے آلِ سعود سے تعاون حاصل کیا۔ آلِ شیخ اور آلِ سعود کے مابین طے پانے والے معاہدے کے تحت ریاست کے مذہبی امور آلِ شیخ کے زیر نگرانی رہنے تھے اور سیاسی نظام سارے کا سارا آلِ سعود کے ہاتھوں میں رہناتھا۔ شاہ ولی اللہ ؒ ایک مجدّد تھے۔ ہندوستان میں اُن کی دینی فکر دو شاخوں میں بٹ گئی تھی۔ سیّد احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کے افکار اور محمد بن عبدالوہّابؒ کے افکار میں گہری مماثلت تھی۔ دوسری شاخ کا ظہور مولانا قاسم نانوتوی ؒ کی قیادت میں مدرسۂ دیوبند کی صورت میں ہوا۔ اِس پر شاہ ولی اللہؒ کے متصوفانہ تصورات کی گہری چھاپ رہی۔ میں نے سیرت سیّد الابرار ﷺ کے نام سے سیرت نبوی پر اپنی کتاب میں بعض مقامات پر اسلام کے اِس مزاج کا بطورِ خاص ذکر کیا ہے کہ یہ ’کبھی تم کبھی ہم، کہیں تم کہیں ہم اور کچھ تم اور کچھ ہم‘ کے اصول پر باطل سے کوئی مصالحت کر ہی نہیں سکتا۔ محمد بن عبدالوہّاب نے اپنی تحریک کے لیے آلِ سعود کی پشت پناہی حاصل کی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاملات مذہب میں اپنی اور معاملاتِ سیاست میں آل سعود کی اتھارٹی مان کر گویا ایک مصلحت آمیز سمجھوتہ کیا تھا۔ ہم اِس بحث میں نہیں پڑتے کہ مدینہ کی ریاست کی طرز پر نظام چلانے کا دعویدار ہمارا نو منتخب وزیر اعظم عمران خان کب اور کہاں کس کس سے کن کن مصلحتوں کے تحت مصالحت پر مجبور ہوا اور عرصۂ ِ حکومت میں مجبور ہو گا۔ محمد بن عبدالوہّاب ؒ کے سامنے بھی نمونہ تو مدینہ کی ریاست ہی کا تھا اور وہ قُرآن و سنت و سیرت کے معاملے میں مخلص بھی تھے۔ کیا عمران خان کا یہ اعلان بھی وہّابیت کے زیرِ اثر ہے کہ وہ پاکستان کو مدینہ کی ریاست کا نقش اجاگر کریں گیَ عمران خان کا آئیڈیل تو ملائشیا کا مہاتر محمد ہے جو نیم لبرل اور نیم سیکولر سیاست دان ہے۔ عمران خان پر کسی قدر دوسرا اثر ترکی کے صدر طیب اردگان کاہو سکتا ہے لیکن طیب اردگان نے کبھی محمد بن عبدالوہّاب کو اپنا آئیڈیل نہیں بتایا۔ اُن پرشیخ بدیع الزّمان نورسی ؒ کا رنگ نمایاںہے جو نقشبندی صوفی سلسلے سے وابستہ تھے۔ اس وقت عمران خان کے قلب و ذہن پر اثر انداز ہونے والی سب سے بڑی قوّت اُن کی تیسری منکوحہ ہیں جن کی وہّابیت سے دور تک کی کوئی نسبت نہیں ہے۔ وہ توہم پرست خاتون ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: فکر مودودی اور جماعت اسلامی: تجزیہ ۔ مجاہد حسین(حصہ اول)

 

جوہر صاحب نے مذہبی سیاسی عمل کی بحث کو بطورِ خاص وہّابیت پر مرکوز کرکے سیاست کی اُن متعدد فکری اور عملی لہروں کو سہواً یاعمداً نظرانداز کیا جو طویل مدت گزرنے کے باوجود ہماری دینی سیاسی افکار پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اِمام ابن تیمیہ ؒ کے سیاسی نظریات سے چشم پوشی کی۔ مُسلم اُمت کے سیاسی فکر پر ابن خلدون کے بعد سب سے گہرے اثرات مرتب کرنے والے ابو الحسن الماوری کو بھی انہوں نے لائق اعتنا نہیں سمجھا۔ شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ پر بھی اُن کی نگاہ نہیں ٹِکی جنہوں نے مغلیہ سلطنت کے ضعف اور مرہٹوں کی بڑھتی ہوئی قوت کے ہند و پاک کی دینی، اخلاقی، سیاسی اور سماجی زندگی کے لیے امڈتے ہوئے خطرات کو بھانپ کرمرہٹوں کی یلغار روکنے کے لیے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پر حملے کی دعوت دی تھی۔ سیّد احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہید ؒ کی تحریکِ جہاد کے مغز میں بھی اُن کو سیاست نہیں ملی۔ انہوں نے اُس فتویٰ ِ جہادکو بھی فراموش کیا جو ہندوستان پر برطانوی قابضوں کے خلاف علامہ فضل حق خیرآبادی ؒ نے دلی کی جامع مسجد میں کھڑے ہو کر جاری کیا تھا اور اس وقت کے کئی نامور مسلمان رہنمائوں نے اُس کی تائید کی تھی۔ اُس کی پاداش میں اس بطلِ حُریّت کو کالاپانی (سیلولرجیل) میں ٹھونسا گیا تھا اور پھر وہیں انہیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔ انہیں شاید یاد نہیں آیا کہ تحریکِ خلافت تک برّ صغیر پاک و ہند میں اٹھنے والی ہر بڑی تحریک کی قیادت عُلماء کے ہاتھ ہی میں رہی۔ اس وقت پاکستان کی مذہبی جماعتوں میں سے صرف اہلِ حدیث گروہ ہے جس پر وہّابی تحریک کا اثر ہو۔ جمعیت عُلمائے اسلام کی مادر تنظیم جمعیت علمائِے ہندکے قیام سے لے کر اب تک محمد بن عبدالوہّاب ؒ کے بجائے آل انڈیا کانگریس کا اثر رہا ہے۔

مذہبی سیاست کا دوسرا دور بیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے اواخرتحریکِ خلافت کے انجام کے بعدشروع ہوا۔ اپنی مسلم قومیت کی شناختی بازیافت اور اِس قوم کے لیے مذہب ہی کی بنیاد پر ایک نئے وطن کا تصور علامہ اقبالؒ نے پیش کیا تھا۔ ہمیں نہیں معلوم جناب محمد دین جوہر کے اقبالؒ کے بارے کیا خیالات ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف پاکستانی قوم ہی نہیں، عرب و عجم میں ترکی ا ور ایران سے لے کروسطِ ایشیا اور ادھر شمالی افریقہ کے ممالک تک مسلمان انہیں بیسویں صدی کا نابغہ اور مسلم اُمت کا حقیقی ترجمان مانتے ہیں۔ اقبالؒ کی نظر میں مسلم مِلت یا مسلمان قوم کا جوہر ترکیب کیا تھا اور تشکیلِ قوم و ملت میں مذہب کی کیا حیثیت ہے، اِسے جاننے کے لیے بانگِ درا میں اُن کی ’مذہب‘ کے عنوان سے تین شعروں پر مشتمل نظم دیکھ لیجیے:

اپنی مِلّت  پر  قیاس  اقوامِ  مغرب  سے   نہ   کر
خاص  ہے   ترکیب   میں  قومِ  رسولِ  ہاشمیؐ
اُن  کی  جمعیّت  کا  ہے  ملک  و  نسب  پر  انحصار
قوّتِ  مذہب  سے  مستحکم  ہے  جمعیّت   تری
دامن  دِیں  کا  ہاتھ  سے  چھُوٹا  تو  جمعیّت  کہاں
اور   جمعیّت  ہوئی  رخصت  تو  ملّت  بھی  گئی

اِس کے ساتھ ہی اقبالؒ نے ’جدا ہو دِیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘ کے الفاظ میں دِین اور سیاست کے باہمی تعلق کو بھی بیان کر دیا ہے۔ دانش کے مقالہ نگار نے جو بعض دلچسپ مفروضے قائم کیے وہ بھی خوب ہیں۔ میرا حسنِ ظن ہے کہ وہ ایک نیک اور پارسا انسان ہیں۔ تصویر میں اُن کا جو حلیہ دِکھ رہا ہے اُس سے غمازی ہوتی ہے کہ وہ تصوف کے رنگ میں رنگی ہوئی با صفا ہستی ہیں۔ لیکن اُن کے خیالات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ کسی سیکولر دماغی فیکٹری کا تیار کردہ فکری مال ہے۔ ان کے اِن الفاظ سے کہ مذہبی سیاست کے اِجرا کا اصل محرّک معاشرے کی بے دِینی ہے،حقارت اور ذم ٹپکتا محسوس ہوتا ہے۔ مسلمان معاشرے میں اگر تیزی سے بے دینی پھیل رہی ہو، اخلاقی قدریں تباہ ہو رہی ہوں، شرم و حیا کی روح مٹ رہی ہو، خاندانی نظام رو بہ تنزل ہو تو کیا یہ صرف مذہبی جماعتوں کے لیے تشویش کی بات ہے؟ اِس صورتِ حال پرجناب محمد دین جوہر سمیت ہر صاحبِ احساس اور مہذب و معقول شخص مضطرب اور بے چین نہیں ہو گا؟ اگرمذہبی جماعتیں معاشرے کو بے دینی سے بچانا چاہتی ہیں تو اُن کی تحسین کی جانی چاہیے یا انہیں طنزو طعن او رملامت اور مخالفت کا نشانہ بنانا چاہیے؟ اُن کا ایک اور فرمان یہ ہے مذہبی جماعتیں تقویٰ کو جبر سے نافذ کرنا چاہتی ہیں۔ اُن کے اس خیال کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے الدّین النصیحۃ، دعوت و اصلاح، تذکیر وتبلیغ، اِنذارو تبشیر، تزکیہ و تطہیراور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسی قُرآن و حدیث کی اصطلاحیں کبھی پڑھی سنی ہی نہیں اور سیرتِ نبوی ؐ کی کوئی کتاب کھول کر کبھی کھول کر دیکھی ہی نہیں۔ وہ اِن دینی جماعتوں کو بالکل اُجڈ اور گنوار سمجھتے ہیں جنہیں دِین کی کوئی سمجھ ہے اور نہ دنیا کی کوئی خبر۔ صحیح ُ الفکر قدیم و جدید مسلم سماجی ماہرین اور مذہبی سکالر اِس امر پر متفق ہیں کہ ایک مسلم ریاست کے حکمرانوں کی بنیادی ذمہ داریوں میں شہریوں کی جان و مال، عزت و آبرو، معاشی مواقع، عقلی اور جسمانی قوتوں، عقائد و اخلاق اور ریاست کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت، اقلیّتوں کے حقوق کی ضمانت اور عدل و انصاف کی فراہمی اوّلین ذمہ داری ہے۔ مغرب کی جدید جمہوری ریاستوں نے جن باتوں کو انسانی حقوق کا نام دیا ہے ان کی حفاظت مدینہ کی ریاست کے آئینی نقشے پر قائم ہر حکمران پر لازم ہے۔ اُن کے دستوروں میں بھی کم و بیش یہی حکومتی ذمہ داریاں ہیں۔

۔۔۔ان کے اِن الفاظ سے کہ مذہبی سیاست کے اِجرا کا اصل محرّک معاشرے کی بے دِینی ہے،حقارت اور ذم ٹپکتا محسوس ہوتا ہے۔ مسلمان معاشرے میں اگر تیزی سے بے دینی پھیل رہی ہو، اخلاقی قدریں تباہ ہو رہی ہوں، شرم و حیا کی روح مٹ رہی ہو، خاندانی نظام رو بہ تنزل ہو تو کیا یہ صرف مذہبی جماعتوں کے لیے تشویش کی بات ہے؟

محترم محمد دِین جوہر کے اندر اگر کوئی تعصّب گھر نہ کیے ہوئے ہو تو وہ اِس حقیقت کوتسلیم کریں گے کہ افغانستان میں مُلا عمر کی طالبان حکومت کی بدھ مجسموں کو توڑنے اور اسامہ بن لادن اور اُن کی تنظیم القاعدہ پر کڑی نظر اور مضبوط کنٹرول نہ رکھنے جیسی کچھ بہت بڑی غلطیوں سے قطعِ نظر، اُس حکومت نے اوپر درج ریاستی فرائض کو کماحقہٗ انجام دیا تھا۔ پے در پے جنگوں سے تار تار ملک، جس میں وار لارڈز کی وحشیانہ من مانیاں اپنے اپنے علاقے میں قانون کا درجہ اختیار کر گئی تھیں، طالبان حکومت نے انہیں قانون کا پابند اور ریاست کے تابع کر لیا تھا۔ ہیروئن کی فیکٹریاں تباہ کر دی تھیں اور پوپی کی فصل اگانے پر سخت پابندی عائد کر دی تھی۔ ملک کے 95%حصے میں مکمل امن و امان قائم کر دیا تھا۔ امن و امان کے پہلو سے افغانستان امریکہ اور یورپی ممالک پر سبقت لے گیا تھا۔

تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کی صورت میں جو دہشت گرد وحشی بلاوجود میں آئی تھی اس کی اٹھان اور فروغ کے اسباب کا حکومتی سطح پر، حقوقِ انسان کی تنظیموں، سماجی تحقیقی اداروں اور NGOs کی طرف سے آج دن تک کوئی غیرمتعصبانہ، دیانت دارانہ اور بے لاگ تجزیہ کیا ہی نہیں گیا۔ وہ غیر ریاستی عناصر ہماری بحث کا موضوع نہیں ہیں۔ ملک کی مذہبی جماعتوں کے منشور اور پروگرام پر نظر ڈالیں۔ اُن میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں جو ووٹ کے ذریعے تبدیلی لانے کے بجائے بندوق کی نوک پر اقتدار پر قبضہ کرنا اور جبر سے تقویٰ پھیلانا چاہتی ہو۔ پاکستان کے قیام کے بعد جتنے انتخابات ہوئے الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ مذہبی جماعتوں نے ان میں اسی بنا پر حصہ لیا کہ جمہوری عمل اُن کی ترجیح ہے۔ انتخابی ہار جیت جمہوریت کا حصہ ہے۔

قیاس ہے کہ عمران خان ہی دانش کے مقالہ نگارکے پسندیدہ لیڈر ہیں۔ خان صاحب کو سیاست میں اُترے دو عشروں سے بھی زیادہ مدت بیت گئی۔ انہیں پے در پے ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑا۔ آخر اُنہیں اُن بالادست قوتوں کا سہارا لینا پڑا جن محسنوں کو وہ خود امپائر کہتے تھے۔ کوئی خلائی مخلوق کہتا ہے اور کوئی ’محکمہ زراعت‘ کا نام دیتا ہے۔ اُن کی پشت پناہی کرنے والی قوتوں نے انہیں اکھاڑے میں اتارنے سے پہلے جو جتن کیے انہیں دیکھ کر حیرت سے زیادہ غیرت آتی ہے۔ بلوچستان میں کیسے ایک حکومت ختم کی گئی اور سینیٹ کے انتخابی شفافیت کے تالاب کو گندے جوہڑ میں بدلا گیا، کیسے چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہوا۔ الیکشن سے پہلے اس پارٹی کو توڑنے کے لیے نادیدہ قوتوں نے الیکٹ ایبلز اور دیگر لالچی اوربزدل لوگوں کو کیسے تحریکِ انصاف میں شامل کیا۔ الیکشن سے پہلے نواز شریف کو کس طرح عدالتی فیصلوں کی رسیوں سے باندھا اور پھر کس طرح پکڑ کر جیل میں ٹھونس کرعمران خان کے لیے میدان صاف کیا گیا۔ کارپوریٹ سیکٹر کے پابند میڈیا کے بڑا حصہ کو کیسے عمران خان کی پروجیکشن پر لگایا گیا۔ جو صحافی اور کالم نگار اس پابندی کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہوئے ان کی زبان اور قلم پر بندش کی ایسی پر اسرار گرہیں لگائی گئیں جو بدترین آمروں کو بھی نہ سوجھی تھیں۔ اس کے باوجود بھی الیکشن میں ہولناک دھاندلی کی ضرورت پیش آئی۔ اتنی کوشش کر کے بھی جب وزارتِ عظمیٰ کے منصب کے لیے اسمبلی میں مطلوبہ گنتی پوری نہ ہوئی تو جس طریقے سے آزاد ارکان کو ہانکا لگا کر حمایت پر آمادہ کیا گیا اس نے اس منصب کو وقار بخشنے کے بجائے بے اعتبار بنا دیا۔ یہ تفصیل میں نے اس لیے درج کر دی کہ حضرت محمد دین جوہر پر یہ حقیقت آشکارا ہو جائے کہ مذہبی جماعتیں ہزیمت کیوں اٹھاتی ہیں۔

جناب محمد دین جوہرکی تحریر کے لہجے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ان کے منصۂ ِ ظہور پر جلوہ افروز ہونے سے پہلے دنیا فکر کی ظلمتوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ان کی جوہر افشانی ہی نے دانش و بینش کی بتیاں روشن کیں، ان کے خامہ کی جنبش سے فراست نے انگڑائی لی، ان کے قلم کی ضرب سے حکمت کے چشمے جاری ہوئے ہیں۔ نیز یہ کہ مذہبی جماعتیں تو عقل کی اندھی اور تدبّرسے یکسر خالی ہیں۔ موصوف کے زعم دانش کے بارے میں اگر میرا یہ گمان غلط ہے تو وہ مجھے معاف فرما دیں۔

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. عثمان سہیل on

    خلیلی صاحب کا مضمون بلاشبہ واقعاتی دلائل اور مذہبی شخصیات کی جدوجہد سے پُر ہےلیکن اس سوال کا جواب نہ مل سکا ہے کہ وہ “مروجہ سیاسی عمل” جو کہ اپنی ا صل میں سیکولر ہے کی مذہبی حیثیت کیا ہے؟ کیا اس کی مذہبی حیثیت اس مروجہ سیاسی عمل میں “مذہبی سیاسی جماعتوں” کے حصہ لینے کا جواز رکھتی ہے یا نہیں۔ علمی یا فکری نکتہ نگاہ سے کچھ اضافہ نہیں ہوسکا ہے۔

  2. اطہر وقار عظیم on

    محترم جوہر صاحب پر علمی تنقید کرنے کا حق صرف اُسے دیا جا سکتا ہے، جو دینی و تہذیبی تناظر سے واقف بھی ہو اور وابستہ بھی ہو… اور. اہل مغرب کی اپنے بارے میں جو Self statement ہے، اس کا بھی کماحقہ شعور رکھتا ہو…
    معذرت کے ساتھ، مضمون نگار میں دونوں خصوصیات موجود نہیں ہیں، صرف مزہب کے سیاسی تناظر کا صحافیانہ درجے کی علمیت پر جذباتی دفاع ہے…
    مضمون نگار نے خود سے فرض کر لیا ہے کہ جوہر صاحب، عمران خان کے حمایتی ہیں، حالانکہ حقیقت میں ایسی کوئی بات نہیں….
    مجھے تو اس جواب سے مزید تقویت ملی ہے کہ ہماری سیاسی و مذہبی جماعتیں، علمی و فکری لحاظ سے سطحی درجے کے علم کی حامل ہیں…

  3. حسیب احمد حسیب on

    سیاست میں مذہب کا استعمال اور بر صغیر کی روایت ۔۔۔!

    آجکل سیاست میں مذہب کے استعمال کا بہت غلغلہ ہے لوگ باگ اس بات کو ایک کریہہ بدعت قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں کہیں سے ایسی آوازیں بھی بلند ہو رہی ہیں کہ جیسے یہ کسی خاص گروہ کا استحقاق ہے اور باقی لوگوں کیلئے ممنوع ہے پھر مذہب کا یہ استعمال مختلف مسالک و مکاتب فکر کی جولان گاہ بھی بنا ہوا ہے آئیے ہم ایک سرسری جائزہ لیتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے۔

    تاریخ انسانی کیلئے سیاست میں مذہب کا استعمال کوئی نئی بات نہیں ہے چاہے وہ اسلامی تاریخ ہو یا پھر عالمی تاریخ چاہے وہ قدیم تاریخ ہو یا جدید تاریخ اور چاہے وہ مشرق کی تاریخ ہو یا مغرب کی تاریخ ہر طرف امور سیاست میں مذہبی روح کارفرما دکھائی دیتی ہے ہاں یہ بات ضرور ہے کہ کبھی یہ استعمال منفی اور کبھی مثبت ہوتا رہا ہے۔

    ایک طرف دنیا کی تاریخ کو دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ وہ مہا بھارت کی مذہبی جنگیں ہوں یا مسیحیت کی جانب سے بپا ہونے والی صلیبی جنگیں یا پھر دور جدید میں مغرب سے اٹھنے والی مذہب مخالف تحریک یا معروف غیر مذہبی نظام ہائے سیاست و معیشت کسی نہ کسی عنوان سے مذہب ایک خاص عنوان ضرور رہا ہے چاہے وہ رینیسنس کا دور ہو یا کمیونسٹ سوشلسٹ تحریک یا پھر دور جدید کی لبرل سیکولر ریاستیں مذہب کی بات ضرور ہوتی رہی ہے بھلے مخالف سمت سے ہی کیوں نہ ہو۔

    دوسری جانب جب اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کیجئے تو سیاست ایک انتہائی اہم اور نمایاں عنوان دکھائی دیتا ہے مزید آگے بڑھیں تو بہت سے فرق صرف اور صرٖف سیاسیات کی بنیاد پر ظاہر ہوئے اسکی تفصیل بر صغیر کے ایک بہت بڑے عبقری مولانا مناظر احسن گیلانی کی معروف تصنیف ” مسلمانوں کی فرقہ بندیوں کا افسانہ ” میں دیکھی جا سکتی ہے۔

    دوسری جانب بر صغیر کی تاریخ میں چاہے وہ محمد بن قاسم کی آمد ہو یا دین اکبری کا اجراء ہو یا پھر مجدد الف ثانی کی اسکے مقابل و مخالف تحریک ہو مرہٹوں کی ابھرتی ہوئی قوت ہو شاہ ولی اللہ کا احمد شاہ ابدالی کو خط لکھ کر بلانا ہو تحریک شہیدین ہو جنگ آزادی ہو سرسید کی مخالفت ہو قادیانیت کا ظہور ہو تحریک ترک موالات ہو یا تحریک ریشمی رومال و تحریک خلافت ہو یا پھر مسلم لیگ کا مسلم ہے تو لیگ میں آ کا نعرہ اقبال و مدنی کی قومیت پر بحث مشرقی کی بیلچہ تحریک مذہب ایک خاص مقدمہ رہا ہے کہ جس کے دعویدار ہر ہر گروہ میں موجود تھے اور آج تک ہیں۔

    تقسیم کے بعد بھی سرحد کے ہر دو اطراف مذہب کی سیاست میں شمولیت جاری ہے چاہے وہ بی جے پی کے پس پشت مذہبی انتہا پسند ہوں اور گئو رکھشا کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام ہو یا پھر سرحد کی اس جانب قرار داد مقاصد کا عنوان یا نظام مصطفی کا نعرہ یا پھر افغانستان کے تناظر میں بننے والی ایم ایم اے حکومت مذہب تو ہر ہر جگہ موجود ہے۔

    اب موجودہ حالات دیکھئے ایک طرف تو رنگ رنگ کے مذہبی طبقات شدت پسند مذہبی چاہے وہ تحریک لبیک ہو یا ملی مسلم لیگ ہو یا پھر سپاہ صحابہ رض کے سیاسی ونگ یا بظاہر معتدل ایم ایم اے میں شامل مذہبی جماعتیں تو دوسری جانب چاہے وہ مسلم لیگ مخالف ختم نبوت سے متعلق شقوں کا مسئلہ ہو یا مدینہ ثانی کی پکار ہو یا پھر مزارات پر آمد جامد ہر طرف پر رنگ میں مذہب کی بات موجود ہے اور ہر کوئی مثبت یا منفی سچا یا جھوٹا خلوص سے یا منافقت سے مذہب کارڈ کھیل رہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے ؟

    اس سوال کا جواب کچھ ایسا مشکل بھی نہیں ہے اس بات سے انکار ممکن ہی نہیں کہ بر صغیر پاک ہند میں موجود تمام مذاہب اور خاص کر مسلمان اپنے مذہب کو لے کر انتہائی جذباتی ہیں آج بھی مذہب کا نعرہ یا مذہبی نعرہ لوگوں کو فیسینیٹ کرتا ہے آج بھی لوگ مذہب کے نام پر گھروں سے نکلتے ہیں چاہے وہ ناوموس رسالت صل اللہ علیہ وسلم کی بات ہو اجتماعات ہوں عرس ہوں مجالس ہوں یا مذہبی شخصیات کے جنازے لوگ باگ مذہب کی بات اور مذہبی طبقے کی بات ضرور سنتے ہیں بلکہ عرف عام میں وہ طبقہ کہ جو غیر مذہبی مشہور ہے اسکی بھی مذہبی بات سنی جاتی ہے اگر عمران خان ریاست مدینہ کی بات کرے لوگ پسند کرتے ہیں اگر شیخ رشید حلف نامے کی اسلامی شقوں کو لے کر سوال اٹھائے لوگوں کو بھاتا ہے اگر کیپٹن صفدر یونیورسٹی کے ایک ڈیپارٹمنٹ کا نام کسی اسلامی سائنسدان کے نام پر رکھے لوگ پیچھے آتے ہیں آج بھی ہمارے ہاں غوری ، غزنوی اور ابدالی کے ناموں کی اہیمت ہے اور ہم یوم تکبیر منایا کرتے ہیں۔

    پھر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہماری وہ مذہبی جماعتیں کہ جو نفاظ شریعت کی دعویدار ہیں لوگ باگ ان سے ہمدردی و تعلق رکھنے کے باوجود انہیں ووٹ نامی مقدس امانت کیوں نہیں دیتے۔

    آئیے کچھ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

    مذہبی سیاسی جماعتیں اپنے دفاع میں کہہ سکتی ہیں کہ دیکھئے یہ قوم لسانی اکائیوں ذات برادریوں خانوادوں معاشی طبقات میں بنٹی ہوئی ہے وہ یہ بھی کہہ سکتی ہیں کہ ملک میں پھیلی فرقہ واریت اسکی ذمہ وار ہے وہ یہ بھی کہہ سکتی ہیں کہ ایک طبقہ خانقاہیت میں مبتلاء ہے اور ظاہری عبادات کو ہی مکمل دین سمجھتا ہے وہ تبلیغی جماعت دعوت اسلامی کو بھی مورد الزام ٹھہرا سکتی ہیں کہ انکی سیاسی غیر فعالی ہی دراصل ایک بڑا مسئلہ ہے وہ تنظیم اسلامی اور دوسرے جمہوریت مخالف گروہوں پر بھی الزام دھر سکتی ہیں اور ان تمام فیکٹرز کی موجودگی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔

    مگر کیا صرف مسئلہ یہی ہے ۔۔۔؟

    دوسری جانب عوام میں یہ تاثر بھی ہے کہ مذہبی سیاسی جماعتیں عوام کے عام مسائل کی طرف متوجہ نہیں وہ انکے ان سیاسی اتحادات کی بات بھی کر سکتے ہیں کہ جو غیر مذہبی سیاسی گروہوں سے ہوتے رہے ہیں وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جناب آج تک آپ کی مذہب کے حوالے سے کیا آئینی و قانونی پیش رفت ہوئی ۔۔۔

    مگر کیا یہی بنیادی وجہ ہے ۔۔۔؟

    گو کہ ہماری مذہبی سیاسی جماعتوں کے پاس بہترین منشور موجود ہے انکے کے پاس وقیع لٹریچر ہے ان کو معتبر علمی شخصیات کی تائید بھی حاصل ہے کہ جو ووٹ کو مقدس مذہبی امانت اور فریضہ بتا کر لوگوں کو انکی طرف مائل کرتے ہیں ۔۔۔ مگر ۔۔۔ وہ کیا وجہ ہے کہ وہ خالص مذہب پسند طبقہ کہ جو ملک میں اسلامی نظام کا خواہاں ہے وہ بھی ہماری مذہبی سیاسی جماعتوں کے ساتھ موجود نہیں ہے۔

    اگر ہم اپنے معاشرے کے اکثریتی عوام کا جائزہ لیں تو اپنے اعمال میں کمزوری کے باوجود فکری و اعتقادی خرابیوں کی موجودگی میں بھی وہ شاید اسلام پسند ہی ہیں یہی وہ وجہ ہے کہ سیاست میں مذہب کا استعمال چلتا ہے اور کامیابی سے چلتا ہے مگر سوال وہی ہے کہ وہ کون سی کمزوری ہے کہ ہماری مذہبی سیاسی جماعتیں اس حوالے سے فائدہ اٹھانے سے قاصر رہی ہیں۔

    گو کہ اسکی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں مگر ایک سوال یہ ہے کہ کیا مذہبی سیاسی جماعتوں نے کوئی ایسا روڈ میپ پیش کیا ہے کہ وہ ایک ایسے ملک میں کہ جہاں پوری کی پوری معیشت سودی نظام پر کھڑی ہو کیسے اسلام کے معاشی نظام کو نافذ کرینگے وہ کونسے تدریجی مراحل ہونگے کہ جن سے گزر کر آئینی کی اس بنیادی شق کہ جو کہتی ہے کہ قرآن و سنت سپریم لاء ہونگے کو عملی شکل دی جا سکے گی کس طرح ریاست کے ڈھانچے کو مکمل طور پر اسلامائز کیا جائے گا اسلامی نظریاتی کونسل اور پارلیمان میں ہونے والی بحثوں سے بڑھ کر کس طرح اسلامی نظام کی عملی سیاسی و معاشی ، قانونی و عمرانی شکل ظہور پذیر ہوگی۔

    آج بہت سی باتیں ہو رہی ہیں سیاسی اصلاحات کی کرپشن کی انفرا اسٹرکچر کی کمزوریوں کی مگر یہ وہ باتیں ہیں کہ جنکے لئے اسلامی ہونے یا نہ ہونے کی کوئی تفریق نہیں ہے جی ہاں بجلی و پانی اہم مسائل ہیں عوام لا قانونیت سے پریشان ہیں مہنگائی کا عفریت سر پہ کھڑا ہے بالکل یہ اہم ترین مسائل ہیں اور بلا شبہ ہماری مذہبی سیاسی جماعتیں اس حوالے سے ایک فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں اور کر رہی ہیں انکے فلاحی و تعلیمی ادارے ایک بہترین مثال ہیں ۔۔۔۔ مگر ۔۔۔ لوگ آپ سے کچھ اور کے طالب ہیں۔

    ہمیں مذہبی سیاسی جماعتوں کے خلوص پر کوئی شک نہیں انکے کام کا انکار کرنے کی ہم بالکل کوشش نہیں کرتے ہمیں انکے فعالیت پر کوئی شبہ نہیں مگر سوال یہ ہے کہ وہ اپنے بنیادی منشور اور بنیادی عنوان اسلامی نظام کے نفاذ کو کیسے قابل عمل بنائینگے۔

    یہ ضرور کہا جاتا ہے کہ ہمارا آئین اسلامی ہے اور بالکل ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قوانین کو کسی حد تک اسلامائز کیا گیا ہے اور بالکل کیا گیا ہے مگر سوال یہ ہے کہ آپ کا بنیادی کام اسلام کی آئینی و قانونی ہیت کو عملی شکل میں رائج کرنا آپ کا سب سے بڑا سیاسی نعرہ کیوں نہیں یہ تو کہا جاتا ہے کہ ہم پرامن اور جمہوری طریق سے اسلامی نظام کو رائج کرینگے مگر موجودہ سسٹم اور فریم ورک میں اسکا طریقہ کیا ہوگا اسکے اول و دوم و سوم مراحل کیا ہونگے اسکی تدریجی حرکیات کیسی ہونگی اسکا رخ کس طرح متعین کیا جائے گا اسکے بنیادی نکات کیا ہونگے ۔۔۔

    سوال یہ ہے کہ جس بنیای گفتگو کو ہم کہیں پیچھے بلکہ بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں اور ہمیں اس خوف نے آلیا ہے کہ شاید عوام اس بنیاد پر ہمیں قبول نہ کرے کیا ایسا تو نہیں کہ وہی عنوان ہماری اصل ہو اور عوام کو ہم تک لا سکے اور وہی عنوان ہماری عوامی مقبولیت و پسندیدگی کو ہمارے ووٹ میں بدل سکے۔

    حسیب احمد حسیب

Leave A Reply

%d bloggers like this: