مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے نئے رخ —– اظہر سید

0
  • 1
    Share

بھارتی سپریم کورٹ چھ اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حثیت ختم کرنے کے حوالہ سے فیصلہ کرنے جا رہی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلہ سے قبل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنتا پارٹی نے وادی کی مخلوط حکومت میں اپنی حمایت ختم کر دی ۔ مقبوضہ وادی میں گورنر راج نافذ ہو چکا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اگر بھارتی آئین کا ارٹیکل 370 اور اس کی زیلی شق 35 اے ختم کر دی تو مقبوضہ کشمیر ایک عام بھارتی صوبہ بن جائے گا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے افضل گرو کو اجتماعی قومی ضمیر کے نام پر پھانسی کی سزا سنائی تھی اس بات کے واضح امکانات ہیں اجتماعی بھارتی ضمیر کے نام پر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حثیت ختم کر دی جائے گی۔

مصنف

کہاں تو وہ دن تھے جب پسینہ گلاب تھا ،کیا وہ دن ہوا ہوئے جب واجپائی کی لاہور آمد کے بعد کارگل برپا ہو جاتا تھا اور کہاں یہ دن ہیں تمام طاقت مودی کے یار کی شکست میں مصروف ہے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قیامت کی چال چل رہے ہیں اور یہاں دوڑنا تو درکنار کوئی پتہ بھی ہلتا نظر نہیں آرہا۔

بھارتی آئین کی شق 35 اے کے خاتمہ کا دوسرا مطلب یہ ہے یہاں بھارتیوں کو پراپرٹی خریدنے اور مستقل سکونت رکھنے کی اجازت مل جائے گی اور مختصر عرصے میں یہاں آبادی کا تناسب تبدیل ہو جائے گا جموں اور لداخ کے بعد وادی میں بھی کشمیری اقلیت میں چلے جائیں گے۔ پاکستان کا مقبوضہ کشمیر کے حوالہ سے موقف سچا ہے ۔کشمیری 1947 سے حق خود ارادیت کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کے نامکمل ایجنڈے کا حصہ ہے۔جب یہ سب کچھ موجود ہے تو پاکستان میں بھارتی سپریم کورٹ کے متوقع فیصلہ کے حوالہ سے کسی احتجاج کی تیاری نظر کیوں نہیں آ رہی یہ ملین ڈالر کا سوال ہے جس کا جواب ضرور ہی ملنا چاہے۔

کارگل میں بھارتی میڈیا ایسے ردعمل سے مستقبل میں نپٹے کیلئے پاکستان میں نجی میڈیا کی آزادی کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔نجی چینلز برسات کی کھمبیوں کی طرح آگ آئے اور یہاں سٹرٹجیک اثاثے بھی بنا لئے گئے جنہیں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے خلاف خوب ہی استمال کیا گیا۔ میڈیا کے یہ اثاثے بھارتی تناظر میں تیار کئے گئے تھے تو پھر انہیں بھارت کے خلاف استمال کیوں نہیں کیا جا رہا۔

ہم سمجھتے ہیں کم از کم میڈیائی اثاثوں کے زریعے پاکستانی قوم کو بتایا جائے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کیا کھیل کھیلنے جا رہے ہیں۔ بین الاقوامی برادری کو سفارتی نمائندوں کے زریعے بتایا جائے بھارتی سپریم مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حثیت کے معاملہ پر شنوائی کا اختیار ہی نہیں رکھتی۔جس دن بھارتی سپریم کورٹ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حثیت کے متعلق فیصلہ دینے جا رہی ہے پاکستان میں کوئی منتخب حکومت نہیں ہو گی البتہ ایک ہفتہ بعد سبکدوش ہونے والے نگران وزیراعظم ہونگے۔ بھارتی اپنے فیصلے پاکستان کی صورتحال کو سامنے رکھ کر کر رہے ہیں اور یہاں تمام تر توجہ ری کاونٹنگ میں فتح شکست میں نہ بدل جائے پر ہے۔

پاکستان کو امریکیوں سے کوئی مدد نہیں ملے گی کہ امریکی حزب الجاہدہن کے امیر صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں ۔امریکی سی پیک کو متنازعہ علاقہ کا منصوبہ قرار دے چکے ہیں ۔یہ بہت افسوسناک صورتحال ہے ۔جیسے پہلے کہا کچھ سمجھ نہیں آ رہی ہو کیا رہا ہے۔ شمالی علاقہ جات میں یہ کیا شروع ہو گیا ہے۔ لڑکیوں کے سکول کس نے تباہ کر دئے یہ پالیسی تو شمالی اور جنوبی وزیرستان کے طالبان کی تھی وہ یہاں کیسے آگئے؟ یہاں تو چینیوں کے ساتھ مستقبل کے بہت سارے منصوبے ہیں۔ نواز شریف کی فراغت میں فتح مبین کی خوشخبری حاصل ہو گئی۔ تحریک انصاف کامیاب ہو گئی لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بڑے بڑے واقعات کا آغاز؟ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: