ہم کون ہیں؟ —– حسین نصر/ محمد سہیل عمر

0
  • 88
    Shares

گفتگو: سید حسین نصر —انگریزی/ فارسی سے ترجمہ: محمد سہیل عمر


آغاز و پس منظر:
ہم جس دنیا میں زندگی بسر کر رہے ہیں اس میں ہر طرف افراتفری ہے۔ ہم امی جمی سے عاری زمانے میں جی رہے ہیں۔ اسی میں خداوندِ کریم نے ہمیں ایک راہِ سلوک، ایک ایسا راستہ عطا کر دیا ہے جو اُس کی جانب لوٹنے کا وسیلہ فراہم کرتا ہے اور اُسی نے ہمیں ایک روحانی برادری کی نعمت ارزاں فرمائی ہے، یعنی وہ صوفی سلسلہ جو ہمارے لیے امن و آشتی کا گہوارہ ہے اور جس کے سہارے ہم ایک حالتِ اطمینان و سکون میں زندگی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے گرد و پیش ہمارے دیگر ساتھی ہیں، دوسرے فقراء، جو داخلی اطمینان اور خارجی سکون کی حامل زندگی گزارنے کے لیے کوشاں ہیں۔

‘‘ہم کون ہیں؟’’ کے جواب میں مجھے جو کچھ عرض کرنا ہے۔ اس کے لیے میں اپنی روحانی شناخت اور اس کی حقیقت ایک مرتبہ پھر آپ کے سامنے بیان کر دیتا ہوں۔ روحانی طور پر اور ایک گہری معنوی سطح پر اس غرض سے چار پہلوؤں کی وضاحت درکار ہے۔ مجھے امید ہے کہ ان چار اطراف پر نظر کرنے کے بعد ہمارے سلسلۂ طریقت کی ابتداء و آفرینش اور پس منظر، فکری بنیادیں اور عرفانی مؤقف، اوراد و اذکار اور اہلِ طریقہ کے طرزِ زیست کا خلاصہ آپ کے سامنے آ جائے گا۔

میں نے ’’ہم کون ہیں؟‘‘ یا ’’میں کون ہوں؟‘‘ کا جو سوال اٹھایا ہے وہ کوئی عمومی، ما بعد الطبیعیاتی سوال نہیں ہے جس کے بارے میں میری بھی بہت سی تحریریں موجود ہیں اور جس پر شیخ عیسیٰ نور الدین﷫ نے بھی کمال خوبی و متانت سے لکھا ہے۔ ہندوؤں کے اکابرین میں ایک بہت پہنچے ہوئے سَنت اور مفکر شری رَمَنْٹْر مہارِشی ہو گذرے ہیں۔ ان کی ساری زندگی اس ایک سوال کا سامنا کرتے اور اس کا جواب بیان کرنے میں صرف ہو گئی کہ’’ میں کون ہوں؟‘‘۔ لیکن یہ میرا آج کا موضوع نہیں ہے اور میں سرِدست اس سوال کو مابعد الطبیعی زاویۂ نگاہ سے نہیں دیکھ رہا۔ مہارِشی جی نے جو سوال اٹھایا تھا اس کا جواب ہم فقراء کے لیے ایک لحاظ سے بہت سادہ ہے؛ اپنی حقیقتِ اصلی کے اعتبار سے، اپنی فطرت میں، ہم حقیقتِ الٰہیہ کے تاجِ تکوین میں جڑے ہوئے نگینوں کی طرح ہیں۔ کرنا صرف یہ ہے کہ اپنی خودی پہچان کر اس امر کا تحقق کر سکیں اور اپنی حقیقت ِاصلیہ، اپنی اساسِ حقیقت، کی طرف رجوع کر سکیں۔ ہم عالمِ ہستی میں ان امکاناتِ وجود کے ظہور و تکوین کے ذریعے وارد ہوئے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں تھے کیونکہ وہ العلیم ہے، سبھی کچھ جاننے والا، ہر شے کا علم رکھنے والا۔ اپنی اصل میں ہم، فی الحقیقت، یہ ہیں اور روحانی تحقق اور تکمیلِ روحانیت کے وسیلے سے دوبارہ اسی درجے پر فائز ہو سکتے ہیں۔ آخر الامر، ہم وہی کچھ ہیں جو بن پاتے ہیں اورجو بن پاتے ہیں وہی ہوتے بھی ہیں۔ آج میں اس سوال پر گفتگونہیں کروں گا۔ آج میراموضوعِ سخن ایک زیادہ و جودی، عملی اور فوری سوال ہے کہ ہماری روحانی شناخت، ہماری پہچان کیا ہے تاکہ سب فقراء پر واضح ہو جائے کہ ہم کون ہیں۔ یہ بات تو آپ سبھی جانتے ہیں کہ ہم سب شاذلیہ سلسلے کے فقراء ہیں لیکن اس سادہ سے جواب سے آگے بڑھ کر کچھ اور معاملات بھی ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔

سب سے پہلے تو اس حقیقت کی جانب فرمائیے کہ اسلامی روایت کی پوری داخلی، عرفانی یا متصوفانہ جہت نبی علیہ السلام کے باطنِ وجود سے پھوٹتی ہے، حقیقت ِ قرانیہ کے داخلی درجات سے صادر ہوتی ہے اور آخر الامر وحی کے منبع و مصدر میں ضم ہو جاتی ہے۔ یہی وہ قوت ہے جسے ہم بیعت کی طاقت کہتے ہیں، ولایت (خدا دوستی) کی طاقت جو رسولِ خدا ؐاور شاذلی شیوخ کے نمائندے کے طور سلسلۂ بیعت کے ذریعے میں نے فقراء اور فقیرات کو بیعت کرتے ہوئے منتقل کی ہے، وہ علم اور ہمت جو بیعت کے ساتھ منتقل ہوتی ہے وہی اگلے زمانوں میں اس صورت میں متشکل ہوئی جسے ہم تصوف کا نام دیتے ہیں اور پھر اس کے مختلف صوفی سلاسل بنتے گئے۔ کئی صدیاں گذر گئیں کہ تصوف ڈھیلے ڈھائے تنظیمی حلقوں کی صورت معاشرے کا حصہ رہا اور پھر بڑے سلاسلِ تصوف ابھرے اور جوں جوں اسلامی معاشرے میں زوال کا عمل دخل بڑھتا رہا زیادہ منظم اور رسمی سلاسلِ تصوف کی ضرورت بھی افزونی ہوتی رہی اور ساتھ ہی تصوف کی فکریات اور عرفانی بیان کا زیادہ کھُلا اور مرتب اظہار معرضِ وجود میں آتا چلا گیا۔ یاد رہے کہ صوفی سلاسل کا تنظیمی صورت میں ظہور کسی روحانی ترقی اور بالیدگی کی علامت نہیں تھا بلکہ ایک ایسے انسانی معاشرے کی فکری اور روحانی ضروریات کی تکمیل کے لیے نمو پذیر ہوا تھا جو روحانی طور پر زوال و زبوں حالی کا شکار ہو چلا تھا۔ اس سلسلے میں ایک عمومی بات کہی جا سکتی ہے کہ جیسے جیسے اسلامی معاشرہ عہدِ نبوی ؐکے نقطۂ کمال اور ترفع سے دور ہوتا گیا، فکری اور عقلی شرح و توضیح اور عرفانی بیان کی ضرورت فزوں تر ہوتی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے دین کے فہم کو عقلی بنیادوں پر استوارکرنے کی ضرورت بڑھی، دست ِقدرت نے شیخِ اکبر محی الدین ابن عربی اور اسلامی تاریخ میں ان کے بعد آنے والے مفکرین کی عظیم عرفانی تحریروں کی صورت میں مسلم فکریات کو ایک انمول ذخیرہ عطا کر دیا۔ ضروری نہیں کہ شیخِ اکبر کے ہاں اصل الاصول کا علم سیدنا حسن بصری یا شیخ الطائفہ جنید بغدادی سے زیادہ پایا جاتا ہو لیکن ان کا منصب یہ تھا کہ وہ اپنے بیش قیمت اور غایت درجہ مفید علوم و معارف اس لمحۂ تاریخ میں ظاہر کریں جب اسلامی تہذیب میں شرح و توضیح کا بڑھتا ہوا تقاضا سامنے آ رہا تھا۔

یہ بھی مطالعہ کیجئے:  اپنا آپ ———- سہیل عمر

 

تاریخِ تصوف میں جتنے بھی سلاسل قائم ہوئے ان میں ایک سلسلہ ایسا ہے جو چند خصوصیات کے لیے معروف رہا ہے۔ علومِ نظری و عقلی کا میلان، عرفانی نقطۂ نظر کے ساتھ ساتھ پاسِ شریعت، آفاقیت اور معارف کی اولین ترجیح، سلسلۂ شاذلیہ کو ممتاز کرتی ہیں (گو یہ اوصاف دوسرے سلاسل میں بھی پائے جاتے ہیں)۔ اس سلسلے کے بانی شیخ ابوالحسن الشاذلی ﷫ہیں۔ ان کا مزار مصر میں ہمیثرہ کے مقام پر ہے۔ ان کی برکات اور ہمارے طریقے کے سارے اقطاب کی برکات یہاں، اس آن، بھی اس سلسلۂ تصوف میں ایک زندہ حقیقت ہیں جس سے ہم سب منسلک ہیں۔

ہمارے ہاں جو مناجاتِ سلسلہ بعض اوقات پڑھی جاتی ہے اس سے بھی یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے۔ اس مناجات میں ہم ذاتِ رسالت مآب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آغاز کرتے ہیں اور پھر قدم بہ قدم، ایک ایک پیڑھی اترتے ہوئے شیخ عیسیٰ نور الدین تک آتے ہیں جو میرے بھی شیخ تھے۔

شیخ ابوالحسن شاذلی ﷫کو قدرت نے ایک وسیلے کے طور پر منتخب کیا تھا کہ ان کے ہاتھوں اللہ کی طرف سے تصوف کی عرفانی، عقلی اور فکری جہت کی تجسیم و تشکیل ہو جائے۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کا سلسلۂ طریقت وہ واحد سلسلۂ تصوف ہے جس میں تصوف کی یہ جہت اور یہ فکری عناصر پائے جاتے ہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ ان کے ہاں اور ہر چیز سے زیادہ اس جہت پر زور دیا جاتا ہے نیز یہ سلسلہ صحو (ہوش مندی) پر اپنی بنیاد رکھتا ہے اور روحانیت کی جذب و حال والی کھلی صورتوں سے گریز کرتا ہے جو بعض دوسرےسلاسل ِ تصوف میں پائی جاتی ہیں۔ سلسلۂ شاذلیہ ایک ایسے’’تصوفِ صحو ‘‘ کا نمائندہ ہے جس کے دائرے کے اندر سُکرِ داخلی (مخفی مدہوشی) کے امکانات موجود رہتے ہیں۔ شاذلی فقیر کا اندر، باطن کیسا ہی سُکر میں ہو وہ اپنے ظاہر کو حالتِ صحو میں ہی رکھتا ہےاور اس کے داخل کی مدہوشی اس کے صحو کو زائل نہیں کر پاتی۔ ایک اعتبار سے یہ ایک دشوار کام ہے کیونکہ سیدھا حالتِ سکر تک پہنچنا ایک آسان کام ہے لیکن حالتِ صحو میں رہتے ہوئے خدا دوستی کا نشہ سہارنا مشکل ہوتا ہے۔

تاریخی طور پر ہمارے سلسلے کے بڑے مرکز ان علاقوں میں واقع تھے جن سے شیخ الشاذلی کا آبائی تعلق تھا۔ جہاں ان کی زندگی گذری اور جہاں وہ دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ ہماری مراد ہےمراکش، جہاں ان کی ولادت ہوئی، تیونس جہاں ان کو تجلی اعظم نصیب ہوئی، اور مصر جہاں ان کی وفات ہوئی۔ کچھ عرصے بعد سلسلۂ شاذلیہ مصر سے سپین تک پھیل گیا اور پھر وہاں سے واپس شمالی افریقہ۔ ساتھ ہی اسے مصر میں بھی قبول عام حاصل ہوا اور بعد ازاں شام اور مشرقی بلادِ عرب کے دوسرے علاقوں میں بھی۔ تاہم یہ سلسلہ اسلامی دنیا کے مشرقی علاقوں مثلاً ہندوستا ن، ایران، وسطی ایشیا اور جزائر غرب الہند (ملائشیا کے گرد و نواح کا خطہ) میں متعارف نہیں ہوا۔ قادریہ سلسلے کی طرح یہ سلسلہ ساری اسلامی دنیا میں نہیں پھیلا۔ شاذلیہ سلسلہ زیادہ تر غربِ اسلام کا ہی حصہ رہا۔ مزید برآں شیخ الشاذلی نے پیش گوئی کی تھی کہ ’’ایک دن آئے گا کہ میرا طریقہ مغربی دنیا پر سایہ فگن ہوگا‘‘ لیکن یہ پیش گوئی شیخ احمد العلوی ﷫کے ظہور اور ہمارے زمانے میں آکر پوری ہوئی۔

عیسیٰ نور الدین احمد (فرتھجوف شوان)

شیخ-علی-بن-طیب-بن-العربی-الدرقاوی

سو سلسلۂ شاذلیہ کے پہلے دور کے شیوخ، بڑے اولیاء، سبھی عرب تھے، عالمِ اسلام کے بلادِ شرقیہ کے عر ب اور المغرب کے عرب۔ کچھ استثنائی مثالیں البتہ اہلِ پارس، ترکوں اور وسطیٰ ایشیاکے باشندوں کی بھی ملتی ہیں جو شاذلیہ سلسلہ کے سربراہ شیوخ مقرر ہوئے۔ سلسلے کے تقریباً سارے بڑے شیوخ عرب تھے بلکہ عہد حاضر میں تو شمالی افریقہ ہی کے تھے۔ یہاں میں صرف شیخ احمد زروق﷫، شیخ الدرقاوی ﷫اور ہمارے شیخ احمد العلوی﷫ کا ذکر کروں گا جنھوں نے شام، یمن اور دیگر علاقوں کے شیوخِ شاذلیہ کی تربیت کی۔ اس وقت سلسلۂ شاذلیہ کی تعلیمات اگر خالص اور بہتر صورت میں محفوظ ہیں اور ان کی اشاعت عالمِ اسلام میں ہوئی ہے تو یہ انھی متاخرینِ شاذلیہ کی دین ہے۔ شیخ ابو الحسن الشاذلی پیدا اگرچہ مراکش میں ہوئے اوران کے مرشد نے اسی ملک میں ان کو بیعت کیا، ان کی باطن کی آنکھ پر جو تجلی ہوئی وہ تیونس میں وارد ہوئی اور یہ بھی شمالی افریقہ میں واقع ہے لیکن سلسلۂ شاذلیہ کی بنا مصر میں ڈالی گئی۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ ۲۵ سال تک میں بعض فقراء کے ہمراہ ہر سال مصر جاتا رہا ہوں۔ مصر کا سفر تو ہم نے ضرور کیا مگر یہ یاد رہنا چاہیے کہ ہمارے سلسلے کے تقریباًسبھی بڑے اقطاب کا تعلق مغربِ اسلام سے ہے۔ ان میں بہت سے عظیم صوفی شیوخ ہو گذرے ہیں لیکن میں آپ کے سامنے سلسلے کے تاریخی ارتقاکے اہم نکات کا خلاصہ پیش کر رہاہوں۔

لگ بھگ دو سو سال قبل شیخ احمد الدرقاوی﷫ کی شخصیت کے ذریعے سلسلۂ شاذلیہ کا شاندار احیاء ہوا۔ انھوں نے سلسلۂ شاذلیہ کی درقاوی شاخ کی بنیاد رکھی۔ یہ شاخ آج بھی الجزائر اور مراکش میں بہت توانا ہے اور وہاں اس کے پیروکاروں کی کثرت ہے۔ سلسلۂ شاذلیہ کی سب سے مضبوط شاخ درقاویہ ہے اور پھر علوی سلسلہ جس سے ہمارا تعلق ہے اوراس کے بھی الجزائر اور دیگر مقامات پر کثیر تعداد میں مریدین پائے جاتے ہیں۔ بیسویں صدی کے اوائل میں الجزائر میں شاذلیہ سلسلے کے وہ عظیم شیخ پیدا ہوئے جن کا نام شیخ احمد العلوی ﷫ تھا جو اکثر لوگوں کے خیال میں قطبِ زمان تھے اور جن کے ذریعے شیخ ابوالحسن الشاذلی کی وہ پیش گوئی پوری ہوئی کہ ایک دن ان کے سلسلے کی تعلیمات اور ان کا سلسلہ مغرب پر عکس انداز ہوگا۔ اس سے مراد غربِ اسلامی نہیں تھا بلکہ یورپ اور امریکہ۔ شیخ احمد العلوی نے ۱۹۲۷ء میں پیرس مسجد کا افتتاح کیا تھا۔ میں نے بائیس سال کی عمر میں پہلی مرتبہ پیرس کا سفر کیا تھا۔ اس کے بعد سے جب بھی پیرس جانا ہوتا ہے مسجد کی زیارت ضرور کرتا ہوں۔ ایک اعتبار سے یہ ہمارے طریقے کی مسجد ہے۔ اگر پیرس سے گذر ہو تو آپ بھی مسجد جائیے گا کہ آج بھی یہاں شیخ احمد العلوی﷫ کی برکت کے آثار محسوس ہوتے ہیں۔

شیخ احمد العلوی

مغربی دنیا میں ہمارے طریقے کی اس شاخ کے پھیلنے کا سبب وہ اہم واقعہ ہے جس کے تحت جرمن ماہرِ مابعد الطبیعیات عیسیٰ نور الدین احمد (فرتھجوف شوان) کی عالی شان روحانی شخصیت نہایت حیران کن حالات میں فرانس چھوڑ کر الجیریا تشریف لے گئی اور وہاں شیخ احمد العلوی سے بیعت ہوئے۔ جب نو عمر سدّی عیسیٰ مستغانم (شیخ احمد کا آبائی قصبہ) میں اپنے مرشد کے پاس حاضر ہوئے تو شیخ احمد نے فرمایا: ’’…ہم تمہارے منتظر تھے‘‘۔ مغرب کی روحانی سرزمین میں نخلِ شاذلیہ کی برومندی اور آبیاری میں تمام حضرات سے بڑھ کر سدّی عیسیٰ نور الدین نے شیخ احمد العلوی کی رہنمائی میں ایک خاص کردار انجام دیا۔ شیخ عیسیٰ مستغانم سے لوٹ کر فرانس آئے اور پھر دوبارہ مستغانم حاضر ہوئے۔ اس کے بعد شاذلیہ سلسلے کی علوی شاخ یورپ میں قائم ہوئی اور اس کو سلسلۂ شاذلیہ، درقاویہ، علویہ کا نام دیا گیا۔

سلسلے کا اولین مرکز ۱۹۳۴ء میں جرمنی کے شہر بال (Basle) میں چند مریدین کے ساتھ قائم ہوا، ازاں بعد لوزان (سوئیزر لینڈ) میں پھر پیرس اور فرانس کے دیگر شہروں بالخصوص نینسی میں۔ کچھ فقراء کا تعلق جرمنی سے بھی تھا اور یہ صورتحال دوسری جنگ عظیم کے آغاز تک کی ہے۔ جنگ کے دوران شیخ عیسیٰ کو فرانسیسی فوج میں جبری بھرتی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ جرمنوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور بصد مشکل ان کی قید سے فرار ہو کر سوئیزر لینڈ پہنچے۔ زندگی کے اگلے۴۰ سال شیخ عیسیٰ نے اسی ملک کے شہر لوزان میں بسر کیے۔ یہی وہ دور ہے جب طریقہ صحیح معنوں میں مستحکم ہوا اور بتدریج ایک نہایت اہم روحانی اور فکری تنظیم کی صورت میں متشکل ہوا۔ عددی اعتبار سے یہ مختصر ضرور تھا لیکن مغرب میں اس کی حقیقی معنویت پیدا ہو چکی تھی۔ اہل ِ فکر کے ایک چنیدہ طبقے میں اس کے اثرات بہت گہرے تھے اور یورپ کے بہت سے فکری دھاروں کو اس نے متاثر کیاتھا۔ ان میں برطانیہ بھی شامل تھا۔ جہاں شیخ ابو بکر سراج الدین﷫ نے۱۹۵۲ء میں ایک اہم زاویے کی بنا رکھی۔ شیخ ابوبکر ۱۹۳۸ء میں شاملِ سلسلہ ہوئے تھے لیکن۱۹۵۱ءکے ناصری انقلاب تک قاہرہ ہی میں مقیم تھے (اس سارے عرصے میں شیخ عبدالواحد یحییٰ ﷫[رینے گینوں] کا قیام بھی قاہرہ ہی میں تھا)۔ پھر کچھ اسباب ایسے پیداہوئے کہ شیخ عیسیٰ نے یورپ سے نقل مکانی کرکے امریکہ میں سکونت اختیار کرلی۔ ان اسباب کی تفصیل یہاں مطلوب نہیں۔ ۱۹۸۰ء میں وہ پہلی مرتبہ امریکہ تشریف لائے اور اگلے برس مستقل طورپر بلومنگٹن انڈیانا میں آباد ہو گئے۔ ان کی باقی عمر یہیں بسر ہوئی اور وہ اسی شہر میں مدفون ہیں۔

ان کی وفات سے بہت سال پہلے سلسلے کی وہ شاخ جس کی وہ رہنمائی کر رہے تھے اس کا نام شاذلیہ، قادریہ علویہ، مریمیہ طریقہ رکھ دیا گیا تھا۔ اس تبدیلی کا سبب ہم بیان کر دیتے ہیں۔ سلسلے کے نام مریمیہ کا اضافہ اس لیے ہوا کہ سیدہ مریم علیہا السلام شیخ عیسیٰ پر ظاہر ہوئیں۔ ایک مرتبہ فیض یاب ہونے کے بعد ۱۹۶۶ء اور ۱۹۶۷ء میں مراکش میں سیدہ مریم کی انھیں دوبارہ رویت ہوئی۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے نام کے آخر میں ’’المریمی‘‘ کا اضافہ کرلیا اور جیسے شاذلیہ سلسلہ شیخ ابوالحسن الشاذلی کے نام سے شاذلیہ کہلایا، اسی سلسلے کی اس شاخ نے شیخ عیسیٰ نورالدین المریمی کی وجہ سے مریمیہ کا نام پایا۔ شاذلیہ سلسلے کی اس شاخ کے ’’مریمیہ‘‘ کہلانے کاسبب یہ ہے۔ بہرحال، چندے وقت گذرا تو سلسلے کی سب شاخوں نے اپنے نام کے ساتھ مریمیہ کا لاحقہ قبول کرلیا، سوائے سدی مصطفی عبدالعزیز (میشل والساں) کی پیرس شاخ کے جو بعض معاملات میں مختلف نقطۂ نظر رکھنے کے سبب الگ ہو چکی تھی مگر یہ ایک الگ قصہ ہے۔ ظاہر ہے کہ علویہ سلسلہ اپنے طور پر آج بھی پیرس اور فرانس کے دیگر مقامات پر موجود ہے اور الجزائر اور دیگر اسلامی ممالک میں بھی۔ ان کی ایک بڑی تعداد ہے جن میں سے اکثر سے ہمارے دوستانہ تعلقات ہیں، کچھ سے نہیں بھی ہیں۔

ہمارا اندازِ جہاں بینی، خدا مرکز ہے، انسان مرکز نہیں ہے۔ ہمارا تصوِرکائنات ایک خدا مرکزتصورِ حقیقت پرمبنی ہے بنا بریں ہر وہ شے جو خدا مرکز تناظر، خدا مرکز تصور حقیقت پر مبنی نہ ہو بلکہ اس کی جگہ انسان مرکزیت کا قائل ہو، مثلاًجدیدیت کا فکری تناظر، اسے ہم رد کرتے ہیں۔

شیخ عیسیٰ کو جب یہ احساس ہوا کہ وہ اتنے عمر رسیدہ ہو چکے ہیں کہ طریقے کے جملہ معاملات براہ راست انجام دینا ممکن نہیں رہا کیونکہ طریقے کی شاخیں ساری دنیا میں پھیل چکی ہیں تو اس مرحلے پر انھوں نے ایک ایک کرکے مختلف شاخوں کو مرکزی تنظیم سے آزاد کرکے خود مختار بنادیا۔ شیخ ابوبکر مجھ سے پہلی نسل کے بزرگ تھے۔ لیکن پہلے مجھے اور پھر ان کو خلیفہ مقرر کر دیا۔ ۱۹۹۲ء کے بعد اور لوگ بھی منتخب کیے گئے۔ اسی طرح شیخ عیسیٰ کی وفات سے کافی پہلے مختلف زاویے مثلاًہمارا واشنگٹن زاویہ ہر اعتبار سے خود مختار ہو چکے تھے۔

بایں ہمہ میں شیخ عیسیٰ کی خدمت میں بلومنگٹن کی رہائش گاہ پر پابندی سے حاضر ہوتا رہا، جیسے لوزان میں حاضر خدمت ہوا کرتا تھا۔ یہ تیس سال تک میرا معمول رہا۔ ان کی وفات تک میری ان سے بہت قربت رہی لیکن ان کے بلومنگٹن کے حلقے میں کچھ ایسے واقعات رونما ہورہے تھے جو میرے لیے قطعا ًناقابل قبول تھے اور میں نے خود کو اس حلقے سے بالکل الگ کرلیا۔ شیخ عیسیٰ کو اس قضیے کا علم تھا بلکہ انھوں نے میرے اعلانِ لا تعلقی کی تائید فرمائی بلکہ ان کی خواہش یہی تھی کہ میں ان معاملات مثلاً ریڈ انڈین ڈیز سے سراسر غیر متعلق رہوں۔ بہرکیف ان معاملات پر میں گفتگو نہیں کروں گا۔ یہ ایک لمبا قصہ ہے اور وہاں جو کچھ ہوا اس کا ہم سے اور ہمارے آج سے کوئی تعلق نہیں۔ شیخ عیسیٰ کی نظر میں میری ذات مغرب میں قائم ہونے والے سلسلۂ علویہ کی مستند اور روایتی نمائندگی کی علامت تھی، وہ سلسلہ جسے انھوں نے فروغ دیا تھا۔ ان کی رحلت کے بعد ہمارے ہاں جس سلسلے کی نشوونما ہوئی ہے وہ یہی سلسلہ ہے۔ مشیتِ ایزدی یہی رہی ہے کہ اس سلسلے کی وہ شاخ جو ہماری نگرانی میں تھی ساری دنیا میں قابلِ ذکر حد تک پھیلی اور نمو پذیر ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے: امام غزالی : فلسفے کا مخالف فلسفی —– سہیل عمر

 

آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ ہمیں کئی مختلف روحانی دھاروں اور حقائق کی وراثت نصیب ہوئی۔ بدیہی طور پر اسلام کی روایتِ تصوف ان میں سب سےمقدم ہے جو ہمارے لیے وحیِ قرآنی اور سید نامحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیوض و برکات کا وسیلہ ہے۔ پھر مریمیہ طریقے کی وراثت جو بڑے بزرگوں اور اولیائے شاذلیہ کے شجرے کے ذریعے شیخ ابوالحسن شاذلی تک پہنچتی ہے۔ اس کے بعد وہ برکات ہیں جو سیدہ مریم ؑنے خاص ہمارے سلسلے کو عطا فرمائیں۔ ان سب حقائق کی یکجائی سے ہمارا سلسلہ وہ روحانی سلوک بن جاتا ہے جس کی سند اور نسبت بالکل صاف اور پکی ہے اور جو صحیح اور گہرے معنی میں صراطِ مستقیم ہے۔ صراطِ مستقیم اپنے اعلیٰ ترین مفہوم میں وہی راستہ ہے جس کا سرا مستند طور پر مآخذاول سے جڑا ہوا ہو۔

Rene Guenon and Frithjof Schuon

اس کے علاوہ نظری اور عرفانی سطح پر شیخ عبدالواحد یحییٰ Rene Guenon کی ما بعد الطبیعیات سے متعلق تحریریں اور تعلیمات ہیں جو قدرت نے ہمیں فراہم کر دیں اور خود شیخ عیسیٰ کی ما بعد الطبیعیات سے متعلق تحریریں اور سلسلے کے دوسرے درخشندہ بزرگوں کی تصانیف جن میں سدی ابراہیم عزالدین Titus Burckhardt اور شیخ ابوبکر کی تحریریں شمار کی جاسکتی ہیں۔ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے کہ بیسویں صدی میں ہمارا سلسلہ گویا دنیا کی اجتماعی عقل، جگ بدھی، کی حیثیت اختیار کر گیا۔ عہد ِحاضر میں کوئی دوسرا صوفی سلسلہ ایسا نہیں ہے جو عقلی اور عرفانی پہلو سے تصوف کے بارے ایسا کچھ بھی مواد سامنے لا سکے جو ہمارے سلسلے نے مرتب کردیا ہے۔ اعتراف کرتے ہوئے یا اس کے ذکر سے گریز کرکے، ہر دو صورتوں میں ہماری تحریروں سے بہت سے لوگوں نے استفادہ کیا ہے۔

ہمارے مکتبۂ فکر میں وحیِ خداوندی، تنزیلات الٰہیہ، کو کسی خاص زمانے اور علاقے تک محدود نہیں سمجھا جاتا۔ ختمِ نبوت کے عہد سے پہلے تک، وحی ایک کائناتی، عالمگیر اور زمانوں پر محیط سلسلہ رہا ہے۔ ہم اس نقطۂ نظر پر اصرار کرتے ہیں گو بعض ظاہر پرست حضرات بلکہ چند صوفی سلاسل اس پر بہت سے اعتراضات اٹھاتے ہیں۔ ہم اس اصولی مؤقف کی پاسداری کرتے ہیں جو ایک طرح سے ہمارا امتیاز ہے اور ہماری شناخت قرار پاتا ہے۔ ہم اصالتِ فکر اور وسیع ترین معنی میں مأخذِ اصلی سے استناد کے نمائندے ہیں۔ ہم روایت کے نمائندے ہیں، روایت جس کی تعریف اور شناخت تمام عظیم بزرگوں اور شیوخ نے فراہم کی ہےاور ہم ان کے فرمودات کی شرح میں روایت کے معانی کے توضیح و بیان کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم جدیدیت کے بنیادی مفروضوں کے کلیتاًمخالف نقطۂ نظر کے حامل ہیں۔ اس کامطلب یہ نہیں کہ اگر ہمارے بدن میں کہیں رسولی ہو تو ہم کسی جدید سرجن سے آپریشن کروا کے اسے نکلوانے کے مخالف ہیں محض اس لیے کہ سرجری، جراحی ایک جدید عمل ہے۔ ہمیں خدانے عہد ِجدید میں پیدا کیا ہے اور اس پر ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ جدیدیت سے ہمارا اختلاف اس کی فلسفیانہ تعبیرات اور حیات و کائنات کے بارے میں اس کے فکری موقف سے ہے اور ہم اس سے کسی قسم کی مصالحت کے روا دار نہیں ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ جدیدیت کے جو اثرات ہماری زندگیوں پر پڑتے رہتے ہیں ان سے بھی ممکنہ حد تک بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: