ہم ! عام سے معمولی پاکستانی ۔۔۔۔۔۔ اطہر وقار عظیم

0
  • 9
    Shares

(بدقسمتی سے ہم، انتہا درجے کی معاشی عدم مساوات کے حامل، سیکولر، لبرل اور سرمایہ دارانہ ذہنیت کو فروغ دینے والے عہد میں زندہ ہیں۔ جس میں عام غریب اور معمولی انسانوں کے پسینے کی بو کو محسوس کرنے کے لیے اور ان کی مادی بقا سے منسلک مسائل کا، احوال جاننے کے لیے صحافیانہ درجے کی علمیت کے حامل روایتی مذہبی اور سیاسی لٹریچر سے دور جانا پڑتا ہے۔ اور چار و ناچار، بیسویں صدی کے سوشلسٹ لٹریچر کے قریب جانا پڑتا ہے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ آج نہ اہل مذہب میں مولانا عبید اللہ سندھی، جیسی شخصیت موجود ہے اور نہ ہی کوئی. اپنی فکر میں خالص و کھرا سبط حسن، جیسا سوشلسٹ اور کمیونسٹ، لبرل حلقوں میں نظر آتا ہے۔ اگر کہیں خال خال ذہانت موجود بھی ہے، تو وہ بھی، اپنے عہد کے سیاق و سباق سے اوپر اٹھ کر صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی صلاحیت سے محروم ہے، یا پھر وہ، سرمایہ دارانہ نظام کا گمنام خادم یا مجاہد بن کر، فطرت کو تسخیر بلکہ مسخ کرنے میں مصروف ہے۔ اور اپنی صلاحیتوں، اور ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوئے ماحول کی تباہی اور عالمی گرماو میں حصہ بقدر جثہ ڈال رہا ہے، اور یوں چند امیر ترین لوگوں کی دولت کے انبار میں مزید اضافہ کرنے کی کوششوں میں شبانہ روز مصروف ہے۔

متوسط طبقے کے، ان خاموش خادموں، وفاداروں اور گمنام مجاہدوں کی محنت کا ہی نتیجہ ہے، کہ عالمی ادارہ Oxfam کی، 2018 کی رپورٹ کے مطابق، دنیا کی 82 سفیدی دولت کا خالص منافع، صرف 50 امیر ترین افراد کی تجویروں میں پناہ گزیر ہوتا ہے۔ یعنی قریباً 6ارب لوگوں کی محنت کا پھل صرف 50 افراد کے پاس ہے، چنانچہ مارکیٹ میں، ہر چیز بکتی بھی ہے اور خریدی بھی جا سکتی ہے۔ متوسط طبقے کے با صلاحیت افراد کی ذہانت، یہی لوگ اپنی تنظیموں اور Corporate اداروں کے ذریعے خریدتے ہیں۔ جس کی قیمت کی ادائیگی، چند سالہ عیش و آرام کی صورت میں مہیا کر دی جاتی ہے۔ اور انکی دنیاوی بھلائی بھی تو اسی میں ہے۔ اور آخرت کی انہیں کوئی زیادہ فکر بھی نہیں ہوتی۔ اور اگر کبھی طبیعت مضمحل ہونے لگے، تو جھوٹے سچے فقیروں کو چند ٹکے اور جدید معاشرے میں نظر انداز کیے گئے مدارس میں ماہانہ چندے یا کسی ایک دن کی روٹی کے اہتمام سے دعائیں سمیٹ لیں جاتیں ہیں۔ یوں اپنے ضمیر کو تھپکیاں دے دی جاتی ہیں، باقی خدا کی خدا جانے۔

اس روحانی پریکٹس کا، کم از کم اتنا مثبت نتیجہ ضرور نکلتا ہے، اور اتنی توانائی ضرور مل جاتی ہے، کہ اگلے چند روز ہمارا جدید مسلمان رہنما پوری توانائیاں مجتمع کرتے ہوئے امیر کو مزید امیر تر اور غریب کو غریب تر بنانے کی مشقت میں کامل یکسوئی سے جت جاتا ہے۔ اور یوں چند ’’بیمار‘‘ سے سال گزارنے کے بعد ’’سسٹم‘‘ کو پیارا ہو جاتا ہے۔

لیکن اس سارے جھمیلے اور شیطانی دائروی چکر (Many Go Round) میں اور اس ساری Rat Race میں چوہا، چوہا ہی رہتا ہے۔ جیتنے والا بھی چوہا اور ہارنے والا بھی چوہا۔ یوں سارا بھگتان اور سارا عذاب سہنے کا عام معمولی غریب انسان یا پاکستان کے تناظر میں عام معمولی اور غریب اور چھوٹا سا، بے وقعت پاکستانی ہی رہتا ہے۔ یہاں بھی خود کلامی کے انداز میں اسی دکھ کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تا کہ شاید وہ عام سا معمولی پاکستانی بھی اسے پڑھ لے، کیونکہ یہ سب کچھ اسی کے لیے تو لکھا گیا ہے۔)


نہ میں سیاسی لیڈر ہوں اور نہ ہی سیاسی کارکن، نہ میں مذہبی عالم ہوں اور نہ ہی مذہبی طالبعلم۔
پھر تم کون ہو۔…..
میں… میں… وہی ہوں، جو تم ہو۔
اور جو تم ہو۔
تم کو جان لوں گا، تو خود کو جان لوں گا، میں اور تم۔۔۔۔۔۔ ایک عام سا غریب اور معمولی پاکستانی ہیں۔۔۔ چھوٹا سا عام۔ بے اختیار۔۔۔۔
بے وقعت اور معمولی پاکستانی۔۔۔۔
کیا ہمیں خود کو معمولی اور چھوٹا سا سمجھنا چاہیے۔
عام سا غریب پاکستانی معمولی تو نہیں ہے۔۔۔ چھوٹا تو نہیں ہے۔

یہ عام سا پاکستانی، ہر روز اپنے رزق کی تلاش میں سڑکوں پر ان گنت سائیکلوں اور موٹر سائیکلوں پر نکلنے والا پاکستانی بے وقعت تو نہیں ہے۔۔۔۔
یہ بسوں میں کھڑے کھڑے سفر کرنے والا، ویگنوں میں دوہری حالت میں سفر کرنے والا پاکستانی معمولی تو نہیں ہے۔ یہ انکم سپورٹ پروگرام میں تھوڑا بہت رزق کا حق رکھنے والا اور فٹ پاتھوں، بازاروں، دفاتروں میں اپنی محنت بیچنے والا پاکستانی معمولی تو نہیں ہے، چھوٹا نہیں ہے۔

یہ عام سا غریب پاکستانی، جس کے خون پسینے سے ہر چھوٹا بڑا کارخانہ آباد ہوتا ہے، جس کی سخت محنت سے ہمارے ملک کا ہر کھیت سینچا جاتا ہے،
یہ بے وقعت اور معمولی ہرگز نہیں ہے۔ اسی کے پتھر جیسے ہاتھوں پر، اینٹ پر اینٹ رکھ کر، مکانات، محلات اور پلازے کھڑے کیے جاتے ہیں۔ یہی ٹھکرایا ہوا، چھوٹا سا پاکستانی، ہر کھائی جانے والی روٹی کے پیچھے کھڑا شرما رہا ہے۔ ہر پہننے جانے والے کپڑے کے پیچھے بھی یہی معمولی پاکستانی اپنے ستر کو اپنے ہاتھوں سے ڈھانپے، کھڑا ہے، ہر مکان کے پیچھے بھی یہ عام معمولی اور غریب پاکستانی دھوپ میں کھڑا ہے۔

لیکن یہ نظام کس قدر غیر منصفانہ ہے، کس قدر سنگدل ہے کہ جس عام غریب پاکستانی کے دم سے، یہ ساری رونقیں ہیں۔ اس کے پاس کبھی پیٹ بھر کر روٹی نہیں ہے۔ تن ڈھانپنے کو مناسب کپڑا نہیں ہے۔ اور سر چھپانے کے لیے اپنا مکان تک نہیں ہے۔ اس غریب پاکستانی کے بچے، خالص دودھ، بلکہ کسی ملاوٹ زدہ دودھ سے بھی محروم ہیں۔ یہ عام سا معمولی پاکستانی، جو ملک کو سب کچھ دیتا ہے۔ لیکن وہ اپنے بچوں کو ڈھنگ کی تعلیم نہیں دے سکتا اور نہ ہی مناسب علاج کروا سکتا ہے اور تو اور اگر کوئی قدرتی آفت آتی ہے، تو سب سے زیادہ متاثر یہی معمولی پاکستانی ہوتا ہے۔ مہنگائی بڑھتی ہے تو سب سے پہلے سرمایہ دار، اس کی جیب سے مزید پیسے نکلوا کر اپنے منافع کی شرح کو مستحکم کرتا ہے۔ لیکن اسی معمولی غریب پاکستانی کا چولہا ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ کوئی وبا پھیلے یا کوئی حادثہ ہو، تو سب سے پہلے اس کا بچہ ناقص خوراک اور بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے مرتا ہے۔ اگر ماں کے پیٹ میں ہو تو بدبخت ماں سمیت مرتا ہے۔

سیلاب ہوں، قحط سالی، سیاسی انتشار ہوں یا کوئی فسادات ہوں… مرتا عام معمولی پاکستانی ہی ہے۔ باقی تو کسی کا کچھ نہیں جاتا۔
لیکن یہ معمولی غریب پاکستانی، عجیب ڈھیٹ طبیعت واقع ہوا ہے۔ یہ اپنے ارد گرد، کروڑوں اپنے جیسے غریب پاکستانیوں کی طرف دیکھتا ہی نہیں ہے۔ یہ سوچتا ہی نہیں ہے کہ ان سب کے نصیب ایک سے ہیں۔ مصیبتیں ایک سی ہیں۔ حتیٰ کہ مصائب اور آلام بھی ماحول کے جبر کی وجہ سے ایک جیسے بنا دیے گئے ہیں۔ لیکن یہ معمولی، غریب پاکستانی کچھ سوچتا ہی نہیں ہے۔ آئیں ایک مثال کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک شخص ایک دفعہ، ریل گاڑی پر کہیں جانے کے لیے سوار ہوا، تو اس نے ڈبے میں دیکھا کہ ایک آدمی ڈبے میں بھی، اپنا سامان اپنے سر پر اٹھائے بیٹھا ہے۔ اس شخص نے مزید ادھر اُدھر دیکھا کہ، ڈبے میں موجود ہر شخص نے، اپنا بوجھ ریل کے ڈبے کے فرش پر رکھنے کے بجائے اپنے سر پر رکھا ہوا تھا۔
اس شخص نے پوچھا: بھائی یہ سامان سر پر کیوں لاد رکھا ہے؟ تو وہ آدمی بولا، سامان میرا ہے، اگر میں نہیں سنبھالوں گا تو پھر کون سنبھالے گا؟

حالانکہ، گاڑی چل رہی ہے، وہ بھی اسی میں سوار ہو کر چل رہا ہے۔ اور باقی مسافر بھی اس کے ساتھ چل رہے ہیں۔ لیکن ہر شخص اپنا بوجھ، اپنے بال و بچوں کی ذمہ داریوں کا بوجھ، اپنے سر پر لادھے بیٹھا ہے کہ اگر میں نہیں دیکھوں گا تو پھر کون دیکھے گا؟ ہم معمولی اور غریب پاکستانی بھی ایسے ہی ہیں۔ محدود مہلت ہاتھوں میں ریت کی طرح، پھسل رہی ہے اور زندگی کی گاڑی چل رہی ہے۔ ہم سب غریب ایک ہی ڈبے کے مسافر ہیں۔ لیکن اپنا اپنا بوجھ، اپنے سروں پر اٹھائے بیٹھے ہیں۔ اس لیے ایک دوسرے کی مدد کرنے سے قاصر ہیں۔ اگر ہم معمولی اور عام سے پاکستانی، اپنی اپنی خود غرضی اور اپنی مادی بقا سے وابستہ تمام خوف اور بے جا اندیشے نیچے رکھ دیں اور صرف یہ دیکھیں، جس گاڑی پر ہم سوار ہیں، وہ صحیح ڈگر، صحیح راستے پر چل بھی رہی ہے یا نہیں۔ تو ہی بات بنے گی۔

کیونکہ اگر اجتماعی طور پر گاڑی کا رخ درست نہیں ہے، تو پھر ہم میں سے کوئی بھی مسافر، اپنی منزل پر. نہیں پہنچ پائے گا۔ اور اگر گاڑی صحیح ہے تو ہم سب اپنی منزل پر پہنچیں گے، اور باعزت زندگی گزار سکیں گے۔۔۔۔۔۔۔
اکٹھے اور ایک ساتھ۔

ہم۔۔۔۔۔۔۔ عام سے معمولی اور غریب پاکستانی اگر اپنے اپنے سروں اور. کندھوں سے، خود غرضی اور خوف کا بوجھ اتار کر، ایک دوسرے کی طرف ہمدردی اور محبت کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیں، ایک ہو جائیں، تو دنیا کی کوئی طاقت نہ تو ان معمولی پاکستانیوں کو دبا سکتی ہے اور نہ ہی مٹا سکتی ہے۔…..

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: