مذہبی جماعتیں، سیاسی عمل اور اقتدار — محمد دین جوہر

2
  • 348
    Shares

ممتاز دانشور، ماہر تعلیم اور محقق محمد دین جوہر صاحب علمی حلقوں میں اپنی سنجیدہ تحاریر کے حوالے سے معروف ہیں۔ پاکستان اور مسلم امہ کو درپیش فکری و نظری چیلنجز ان کی دلچسپی کے خصوصی موضوعات ہیں۔  قارئین ان کے مضامین “دانش” پر باقاعدگی سے پڑھ سکیں گے۔ اس سلسلہ میں ان کا پہلا مضمون آج شامل اشاعت ہے جس میں جوہر صاحب نے حالیہ الیکشن میں ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر مذہبی جماعتوں کی ناکامی کے حوالے سے کچھ سوالات قائم کیے ہیں۔ ادارہ


حالیہ انتخابات میں مذہبی سیاسی جماعتوں کی شکست پر عام سوال یہ اٹھا کہ لوگ انہیں ووٹ کیوں نہیں دیتے؟ جوابات اور ردعمل بہت متنوع تھے۔ گزارش ہے کہ اس موضوع پر کچھ بنیادی سوالات کو دیکھ لیا جائے تو شاید جواب کی طرف پیشرفت ہو سکے۔

بنیادی سوالات تو صرف دو ہیں: کیا ان جماعتوں کا سیاسی عمل مذہبی اعتبار سے درست ہے؟ کیا ان کا سیاسی عمل جدید سیاست کے اسالیب پر پورا اترتا ہے؟

”مذہبی سیاست“ اصلاً ان دو سوالوں کے لاینحل الجھاؤ سے پیدا ہوئی ہے، اور اس نے ہماری دینی روایت اور سیاسی عمل دونوں کو متاثر کیا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں متداول تمام مذہبی سیاسی تصورات اور عمل کا شجرہ نسب تحریک وہابیت سے مل جاتا ہے، جو ہمارے ہاں پہلی جدید اصلاحی اور سیاسی تحریک تھی۔ مابعد تمام مذہبی سیاسی تحریکوں کا واحد ماڈل یہی ہے۔ اس تحریک کی طرح مذہبی سیاسی جماعتیں اصلاً ”اصلاحی جماعتیں“ ہیں جو سیاست بھی کرتی ہیں۔ تحریک وہابیت کا طریقہ کار وعظ اور تلوار سے معاشرے کی ”اصلاح“ تھا۔ مابعد مذہبی جماعتوں میں یہ ”دعوت دین“ اور ”سیاسی عمل“ کے طور پر سامنے آیا۔ ہر مذہبی سیاسی جماعت ایک خاص تصور دین کی حامل ہے جس کی رو سے معاشرے کا بنیادی مسئلہ ”بے دینی“ ہے۔ اس بنیادی موقف کی وجہ سے مذہبی سیاسی جماعتوں کا مسلم معاشرے اور عام مسلمان سے تعلق مخاصمانہ ہے۔ مذہبی سیاست کے نتائج میں یہ بات بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔

گزارش ہے کہ قومی سیاسی عمل، ہر جدید عمل کی طرح منقسم اور منظم بیک وقت ہے۔ قومی سیاسی عمل کے چار بڑے اجزا ہیں: ریاست، سرمایہ، پارٹی پولٹکس اور میڈیا۔ فی الوقت پارٹی پولٹکس زیربحث ہے۔ پارٹی پولٹکس کے دائرے میں واقع ہونے والے سیاسی عمل کے تین اجزا ہیں: لیڈر، بیانیہ اور عوام۔ جدید سیاسی عمل اپنے پھیلاؤ کی وجہ سے غیر معمولی انتظامی، فکری اور معاشی وسائل کا تقاضا کرتا ہے، اور جدید سیاسی جماعتیں اس عمل کے ہر پہلو میں متحرک ہوتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو درپیش صورت حال عملی، واقعاتی اور فیصلہ کن ہوتی ہے اور ہر قدم پر لیڈر کی رہنمائی کا تقاضا کرتی ہے۔ بیانیہ عملی جدوجہد میں پھریرے کا کام کرتا ہے، جسے عام طور پر منشور یا مظہریہ (مینی فیسٹو) کہا جاتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے برصغیر میں جدید سیاسی عمل مغرب سے درآمد شدہ ایک بالکل نئی اور استعماری چیز تھی۔ مسلمانوں میں زیادہ تر سیاسی اور مذہبی جماعتیں بیسویں صدی کے نصف اول میں قائم ہوئیں اور ان تمام جماعتوں نے سسٹم کی معین شرائط پر ہی سیاسی عمل میں شرکت اختیار کی۔ جدید سیاسی عمل اور نظام کی کوئی مثال ہماری تاریخ اور روایت میں نہیں ہے۔ برصغیر میں جدید سیاسی عمل اور نظام کے قیام کے بعد ان کے بارے میں ایک غیرمتعلق اور الل ٹپ فتویٰ بازی تو چلتی رہی ہے، لیکن مذہبی تناظر میں کوئی کام کی بات آج تک سامنے نہیں آئی۔ سیاست، سرمایہ، اور میڈیا وغیرہ مذہبی علوم میں ابھی تک ”نامعلوم“ کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس لیے روایتی مذہبی مواقف کا ”نامعلوم“ جدید سیاسی عمل اور نظام پر اطلاق کرنا درست نہیں، اور عین یہی کام کرنے سے ہماری قومی صورت حال لاینحل اور سنگین ہو گئی ہے۔

برصغیر کے مسلمانوں میں سامنے آنے والی سیکولر یا نیم سیکولر سیاسی جماعتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، اول مذہبی جماعتوں کو مذہبی تناظر میں دیکھنا چاہیے:

(۱) پہلا توسیعی سوال یہ ہے کیا جدید سیاسی عمل میں شرکت کے لیے ریس اور نقل کی بنیاد پر سیاسی پارٹی بنانا جائز ہے جبکہ یہ معلوم ہی نہیں کہ وہ ہے کیا؟ سیاسی پارٹی اور اس کی میکانیات خود ایک بالکل جدید چیز ہے۔ پارٹی اور پارٹی پولٹکس کے بارے میں شریعت کی کیا رہنمائی ہے؟ پھر جدید سیاسی پارٹی کے لیڈر، بیانیے اور عوام کے تصورات کی شرعی معنویت اور حیثیت کیا ہے؟ پارٹی پولٹکس میں ”حزب اختلاف“ ایک نیا تصور ہے، اور اس کی شرعی حیثیت بھی غیرمتعین ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ ہماری مذہبی سیاسی جماعتیں بھی غیرمسلم معاشروں کی سیاسی پارٹیوں کی نقل اور چربے سے تیار ہوئی ہیں، اس میں شریعت کی رہنمائی کیا ہے؟ یعنی کیا برطانوی لبرل پارٹی یا کمیونسٹ پارٹی کا مذہبی چربہ تیار کرنا جائز تھا؟ پارٹی پولٹکس کا ایک بڑا مقصد ریاست کے پہلے سے قائم مستقل سیاسی نظام پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ کیا مذہبی طور پر پارٹی پولٹکس اور ریاست کا باہمی تعلق طے شدہ ہے؟

برصغیر میں جدید سیاسی عمل اور نظام کے قیام کے بعد ان کے بارے میں ایک غیرمتعلق اور الل ٹپ فتویٰ بازی تو چلتی رہی ہے، لیکن مذہبی تناظر میں کوئی کام کی بات آج تک سامنے نہیں آئی۔ سیاست، سرمایہ، اور میڈیا وغیرہ مذہبی علوم میں ابھی تک ”نامعلوم“ کا درجہ رکھتے ہیں۔

(۲) دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا طاقت، سرمائے اور میڈیا کے وسیع تر اور گلوبل نظام کے مقامی مظاہر میں مکمل طور پر انہیں کی طے کردہ شرائط پر شریک ہونا شرعی لحاظ سے جائز ہے؟ یعنی ایک ایسا نظام جو ہماری مذہبی فکر اور فقہ وغیرہ میں علم کی کسی بھی معروف شرط پر مکمل ”نامعلوم“ ہے؟ ہم ایک باہم متوسل دنیا میں رہتے ہیں، اور کسی ملک یا ریاست کو ایک منفک اور آزاد اکائی سمجھنا اور اس پر فیصلہ دینا سنگین نوعیت کی مشکلات رکھتا ہے۔ ہر مذہبی سیاسی موقف میں اس امر کو بالکل نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ عدم واقفیت کی بنیاد پر سیاسی موقف بنانے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

(۳) مذہبی جماعتیں ”عقیدے اور شناخت کی سیاست“ میں ید طولیٰ رکھتی ہیں۔ اس میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا منہجِ خوارج پر سیاسی عمل کا طریقِ کار عقیدے اور شناخت پر استوار کرنا اور اجتماعی عدل کے شرعی احکامات کو نظرانداز کرنا مذہبی طور پر جائز ہے؟ مذہبی جماعتوں کا تاریخی اور معاشرتی حالات سے سروکار نعرے سے زیادہ نہیں ہے، اور ان کے سیاسی علوم نظریۂ سازش پر مبنی ہیں۔ مذہبی جماعتیں عام طور پر ’نفاذ اسلام‘ کا نعرہ بلند کرتی ہیں۔ اس سے عمومی مراد عقیدہ اور عبادات وغیرہ ہیں اور اس کی سیاسی معنویت اور مقصد تقوے کا جبری نفاذ ہے۔ کیا سیاسی عمل کا مقصد اجتماعی عدل کا قیام ہے یا تقوے کا جبری نفاذ؟ اس میں شرعی رہنمائی کیا ہے؟

(۴) مذہبی معنوں میں یہ امر جزوی طور پر بھی طے شدہ نہیں ہے کہ ووٹ کیا چیز ہے؟ شرعاً یہ بھی معلوم نہیں کہ ووٹ دینا جائز ہے یا ناجائز؟ ووٹ پر مذہبی فتوے کی نوعیت یہ ہے کہ کُل معلوم نہیں اور جز پر فتویٰ جاری ہے، جیسا کہ مولانا روم کے ہاتھی کا معاملہ رہا۔ ووٹ جیسے شرعی طور پر مابہ النزاع مسئلے کی موجودگی میں مذہبی جماعتوں سے یہ توقع کرنا کہ وہ جدید سیاسی عمل اور سرمائے کے نظام پر کوئی مذہبی یا فکری موقف رکھتے ہوں گے بالکل عبث ہے۔ نااہلیت اور لاعلمی میں کی جانے والی مذہبی ’سیاسی جدوجہد‘ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

(۵) ہیئت حاکمہ اور قانون کا باہمی تعلق معروف ہے۔ جدید دنیا میں ہر ہیئت حاکمہ سیکولر ہے، اور عین اسی ہیئت حاکمہ سے ’اسلامی قانون‘ کے نفاذ کا مطالبہ کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ مذہبی قانون کے نفاذ کے مطالبے میں متداول قوانین کے تقریباً سو فیصد استعماری ہونے کو نظرانداز کر دیا گیا۔ مذہبی سیاسی جدوجہد میں جو قوانین منظور کرائے گئے، ان کی حیثیت استعماری قانونی مجموعے میں ایک مذہبی دم چھلے کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مذہبی اور استعماری قانون کے ملغوبے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

(۶) یہ پوچھنا بھی نہایت ضروری ہے کہ مذہبی معنوں میں ”قوم“ اور ”ملک“ کیا ہوتا ہے؟ ”قوم“ کا تصور تو بہت کانٹے کی بحث کا موضوع رہا ہے اور اس میں ”مذہبی“ دادِ سخن نہ صرف افسوسناک رہی بلکہ اس نے مسلمانوں کے سیاسی سفر کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ موجودہ مذہبی سیاسی ڈسکورس بھی ملکی سالمیت کے لیے خطرناک مضمرات رکھتا ہے۔ ”ملک“ کی بحث تو شکر ہے چلی ہی نہیں، کیونکہ اس پر مذہبی سیاسی طبقے نے چپ سادھ لی کیونکہ انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ بھی کسی بحث کا موضوع ہو سکتا ہے۔ گاہے گاہے داعشی خیالات کی آڑ میں ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں ضرور ہوتی رہی ہیں۔ اس میں بنیادی سوال یہ ہے کہ مذہبی سیاسی تصورات کا بنیادی تناظر کیا ہے؟ اور جدید تاریخی صورت حال سے اس کی نسبتیں کیا ہیں؟

(۷) جدید مذہبی سیاسی خیالات کی آڑ میں کچھ گروہ پاکستان کی طرح مسلم ممالک اور معاشروں کے خلاف نبردآزما ہیں، اور اکثر قتل و غارت کا ارتکاب کرتے ہیں۔ معروف سیاسی ذرائع کی موجودگی میں یہ اعمال نہ صرف غیر شرعی ہیں، بلکہ غیر انسانی بھی ہیں۔ مسلم کش مذہبی سیاسی تصورات پر مذہبی سیاسی جماعتوں کا کیا موقف ہے اور ان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

(۸) مذہبی سیاسی جماعتیں جمہوری عمل میں شریک بھی ہوتی ہیں اور جمہوری تصورات کو غیرمذہبی قرار دے کر ان کے خلاف کام بھی کرتی ہیں۔ یہ کیا چیستاں ہے؟

اب ان جماعتوں کے سیاسی اہداف اور منشور کو دیکھنا بھی مفید ہو سکتا ہے۔ ان جماعتوں کا سب سے بڑا ہدف ملک میں ”اسلامی قانون“ کا نفاذ ہے، اور ان کا سیاسی عمل اس نفاذ کی جدوجہد قرار دیا جاتا ہے۔ اصلاً یہ ہدف ایک مطالبے کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن یہ مطالبہ کس سے ہے؟ طاقت کے اس نظام سے جو اپنی ہیئت اور اساسی فکر میں مکمل مغربی ہے، اور مذہبی فکر میں ابھی تک ”نامعلوم“ ہے؟ سیاسی عمل، ٹریڈ یونین ازم نہیں ہوتا جسے صرف مطالبوں تک محدود رکھا جا سکے۔ سیاسی عمل ایک ذمہ داری ہے جس کا ہدف اقتدار کا حصول ہے۔ ہدف پر پہنچ کر مقاصد کے حصول کا آغاز ہوتا ہے۔ استعمار سے متوارث طاقت کے نظام کو تبدیل کرنے کی بجائے اس سے کچھ مطالبات کرنا، اس سسٹم کی قبولیت کا جواز ہے۔ سیاسی عمل کسی قانون کے نفاذ کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ سیاسی طاقت کے حصول اور کچھ قومی مقاصد کے لیے ہوتا ہے جس میں اجتماعی عدل اور معاشی ترقی سب سے اہم ہیں۔ لیکن عقیدے کی سیاست نے اجتماعی عدل کے تمام مقاصد ہی کو اوجھل کر دیا، اور ترقی کو ناپسندیدہ قومی عمل بنا دیا۔

مذہبی جماعتوں کی ”مطالباتی“ سیاست نے انہیں پریشر گروپس کی حیثیت دے دی، جن کا مقصد ریاست اور قائم سیاسی حکومت کو مسلسل دباؤ میں رکھ کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنا ہے۔ مذہبی جماعتوں کی مستقل احتجاجی کارکردگی کی وجہ سے معاشرے کا پورا سیاسی عمل غیرمتوازن ہو کر رہ گیا ہے اور قومی سیاسی مقاصد نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ہیں۔ مذہبی سیاست کا سب سے زیادہ نقصان مذہب کو پہنچا۔ مذہب میں ایمان اور عقیدہ اساسی چیز ہے۔ ایمان ایک ذاتی چیز ہے، اور عقیدہ علم کا موضوع ہے سیاست کا نہیں۔ چونکہ انسان کی مذہبی شناخت سے کچھ سماجی اور معاشی پہلو جڑے ہوئے ہیں، اس لیے عقیدے کا ایک پہلو قانونی بھی ہے۔ لیکن مذہبی سیاست نے عقیدے کو پبلک اور میڈیائی چیز بنا دیا ہے۔ مذہبی سیاست کی وجہ سے عقیدے کے معاملے میں لوگوں کو مطمئن کرنا اور ان کی خیرسگالی حاصل کرنا اب زیادہ اہم ہے۔ عقیدہ عبد و معبود کے جس تعلق کا بیان ہے وہ اب زیادہ اہم نہیں رہا۔ مذہبی سیاست کی وجہ سے عقیدے کے بارے میں مذہبی سیاسی قوتوں کے سامنے جوابدہی کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ سے عقیدے کی نوعیت سیاسی اور سیکولر ہو گئی ہے اور اس کی مذہبی حیثیت تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ اس تناظر میں مذہبی سیاسی جماعتوں نے معاشرے کی سیکولرائزیشن میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: متحدہ مجلس لطائف ——– آصف محمود

 

جدید سیاسی نظام کا اول قانون ہے اور آخر سرمایہ ہے، ظاہر سیاست ہے اور باطن سرمایہ ہے۔ ہر سیاسی پارٹی کے ایجنڈے میں معاشی پالیسی کی اہمیت مرکزی ہوتی ہے کیونکہ سرمایہ جدید دنیا کے بنیادی مؤثرات میں سے ہے۔ مذہبی سیاسی جماعتوں کی معاشی پالیسی مکمل اخفا اور ابہام کا شکار نظر آتی ہے۔ ان کا ایک موضوع عقیدے جیسی مجرد اور نجی چیز ہے، اور دوسرا موضوع معاشرے اور مسلمانوں سے منفک ”اسلامی قانون“ ہے جس کا نفاذ ان کا نعرہ ہے۔ اگر مذہبی جماعتوں کے سیاسی بیانیے کو دیکھا جائے تو یہ فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کی سیاسی جدوجہد کا تعلق انسان یا معاشرے وغیرہ سے نہیں ہے، اور کچھ غیر تاریخی عوامل ان کا موضوع اور سروکار ہیں۔ یعنی جو چیزیں مذہبی فکر کا موضوع تھیں، ان پر سیاست ہونے لگی۔ اور جو مذہبی سیاسی عمل کا موضوع تھیں، ان کو مطلق فراموش کر دیا گیا۔ اس سے دینی روایت اور دینی عمل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، اور سیکولرزم کی قوتوں کو تقویت حاصل ہوئی ہے۔
جدید معنوں میں مذہبی سیاسی جماعتیں، سیاسی جماعتیں ہونا ہی کوالیفائی نہیں کرتیں۔ اس میں حیرت کی بات یہ ہے کہ انہیں یہ بات معلوم نہیں جبکہ ایک عام آدمی کو یہ بات معلوم ہے۔ اور یہی وہ وجہ ہے کہ ان کو ووٹ نہیں ملتے۔ مذہبی سیاست نے دینی فکر اور اعمال صالحہ کے لیے معاشرے میں موجود گنجائش کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

مذہبی سیاسی جماعتوں کو فوری طور پر اجتماعی توبہ کرنی چاہیے اور اخلاص سے دینی خدمت کے لیے مندرجہ ذیل کاموں کی طرف توجہ دینی چاہیے:

(۱) جدید دنیا کو اس کی تمام ممکنہ جہتوں میں علم کی معروف شرائط پر سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ شرائط اصول دین کی روایت میں وضاحت کے ساتھ موجود ہیں، اور ان میں حالات کی ضرورت کے مطابق کچھ موضوعات کا اضافہ ضروری ہے۔
(۲) دینی اور دنیوی تعلیم کے خلط مبحث پر واضح دینی اور فکری موقف اختیار کر کے عوام کی دنیوی ضروریات پوری کرنے کے وسائل فراہم کرنے کا منصوبہ زیر عمل لانا چاہیے۔ علم اور تعلیم کے رسمی اور غیر رسمی ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے اعلی ترین معیار پر دینی تعلیم اور دینی علوم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
(۳) جدید سیاسی عمل اور نظام کا بنیادی اور ضروری مطالعہ کرنا چاہیے اور براہ راست سیاست بازی کی بجائے تعلیمی، علمی، ثقافتی اور رائے عامہ کے ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے سیاسی عمل پر اثرانداز ہونے کا راستہ اپنانا چاہیے۔ اور اس عمل میں مجدد علیہ الرحمۃ کی مساعی حسنہ کے ماڈل کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
(۴) اخلاقی، تعلیمی اور دینی معاملات میں ”مصیطر“ بننے کے بجائے عوام کا سچا رہنما، خیرخواہ اور ”خادم“ بننے کو دینی شعار کے طور پر اختیار کرنے کی طرف دھیان دینے کی ضرورت ہے۔
(۵) عصر حاضر میں مذہبی سیاسی عمل کی بنیاد کیا ہے، اور اس کی ہیئت کیا ہے؟ اس موضوع کو اول علمی سطح پر واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی عمل جیسی اہم چیز کو ریس اور نقل کی بنیاد پر چلانا ہمارے مذہب و ملت و ملک کے لیے ضرر کا باعث ہے۔ اس میں پہلے بنیادی کام کی ضرورت ہے، اس کا آغاز کرنا چاہیے۔


یہ بھی پڑھئے: اسلامی سیاست ناکام کیوں؟ — اسامہ الطاف

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. بنیادی سوالات تو صرف دو ہیں: کیا ان جماعتوں کا سیاسی عمل مذہبی اعتبار سے درست ہے؟ کیا ان کا سیاسی عمل جدید سیاست کے اسالیب پر پورا اترتا ہے؟
    میرا بھی ایک طالبعلمانہ سوال ہے کہ جب اسلامی معاشرے نے بقول مولانا مودودی خلافت سے ملوکیت کی طرف قدم بڑھایا تھا تو کیا وہ ایک شرعی چھلانگ تھی؟ ملوکیت کا تصور کیا اسلامی تصورِ خلافت سے اجنبی ایک تصور نہیں تھا؟ پھر کیونکر اسے اسلامائز کیا گیا؟ اور مسلمانوں نے ملوکیت ہی کا نا م خلافت رکھ کر صدیوں دل کوکیوں بہلائے رکھا۔اور کیونکر اس کے اسلامی اور غیر اسلامی ہونے کی بحث نہیں کی گئی۔شاید واحد وجہ گردن پہ تلوار رکھے جانے خطرہ تھا۔آج اگر دنیا کا اجتماعی شعورجمہوریت کو ایک نسبتا” بہتر نظامِ حکومت تصور کرتا ہےتو کیونکر مسلمانوں کو اس سے منہ موڑنے کا درس دیا جا رہا ہے۔ جہمور سے حق ِشراکتِ حکمرانی چھین کر پھر سے ان کی گردن تلوار رکھنے کے مترادف نہیں ہے کیا؟

    • Mohammad Din Jauhar on

      بہت شکریہ جمیل نتکانی صاحب۔ گزارش ہے کہ اس موضوع پر خلط مبحث اس قدر ہے کہ بات کرنا بھی مشکل ہے۔ اس میں صرف یہی عرض کر سکتا ہوں کہ میں سیاسی عمل کو بھی مذہبی عمل سمجھتا ہوں، جس کی کوئی ہیئت متعین نہیں، لیکن مقاصد متعین ہیں۔ میرے نزدیک خلافت، ملوکیت اور جمہوریت کی بحث بہت زیادہ مفید نہیں ہے۔ اگر سیاسی عمل سے عدل اجتماعی کا حصول ممکن ہو تو دینی مقاصد پورے ہو جاتے ہیں، اس میں سیاسی عمل کی تاریخی ہیئت غیراہم ہے۔ مثلاً نماز بھی ایک مذہبی عمل ہے لیکن اس کی ہیئت طے شدہ ہے۔ اگر وہ ہیئت تبدیل کر دی جائے تو اسے نماز نہیں کہا جا سکتا۔ سیاسی عمل کے ساتھ یہ معاملہ نہیں۔ جمہوریت پر مذہبی تناظر میں جو بحث چلتی رہتی ہے وہ میرے خیال میں زیادہ مفید نہیں ہے۔ اس میں زیربحث مسئلہ اس کے اسلامی یا غیراسلامی ہونے سے متعلق ہے، جو درست تناظر نہیں ہے۔ جمہوریت کے کئی فکری اور عملی پہلو ہیں۔ ان پر الگ الگ گفتگو کر کے فیصلہ کرنا چاہیے۔ جمہورت اور مذہب کے باہمی تعلق میں جو پیچیدگیاں ہیں پہلے انہیں دور کرنے کی ضرورت ہے، اور اس طرف کوئی پیشرفت نہیں ہو رہی۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: