پی ٹی آئی: کامیابی کے اصل عوامل —– طاہرعلی خان

0
  • 53
    Shares

25جولائی 2018 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف پاکستان سب سے زیادہ نشستیں اور ووٹ لینے والی پارٹی کیسے بن گئ؟

کیا پی ٹی کو ملنے والی کامیابی اسٹیبلشمنٹ یعنی ہیئت مقتدرہ کی مبینہ حمایت، الیکشن کمیشن کی مبینہ تلویث اور جانبداری یا مبینہ دھاندلی سے ممکن ہوئی یا اس کے کچھ اور اسباب ہیں؟

ہیئت مقتدرہ کی مدد؟
فوج کے سربراہ جنرل قمر جاویدباجوہ نے اپنے ماتحتوں کو غیر جانبداری کے باقاعدہ احکامات جاری کیے تھے اور میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق فوج مکمل طور پر غیر جانبدار دکھائی دی۔تاہم اگر کسی آفیسر یا اہلکار نے ان ضوابط اور اپنے چیف کے واضح حکم کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کے خلاف متعلقہ فورم پر دستاویزی یا ویڈیو ثبوت کے ساتھ کارروائی کی درخواست کی جائے اور قومی اداروں کو بدنام کرنے سے گریز کیا جائے۔

الیکشن کمیشن کی مبینہ تلویث اور جانبداری؟
الیکشن کمیشن بھی غیر جانندار رہا۔ الیکشن مہم کے دوران سب پارٹیوں بشمول پی ٹی آئی کے خلاف انتخابی قوانین کی خلاف ورزی پر ایکشن لیے۔

اگر الیکشن کمیشن کا رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم یقیناً صحیح طریقے سے کام نہ کر سکا لیکن یہ ضروری نہیں کہ سازش کا نتیجہ ہو۔ ممکن ہے اس سسٹم کو چلانے کے لیے مناسب تیاری، مہارت وافرادی قوت اور اداروں کے درمیان ارتباط کے حصول میں کوتاہی کی گئی ہو۔ بہر حال اس پر بھی تمام سیاسی قوتوں کی اطمینان کے لیے تحقیقات کی جانی چاہئیں۔

الیکشن ڈیوٹی دینے والوں کی حمایت؟
الیکشن ڈیوٹی دینے والے سرکاری ملازمین اول تو سرکاری ملازم ہونے کے باعث عملی سیاست میں حصہ لینے اور کسی ایک پارٹی کی طرفداری سے اجتناب کرتے ہیں مگر وہ پولنگ ایجنٹوں کی موجودگی میں کیوں اور کیا دھاندلی کر سکتے ہیں میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔

دھاندلی؟
پی ٹی آئی کی جیت مکمل یا زیادہ طور پر دھاندلی کی پیداوار بھی نہیں ہے تاہم یہ تسلیم کیا جانا چاہیے کہ انتخابات اور کچھ حد تک دھاندلی لازم و ملزوم ہے۔ یہ سب امیدواروں کے ایجنٹ یاکارکن مختلف محسوس اور غیر محسوس طریقوں سے کرتے یا کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگریہ شرح دو سے تین فیصد ہوتی ہے اور اس کا فائدہ سب کو ملتا ہے۔ اس لیے اس کی بنیاد پر پورے الیکشن کو کسی پارٹی کی جانب سے دھاندلی زدہ قرار دے مسترد کرنا نامناسب اور زیادتی ہی ہے۔

مسئلہ ہماری عادات کا ہے۔ ہم صرف انہیں انتخابات کو آزادانہ، منصفانہ اور شفاف مانتے ہیں جن میں ہم جیت جائیں۔ اپنی ہار اور اپنے مخالف کی جیت قبول کرنا ابھی ہم نے نہیں سیکھا۔ بلکہ اپنی ہار کو کبھی فرشتوں کی جانب سے مخالفین کو ووٹ ڈالنے، کبھی دھاندلی، کبھی خفیہ طاقتوں کی مداخلت و سازباز اورکبھی آراوز کی کارستانی قرار دے کرخود کو مطمئن اور دوسروں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

پچھلے انتخابات میں مسلم لیگ نواز جیتی تو اسے الیکشن صحیح نظر آیا اور جو ہارے ان کے لیے وہ دھاندلی شدہ۔ پی ٹی آئی نے تو باقاعدہ 35 پنکچروں، جیو ٹی وی، پنجاب سے الیکشن کمیشن ارکان اور چند فوجی افسران کی مبینہ ملی بھگت کی بنیاد پر منظم دھاندلی اور اپنا مینڈیٹ چوری کروائے جانے کی دہائیاں دیں تھیں اور دھرنے اور لاک ڈاون پر مشتمل سالوں پر محیط تحریک بھی چلائی تھی۔ یہ الگ بات کہ بعد میں ان کے مطالبے پر قائم عدالتی کیمشن نے ان الزامات کو مسترد اور الیکشن کو شفاف قرار دیا تھا۔ اب بھی عدالتی کمیشن بناکر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی بنایا جاسکتا ہے۔

پی ٹی آئی کی کامیابی کے اصل عوامل:

پی ٹی آئی ابھی تک آزمائی نہیں گئی:
پی ٹی آئی کی اتنی شاندار کامیابی کے عوامل کچھ اور ہیں جنہیں ابھی اس کے مخالفین ماننے کے لیے تیار نہیں۔پی ٹی آئی اور اس کے سربراہ عمران خان کو ان کی مخالف پارٹیوں اور سیاستدانوں پر اس لیے ترجیح دی گئی کہ وہ ابھی تک آزمائے نہیں گئے ہیں جبکہ باقی کئی بار حکومت کر چکے ہیں۔ یہ ایک بنیادی فرق اور فیصلہ کن دلیل تھی جو پی ٹی آئی کو دوسرے سیاسی گروہوں سے ممتاز کرتا تھا اور جس نے بہت سے افراد کو متاثر کیا۔

عمران خان کا اچھا تاثر:
ایک اور بات جس نے عمران خان کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کی وہ ان کا عام تاثر ہے۔ لوگ انہیں مسٹر کلین، مخلص، ان کے مخالفین سے بہتر اور زیادہ ایماندار سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے بھی عوام ان کی طرف مائل ہوئےماضی کی پاکستان پیپلز پارٹی کے بعد پی ٹی آئی پورے پاکستان سے مینڈیٹ لینے والی دوسری پارٹی بن گئی ہے۔

خاموش اکثریت اور عمران خان کی دھن:
عمران خان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دھن کے پکے ہیں۔ وہ کہتے رہتے ہیں میں آخری گیند تک لڑنے والا آدمی ہوں شکست نہیں مانتا جیت پر یقین رکھتا ہوں اور ایک نیا پاکستان بنا کر ہی رہوں گا ان کی اسی ثابت قدمی، مسلسل محنت اور اپنے منزل کے حصول کے لیے پکے عزم و یقین نے جھولنے والی اکثریت (swinging majority) کو ان کی طرف متوجہ کیا۔

نوجوانوں کی حمایت:
الیکشن کے روز راقم نے مردان شہر اور مضافاتی علاقوں کے کئی پولنگ سٹیشنوں میں خود جا کر نوٹ کیا اور دوسرے مقامات سے ساتھیوں نے بتایا کہ پولنگ سٹیشنز میں پی ٹی آئی کے کیمپوں میں لوگوں خصوصاً نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ نوجوان اس بار بڑے جذبے سے سرشاراور تندہی سے ووٹرز کو لاتے اورمطمئن کرتے پاتے گئے۔ یہ دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں پی ٹی آئی کی ایک ممتاز انفرادیت تھی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: تحریک انصاف اور بدتمیزی —— فرنود عالم

 

خواتین میں مقبولیت:
خواتین میں عمران خان کی مقبولیت اس بار اپنے عروج پر دکھائی دے رہی تھی۔ راقم کے سامنے کئی ایک خواتین سرکاری افسران نے اعتراف کیا کہ وہ پی ٹی آئی کو پسند کرتے اور موقع دینا چاہتے ہیں اور الیکشن میں دلچسپی رکھنے والے کئی غیر جانبدار افراد، سیاسی کارکنوں اورڈیوٹی دینے والے کئی اہلکاروں نے بھی بتایا کہ خواتین کی اکثریت اس بار بلے پر مہر لگانے کی بات کررہی تھیں۔

پی ٹی آئی کا مثبت تاثر:
پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت اگرچہ کرپشن کے الزامات سے بچ سکی نہ احتساب کروا سکی اور پہلے دو تین سال تو ترقیاتی کام بھی نہ ہونے کے برابر رہا جب عمران خان پچھلے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف تحریک چلاتے رہے اور پی ٹی آئی وزراء ان کے ساتھ مصروف رہے تاہم یہ ایک عام تاثر رہا کہ یہ اتنے کرپٹ نہیں ہیں جتنے ان کے مخالفین۔

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی:
پی ٹی آئی حکومت نے تعلیم، صحت، پٹوار اور پولیس کے محکموں میں جو کام کیا اس کا براہ راست فائدہ عام آدمی کو نظر آیا۔ سکولوں اور ہسپتالوں میں تعمیر و مرمت اور تزئین وآرائش بھی ہوئی اور سازوسامان اور دوائیوں کی فراہمی اور آزاد مانیٹرنگ یونٹ کی وجہ سے سٹاف کی حاضری اور خدمات کی فراہمی میں بھی کافی بہتری نظرآنے لگی۔

ایک دوست کے بقول ”میری بیٹی سکول میں گر کر بازو تڑوا بیٹھی، سکول والے اسے ہسپتال لے گئے اور مجھے اطلاع کر دی، میں تقریباًدو گھنٹے بعد ہسپتال پہنچا تو کئی ڈاکٹر میری بیٹی کے ارد گرد کھڑے تھے۔ سارے ٹیسٹ اور ایکسرے وغیرہ پی ٹی آئی کی مفت ایمرجنسی علاج کی وجہ سے ہو چکے تھے۔ ڈاکٹروں نے دوائی لکھ دی تو میں نے ڈیوٹی اہلکاروں سے کہا مجھے دے دیں تاکہ بازار سے لے آٶں مگر انہوں نے کہا یہ دوائیاں آپ کو ہسپتال سے ملیں گی۔ اب آپ بتائیں اس قسم کے تجربے بہت سوں کو یہاں اور دیگر جگہوں پر بھی ہوئے ہوں گے تو کیا اس کا فائدہ پی ٹی آئی کو نہیں ملنا تھا؟“

پرویز خٹک کی ذاتی کارکردگی:
پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ پرویز تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ انہیں پتہ تھا لوگ پہلے برسوں میں پی ٹی آئی کی خراب کارکرگی بھول جائیں گے اگران کی حکومت آخری دو برسوں میں اچھی کارکردگی دکھاتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپوزیشن سے بھی بنا کے رکھی یہی وجہ ہے کہ بیس ارکان کو نکالے جانے کے بعد اپوزیشن نے ان کی اقلیتی حکومت بھی آخری دن تک قائم رہنے دی اور دوسری طرف عمران خان کو جیسے بھی ممکن ہوا راضی کرکے پشاور ریپڈ بس پراجیکٹ اور سوات ایکسپریس وے جیسے منصوبے شروع کروائے جن کو وہ اپنے دور میں مکمل تونہ کر سکے لیکن وہ نظر آنے والے منصوبے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہزاروں کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا، مختلف محکموں میں لاکھوں ملازمین کو ترقیاں دیں، ڈاکٹروں کو اپنی تنخواہوں کے ساتھ 100 فیصد پروفیشنل الاٶنس دے کر مالامال کیا، پچاس ہزار اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی کی۔ ان تمام اقدامات کا پی ٹی آئی کو فائدہ ہوا۔

پی ٹی آئی کا انٹی سٹیٹس کو تاثر:
عام لوگوں بالعموم اور نوجوان بالخصوص پی ٹی آئی اور عمران خان کی طرف اس تاثرکی وجپ سے بھی متوجہ ہوئے کہ یہ سٹیٹس کو کے خلاف ایک انقلابی پارٹی ہے جس کی حکومت اگر آگئی تو پاکستان میں کرپٹ لوگوں کو چوراہوں میں لٹکایا جائے گا، جلد، فوری اور سستا انصاف مہیا ہوگا اور پاکستان میں ترقی، خوشحالی اور امن کا دور دورہ ہوگا۔ اس تاثر نے جیت کی راہ تو ہموارکر لی۔ اب ان کو مطمئن کرنا بھی آسان نہیں ہوگا کہ زیادہ توقعات پر پورا ترنے میں ناکامی پر مایوسی بھی زیادہ ہوتی ہے۔

پی ٹی آئی اور ہیت مقتدرہ کے تعلق کا تاثر:
پی ٹی آئی کے بارے میں غلط یا صحیح یہ تاثر عام تھا کہ ہیئت مقتدرہ اس کے ساتھ ہے اور اس کی حکومت آنے والی ہے۔ الیکشن سے پہلے ان کے مخالفین کی عدالتی نا اہلیوں اور گرفتاریوں نے اس تاثر کو مضبوط کیا۔ پنجاب میں خصوصاً پی ٹی آئی کو اس تاثر کا خاطر خواہ فائدہ ہوا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: