سیاسی معاشیات: راؤ جاوید اقبال

0

یہ معیشت کا ہمہ پہلو علم ہے جس میں اجتماعی پہلو پر نظر کی جاتی ہے ۔ اسے سیاسیات، سماجیات اور عالمی تعلقات کے اصولوں پر مبنی معاشی تجزیہ و تفہیم کہا جاسکتا ہے جس میں یہ جانچا جاتا ہے کہ انداز ہائے سیاست و معیشت (وہ بھلے سوشلسٹ انداز ہو، سرمایہ دارانہ یا اسلامی اندازِ معیشت یا پھر انکے ملے جلے انداز) کیسے ایک دوجے پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ معیشت کے پس پردہ سیاسی و سماجی مقاصد کو سمجھا جاتا ہے ۔ سیاسی نظریات و افکار کا معیشت پر اثر دیکھا جاتا ہے ۔ بڑی معاشی تنظیمات اور اداروں کے کردار سے بین الممالک معاشی صورتحال پر اثر انداز ہونے کی وجوہات اور طریقے معلوم ہوپاتے ہیں ۔ ریاست کی سطح کے معاشی معاملات اور مختلف ریاستوں کی باہمی معیشت یا عالمی معیشت بھی اس علم کا دائرہ کار ہیں ۔ کچھ پہلوؤں سے یہ میکرو اکنامکس ( اجتماعی سطح کی معاشیات) سے مشابہ ہے۔

بعض پہلؤوں سے علوم درست ہوتے ہیں لیکن انہی کو دوسرے پہلو سے دیکھا جائے تو وہ حماقت نظر آتے ہیں۔ مثلا اگر سماجیات کے پہلو سے معاشی فیصلے کا جائزہ لیاجائے تو وہ سیاسی پہلو سے حماقت ہوگی۔ اس لئے دونوں یا تینوں پہلؤوں سے معاشی فیصلے کو درست رکھنا یا درست منوانا مشکل ہوجاتا ہے۔ اور بعض اوقات ایسی حماقت کو چھپانا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسی مشکلات سے ماہرین بھی خود کو بچا نہیں پاتے ۔ اس حیران کن معجزے کی کوشش ایسے لوگ کرتے ہیں جنہیں دونوں یا تینوں علوم کی مہارت حاصل ہو، لیکن سیاسیات، سماجیات اور معیشت ، ان تینوں فنون پر دسترس رکھنے والے بھی کبھی کبھی ایسے ناکام ہوتے ہیں کہ چوکڑی بھول جاتے ہیں۔

اسکی موجودہ مثال سی پیک بھی ہے۔ اگرچہ معاشی اعتبار سے چین کے پاس کم خرچ راستہ چائنہ سی سے ملاکہ چوک پوائنٹ اور وہاں سے بحرھند تک پہنچتا ہے۔ اس راستے سے تمام تر تیل اور تجارتی سامان گزرتا تھا جس پر چین کی معیشت کا دارومدار تھا۔  لیکن سیاسی طور پر انڈیا نے اس راستے پر چین کو انگیج کیا۔ چین سے یہ منوانے کی کوشش کی کہ بحر ھند سے آسٹریلیا کے سمندر تک ایک مشترکہ تحفظ کا نظام قائم کیاجائے۔ اس پر چائنا کو اعتراض تھا کیونکہ اس طرح چین کی خود مختساری داؤ پر لگ جاتی ۔ اسے انڈیا کے ساتھ مل کر اس علاقے کے تحفظ کی کوئی ضرورت نہیں تھی، خصوصا اس صورت میں کہ انڈیا امریکی مفادات کا تحفظ بھی کررہاتھا۔ ۔ اس بناء پر اسے پاکستان کا زمینی راستہ زیادہ مناسب محسوس ہؤا جس پر صرف 45 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ اس راستے سے وہ تیل کی پائپ لائن اور سامان تجارت دونوں پہنچا سکتا ہے۔ لیکن اس پر انڈیا کو اعتراض ہے کہ یہ تجارتی سے زیادہ فوجی مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہوگا۔ کیونکہ اس طرح مشترکہ سمندری تحفظ بھی نہیں ہوپائیگا۔ چین کا سامان اور تیل دونوں محفوظ راستے سے گزر کر سمندر تک پہنچیں گے۔ یہی نزاعی کیفیت پاکستان کی معیشت کو مشکل دنوں کا سہارا ثابت ہوگی۔ چین کیلئے اپنے کم ترقی یافتہ علاقے کو ترقی دینے کا سامان ہوگا۔ یوں معیشت کیساتھ سیاست کی خلط ملط نے ایسا الٹ پھیر کیا کہ ملاکہ چوک پوائنٹ اور بحرھند کی بجائے شاہراہ ریشم اور پاکستان کو اہمیت حاصل ہوگی۔ لیکن اس پراجیکٹ کو کامیابی سے مکمل کرنے کیلئے پاکستان کو صنعتی شہر بسانا ہونگے۔ اور یہی مشکل ترین سوال ہے۔ بہرحال اس مہنگے اور لمبے راستے کا انتخاب کرنا ایک سوال تھا مگر سیاسی معاشیات کی روشنی میں اس سوال کا جواب تلاش کیا جاسکتا ہے۔ اور اس کی روشنی میں پاکستان کی چین سے دوستی کی مزید وضاحت کی جاسکتی ہے۔

معاشی سیاسیات کے اندازِ تحقیق میں اخلاقی اصولوں کی بنیاد پر معاشی فیصلوں کو پرکھا جاتا ہے اور صورتحال کی بنیادی فکری نوعیت کے مطابق اس پر تبصرہ کیا جاتا ہے ۔ اس علم کی پہلی کتاب "معاشی سیاسیات کے اصولوں کی تحقیق” جیمز سٹؤرٹ نے اٹھارویں صدی کے اواخر میں قلمبند کی۔

اٹھارویں صدی کی بحث میں حکومت کے اجتماعی معاملات میں فرد کے کردار پر زور دیا گیا ۔ اس دور میں بادشاہتیں اور آمرانہ حکومتیں افراد پر اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتی تھیں ۔ ایسے میں فرد کے حقوق کو اہمیت دیتے ہوئے سیاسی معاشیات کے ماہرین نے حکومتی فیصلوں کو غیر مؤثر اور غیر ضروری  قرار دیا گیا۔ انہوں نے اس رائے کو فوقیت دی کہ حکومتی ٹیکس اور کنٹرول سے عوامی فلاح و بہبود بری طرح متاثر ہوتے ہیں ۔ اس کے برعکس انفرادی کوششیں اور افراد کی سطح پر ہونے والی معاشی جدوجہد سے ملکی سطح اور اجتماعی ترقی کے نتائج بہتر انداز میں سامنے آتے ہیں۔ عوامی سطح کی کوششوں سے خودبخود معیشت کے معاملات و مسائل حل ہوجاتے ہیں ۔ اس علم کے تحت آزادانہ معیشت کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

انیسویں صدی میں ریکارڈو نے اس کام کو آگے  بڑھایا۔ اس نے ممالک کے مابین آزادانہ تجارت کے تصور کو سراہا۔ اگرچہ یہ تصور ابن خلدون نے بھی دیا تھا مگر ریکارڈو نے اس کی معاشی انداز میں بھرپور وضاحت کی ۔  ملکی پیداوار میں اپنے اہم ترین شعبوں کو آگے بڑھانے اور کم وسائل کے شعبوں کو کم کردینے پر زور دیا اور تقابلی پیداوار میں تخصص کا تصور دیا۔ اسی دوران جان سٹؤرٹ مل نے معاشی فیصلوں میں جمہوری اندازِ کار اختیار کرنے پر زور دیا۔ اس کے نتیجے میں اس تجویز پر تحقیقاتی کام ہؤا۔ لیکن اس پر عمل کئی دہائیوں کے بعد ہؤا جب جنرل ایگری منٹ آن ٹریڈ اینڈ ٹیرف (گیٹ) کا معاہدہ ہؤا۔ اس معاہدے کو آگے بڑھانے سے قبل سیاسی میدان میں ایک پیش رفت ہوئی، جسے ہم اقوام متحدہ کا قیام کہتے ہیں۔ اگرچہ اقوام متحدہ کا قیام دراصل بڑی جنگوں کا نتیجہ ہے۔ اس لحاظ سے ایک معاشی تحقیق کے روپ دھارنے سے قبل کروڑوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اترنا پڑا اور دنیا کا سیاسی نقشہ بھی تبدیل ہوکر رہ گیا۔ نئے سیاسی مراکز وجود میں آئے، مسلم دنیا سے خلافت کا خاتمہ ہؤا اور جمہوریت کا نعرہ بلند ہؤا جس کے ساتھ امریکہ دنیا کے سٹئیرنگ وھیل پر براجمان ہوگیا۔ مگر کھلی منڈی کی معشت پھر بھی آدھی دنیا میں رواج پاسکی۔ جان سٹؤرٹ مل اور ریکارڈو کے نظریات کو ہنوز مکمل کامیابی حاصل ہونا تھی ایسا صرف 1990ء کے بعد جاکر ہؤا جب روس افغانستان سے پلٹا اور معاشی خسارے کی بناء پر سنٹرل ایشیاء اور مشرقی یورپ پر سوشلسٹ پارٹی اپنا تسلط قائم نہ رکھ پائی۔ یہ نقصان معاشی زیادہ اور نظریاتی یا سیاسی کم تھا۔ اس بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ نے روس پر معاشی ضرب لگائی تھی ۔ اس لئے یہ ایک معاشی حقیقیتر تھی اور اس بارے میں سیاسی معاشیات کا پہلو غالب تھا۔ مغربی یورپ نے اس دوران بھی مشرقی یورپ کو اپنے ساتھ مکمل الحاق کیلئے ایک طویل ٹائم شیڈول دیا۔ مکمل آزادنہ تجارتی سمجھوتہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی اور) کے نتیجے میں بہت بعد میں ہؤا، جس پر مکمل عملدرآمد ہونا ابھی باقی ہے۔ اس لحاظ سے تجارت ابھی تک مکمل طور پر آزاد نہیں ہوپائی، اگرچہ اس کے راستے سے روس جیسے اہم مخالفین ہٹ گئے ہیں لیکن آج امریکہ اس آزادی کے مخالف نعرہ بازی کرکے اپنا دیا ہؤا نعرہ واپس لیگا ۔ اور یہ ازحد افسوس ناک ہوگا۔

انیسویں صدی کے اواخر میں کمیونسٹ فلسفی کارل مارکس نے نیا انداز تحقیق اختیار کرتے ہوئے اپنی کتاب داس کیپیٹل میں درجات میں بٹے ہوئے معاشی نظام کی وضاحت کی ۔ اس نے معاشرے کے کمزور ترین درجے یعنی مزدوروں کیلئے معاشرے کے سب سے اوپر موجود درجات پر فائز افراد یا سرمایہ داروں کے غیر ضروری جبر سے آزادی کا مطالبہ کیا۔ اس کے نتیجے میں مارکس کے مرنے کے بعد لینن نے تحریک چلائی ۔1917ء میں روس میں انقلاب برپاکیا ۔ جہاں سوشلسٹ نظریات کو فروغ دیا گیا۔ آج تک کے سیاسی معاشیاتی تجربات میں سے یہ ایک بڑا تجربہ تھا۔ سوشلسٹ اسی سال بعد روس کی سرزمین پر اپنا رخ قائم نہ رکھ سکے اور کریملن کے کرتادھرتا سرمایہ دارانہ نظام کی گود میں جابییٹھے۔ اس سے دنیا میں کارل مارکس کے نظریات پر یقین کم ہوگیا۔ بہت سے ممالک نے کھلی منڈی کی معیشت کو اپنے لئے باعث نجات سمجھا اور یورپ یا امریکہ کی گود میں بیٹھنے کیلئے دوڑ لگادی جس سے امریکی سہم گئے۔ امریکی دراصل تمام دنیا کا ٹھیکہ نہیں لینا چاہتے تھے لیکن انہیں ٹھیکہ لینا پڑگیا۔ اس کے نتیجے میں امریکہ بھی ذمہ داری اٹھانے سے قاصر تھا اور یوں اس نے بھی دم دبا کر بھاگنے میں عافیت محسوس کی۔ متیجہ کے طور پر اقوام متحدہ پر ذمہ داری عائد ہوئی جس نے اس صورتحال میں فقط ڈنگ ٹپاؤ انداز اختیار کیا۔ تجارت آج بھی آزاد نہیں۔ مختلف ممالک اپنے وقتی مفاد میں مختلف فیصلے کرتے رہتے ہیں۔ جس سے معاشی ابتری صاف ظاہر ہے۔

الفرڈ مارشل نے انیسویں صدی میں ہی اپنی کتاب "معاشیات کے اصول” تحریر کی جس سے یہ علم بڑی حد تک معاشیات (اکنامکس) سے واضح طور پر نکھر کر ایک نئے علم کے طور پر سامنے آیا۔ بیسویں صدی تک اس علم کے تحت معاشی اتار چڑھاؤ کو ایک بڑے منظرنامے میں دیکھا اور سمجھا جانے لگا ۔ معاشی فیصلوں کی بنیادوں میں پوشیدہ سیاسی اور سماجی اصول ہائے کار کی وضاحت کی جانے لگی ۔ فرد اور ریاست کے تعلقات کی روشنی میں بہت سے معاشی فیصلوں پر کڑی تنقید ہونے لگی۔ اس علم کو معاشی اور سیاسی نظام ہائے کار کے تقابلی مطالعے کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ علاوہ ازیں اسے بین القوامی تعلقات میں بھی اہمیت حاصل ہونے لگی۔ اس سے پولیٹیکل اکانومی کو فرد، ریاست، منڈی اور معاشرے کے بارے میں ایک مختلف علمی میدان کا درجہ حاصل ہؤا اور اسے معاشیات سے مختلف علم کے طور پر جانا گیا۔

اس علم میں یہ فرض کیا جاتا ہے کہ لوگ معقولیت پر مبنی فیصلے کریں گے۔ یوں گیم تھیوری کے طریقہ کار کو اپناتے ہوئے مختلف فیصلوں کو سمجھا اور ان سے حکومت کی معاشی ناکامی یا کامیابی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ حکومتوں کے صوابدیدی اختیارات پر نظر کی جاتی ہے اور اس کے فیصلوں کی مختلف ممکنہ جہات کو سمجھا جاتا ہے۔

معاشی تحکیم (پبلک پالیسی) کے موضوعات بھی اس علم کا حصہ ہیں جیسے ملکی معاشی قوانین کا اجراء، اپنی مشترکہ منڈی کا غیر ممالک سے تحفظ، اداروں کی غفلت اور بدعنوانی، عوام سے امیرترین طبقات کی غیر معمولی منافع خوری اور اس کے علاوہ عوامی فلاح و بہبود کیلئے امیروں سے وصولی کرکے کمزور طبقات کو برابری کی سطح پر لانے کے اقدامات شامل ہیں۔

ایسے ہی اس علم کا عملی اطلاق بھی اہمیت کا حامل ہے۔ جس میں عملی پہلؤوں پر غور کیا جاتا ہے۔ جیسے حکومتوں کی تشکیل کے موقع پر پارٹی منشور میں معاشی اہداف اور ترجیحات کا تعین ۔ اس منشور کی بنیاد پر یہ اندازہ لگانا کہ کون جیت پائے گا اور کس پارٹی کو زیادہ پذیرائی ہوپائیگی ۔  یا جیسے کاروباری سائیکل کی مانند سیاسی کاروباری سائیکل کا اندازہ یا ایسے ہی جب کبھی ملک ضرورت سے زائد خسارے میں چلاجائے تو اس پر تجزیاتی  تبصرے اور مقالے لکھ ڈالنا۔

لیکن موجودہ دور میں کہیں آگے بڑھکر عملی میدان میں سیاسی اداروں اور معاشی اداروں یا انکے مضمرات اور نتائج کا باہمی تقابل بھی اطلاقی و عملی سیاسی معاشیات کا حصہ ہے ۔ اداروں اور معاشی نتائج کی تجزیہ نگاری ایک طویل اور مشکل موضوع ہے جس پر کام کیلئے بہت سے نئے در واء ہوئے ہیں۔ جیسے جیسے معاشی ترقی کا گراف بڑھتا ہے، ویسے ہی سیاسی اداروں میں تبدیلی آتی چلی جاتی ہے۔ کم آمدان والوں کو جب زیادہ آمدن نصیب ہوتی ہے تو وہ اپنے سیاسی اہداف میں تبدیلی لاتے ہیں یا نئے انداز اختیار کرتے ہیں ۔ مالی منڈیوں میں نئے قوانین لاگو کئے جانے سے سیاسی اداروں اور معاشی ترقی پر پڑنے والے اثرات بھی اس علم کا حصہ ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان کی معیشت کا دارومدار ملکی سیاست پر اس لئے ہے کہ ہمارے حکمران کیا معاشی فیصلے کرتے ہیں۔ جب حکمرانی پر ذوالفقار علی بھٹو کا کنٹرول ہؤا تو  انہوں نے صنعت کو قومیانے کا بندوبست کیا کیونکہ یہ انکی طرز سیاست اور کمیونسٹ نظام فکر کی بنیاد تھا۔ اس کی بناء پر پاکستان کی صنعت کا ستیاناس ہوگیا۔ لیکن جب جنرل ضیاء الحق آئے تو انکے سیاسی فیصلے اس نظام فکر کے برعکس تھے۔ لہٰذا انہوں نے دوبارہ پرائیویٹائزیشن کی۔ اس سے صنعت کا پہیہ رواں ہؤا۔ یہ اداراتی فیصلے تھے۔ جمہوریت میں سوشلزم کا پیوند لگانے کیلئے قومی اسمبلی سے بل پاس ہوئے۔ اس کے علاوہ لیبر یونین نے مشترکہ کاوش کی ۔ بیوروکریسی کے نظام کو زیردام لانے کیلئے سیاسی فیصلوں کے علاوہ افسروں کی ایک طویل قطار کو فارغ کیا گیا۔ پھر کہیں جاکر اداراتی تبدیلی واقع ہوئی ۔ یوں صنعتوں کو حکومت کی تحویل میں لیا گیا۔ ایسے ہی تعلیمی اداروں کو بھی قومی تحویل میں لیا گیا۔یہ تمام فیصلے اداروں نے کئے۔ انکا خمیازہ یا انکا فائدہ بھی اداروں کو ہی ہوتا ہے۔ صنعتوں کو قومیانے کے عمل کا نقصان بھی قومی اسمبلی کو اٹھانا تھا۔ سو نئے حکمران نے کئی سالوں کیلئے قومی اسمبلی کو معطل کیا۔ آمرانہ فیصلے نافذ کئے۔ ایسے قوانین بنائے جن سے سوشلزم کا راستہ روکنے کی یقین دہانی کروائی گئی۔ تب جاکر صنعت کار کا اعتماد حاصل کیا گیا۔ یونین پر پابندی لگائی گئی۔ پھر امن نصیب ہؤا اور پرائیویٹ ملیں کام کرنے لگیں۔  

 

عالمی سیاسیاتی معیشت اس سے بھی اگلا قدم ہے ۔ "انٹرنیشنل آرگنائزیشن” جیسے تحقیقاتی مجلوں نے اس میدان میں بڑا کام کیا اور مختلف معیشتوں اور ممالک کے سیاسی و حکومتی اداروں کے کردار کا تجزیہ کرکے ان کے معاشی ترقی پر اثرات کا جائزہ لیا ہے۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: