تابوت ————– سدرہ راو

0
  • 105
    Shares

آج وہ اپنے اماں ابا اور چھ بھائیوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے شہر جا رہی تھی۔ ٹرک میں سامان لادتے وقت عاشی نے اپنا کارٹن بہت احتیاط سے رکھا تھا۔ اس ڈبے کی وجہ سے ہی عاشی نے ٹرک میں سفر کرنے کی ضد کی تھی۔ جس میں اسکی بہت سی پرانی چوڑیاں تھیں جو پہنے بغیر ہی چھوٹی ہو گئی تھیں۔ اس کے علاوہ عید کے سوٹ کے ساتھ میچنگ کر کے خریدے ہوئے گلو بند، بالوں میں لگانے والے موتی اور نیل پالش بھی تهی، جو ہمیشہ شیشی میں ہی سوکھ جاتی تھی۔

وہ ناخن رنگتی بھی تو کیسے کہ پانچ سال کی عمر سے ہی اسکے ننھے سے دماغ کو وضو کرنے کی فکر دے دی گئی تھی۔ خواہشیں پورا زور لگا کر مرنے لگی تھیں۔ اس کی زندگی کے سولہ برس کی حسرتیں اس ڈبے میں بند تھیں۔ ڈبے کوٹیپ لگا کر ان خواہشات کی آخری سانسیں اسے بہرہ کر رہی تھیں۔ کس قدر کٹھن مرحلہ تھا، جیسے کسی اپنے کو قتل کر کے تابوت میں اتارنا۔ حتی کہ ایک ایک کیل بھی خود ہی ٹھونکنا۔
وہ گلو بند، وہ سرخ و سبز چھوٹی چھوٹی چوڑیاں، رنگ برنگی پونیاں، عید کے دن کے لیے خریدے گئے فینسی جوتےجو کبھی عید پر بھی نہ پہنے تھے، وہ رنگ برنگ ہئیر بینڈز، سوٹ کے ساتھ کے میچنگ نیکلیس سیٹ اور گولڈن رنگ کی پائل۔۔۔ سب کے چہروں پر سوالیہ نشان تھا۔

“جب پہننا نہیں تھا تو ہمیں خریدا کیوں۔”
اسکا جواب تو خود عاشی کو بھی چاہیے تھا۔
ہر عید پر بولے جانے والے جملے اسکی سماعتوں سے ایسے ٹکرا رہے تھے جیسے لہریں ساحل سے ٹکراتی ہیں۔

“چوڑیاں کیوں پہن لیں۔ ہم تو کسی کے بھی گھر نہیں جا رہے۔ اتار دو، ٹوٹ جائیں گی۔ گھر میں فینسی جوتی پہننے کا کیا کام، ابھی نہ پہنو ٹوٹ جائے گی۔ گلو بند کیوں پہن لیا، بالیاں گم ہو جائیں گے، اتار دو۔ مہندی میں کیا رکھا ہے۔ خوامخواہ ہاتھ گندے کرو گی۔ رہنے دو۔”
ان جملوں میں ایک اور فقرے کا اضافہ ہوا تھا۔

“لڑکیاں ماں باپ کے گھر سجتی سنورتی اچھی نہیں لگتیں”۔

اس جملےنے سوالیہ نشانوں کے ڈھیر پر ایک اور سوال پھینک دیا تھا۔ جبکہ پرانے سوال بھی ابھی جوں کے توں دهرے تھے۔
اس نے خود کو سمجھا لیا تھا یہ چیزیں صرف دیکھنے کے لیے ہوتی ہیں۔ اب اس نے ان چیزوں کو پہننے کی کوشش کرنا بهی چھوڑ دیا تھا۔ عید پر نئے جوتے، کون مہندی اور میچنگ چوڑیاں آتیں۔ تین دن تک ڈریسنگ ٹیبل پر دھری چَم چَم کرتی رہتیں۔ اسکے بعد وہ سب سامان سٹور میں پڑے اس مخصوص کارٹن کی زینت بن جاتا جسے وہ آج بھی نظروں سے اوجھل نہیں کرنا چاہتی تھی۔

وہ اکلوتی بہن تھی۔ لوگ اسے خوش قسمت کہتے تھے۔ یہ سن کر وہ بس مسکرا کے رہ جاتی۔ مگر وہ ایسا کہنے والوں کو بتانا چاہتی تھی کہ سب کا مکمل پیار پانے کے باوجود اس کی ہر خوشی ادھوری تھی۔ کاش اس کی کوئی بہن ہوتی جو اس ڈبے کی چیزوں کے ساتھ ساتھ انکے سوال بھی بانٹ لیتی۔ ہو سکتا ہے وہ اسے ابو کے ساتھ سونے نہ دیتی، مگر امی سے پڑنے والی ڈانٹ میں کچھ حصہ اس کا بھی ہوا کرتا۔ ممکن ہے عاشی کو اپنا سکول لنچ اس کے ساتھ شئیر کرنا پڑتا لیکن ملی بھگت سے وہ اپنے بہت سے مسٸلے گھر سے باہر ہی سلجھا لیا کرتیں۔ ہو سکتا ہے وہ عاشی سے زیادہ ہمت والی ہوتی اور کسی عید پر روٹین کے ان جملوں کے جواب میں پلٹ کر فٹ سے”کیوں”کہہ دیتی۔ جس سے اسے بھی اپنے بہت سارے”کیوں”کے جواب مل جاتے۔

سپیڈ بریکر پر سے گزرتے ٹرک نے زور دار ہچکولے کھائے جو اسے ماضی کی تلخیوں سے نجات دلا کر حال کی طرف کھینچ لائے جہاں مستقبل سے جڑی بہت سی امنگیں پٹاری سے نکلنے کو بے تاب تھیں۔

کافی مضحکہ خیز گھڑی تھی، ایک طرف اس نے بے شمار بوسیدہ و بدبودار حسرتیں چھٹکارہ پانے کو ڈبے میں بند کر رکھی تھیں تو دوسری طرف کچھ نئے سپنے اُون کے گولے تھامے اسکے دل کے ہاتھوں سے بُنے جانے کے انتظار میں تھے۔ کون جانتا تھا نئے اَن چُھوئے خوابوں کا یہ اونی گولا، سلائیوں پہ چڑھنے سے پہلے ہی اسکی ذات کا اک اک بخیہ اُدھیڑ پھینکے گا۔ جس کے بعد اسکا اپنا وجود کسی کے ہاتھوں کا منتظر ہو گا جو شاید اسکی ذات کے الجھے ریشوں کو نرمی سے بُن کر ایک بار پھر مکمل کر دے گا۔

عاشی کا دایاں ہاتھ اب بھی کارٹن کے اوپر رکھا تھا۔ ٹرک کا یہ حصہ تقریبا خالی تھا۔ اونچی نیچی سڑک کے باعث لگنے والے جھٹکوں سے کارٹن میں موجود چیزیں لمحے بھر کو اسکی بند دیواروں سے ٹکراتیں گویا اس قید سے آزادی چاہتی ہوں لیکن پھر ہموار سڑک کے آتے ہی ڈبے کے اندر خاموشی چھا جاتی۔ گویا سب حسرتیں تھک ہار کر ایک کونے میں سہم کر بیٹھ گئی ہوں۔

شہر جا کر وہ یہ چوڑیاں اور کارٹن میں موجود باقی چیزیں اپنی چھوٹی کزنوں میں بانٹنے والی تھی۔ ان چیزوں سے زیادہ اسے ان سے جڑے سوالوں سے نجات پانے کی جلدی تھی۔ یہ سامان اُن ادھوری خوشیوں کی آخری نشانی تھا جنہیں مکمل کرنا اب ممکن نہ رہا تھا۔ وہ انہیں توڑ بھی سکتی تھی۔ مگر وہ اتنی سفّاک نہ ہو سکی تھی۔

تین مہینوں بعد ایک بار پھر عید آنے کو تھی۔ شہر میں ان کی یہ پہلی عید تھی۔ عاشی سوچ رہی تھی یہ عید گذشتہ عیدوں سے مختلف ہو گی۔ کیونکہ یہاں اس کے میل جول والے بہت سے گھر تھے۔ اس نے سوچا اس عید پر وہ اپنی میچنگ چوڑیاں ضرور پہن سکے گی۔ نئے گھر کا فرش بھی صاف ستھرا تھا۔ شاید اب وہ اپنے عید والے فینسی جوتے بھی بلاجھجک پہن سکےاور سوٹ کے ساتھ کے میچنگ جھمکے بھی۔ اس سوچ نے دل میں انگڑائی لی تو آنکهیں پھر خواب دیکھنے لگیں۔

صبح سے نیا جوڑا پہنے، وہ ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھی چیزوں کو آتے جاتے کن اکھیوں سے دیکھ رہی تھی۔ ڈر رہی تھی کہ آج بھی یہ سب پہن لیا تو ہر عید کی طرح ہار سنگهار بیواوں کی طرح خود سے کهرچ کر اتارنا پڑے گا۔
اسے اپنے عقب سے کسی مانوس آواز کا انتظار تها۔
“عاشی چوڑیاں تو پہن لو اور نئے جوتے کیوں نہیں پہنے ابھی تک، لاؤ تمہیں جھمکے پہنا دوں۔۔۔”

مانوس آواز کے تعاقب میں ٹی وی پر بے دلی سے عید شوز دیکھتے نجانے کب اسکی آنکھ لگ گئی۔ شام چھ بجے اسکی خالہ اپنی چار بنی سَنوری بیٹیوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی۔خالہ سمیت سب نے سوالوں کی یلغار کر دی۔
“عاشی آپی آپ نے مہندی کیوں نہیں لگائی، چوڑیاں بھی نہیں پہنیں، میک اپ کیوں نہیں کیا۔ آپکے بال تو بہت پیارے ہیں، پھر بھی ہئیر سٹائل نہیں بنوایا۔ آپ کو پائل بہت پسند ہے ناں۔پھر پہنی کیوں نہیں۔۔۔” سوالوں کا بارود تڑاتڑ برس رہا تھا۔
وہ سوچ کے دریا میں ڈبکیاں لگا رہی تھی کہ وہی جانی پہچانی آواز آئی۔
“عاشی کو بناؤ سنگھار میں دلچسپی نہیں ہے۔ اسے میک اپ کرنا بھی پسند نہیں۔ چوڑیاں اسے چبھتی ہیں۔ ہیل والے جوتے گِرنے کے ڈر سے نہیں پہنتی۔ وہ دیکھو سٹور میں ڈھیر لگا ہوا ہے۔”

عاشی چلّا چلّا کر اپنے عقب سے آتی ان باتوں کی نفی کرنا چاہتی تھی. وہ بتانا چاہتی تھی کہ وہ اُن سے ہٹ کر اپنا ایک الگ وجود رکھتی ہے. اسکی پسند نا پسند ان کی تابع نہیں ہے. اس لیے اس کے ذہن میں وہ اپنی سوچیں زبردستی ٹھونسنے اور اپنی پسند نا پسند کو زبردستی اسکی پسند نا پسند بنانے کا یہ کھیل اب ختم کریں. مگر ہمیشہ کی طرح وہ لبوں پہ زبردستی کی مسکراہٹ سجا کر اپنی خفگی چھپانے کے سوا کچھ نہ کر سکی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: