غالب اور صوفیانہ افکار —– عثمان خادم کمبوہ

0
  • 33
    Shares

تصوف کا لفظ اس اسلوبِ عمل یا طریقہ کار کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جس پر کوئی عمل پیرا ہو۔ اسلام سے قربت رکھنے والے صوفی، تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ ـ ’’تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیہ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں‘‘۔ تصوف کی اس تعریف پر یقین رکھنے والے لوگ تصوف کو قرآن و سنت کے عین مطابق سمجھتے ہیں لیکن کچھ علماء نے اسکی مخالفت کی کوشش بھی کی۔ اس طرح جنہوں نے اپنی توانائیاں جسم کے معیاری خطوطِ رہنمائی کو سمجھنے میں صرف کیں وہ فقہی کہلائے اور جنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سب سے اہم مہم درست فہم تک رسائی ہے وہ تین مکتبوں میں تقسیم ہوئے۔ ماہرینِ الہیات، فلاسفہ اور صوفیاء۔ متعدد مسلم جنہوں نے اپنی زیادہ تر کوششیں انسانی شخصیت کے روحانی ابعاد کی پرورش کے لیے مختص کر دیں وہ صوفی کے نام سے جانے گئے۔

تصوف کا لفظ روحانیت، ترکِ دنیا اور اللہ سے قربت کے معنوں میں لیا جاتا ہے۔ کچھ کو اس سے اتفاق ہے اور کچھ کو اختلاف۔ جو لوگ اسے شریعت کے مطابق سمجھتے ہیں وہ اس سے اتفاق رکھتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کے نزدیک یہ بدعت ہے وہ اسکی تکفیر کرتے ہیں۔ دراصل مسئلہ صرف توقیر اور تکفیر کا ہے۔ اوراسی لیے مغرب میں تصوف کو متنازع موضوع سمجھا جاتا ہے۔ ایک فرانسیسی اسلامی سکالر کے مطابق تصوف، اسلام کو خود میں داخل کر لینے کا نام ہے۔ لوئی ماسینوس کے مطابق تلاوتِ قرآن اور مراقبہ سے تصوف پیدا ہوا یعنی قرآن کے الفاظ میں چھپے معنی تلاش کرنا تصوف ہے۔ تصوف کے آغاز کے بارے میں کچھ نظریہ دان زندگی کو تین پہلوؤںمیں تقسیم کرتے ہیں یعنی جسمانی، عقلی، روحانی اور یہ تیسرا پہلو ہی ہے کہ جس پر اختصاص حاصل کرنے والے کو صوفی کہا جاتا ہے۔ خلفاء راشدین کے بعد مسلم حکمرانوں کی حالت اچھی نہ رہی تب علماء نے سادہ گزر بسر پر زور دینا شروع کیا اور خاص طور پر نو مسلمین کو سمجھایا۔ ان علماء میں حسن البصری اور ابو ہاشم شامل تھے۔ یہ علماء دنیا داری سے دور رہتے تھے۔ بعد میں آنے والوں نے سب سے پہلے ابو ہاشم کو صوفی کا لقب دیا۔

ایک عام مسلمان اور صوفی میں فرق ایمان اور معرفت کا ہے، جس طرح ایمان فقط مان لینے کا نام ہے وہ چاہے اللہ کی ذات و صفات ہوں یادیگر حقائق لیکن ایک صوفی و عارف جس بات کو مانتا ہے اسے قلب کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پھر اسے مشاہدہ سے اطمنانِ قلب نصیب ہوتا ہے اور اس کا ایمان معرفت میں بدل جاتا ہے۔

صوفی تصوف کی نگاہ میں وہ شخص ہے جو’’فانی ز خویش وبائی بحق ‘ ‘ہو۔ اپنی قومیتِ ذاتیہ سے فانی اور حق تعالی کی قومیت سے باقی ہو۔ جنید اور تستری کا قول ہے صوفیا وہ لوگ ہیں جو قائم بحق ہیں اس طرح کہ انہیں خدا اور رسول کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ کہا گیا ہے کہ تصوف کا اول علم ہے، اوسط عمل ہے اور اس کا آخر موہبتِ من اللہ۔ جنید فرماتے ہیں تصوف ترکِ اختیار ہے۔ شبلی کا قول ہے کہ تصوف ’’حفظِ حواس اورمراعاتِ انفاس‘‘ کا نام ہے۔ صوفی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ’’صوفی وہ ہے جوکدورت سے پاک، فکر سے حلو، خلق سے کٹ کے حق سے متصل ہو گیا ہو، جس کے نزدیک سونا اور ڈھیلا، ریشم اور بال سب برابر ہیں۔‘‘ ابو الحسن کا قول ہے کہ تصوف تمام حظوظِ نفسانی کا چھوڑنا ہے۔

تصوف میں عشق کو وہی مقام حاصل ہے جو جسم میں روح کو۔ دراصل تصوف عشقِ الہی کی انتہا کا نام ہے۔ عشق وہ بیہوشی ہے کہ اس کا گرفتار تب تک ہوش میں نہیں آتا جب تک محبوب کو دیکھ نہ لے۔ اور جب محبوب کا شہود حاصل ہو جائے تو ایک نئی بیہوشی طاری ہو جاتی ہے جس کا بیان ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح صوفی کو ظاہری نگاہ سے پہچاننا ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ عشقِ الہی کا گرفتار ہوتا ہے۔ ازلی حقیقت بس ایک ہے اور وہ ہے اللہ کی ذات جو ازل سے ہے اور ہمیشہ رہے گی، جس کی نہ انتہا ہے نہ ابتدا۔ باقی اس دنیا کی تمام چیزیں چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ اس لیے جنہیں عرفان ِالہی حاصل ہو جاتا ہے انہیں اس دنیا کی طلب نہیں رہتی۔ وہ اندر دھنش کے رنگوں سے مسحور نہیں ہوتے وہی تصوف کا مقام حاصل کرتے ہیں۔

شاعری میں تصوف کو بہت زیادہ اہمیت حاصل رہی ہے۔ صوفیا کبھی بھی اپنا علم بلا واسطہ ظاہر نہیں کرتے لیکن بہت سے صوفیا نے شاعری کے ذریعے اللہ کی ذات، قرآن کے معنی اور اللہ سے اپنے عشق کو بیان کیا ہے۔ صوفیا نے اپنی بات کو شاعری کی شکل میں اس لیے بھی بیان کیا کہ اس طرح بات بدلتی نہیں ہے کیونکہ شعر کو ہمیشہ لفظ بہ لفظ نقل کیا جاتا ہے۔ ادب جتنا اپنے نفس کو صورت پزیر کرنے میں کامیاب ہوتا ہے اتنا ہی اعلی متصور ہوتا ہے۔ صوفی جب اپنے نفس مین جھانک کر آگہی کو اشعار کا روپ دیتا ہے تو تخلیق کے عمل سے گزر کر ایسا کرپاتا ہے۔ صوفی کا اپنی زندگی کے ساتھ ایسا رشتہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی کی گہماگہمی شامل بھی ہوتا ہے اور خارج بھی، یہی حال شاعر کا ہوتا ہے اس لیے صوفی کے لیے یہ آسان ہوتا ہے کہ وہ اپنے خیالات کو شعر کی شکل دے کر اپنا مدعا بیان کرے۔ شاعری پر بھی تصوف کا بہت گہرا اثر پڑا۔ شاعری نے تصوف کی تعلیمات میں رازداری کی لہر سے ہی ’’اخفائے راز‘‘ کا گُر اور رمزیت سیکھی۔ بہت سے شعراء ایسے گزرے ہیں جنہیں عموماََصوفی نہیں سمجھا جاتا تھالیکن انہوں نے صوفیانہ شاعری کی، دراصل وہ خدا کی ذات سے معرفت حاصل کر چکے تھا لیکن جیسا کہ صوفی کی تعریف میں کہا جاتا ہے کہ اُسے عام آنکھ نہیں پہچان سکتی۔ تصوف میں جناب غوث الاعظم کا بہت اونچا مقام ہے، انہوں نے شاعری کی صورت میں اپنے علم کو بیان کیا۔ آپکا ایک شعر ہے:

؎ وقتِ تجلی خدا د ر رقص آمدہ کوہِ طور
اندر دل سنگینِ سنگ از پیدا شد طرب

یعنی تجلیِ خدا کے وقت کوہِ طور پر رقص کی کیفیت طاری ہو گئی اور یوں سخت دل پتھر کے اندر بھی طرب اور مستی پیدا ہو گئی۔ یہ اثر تھا جلوہِ حق کی کیفیت کا۔

اسی طرح اکبر الہ آبادی کی شاعری میں بھی تصوف کی جھلک ملتی ہے:

؎ بس جان گیا میں تری پہچان یہی ہے
تُو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا

اکبر نے خدا کی ذات میں موجود ایک راز کا ذکر کیا ہے کہ اللہ کو دل والے پہچان سکتے ہیں لیکن عام آنکھ نہیں پہچان سکتی۔ اس شعر سے یہ لگتا ہے کہ اکبر کو بھی اللہ کی ذات کو جاننے کا موقع اللہ کی طرف سے دیا گیااور اکبر نے یہ جانا کہ اللہ کو جاننا بہت مشکل ہے اور پھر اسے دل میں رکھا جاتا ہے زبان پر نہیں لایا جا سکتا۔

بہرام جی کی شاعری میں بھی تصوف کے ذرات ملتے ہیں، ٓپ کا ایک شعر ہے:

؎ یار کو ہم نے برملا دیکھا
آشکار کہیں چھپا دیکھا

صوفیا کہ دو گروہ ہیں ایک وہ جو وحدت الوجود کا قائل ہے اور دوسرا وحدت الشہود کا۔ زیادہ صوفیا کا جھکاؤ وحدت الوجود کی طرف رہا، جن صوفیا نے شاعری کی اُن میں مومن خاں مومن کے علاوہ سب ہی کسی نہ کسی ہد تک وحدت الوجود کے قائل تھا، صرف مومن نے اس نظریہ کی سختی سے تردید کی۔ مومن کہتے ہیں:

؎ مومن ہےؔ اگرچہ سب اسی کا یہ ظہور
توحید وجودی کا نہ کرنا مذکور
یعنی کہ بنائے ہیں خدا نے بندے
بندے کو خدا بنائے کس کا مقصود

جب کہ خوجہ میر درد جنہیں تصوف کا سب سے بڑا اردو شاعر گردانا جاتا ہے دوسرے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں:

؎ جگ میں آ کر اِدھر اُدھر دیکھا
تُو ہی آیا نظر جدھر دیکھا

بہت سے صوفی شعراء دونوں نظریات کو صحیح مانتے ہیں جیسا کہ سید جلال الدین توفیق لکھتے ہیں:

؎ جدھر دیکھو انہی کا ظاہر و باطن میں ہے جلوہ
کبھی وہ دل میں رہتے ہیں کبھی چشمِ تماشا میں

ان تمام شعراء میں مرزا اسد اللہ خاں غالب کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ حالی ؔکہتے ہیں: ’’لٹریری قابلیت کے لحاظ سے مرزا(غالب) جیسا جامع حثیت آدمی فیضی ؔاور خسروؔ کے بعد آج تک نہیں آیا۔ ‘‘ غالب کے کلام میں فلسفہ، حکمت، تصوف اورفکر سب کچھ ملتا ہے۔ غالب کی شخصیت ہمہ گیر تھی۔ شاعروں کی محفل میں سندِصدارت پر نظر آتے، صوفیوں کی صحبت میں شاہدو مشہود کے راز بیان کرتے، مذہب کے حقائق کو اشعار میں بیان کرنے میں انہیں ملکہ حاصل تھا۔ اور انہیں اس بات کا دراک بھی تھا آپ فرماتے ہیں:

؎ بر آورید گر ایں جابو سخند انے
غریبِ شہر سخن ہائے گفتنی دارد

یعنی اگر شہر میں کوئی سخن ور ہے تو اسے میرے سامنے لاؤ کیونکہ مجھے بھی کچھ کہنا ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’میں شاعر بننے پر آمادہ نہ تھا لیکن فنِ شاعری نے مجھ سے خود استدعا کی کہ مجھے اپنا لیجیے‘‘۔ کسی قدیم شاعر کی زمیں یا خیال پر شعر لکھا جاتا تو فرماتے کی میں نے توارد نہیں کی بلکہ اس شاعر نے ازل میں ہی میری متاع چرا لی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ غالب زمانے کی نہ قدری سے تنگ آ کر قنوتیت پسند بن گئے تھے، آخر ایک وقت ایسا آ گیا کہ آپ کو زمیں و آسمان بھی جام و اژگوں نظر آتے تھے پھر بات یہاں تک پہنچی کی خدا اور عشق کی بات کرتے ہوے بھی بادہ و ساغر کہے بغیر نہ رہے۔

اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ عمر خیامؔ، حافظؔ اور غالبؔ مئے معرفت سے سرشار ہیں لیکن تینوں شراب نوشی میں اتنے مشہور ہوئے کہ عام لوگ انہیں صوفی نہیں بلکہ مئے خوار ہی سمجھتے ہیں۔ اسی لیے ان کے بہت سے اشعار جن میں تصوف کو گوندھا گیا ہے لوگوں نے محمل قرار دیا۔ جبکہ غالب حضرت کالے صاحبؒ جیسے بڑے بزرگ کے مکان میں رہتے رہے اور ان سے سیکھتے رہے۔ حالیؔ لکھتے ہیں کہ ’’علمِ تصوف میں جس کی نسبت کہا گیا ہے کہ ’برائے شرگفتن خوب است‘ اس سے مرزا غالب کو خاص نسبت تھی۔ ‘‘آزادؔلکھتے ہیں’’ غالب مولانا فخرالدین دہلوی کے خاندان کے بیعت تھے‘‘۔ لیکن اس سب کے باوجود غالب کو خالص صوفی شاعر نہیں کہا جا سکتا، وہ معرفت رکھتے تھے لیکن شاعری میں تصوف کم جگہ پر دیکھنے کو ملتا ہے، اسکی دو وجوہات تھیں ایک تو فارسی شاعری میں تصوف کواہمیت حاصل تھی اس لیے غالب تصوف کی طرف ٖ مائل ہوئے دوسرا طبیعت بھی غم و الم اور بغاوت کی طرف مائل تھی۔ لیکن جب جب آپ نے شاعری میں صوفیانہ انداز اختیار کیا آپ نے کمال درجے تک عشق اور خدا کی ذات کو بیان کیا۔ غالب نے اس شعر میں خدا کی خدائی کی حقیقت کو چند لفظوں میں بیان کرنے کی سعی کی ہے جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے:

؎ نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

غالب بھی واحدت الوجود کے ماننے والے تھے، انکا کہنا تھا سب کچھ خدا کی ذات کا حصہ ہے انسان، جن، کائنات، مئہ، پتھر سب خدا کی ذات کا حصہ ہیں، اور وہ اسی بات پر ایمان رکھتے ہوئے کہتے ہیں:

؎ جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا! کیا ہے؟

غالب خدا کے ایک ہونے پر اپنے یقین کو بھی صوفیانہ انداز میں بیان کرتے ہیں، اور ایسے خوب بیان کرتے ہیں کہ کوئی کافر بھی سنے تو پکار اٹھے کہ ہاں خدا ایک ہے۔ غالب کہتے ہیں:

؎ اُسے کون دیکھ سکتا ہے یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی، توکہیں دوچار ہوتا

غالب کے دیوان کا آغازاس شعر سے ہوتا ہے:

؎ نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِتصویر کا

بعض ناقدروں نے اس شعر کو کیفِ شراب کا ماحاصل سمجھ کر بے معنی قرار دیا جب کہ اگر صرف استعارہ’ کاغذی پیرہن‘ کو سمجھ لیا جائے تو شعر سمجھ آ سکتا ہے۔ ایران میں دادخواہ کاغذی پیرہن پہن کر بادشاہ کے سامنے فریاد پیش کرتے تھے، غالب کہہ رہے ہیں کہ ہر پیرہن کاغذی دکھائی دیتا ہے تو بادشاہ کون ہے؟ در اصل اس شعر مین بھی غالب وحدت الوجود کا ذکر کر رہے ہیں۔

صوفی کی یک پہچان یہ بھی ہے کہ وہ بے خود ہوتا ہے، بے نیاز ہوتا ہے، غالب چونکہ باقائدہ یا خالص صوفی نہ تھا اس لئے وہ بے خودی کی کیفیت محسوس کرنے کے لیے مئہ نوشی کرتے، ان کے لیے یہ خدا کی ذات سے رابطے کا ذریعہ تھا۔ غالب ہر وقت اس کیفیت میں رہنا چاہتے تھے اور اپنے ایک شعر میں اس بات کا ذکر یوں کرتے ہیں:

؎ مئے سے غرض نشاط ہے، کس رو سیاہ کو
یک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے

غالب خود اعتراف کر تے ہیں کہ وہ عرفان رکھتے ہیں، وہ اپنی شاعری میں کئی بار اس بات کا ذکر کرتے پائے جاتے ہیں کہ وہ علم اور فقر کے حامل ہیں۔ جیسا کہ اس شعر میں غالب اسی بات کو بیان کر رہے ہیں:

؎ غالبؔ! ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست
مشغولِ حق ہوں بندگئی بوترابؑ میں

غالب بہت بڑے خدا پرست اور حق شناس تھے، انہوں نے خدا کو دیکھا، جانا، اپنی فکر کے مطابق سمجھا اور پھر اپنے اشعار میں اپنے سننے، پڑھنے والوں کو بھی ان حقیقتوں سے روشناس کروایا۔ غالب خدا کو اپنے اردگرد پاتے ہیں وہ کہتے ہیں:

؎ ذرے ذرے میں ہے خدائی دیکھو
ہر بت میں شانِ کبریائی دیکھو
اعدا د تمام مختلف ہیں باہم
ہر ایک میں ہے مگر اکائی دیکھو

غالب خدا کی ذات کو ہر شے پہ حاوی پاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے ہر شے کو ہر ہر پہلو سے دیکھا، پرکھا اور سوچا لیکن آخر میں نتیجہ ایک ہی نکلا وہ سب خدا کی ذات تھی ہر جانب اللہ، اللہ اور بس اللہ کا نور ہے۔

؎ بھریک نموش دو صد رنگ در
بھریک نوردش صد آنگ در

یعنی اس(ہر شے) کے ایک ایک روپ میں دو دو سو رنگ پوشیدہ ہیں، اور اس شے کو جتنی بار یکھو گے اتنے سینکڑوں تناسب ملیں گے۔

خدا کی ذات ہر چیز پر حاوی ہے۔ غالب کہتے ہیں کہ مجھ سے اکثر لوگ نالاں رہتے ہیں کہ میں نے فلاں بات کہہ دی یا فلاں بات کہہ دی لیکن میں جو کہتا ہوں وہ خود نہیں کہتا، مشیعت کی رضا سے کہتا ہوں، کیونکہ:

؎ زباں اگرچہ من دارامازتست
بہ تست ارچہ گفتارم امازتست

یعنی کہ غالب شکایت کرنے والوں سے مخاطب ہو کر کہہ رہے ہیں کہ میری زبان کا گلہ کرنے والو سنو کہ بیشک میں زبان رکھتا ہوں اسکا استعمال بھی کرتا ہوں لیکن یہ زبان مجھے خدا نے دی ہے، اور میں جو کچھ کہتا ہوں وہ اُس کی مرضی سے کہتا ہوں کیوں کہ اِس کے چاہے بغیر تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ اس شعر میں بھی صوفیا والا وحدت الوجود کا تصور نظر آتا ہے۔

اور غالب اپنے اندر موجود صوفی سے بھی آگاہ تھے، آپ جانتے تھے کہ اپنے اندر کیا چھپائے بیٹھے تھے۔ آپ نے بر ملا اظہار کیا کہ میں جانتا ہوں کہ میں حق پرست ہوں۔ آپ نے ایک محفل میں کہا کہ میں موحد ہوں۔ غالب یہ بھی جانتے تھے کے انکی شراب نوشی کی وجہ سے انکو صوفی کا مقام نہیں دیا جاتا لیکن آپکو اس سے فرق نہیں پڑتا تھا وہ کہتے ہیں کہ مجھے اور صرف مجھے اپنے شعر صحیح سمجھ آتے ہیں اور کسی کو نہیں آتے اور مجھے اس بات فرق بھی نہیں پڑتا۔ آپنی بادہ نوشی کا ذکر کرتے ہوئے ایک شعر میں کہتے ہیں کہ:

؎ یہ مسائلِ تصوف یہ تیرا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

یعنی وہ جانتے تھے کہ انکی مئہ نوشی انکے مقام کو بدل رہی تھی لیکن وہ اس عیش کو چھوڑنے کے روادار نہ ہوئے، صرف اس لیے انہیں شاعری میں صوفی کا مقام نہ دیا گیا ورنہ ان جیسی قابلیت اور عرفان بہت کم لوگوں کو نصیب ہوا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: