پڑوسی ——- مہوش طالب کا افسانہ

1
  • 57
    Shares

نارنجی گولے کی کرنیں نیلی چادرکے وسیع دامن پر پھیلتی جارہی تھیں۔ جاتی گرمیوں کی شامیں اس کے من کی طرح سونی تھیں یا شاید اسے ہی ہر سو اداسی پھیلی محسوس ہوتی تھی۔ ٹیرس پر دونوں بازو ٹکائے وہ نیچے گلی میں بائیں سے دائیں جھانک رہی تھی۔ پشت پر پھیلی ناگن چوٹی، گالوں پر بکھری لٹوں اور بائیں جانب سے آتی کرنوں نے اس کے سلونے حسن کو اس لمحے مزید چمک عطا کردی تھی۔

تانک جھانک سے بیزار ہوکر وہ ہٹنے ہی لگی تھی کہ سامنے سے دائیں جانب خالی مکان کا دروازہ کُھلا۔ دو مرد اور ایک عمر رسیدہ خاتون کچھ سامان سمیت اندر داخل ہوئے۔
”نئے پڑوسی!” وہ خود سے مخاطب ہوئی۔
” چلو کوئی مصروفیت تو ہاتھ لگی”۔ ہاتھ جھاڑکر وہ سیڑھیاں اترنے لگی۔

آج موقع تھا گھر سے باہر نکل کر نئے پڑوسیوں کی خبر لینے کا کہ دونوں بھابھیاں بهی اپنے میکے گئی ہوئی تھیں۔
بھرے پرے گھر میں اس کی حیثیت پائیدان کی سی تھی اسی لئے وہ خود کو زمانے کی ٹهوکروں میں پڑا ہوا محسوس کرنے لگی تھی۔
اس نے کپڑے تبدیل کر کے بال سنوارے, بھر بھر سلائیاں کاجل کی آنکھوں پھیریں, صراحی گردن پر گلو بند پہنا اور خوب تیار ہو کر محاذ پر نکل گئی۔
پلک جهپکتے وہ تین منزلہ گھر کے سامنے تھی۔ جس سے غربت کی چار دیواری میں رہنے والی صندل کا مرعوب ہونا لازمی تھا۔ ویسے یہ مسکینوں ایسی زندگی بھی محض اسی کا مقدر تھی بلکہ اس نے اپنی قسمت سے بن دیکھے سمجھوتا کرلیا تھا کہ اسے خود ترسی کی زندگی گزارنا اور لوگوں کی ہمدرددی بٹورنا پسندتھا ورنہ اس کے بھائیوں کے بیوی بچے تو ہر طرح کے آسائش میں تھے۔ سوچوں سے نکل کر اس نے ڈور بیل بجائی۔
”السلام علیکم آنٹی میں آپ کے پڑوس میں رہتی ہوں, آپ لوگ ابهی شفٹ ہوئے ہیں تو میں نے سوچا خیریت معلوم کرلوں”۔ وہ ایک ہی سانس میں بول پڑی۔
آؤ بیٹی, خوشی ہوئی تمہیں دیکھ کر”۔ خاتون نے کہتے ہوئے اندر آنے کا راستہ دیا۔
”اور لوگوں کی بھی خوب کہی بیٹا, مجھ بوڑھی جان کے سوا اس گھر کا کوئی مکین نہیں۔ ”لہجے میں دل چیر دینے والی اداسی تھی۔
”تم بیٹھو, بتاؤ کیا کرتی ہو, کون سے گھر سے آئی ہو”؟
خاتون کے چاندی بال, بھرا بھرا وجود,مناسب قد و قامت اور شفاف چہرے سے جھلکتی تمکنت نے اسے ایک بار پھر متاثر کر دیا۔
”آنٹی میں نے ایف اے کیا ہے, وہ سامنے دو گھر چھوڑ کر ہمارا گھر ہے۔ ”
اس نے برآمدے میں بچھے تخت پر بیٹھتے ہوئے بے دلی سے بتایا۔
خاتون حسب نسب سے شروع ہو کر ذاتی زندگی تک پہنچی۔ وہ ابھی اٹھنے کا ارادہ کرتی کہ بُڑھیا اگلا سوال سامنے رکھ دیتی۔
”چلیں ٹھیک ہے آنٹی میں چلتی ہوں, بہت دیر ہوگئی, آپ آئیے گا ہمارے ہاں”۔
”ضرور بیٹا, بس میرا بیٹاآنے والا ہے کچھ دنوں تک جرمنی سے۔ ۔ ۔ اسے لے کر پرانے گھر سے باقی سامان اٹھانا ہے۔ پھر فرصت سے چکر لگاؤں گی۔ ” صندل دل میں آس کے دئیے جلائے واپس لوٹی۔

اگلے دن شمائلہ آئی تو اسے نئے پڑوسیوں سے پہلی ملاقات کا احوال سنانے لگی۔ ایک شمائلہ ہی تو تھی اس کی سنگی ساتھی, جس سے ہر بری بھلی کہہ سن لیتی اور وہ بھی اسے وقتاً فوقتاً مشوروں سے نوازتی رہتی تھی۔ لہذا اب بھی وہ اسے خبردار کرنا نہ بھولی۔
” اچھے ہوں گے تمہارے یہ نئے پڑوسی مگر آج کے دور میں دھوکہ, فریب بہت عام ہے, تم ذرا محتاط رہنابڑی بی سے، یہ نا ہو کہ اپنا کام نکلوا کر چلتی بنے۔ شمائلہ جامن کی پھیلی ہوئی شاخ کو غور سے دیکھ رہی تھی۔
”اوہو بی بی! تم اپنے خدشے سنبھال کر رکھو, مجھے کھرے کھوٹے کی خوب پہچان ہے اب،میں کون سا مری جارہی ہوں ان سے ملنے کے لیےاور جو اپنوں کا ڈسا ہوا ہو اسے غیروں کے زہر کا بهلا کیا ڈر”۔
شمائلہ سمجھ گئی کہ اس کا اشارہ اپنے بھائیوں کی طرف ہے۔
”اب خود ترسی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں, یتیم ہو معذور نہیں, اپنی زندگی آپ بناؤ, ہر وقت بھائیوں، بھابیوں سے نالاں مت رہا کرو”۔
”اچھا بہن, تم پھر سے شروع مت ہوجانا”۔ اس نے خشمگیں نظروں سے اسے گھورا۔

وہ ہمیشہ سے ہی اپنی زندگی سے شاکی رہی تھی۔ اس نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے گھر کا کچھ ایسا ماحول دیکھا تھا کہ آج تک اپنے حالات کا ذمہ دار دوسروں کو ہی ٹھہراتی آئی۔ اس کے والدین میں ہفتوں ناراضگی چلتی رہتی۔ اس نے اپنی ماں کو کبھی شوہر کی اطاعت کرتے دیکھا تھا نہ باپ کو اپنی بیوی کی عزت۔ اس کی ماں کو اپنے تینوں بیٹے جان سے زیادہ عزیز تھے اور وہ ان کے بل پر دنیا فتح کرنے کا ارادہ رکھتی تھی وہ تو زندگی دغادے گئی۔ وہ گھر کی سب سے چھوٹی بیٹی ہونے کے باوجود تیسری دنیا کے ممالک کی طرح سب سے زیادہ بے بس تھی۔

بڑے بھائیوں کی دیکھا دیکھی رو پیٹ کر بارہ جماعتیں پاس کیں اور گھر بیٹھ گئی۔ بچپن کی ساری سہیلیاں کب کی دانہ چگ گئی تهیں۔ اور وہ اپنے تباہ حال گھونسلے میں ڈولتی رہ گئی۔ جب ماں نے آخری ہچکی بھری تب تک ایک عدد بھابی اس کے بڑے بھائی کی دلہن بن کر اس کا سکون برباد کرنے کو آچکی تھی۔ پھر دو برس بعد وہ باپ جس نے زندگی میں کبھی بیوی کی طرف ہنس کر نہ دیکھا تھا, مرنے کے بعد اس کے پہلو میں جا کر لیٹ گیا۔ صندل کو پرانے اخبار کی طرح گهر کے تاریک کونے میں رکھ دیا گیا۔

بھائیوں کو پہلے بھی اس کی پرواہ نہ تھی اور آج بھی وہ اس سے بے خبر تهے۔
شمائلہ اکثروبیشتر اسے اپنا مستقبل سنوارنے کے مشوروں سے نوازتی رہتی مگر اس کے پاس وہی بودے سے جواب ہوتے۔ “یہ لوگ جو کچھ میرے ساتھ کررہے ہیں۔ میرا صبر کسی بجلی کی طرح ان پر گرے گا تم دیکھنا۔ ” شمائلہ دل ہی دل میں اسکی عقل پر ماتم کرتی رہ جاتی۔

شمائلہ کی بھی اگلے سال شادی متوقع تھی۔ اس کا دمکتا روپ, منگیتر کے ساتھ صبح و شام ہونے والی باتیں اس کا جی جلاتیں۔ وہ عمر کے ایسے دور میں تھی جب چاہے جانے کی طلب فطری ہوتی ہے۔ سو نئے پڑوسیوں کی آمد اسکے لیے بجھتی ہوئی امیدوں کو نئی لو دینے جیسی تھی۔ خصوصاً جب اسے پہلی ملاقات میں ہی علم ہوا کہ پڑوسن کا اکلوتا بیٹا بیرونِ ملک مقیم ہےتو اس نے خیالوں کی ایک لمبی رہگزر سجالی۔
”صندل یہ کس کے لیے نکال رہی ہو؟”سدرہ بھابھی نے اسے چینی کے ڈونگے میں تازہ بنی ہوئی ”کڑھی”ڈالتے ہوئے پوچھا۔
“بھابھی وہ ادھر قریب ہی نئے پڑوسی آئے ہیں ان۔ ۔ ۔ ۔ ”
” اللہ کی شان۔ ۔ ۔ محترمہ نئے پڑوسیوں کی خاطر گھر والوں کو فاقے کرانے چلی ہیں۔ ” منجھلی بھابی نے پوری بات سننے کی زحمت کیے بغیر لعن طعن شروع کردی۔
صندل حسبِ معمول بحث کا کوئی اثر لئے بغیر نکل گئی۔

صندل کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر گھنٹوں نئی پڑوسن کے ہاں گزار کر آتی۔ بھابھیوں نے اسے اس کے حال پرچھوڑ دیا تھا۔
”اماں آپ پریشان نہ ہوں, وہ وہاں پردیس میں خواری آپ ہی کے لیے تو جھیل رہا ہے, لوٹ کر تو اسے آپ کے پاس ہی آنا ہے۔ ویسے آپ کی بات تو ہوتی ہے نا اس سے”۔
”ہاں بیٹا, بات ہوتی ہے تو دل کو تسلی رہتی ہے, ورنہ میرا کون ہے یہاں۔ ”
آنٹی آپ خود کو تنہا محسوس مت کریں, میں ہوں نا آپ کی بیٹیوں کی طرح۔ ”
کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد صندل نے صحن دھویا,نکھرا نکھرا سا آنگن موتیے اور گلاب کی مہک سے مزید سنور گیا تھا۔
بیٹا تم روز آتی ہو یہاں,تمہاری بھابھیاں بُرا تو نہیں سمجھتیں؟”
ارے نہیں اماں جی! بلکہ میں شرمندہ ہوں کہ پچھلے دو دن سے نہیں آسکی, دراصل میری بات پکی ہوگئی ہے،تو اس لئے۔ ۔ ۔ ” اس نے قصدا بات ادھوری چھوڑدی۔
“مبارک ہو، کہاں ہوئی؟”
“ابا مرحوم کے دور کے جاننے والے ہیں۔ ” صندل نے شرمانے کی اداکاری کی۔
”ارے بیٹا, میں نے تو کچھ اور سوچ رکھا تھا لیکن چلو, اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے۔ اب مجھے بھول نہ جانا”۔
صندل نے اپنی طرف سے سمجھداری دکهائی تهی مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ قسمت کچھ اور ہی کھیل کھیلنے والی تھی۔

“آج اماں جی کے گھر سے بڑی خوشبوئیں آرہی ہیں۔ لگتا ہے ان کا بیٹا آگیا۔ ” اس نے دروازے پر کهڑے کهڑے اندازہ لگایا۔ جب دروازہ ایک نوجوان نے کھولا تو قیاس کے گھوڑوں کی لگامیں کهینچ لی گئیں۔ اس کے دل کی دھڑکن دونی ہوگئی۔
”اوہ صندل بیٹی”۔ اب کے صندل نے بڑی اماں کا چونکنا بھی محسوس کیا۔ ان کےانداز میں گزشتہ دنوں جیسی گرم جوشی مفقود تھی۔
”بیٹھو صندل…یہ میرا بیٹا اور پوتے ہیں آج ہی آئے ہیں,مجھے سرپرائز کردیا۔ ” وہ تخت پر اس کے لیے جگہ بنانے لگیں۔
”سرپرائز تو آپ نے بھی مجھے کردیا آنٹی۔ ”
وہ بے تاثر سے لہجے میں کہہ گئی۔ جرمن پلٹ بچے کهلے صحن میں کھیل رہے تھے۔ “بچے کھلونوں سے کھیلتے ہیں اور بڑے دلوں سے”، صندل دل ہی دل میں بڑبڑانے لگی۔ اس نے بمشکل خود کو سنبھالا اور اپنے خیالات کے تابوت میں ناامیدی کی آخری کیل ٹھونکی۔
” میں بیٹھوں گی نہیں آنٹی جی, بس یہ بتانے آئی تھی کہ کل لڑکے والے شگن کرنے آرہے ہیں آپ بھی ضرور آئیے گا۔ ” وہ یہ کہہ کر اٹھ کهڑی ہوئی۔

نئے پڑوسیوں کا دروازہ بند کرتے ہوئے صندل سوچ رہی تھی کہ یہ اپنے بھی کتنے پیارے ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کے آگے سرِتسلیم کرتے ہوئے اس کی ضد نے ہار مان لی تھی۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: