پاکستان کا قیام ناگزیر کیوں تھا —– مبشر سلیم

0
  • 46
    Shares

ہر عہد کا ایک اجتماعی شعور ہوتا ہے جو اس دور کے اہم فیصلوں پہ اثر انداز ہوتا ہے۔ وہ شعور اس عہد کی ضروریات اور تقاضوں کو بہتر انداز میں جانتا ہے۔ اب اگر دوسری صدی میں بیٹھ کر ہم پہلی صدی کے فیصلوں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تو ہمیں اسی صدی کے شعور کو سمجھنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ ہمارا آج کا اجتماعی شعور بھی اس صدی کے فیصلوں کی نزاکت اور ضروریات کو نہیں سمجھ سکتا، جس کے تحت وہ فیصلے کئے گئے تھے.امریکہ کی جنگ آزادی سے لیکر پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے فیصلے ہوں یا پھر صلیبی جنگیں۔ امن کے معاہدے ہوں یا پھر مملکتوں کا قیام نقل مکانیاں ہوں یا پھر معاہدوں کا ظہور۔

کچھ ایسا ہی معاملہ آج کل تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے حوالے سے درپیش ہے۔ جس میں پاکستان کے قیام کو خوامخواہ متنازعہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

چلیں ہم محمد علی جناح کی شخصیت کو بھی بھول جاتے ہیں۔ اور مسلمانوں کیلئے کسی ایسی تحریک کی ضرورت کو بھی بحث کا حصہ نہیں بناتے جس کا مقصد ایک الگ وطن کا قیام ہو۔ برصغیر کے اوپر مسلمانوں کے کم وبیش پانچ سو سال سے زائد حکومت کے بعد جب انگریزوں نے برصغیر کی باگ دوڑ سنبھالی تو ہندستان کی بڑی قوم ہندو، جو ایک عرصے سے محکوم چلی آرہی تھی، اپنی اس خلش کو مٹانے کیلئے فوراً انگریزوں کی گود میں بیٹھ گئی اور ان کے ساتھ بھرپور تعاو ن شروع کردیا۔ اور اپنی صدیوں کی محرومیوں کے ازالے کیلئے مسلمانوں سے بدلہ چکانے کی جدوجہد کا آغاز شروع کردیا۔ انیس سو ستاون کی جنگ آزادی کا سہرا مسلمانوں اور ہندؤں دونوں کے سر تھا لیکن شکست کے بعد سارا ملبہ مسلمانوں پر تھوپ دینے کے بعد انگریزوں کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے زندگی کے ہر شعبے میں اپنی شمولیت کو یقینی بنایا اور یوں انتظامی لحاظ سے ہندو انگریزوں کے دست راست بن گئے۔

1880 کے ایک سروے کے مطابق ہائی سکولوں میں ہندؤں کی تعداد 36686 اور مسلمان صرف 363 تھے۔ ۔ اور تھوڑی سی قوت میں آتے ہی انہوں نے صدیوں پرانا بدلہ لینا شروع کر دیا۔ کیا ہم شدھی شنگھٹن تحریک کو بھول جائیں؟ کیا اردو رسم الخط کے خلاف ہندؤں کی مہم کو فراموش کر دیں؟ کیا تقسیم بنگال کی مخالفت کے منافقانہ طرز عمل کو بھی بھلا دیں؟ بندے ماترم کو سکولوں میں رائج کرنے کو بھی اخلاص کا درجہ دے ڈالیں؟ ہندؤں کے اس نسلی تعصب کو سرسید جیسا آزاد ذہن بھی محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکا اور سر سید احمد خان نے حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے بنارس کے شہر میں واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ اگر ہندوؤں کی تنگ نظری اور تعصب کا یہی عالم رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہندوستان ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا میں تقسیم ہو جائے گا۔

چلو یہ سب غلط فہمی کا نتیجہ تھا، چلو یہ بھی مان لیا کہ یہ سب مسلمانوں کے گمان اور وہم تھے۔ حقیقیت وہ نہیں جو دکھائی جا رہی ہے۔ ایک نظر انیس سو سینتیس کے انتخابات کے بعد بننے والی کانگریس کی حکومت اور اس کے مسلم کش اقدامات پر ڈال لیتے ہیں۔ گرام سدھار سکیم کو نظرانداز کر دیں؟جس کامقصد مسلمان زمینداروں سے زمینیں ہتھیانا تھا۔ کیا گائے کے ذبح پر پابندی کا قانون صرف ہندووں کیلئے تھا؟ ہندو مسلم فسادات میں کس کا خون بہتا رہا؟ ہزاروں مسلمان موت کی گھاٹ اتار دیئے گئے اور نوکھالی میں چند ہندو مر گئے تو گاندھی جی نے کیا کہہ کر ہندوؤں کو بھڑکایا تھا ؟؟ ذرا سنئے تو۔ مسلمان یا تو عرب حملہ آوروں کی اولاد ہیں یا ہم ہی میں سے تبدیل ہوئے لوگ ہیں ان کی درستی کا ایک ہی علاج ہے یا تو انہیں ان کے آبائی وطن عربستان واپس بھیج دیا جائے یا انہیں شدھی شنگھٹن کے ذریعے واپس ہندو دھرم میں لایا جائے یہ بھی نہ ہو سکے تو انہیں غلام بنا کر رکھا جائے۔ میں تو پلا بڑھا ہی ہندوؤں میں ہوں۔ بنگال کے قحط کے دوران کیئے گئے ہندوانتظامیہ کے سلوک کو کیسے بھول جائیں؟؟ ہندستان چھوڑ دو کی تحریک کے دوران بھی ہندو لیڈروں کے انگریز سرکار کے ساتھ براہ راست روابط تاریخ کا حصہ ہیں۔

اور بھئی بھول بھی گئے ریلوے سٹیشنوں اور بسوں کے اڈوں پر بکتا۔ ہندو پانی اور مسلم پانی؟؟ اور وہ دن بھی بھول گئے جب ہندوؤں کی دکانوں پر سوڈے کی بوتل مسلمان کے گلاس میں ڈیڑھ دو فٹ کے فاصلے سے انڈیلی جاتی تھی اور پینے کے بعد مسلمان اپنے ہاتھ سے گلاس دھو کر واپس اپنی جگہ پر رکھتا تھا۔ اور جس قصبے میں مسلم کشی کی ضرورت ہوتی تھی وہاں پر صرف گاؤ ماتا کی قربانی کی افواہ ہی کافی سمجھی جاتی تھی۔ ۔ کیا اس حقیقت سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ ہندوؤں نے مسلمانوں کے وجود کو قبول ہی نہیں کیا تھا۔ اور انگریز کے زیرسایہ ساری کلیدی پوسٹوں پر پراجمان ہوچکا تھا۔

اگر ہندستان سے انگریز رخصت ہوجاتا تو کیا صورتحال ہوتی؟؟ کیا کسی کے پاس اس سوال کیا جواب ہے کہ کیا مسلمانوں کیلئے ایک الگ ملک کے مطالبے کے علاوہ کوئی حل بھی تھا؟؟ اس وقت پاکستان کے قیام کا مطالبہ نہ کیا جاتا تو کیا صورتحال یہ نہ ہوتی کہ مسلمان انگریزوں کی غلامی سے نکل کر ہندؤں کی غلامی میں چلے جاتے؟؟ چلیں جن کو یہ وہم ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ کانگریس میں مسلمانوں کے حقوق کے دفاع کیلئے بڑے جید لیڈر موجود تھے اور ہندستان کی تقسیم کی مخالفت کرنے والے مذہبی سکالرز اتنا اثرورسوخ ضرور رکھتے تھے کہ وہ مسلمانوں کے حقوق کا دفاع کر سکتے تھے۔

میں بہت پرانی بات نہیں کرتا۔ میں گزرے دنوں کی کوئی داستان بھی نہیں سناتا۔ کسی گمنام لیڈر کی بند کمروں میں کی گئی باتوں کا حوالہ بھی نہیں دیتا۔ میں پیش کر رہا ہوں 30نومبر 2006 کو من موہن سنگھ کی طرف سے قائم جسٹس راجندر سچرکی زیرنگرانی قائم کئے گئے کمیشن کی رپورٹ کے چند اقتصابات جو انہوں نے مسلمانوں کی بھارت میں حالت زار کے بارے میں پیش کئے تھے۔ اس رپورٹ کے مطابق بھارت کے دیہی علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کی 94.9 فیصد تعداد خطِ افلاس سے نیچے اور شہری علاقوں میں 61.1فیصد غریبی سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ دیہی علاقوں کی 54.6فیصد اور شہری علاقوں کی 60فیصد آبادی نے کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا۔ دیہی علاقوں میں مسلم آبادی کے 0.8اور شہری علاقوں میں 3.1مسلم گریجوایٹ ہیں اور 1.2پوسٹ گریجوایٹ ہیں۔

مغربی بنگال کی کل آبادی کا 25فیصد مسلمان ہیں، مگر سرکاری نوکریوں میں یہ شرح 4.2 ہے۔ آسام میں یہ شرح 40فیصد، مگر نوکریاں 11.2فیصد۔ کیرالا میں 20فیصد آبادی کے پاس 10.4فیصد سرکاری نوکریاں ہیں، البتہ کرناٹک(سابقہ میسور ٹیپو سلطان والا) میں 12.2فیصد مسلم آبادی کے پاس نسبتاً بہتر، یعنی 8.5فیصد نوکریاں ہیں۔ بھارتی فوج اور متعلقہ سلامتی کے اداروں نے اپنے یہاں سچرکمیٹی کو سروے کی اجازت ہی نہیں دی۔ مگر عام رائے ہے کہ ان اداروں میں شرح کسی طور بھی 3 فیصد سے زائد نہیں۔ اس تصویر کا یہ رخ اور بھی بھیانک ہے کہ مہاراشٹر میں مسلمان کل آبادی کا 10.6فیصد سے کم، مگر یہاں کی جیلوں میں موجود قیدیوں کا 32.4فیصد حصہ مسلمان ہے۔ دہلی کی آبادی میں مسلمان حصہ 11.7فیصد، مگر یہاں کی جیل میں قیدیوں کا 27.9فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ صوبہ گجرات کی جیلوں میں بند کل افراد کا 25.1فیصد مسلمان ہیں، جبکہ آبادی میں یہ تناسب محض9.1کا ہے۔ کرناٹک کی جیلوں میں 17.5مسلمان بند ہیں، جبکہ آبادی میں یہ تناسب 12.23ہے۔

مہاراشٹر میں جیلوں میں ایک برس سے زائد بند قیدیوں کا 40.6بھارتی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جی ہاں جو لوگ آج ہندستان کی تقسیم کے خلاف باتیں کر رہے ہیں کیا ان کے پاس کمیشن کی اس رپورٹ کے بعد کوئی جواب ہے؟

ہاں یہ درست ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر لیا گیا تھا۔ لوگوں کا ایک خواب تھا کہ وہ اپنے دین پر اپنی آزادی کے ساتھ عمل کر سکیں گے۔ انصاف اور مساوات کا پیامبر بنے گا۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ ویسا نہیں ہوا جیسی خواہشیں تھیں۔ لیکن اس کا الزام پاکستان کے سر کیوں؟ جی ہاں مرسیڈیز گاڑی شوروم سے نکال کر ڈرائیور فٹ پاتھ پر چڑھا دے تو الزام گاڑی پر کیسا؟ کمپیوٹر کا غلط بٹن دبا کر اپنا سارا ریکارڈ خراب کر ڈالیں تو الزام کمپیوٹر کو کیوں؟ اگر نادرا کے نظام کو نااہل ہاتھوں میں تھما دیا گیاتھا تو اس میں نادرا پر الزام کیسا؟ امتحانی نظام کو کمپیوٹرائز کرتے وقت سفارش پر عملہ بھرتی کرلیا جائے تو کیا کمپیوٹر سسٹم پر طعنہ ظن ہوجائیں گے؟ واہ بھئی خوب، موبائل جیب سے گر کر پانی کی بالٹی میں جا گرے تو سیاپا کمپنی کے خلاف شروع کر دو؟ ماچس کی ڈبی بندر کو پکڑا دو اور آگ لگنے کی ذمہ داری عمارت کھڑی کرنے والے پر لگا دو؟ کیا انصاف کی بات کرتے ہو؟امتحان میں فیل اپنی نااہلی سے ہوجاؤ اور واویلہ ممتحن کے خلاف شروع کردو؟

آج اگر یہ ملک ہم سے صحیح طور پر سنھالا نہیں گیا تو اس کا الزام اس کے بنانے والوں کو کیوں دیں۔ آج اکیسویں صدی میں بیٹھ کر آج کے شعور کے ساتھ پچھلی صدی کے شعور کے کئے گئے فیصلوں کا گالی دینے کی بنیاد کیا ہے؟۔ تم کیا جانو اس زمانے کی ضرورتیں اور تقاضے؟ خدارا ہوش کے ناخن لو۔ جو تمہارے پاس ہے اس کی حفاظت کرو۔ اپنی عزت کی حفاظت، ، میں وطن پرستی کی دعوت نہیں دے رہا لیکن میں ان فیصلوں پر تنقید سے روک رہا ہوں جن کا شعور ہمارے پاس نہیں ہے۔ میرا صرف ایک سوال ہے بنئے کے اس متعصب اور منافقانہ رویوں کے بعد ایک الگ خطے کے قیام کے علاوہ دوسرا حل کون سا تھا؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: