نارنگ —— مریم عرفان کا افسانہ

0
  • 32
    Shares

ہر انسان کے اندر ایک جانور چھپا ہے جو کبھی کبھی سر اٹھاتا ہے جس کی اٹھان چیتے جیسی اور منہ سور جیسا ہوتا ہے۔ اس جانورکے جسم پر کانٹے اگے ہوتے ہیں اور اس کے دانتوں کی کاٹ جسم کو ہی نہیں بلکہ روح کو بھی چھلنی کر دیتی ہے۔ یہ بدہیئت جانور نفس کو مارنا نہیں جانتا بلکہ اس کی رگوں میں صدیوں کی حرام کاریوں کا خون قطرہ قطرہ جمع ہو کر دریا بن جاتا ہے۔ یہ گرم خون جب جوش مارتا ہے تو عزت اور غیرت کے بت بھی پاش پاش ہوجاتے ہیں اور مائیں، بہنیں بیویاں بن جاتی ہیں۔ ایسا ہی ایک جانور نارنگ کے اندر پیدا ہو چکا تھا جو نسلاً جانگلیوں کی اولاد تھا۔ چھوٹی چھوٹی بنٹے جیسی آنکھوں، گہرے رنگ اوردرمیانے قد کا نارنگ بڑی غیر محسوس شخصیت کا مالک تھا۔ اس کی ناک اور آنکھوں میں فاصلہ بہت کم تھا، گول گول نتھنے ایسے اوپر کو اٹھے ہوئے جیسے کچھ سونگھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس کے چہرے پربال ہی بال تھے جبھی تو وہ بے ترتیب داڑھی میں چھوٹا سا بھوتنا لگتا تھا۔ گہری سوچوں میں گم اس کاہاتھ بے اختیار اپنی گھنی داڑھی میں گھس جاتا تو اس کی آنکھیں مندنے لگتیں۔ اس کے سر پر بالوں کا چھجا دھرا تھا، گھنگھریالی جٹائیں اگرچہ گردن تک آتی تھیں لیکن بڑی عجیب سی بساند اس کے پسینے کے ساتھ مل کران میں رچ بس گئی تھی۔ بالوں والا یہ ریچھ میلے چیکٹ سادھوؤں کی طرح اپنی ٹانگوں کے بوجھ پر بیٹھتا تو لگتا اس کادماغ سوچوں کی اگنی میں خیالوں کی ہنڈیا چڑھا کر انگلیوں سے راکھ کریدتا ہو۔

بارہ بہن بھائیوں میں آخری نمبر پر پیدا ہونے والا نارنگ لٹو کی طرح دن بھر گاؤں کی گلیوں میں گھومتا رہتا۔ نارنگ کا باپ گاؤں کا ماسٹر تھا اس کا طنطنہ اور رعب صرف سکول کی حد تک قائم نہیں تھا بلکہ گھر میں بھی اسی کی چلتی تھی۔ خون کی یہ گرمی اس کے باپ کی رگوں میں فولاد بن کر دوڑ رہی تھی اس کے لیے نارنگ کی ماں صرف عیاشی کا ذریعہ تھی جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے یہ بارہ بچے ڈربے میں بھاگتی پھرتی مرغیوں کی طرح تھے۔ نارنگ اس جیل کا باغی قیدی تھا جسے اپنے باپ کی حرصی نظروں سے سخت نفرت تھی۔ وہ ماں کو ہمیشہ اپنی نظروں کے حصار میں رکھتا تھا لیکن جیسے ہی اس کا باپ چیل کی طرح اسے اپنے پنجوں میں جھپٹ کر دبوچتا نارنگ کٹ کٹ کٹاک کرتا پورے صحن میں چکر لگانے لگتا۔ بے خودی کے عالم میں وہ نجانے کتنی مرتبہ صحن کی دیوار اپنے گھٹنوں اور پنجوں کی مدد سے چڑھتا اور اترتا۔ خود اذیتی کی اس عادت نے اس کے نحیف و نزار جسم کو جگہ جگہ سے داغدار کر دیا تھا اور وہ منہ زور گھوڑے کی طرح اتھرا ہوتا جارہا تھا۔ ماں باپ کی اس جذباتی زندگی اور لمحاتی کشمکش کے خیال کو مٹانے کے لیے وہ اکثر چاچارفیق کی سوڈا واٹرکی ریڑھی پر جا کھڑا ہوتاجہاں ٹھاہ ٹھاہ کی آوازوں سے کھلنے والے ڈھکن اور گلاسوں میں شر۔ ۔ ۔ ررر۔ ۔ ۔ کی پیدا ہونے والی آواز یں اس کے دل کو تسکین پہنچاتیں۔ وہ گاہکوں کو کسی نادیدے بچے کی طرح ٹکر ٹکر سوڈا واٹر پیتے دیکھتا رہتا۔ ایسے موقعوں پر اکثر اس کے ذہن میں پرانی باتیں سینما میں چلنے والی فلم کی طرح چلتی رہتیں اور وہ اپنے ناخن کترتا رہتا۔

اسے ماسی برکتے کی بیٹی کی بارات کا دن بھی یاد تھا جب اس کے باپ نے سب بچوں کو قطار بنا کر شادی والے گھر میں بھیجا اور خود آنکھ بچا کر گھر بھاگ آیا۔ نارنگ شکاری کتے کی طرح تاک میں تھا وہ اپنے باپ کی بو سونگھتا ہوا گھر داخل ہوا اور کمرے کی کھڑکی کی ادھڑی ہوئی جالی میں سے جھانکنے لگا۔ تھوک نگلتا ہوا نارنگ اپنے باپ کے لمبوترے چہرے کو تصور میں لیے اپنے بنا تسموںکے بوٹوں تلے روندتارہا۔ اسے اپنی ماں پرترس آنے لگا، اس کے دل کی دھڑکن بڑھتی چلی جارہی تھی۔ ماتھے پرپسینے کی بوندیں اسے ناک کے کونے پرمحسوس ہونے لگیں۔ وہ صحن کی طرف بھاگا، اس کی نظریں کھرے کے کنارے رکھے ڈنڈے پرپڑی۔ اس نے ڈنڈا اٹھایا اور دیوارکے ساتھ لگی چارپائی پر تڑاتڑ برسانے لگا۔ اسے محسوس ہوا کہ چارپائی کی جگہ اس کاباپ پیٹھ پر ہاتھ باندھے کھڑا ہے اور وہ اس کی پشت پرڈنڈوں کی برسات کرر ہا ہے۔ اس کی ماں ہلکے ہلکے قدم اٹھاتی صحن کی طرف آئی تو نارنگ چارپائی پرڈنڈے برسا رہا تھا۔ وہ نارنگ کی طرف خشمگیں نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی: ’’ایس کھسماں نوں کھانی منجھی نوں وِن کے رکھ دے، حرام دے کھٹمل نے سوناحرام کردتا اے۔‘‘ نارنگ کو لگاجیسے وہ توپ کے سرہانے کھڑا ہو اور انگریز فوجی کے ’فائر‘ کہتے ہی اس نے گولے داغنے شروع کردئیے۔

نارنگ جیسے لوگ دنوں میں پیدا نہیں ہوتے بلکہ یہ صدیوں اور سالوں کی ناپاکیوں اور نجاستوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ کسی بددعا کی طرح ان کی زندگیاں بھی نجس ہوجاتی ہیں۔ نارنگ کے اندر گندگی کے اس انبار نے اس قدر جگہ بنا لی تھی کہ اب اسے اپنی صفائی ستھرائی کا بھی خیال نہیں رہتا تھا۔ دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں بدل جاتے اور وہ منہ ہاتھ دھوئے بنا ہی کھائے چلا جاتا۔ جانگلیوں کے دل اور ذہن بھی جنگل کی باس سے بھرے ہوتے ہیں جہاں سورج کی کوئی کرن اپنا رستہ نہیں بناتی۔ اسے گھر سے کوئی لگاؤ نہیں تھا، وہ سارادن گاؤں کی گلیوں کی خاک چھانتا رہتا۔ پہلے اسے بلیرڈ کھیلنے کا چسکا پڑا اور وہ لوٹے کی دکان کا بہترین کھلاڑی مشہور ہوگیا۔ بلیرڈ ٹیبل اس کے گھرکاصحن تھا جہاں اس پر پڑی رنگ برنگی گیندیں گھرکی عورتیں تھیں اورسرخ گینداس کی ماں تھی۔ وہ ڈنڈے کو انگوٹھے اورشہادت کی انگلی کے درمیان میں رکھ کر ایک آنکھ میچتے ہوئے اس زورسے چوٹ لگاتا کہ ساری گیندیں ٹیبل کے کناروں پرجاکرسرپٹخنے لگتیں۔ نارنگ کے چہرے پر تسکین کے چھینٹے پڑنے لگتے، دکان ’نارنگ زندہ باد‘کے نعروں سے گونج اٹھتی۔ پھر لوٹے نے ایک اور ٹیبل بڑھا لیا جس پر باوے والی گیم کھیلی جانے لگی، بڑی سی ٹیبل پرآٹھ سے دس چھوٹے بڑے ڈنڈوں کے درمیان ایک بال نارنگ تھا۔ ڈنڈوں میں کھبے ہوئے باوے اسے ادھر سے ادھر دھکیلتے رہتے اور وہ سکور کرتا چلا جاتا۔ ان باووں سے کھیلتے اور سکور کرتے اس کے بازو شل ہونے لگتے، ہانپتے ہوئے اس کی نظر ایک جگہ ٹک جاتی اور دیکھنے والوں کو لگتا کہ اس پر کوئی جن آگیا ہے۔

نارنگ کے شوق دن بدن بدلتے جارہے تھے، بلیرڈ اور فٹ بال کھیل کربھی وہ تھکنے لگا تھا کہ نمبرداروں کی بیٹھک نے اسے اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ جہاں ہرہفتے کی رات سے اتوارکی صبح تک وی۔ سی۔ آر پر فلمیں چلتیں۔ نارنگ بھی اب اس بیٹھک کاحصہ تھا لیکن اس کی سیٹ کمرے کے سب سے آخرمیں رکھی جاتی۔ سکرین پر تھرکتی لڑکیاں اورکمرے میں بجتی سیٹیاں اس کے جسم میں ہیجانی تلذذ پیدا کر دیتیں اوروہ بے ساختہ کرسی سے اٹھ کر ناچنے لگ جاتا۔ نارنگ اپنے حصے کی عیاشی کوڑا اٹھانے والے بچوں کی طرح اپنے دماغ کے تھیلے میں ڈالتا جا رہا تھا۔ اخباروں میں فلمی اشتہاروں والے صفحے بھی اس کی توجہ کا مرکز تھے، جن پر ہیروئنوں کی آڑی ترچھی لکیروں سے جھانکتی فربہ رانوں والی تصویروں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی انگلیاں نشئی کی طرح کانپنے لگتیں۔

نارنگ کو ان دنوں نگو سے محبت ہوگئی، ہمسایوں کی یہ سانولی سلونی لڑکی اکثراسے خوابوں میں ملنے لگی۔ یہ محبت بھی اس کے لیے خام تیل کی طرح تھی، جس کی قیمت کبھی بڑھتی اورکبھی گھٹتی رہتی تھی۔ نارنگ بھی تو خام حالت میں تھا، کچے پھل کی طرح جس کی بُو میں مٹھاس نہیں تھی اور رس ابھی کسیلا تھا۔ وقت سے پہلے ہی پیڑ سے گرنے والا پھل اس جیسا ہی ہوتا ہے اسی لیے وہ کبھی دیکھنے والوں کو ان کے پیروں میں پڑا نظر نہیں آیا۔ نگو سے محبت دودھ میں آئے ابال کی طرح تھی جو جتنی جوش میں پتیلی سے اوپر آئی اتنی ہی جلدی بیٹھ بھی گئی۔ پھر اسے اپنی بڑی بہنوں کی چیزوں سے انسیت ہونے لگی وہ انور اور اخترکے درازوں کی تلاشیاں لیتارہتا تھا۔ انورکی شادی اپنے ہی گاؤں میں ہوئی تھی اور وہ مہینے میں دو تین مرتبہ ماں کے گھر چکر لگا لیتی تھی۔ اختر ابھی کنواری تھی اس کے جسم کا کنوار پن گنے کے رس کی طرح چھلکتا رہتا تھا۔ وہ اب نارنگ کی نظروں کی زد میں رہتی تھی، دھپ دھپ کرتی کپڑے دھوتی اخترجب شراپ۔ ۔ ۔ پ۔ ۔ ۔ کی آوازیں نکالتے ہوئے نچڑتے کپڑے تار پر ڈالتی تو نارنگ اس کی کمر کو چھوتی ہوئی چوٹی باندھنے لگ جاتا۔ ’’بس وے کملیا! تو جا۔‘‘ اختر کے منہ سے نکلنے والے یہ الفاظ اس کا دل نکال لیتے۔

اذیت اب ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھنے لگی تھی کہ ایک دن جب گھر میں کوئی نہیں تھا نارنگ نے اختر کی کپڑوں والی الماری کھولی اور اس کی بنیان اور جانگیا اپنی شلوار قمیض کے نیچے پہن کر باہر نکل گیا۔ اختر ہفتہ بھر اپنے گم شدہ کپڑوں کا رونا روتی رہی سارا گھر چھان مارا، کچن کے کنستر تک کھنگال ڈالے سامان کھول کر پھر تہہ لگا دیا لیکن اس کی چیزیں نہ ملیں۔ نارنگ کتنے ہی دن اس کی بنیان اور جانگیے میں سوتا رہا۔ جیسے اس نے اختر کی دولت چرا لی ہو اور اب وہ اس زر کے سرہانے سانپ بنا بیٹھا تھا۔ اس دن بھی وہ ایسی ہی ناکارہ سوچوں میں گم تھا کہ گلی سے آواز آئی:
’’گھگھو گھوڑے لے لو، اے ہاتھی آ، شیر آ، بھالو آ۔ ۔ ۔‘‘ کھلونے والی نے سر پر سے ٹوکری نیچے اتارتے ہوئے آواز لگائی۔

’’اے ماسی! کوئی نیا کھلونا نہیں تیرے پاس۔‘‘ نارنگ نے زمین پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
’’تے کوں کیہڑا کھڈونا چای دا اے۔ مڑُاے ویکھ لمی دم دا باندر۔‘‘
’’نانانا۔ ۔ ۔ ماسی کوئی کڑی والا کھڈونا دکھا۔‘‘
’’ایں ں ں ں ں۔ ۔ ۔ جنانی؟؟؟؟‘‘
’’میں کوں تے گھگھو گھوڑے ہی ہو سن۔ جنانی کتھو آئی۔‘‘

نارنگ کو مورتیاں بہت پسند تھیں چاہے وہ پلاسٹک کی ہوں یا مٹی سے بنی گڑیاں۔ وہ جہاں ایسی چیزیں دیکھتا کتنی ہی دیر انھیں تکتا رہتا اور بالاخر اپنی آنکھیں میچ لیتاتھا۔ اس کے پاس ایک پلاسٹک کی باوی بھی تھی جسے اس نے بھینسوں کی کھرلی کے پاس دفنایا ہوا تھا۔ جب بھی اس کی ماں دودھ دوہنے جاتی وہ چپکے سے اپلوں والی کوٹھڑی کی اوٹ میں ہو کر گڑیا نکال لیتا۔ وہ اس ننگ دھڑنگ باوی کی خوشبو اپنے نتھنوں سے سینے کے اندرکھینچنے لگتا۔ وہ باوی اس کے تیز دانتوں کی کاٹ کے باعث جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی۔ اب یہ باوی اسے اپنی بڑی بہن انور جیسی لگنے لگی تھی۔ ویسی ہی تنے ہوئے جسم کی مالک، سڈول ٹانگیں اور بلند چھاتیاں۔ ایک دن وہ بہن کوملنے اس کے گھر گیا جہاں باوی چولھے میں لکڑیاں جھونک رہی تھی۔ پھونکنی سے لکڑیوں کو سلگاتی ہوئی انور کا چہرہ سرخ ٹماٹر ہو رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے نکلنے والا پانی اس کے گالوں کو بھگو چکا تھا۔ سارا دن وہ انور کو کام کرتے دیکھتا رہا شام کو کمرے میں بیٹھنے کا موقع ملا تو وہ انور کی ٹانگوں پر سر رکھ کر لیٹ گیا۔ بدہیئت جانور نے انگڑائی لی اور نارنگ نے انور کے پاؤں چوم لیے۔ ’’صدقے جاواں! میرے بھرا، خیر تے ہے ناں، اج بڑا پیار لٹاون ڈیاں اے۔‘‘ انورکے نتھنے سور جیسے جانور کی سانسوں کی بو سونگھ نہیں پارہے تھے۔ ’’انوری! مینوں پیار کر۔‘‘ چیتے نے جست لگا کر انور کے ہاتھ پکڑ لیے۔ وہ لمحہ بھر کو سٹپٹائی جیسے اس کے نتھنے بو سونگھنے کے قابل ہو چکے ہوں۔ اسے نارنگ میں سے انسانی خون کی تیز بو محسوس ہوئی اس نے سور کے منہ والے جانور کو جھٹ گلے سے لگایا اور گالوں پر بوسہ دیتے ہوئے بولی: ’’کملیا! گھر جا، شام توں بعد جنور رستہ نپ دے نے۔‘‘ انور کو معلوم نہیں تھا کہ جو جانور اس کے سامنے بیٹھا ہے اس کے سامنے گلی کے جانور کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ گھر واپس آکر بھی وہ ناخوش ہی تھا اس کا جی چاہتا تھا کہ اختر کو بھینچ کر گلے لگا لے یا پھر اپنی ماں کی چھاتیاں نوچ ڈالے۔ سارے رستے وہ پریشان رہا کہ کہیں انوری گھر والوں کواس کی اس حرکت کے بارے میں نا بتا دے لیکن پھر کچھ سوچ کراس کے باریک ہونٹ مسکراہٹ سے لمبے ہوگئے۔ اب وہ ہردوسرے دن انوری کے گھرجانے لگا، پہلے تو وہ اسے نظر انداز کرتی رہی لیکن پھر ایک دن وہ بھی صحن میں بندھی گائے بھینس کی طرح ڈکرانے لگی۔ نارنگ پلے ہوئے سانڈھ کی طرح جگالی کرتا اور دم ہلاتا ہوا انوری کے گلے لگ جاتا۔ جانگلیوں کی قسم انسانوں کی بستی میں دندنا رہی تھی لیکن اتنی بہت سی آنکھیں بھی ان کا تعاقب کرنے میں ناکام ہو چکی تھیں۔ نارنگ انوری کے شانے دباتا تو اس کا کسرتی وجود اس کی پتلی پتلی انگلیوں کے نیچے تھرکنے لگتا۔ اسے لگتاجیسے انوری طبلے کی سیٹ ہے جس پروہ اپنی انگلیوں سے جیسابھی چاہے سُر نکال سکتا ہے۔ وہ کتنی ہی دیر ہلکے ہلکے سروں میں طبلے کی تھاپ پررقص کرتا رہا اور انوری بدمست شرابی کی طرح دائرے میں گھومتی رہی۔ انور اور اختر دونوں اس کی انگلیوں کے نیچے طبلوں کی طرح دھری ہوئی تھیں، وہ ان پرمن چاہے سروں کی مالا پرونے لگا۔ انور اور اختر کے لیے نارنگ کی جنور طبیعت کوئی معنی نہیں رکھتی کیونکہ ان کا گھر اس حمام کی طرح تھا جس پر چھت نہیں تھی۔ جس کی چھوٹی دیواریں نہانے والوں کے آدھے جسموں کی نمائش کرتی ہیں ایسے میں نارنگ ایڑھیاں اٹھا اٹھا کر دونوں کو نہاتے ہوئے دیکھتا۔ انورکے بھرے بھرے بازوصابن کی جھاگ سے اور بھی چکنے ہو جاتے جیسے وہ مکھن سے بلو کر چاٹی میں لسی بننے کے لیے رکھ دی گئی ہو۔ نارنگ شہدکی مکھی کی طرح دیوار میں اپناچھتہ بنا چکا تھا، جہاں اس کی غلاظتوں کا شہد اکٹھا ہو رہا تھا اور وہ اپنے ہی صحن میں اگے پھولوں کارس پی پی کر اپنے موم کے چھتے کو پروان چڑھا رہا تھا۔

گھر والے اس جانور کی للکار سے بے خبر تھے کسی کو یہ جاننے کی جستجو ہی نہیں تھی کہ نارنگ پاگل پن کی کس سٹیج پر پہنچ چکا ہے۔ پھر ایک دن اس کی ماں کو اندازہ ہوگیا کہ یہ جانور اپنے ہی خون کا پیاسا ہو چلا ہے وہ ایسے ہی ایک دن نارنگ کے جھاڑ جھنکار بالوں میں تیل ڈال کر مالش کر رہی تھی۔ سور ہولے ہولے سانسیں لے رہا تھا چیتے کی انگڑائی میں ابھی وہ زور نہیں تھاکہ ماں کے ہاتھوں کی گرمی نے اسے لوہے کی طرح سخت کر دیا۔ اس کی گردن فالج کے مریض کی طرح بے سد ھ ہو کر کانپنے لگی تھی اور وہ اپنی ماں کو چارپائی پر گراکر خود اس پر لیٹ گیا۔ ماں کو لگا جیسے کوئی برفانی تودہ اس پر آگرا ہو وہ بے حس و حرکت پڑی تھی۔ نارنگ بچوں کی طرح اوں۔ ۔ ۔ اوں کرتا اپنی ماں کی چھاتی سے لگا ہوا تھا۔ پھر اکثر ایسا ہونے لگا جب چیتے جیسی پھرتی اور سور جیسی آنکھوں والا جانور اپنی ماں کی بوٹیاں نوچنے کے لیے اس کی چارپائی تک آتا، پھراپنے باپ کی ٹانگ سے ٹکرا کر ’’ماں یک‘‘ بڑبڑاتے ہوئے واپس مڑ جاتا۔ نارنگ کی ماں تپتی دوپہروں میں فالج کے مریض کی طرح اس کے ساتھ لیٹی رہتی۔ جن چھاتیوں سے اس کے لیے دودھ اترتا تھا اب وہاں مامتا مرچکی تھی۔ نارنگ کے لیے وہ پتنگ کی طرح تھی جس کی ڈوراس کی انگلیوں میں ہلکورے لیتی تو وہ آسمان پر اڈاریاں بھرنے لگتی۔ اس کا باپ جیسے ہی پتنگ کوکنی کراتا نارنگ جھٹکے سے اس کی ڈورکھینچ کرمشاق پتنگ بازوں کی طرح تماشا دکھانے لگ جاتا۔

دن بڑی تیز رفتاری سے گزر رہے تھے اور نارنگ کڑاہی میں رکھے تیل کر طرح پک پک کر سیاہ ہوتا جارہا تھا۔ اختر کی بھی شادی ہوچکی تھی اب نارنگ کا دل گھر میں نہیں لگتا تھا اس کے اندر کا پاگل کھل کر سامنے آنے لگا تھا۔ وہ کتنے ہی گھنٹے سوچوں میں گم رہتا یہاں تک کہ گھٹنوں کے بل بیٹھنے کی وجہ سے اس کے پاؤں سوجھ جاتے۔ ماں اسے کاندھوں سے جھنجھوڑتے ہوئے اٹھاتی اور گھسیٹتے ہوئے چارپائی پر دھکا دے دیتی۔ باپ اس کی حالت سے بے خبر تھا، جب بھی اس کی ماں روتے ہوئے دہائی دیتی کہ اسے شہر کے کسی ڈاکٹر کو دکھا دو تو باپ حقہ گڑگڑاتے ہوئے کہتا: ’’او ماں یکیئے! منڈے نوں سایہ اے، ڈاکٹر کی کر لے گا۔‘‘ پھر ایک دن اس جانور کو سایہ بھگا کر لے گیا۔ ماں نے سار اگھر چھان مارا، بھائیوں نے گاؤں کی گلیاں اور کھیت تک کھنگال ڈالے لیکن نارنگ کا کہیں کوئی نام و نشان نہیں ملا۔ باپ نے اس کی گمشدگی کو اللہ کی رضا سمجھ کر حقہ گڑگڑانے میں ہی عافیت جانی۔ وہ اپنی جانگلی قوم اور خون سے بغاوت کیسے کر سکتا تھا جس کے لیے اولاد بھی پیشاب کے جھاگ کی طرح تھی۔

لاہور شہر کے شمالی علاقے بادامی باغ کی طرف ریل کی پٹڑی کے دونوں اطراف فقیروں کا بسیرا ہے جن کی جھگیاں ریلوے پھاٹک کے سامنے ایک ہی قطار میں آباد ہیں۔ آج کل وہاں اکثر و بیشتر ایک جانور نما انسان نظر آتا ہے۔ جس کے جسم پر صرف ایک پرانے اور میلے چیکٹ کوٹ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس کی بڑھی ہوئی داڑھی اور بال اس کے منہ سے نکلنے والے جھاگ سے اٹے رہتے ہیں۔ وہ یا تو گھٹنوں کے بل کہنیوں پر منہ ٹکائے کسی سوچ میں گم رہتاہے یا اپنے جسم کی گندگی کے پاس سادھوؤں کی طرح چوکڑی مارے اپنی بنٹے جیسی آنکھیں گھماتا رہتا ہے۔ چیتے جیسی پھرتی اور سور جیسی تھوتھنی والا یہ جانور اب شہر کے لوگوں کے لیے نوٹنکی بن چکا ہے جو اپنے اوپر ہنسنے والوں کو ’’ماں یک‘‘ کہتے ہوئے تیزی سے گزر جاتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: