گردشی قرضہ، خسارہ اور بیل آؤٹ پیکج —– لالہ صحرائی

0
  • 214
    Shares

بعض امراض ایسے ہوتے ہیں جن کی جڑ نہ کاٹی جائے تو وہ دوبارہ سے اُگ آتے ہیں، گردشی خسارہ بھی انہی امراض میں سے ایک ہے جو اگر ایک لاکھ بار بھی اتار دیا جائے تو پھر سے ہرا ہو جائے گا کیونکہ اس کی جڑ بہرصورت باقی رہ جاتی ہے۔

اس نظام سے متعلق آگاہ ہونا اسلئے بھی ضروری ہے کہ گردشی خسارے کی بنیادی وجوہات میں عوام کا کچھ اپنا کردار بھی شامل ہے، پھر اس نظام کو سمجھنا اسلئے بھی ضروری ہے کہ اس کے ڈائریکٹ متاثرین بھی عوام ہی ہیں کیونکہ اس خسارے کو پورا کرنے کیلئے بیرون ملک سے جو قرضہ اٹھایا جائے گا وہ بھی قوم کے سر پہ ہی بوجھ بنے گا اور بلآخر قوم کے ٹیکسوں سے ہی ادا ہوگا۔

اس بیماری کے نظام کو سمجھنے کیلئے پہلے بجلی کے آرگینوگرام اور کچھ اصطلاحات کی تفہیم ضروری ہے تاکہ اس نظام کا پورا دائرہ کار اپنی جملہ خامیوں سمیت آپ کے سامنے آجائے کیونکہ سرکلر ڈیبٹ میں میجر سیٹ۔بیک انرجی سیکٹر کی وجہ سے ہی پیدا ہوتا ہے۔

ای۔سی۔سی: ECC  اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی
یہ کمیٹی فائنانس منسٹری کے تحت ایوب خان نے قائم کی تھی جو کابینہ کے کچھ ارکان پر مشتمل ہوتی ہے اور اس کے سربراہ وزیراعظم صاحب ہوتے ہیں، یہ کمیٹی اکانومی کے معاملات میں فائنانس منسٹری کیلئے ضروری تجاویز اور سفارشات مرتب کرنے کے علاوہ مفاد عامہ کیلئے کچھ رعایتی اقدامات بھی فراہم کرتی ہے۔

مثال کے طور پہ، فاٹا کے انضمام کے بعد وہاں صنعت و تجارت کے فروغ کیلئے پانچ سال کا ٹیکس ریلیف بھی اسی کمیٹی نے دیا ہے، بلوچستان، گلگت اور آزاد کشمیر کے زرعی مقاصد اور ملک گیر صنعتی مقاصد کیلئے استعمال ہونے والی بجلی پر ریٹوں میں سبسڈی بھی اسی کی دی ہوئی ہے۔

نیپرا: NEPRA
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی وہ ادارہ ہے جو اپنے وضع کردہ قوانین سے بجلی پیدا کرنے والے آئی۔پی۔پی۔ز اور مملکت کے اندر بجلی سپلائی کرنیوالے ڈسکوز کے معاملات کی نگرانی کرتا ہے، بجلی خریدنے اور بیچنے کے ریٹ مقرر کرنا، آئی۔پی۔پی۔ز اور ڈسکوز کے باہمی تنازعات کا تصفیہ کرنا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔

آئی۔پی۔پی۔ز: IPPs
انڈیپینڈینٹ پاور پروڈیوسرز وہ سرکاری اور نجی صنعتی ادارے ہیں جو مختلف ذرائع سے بجلی پیدا کرکے ڈسکوز کو بیچتے ہیں، ان میں واپڈا، ستارہ، اٹلس، لبرٹی، نشاط، سیف، اورئینٹ، ہالمور، سیفائیر اور حب پاور جیسے بزنس گروپ شامل ہیں۔

ڈسکوز: DISCOs
وہ تمام ادارے جو مختلف شہروں میں بجلی کی سپلائیز فراہم کرتے ہیں وہ ڈسٹربیوشن کمپنیز یا ڈسکوز کہلاتے ہیں، کوئٹہ میں کیسکو، پشاور پیسکو، لاہور لیسکو، کراچی کے۔الیکٹرک، اسلام آباد آئیسکو، اسی طرح فیصل آباد کیلئے فیسکو، ملتان میپکو، گجرات گیپکو، سکھر سیپکو، حیدرآباد حیسکو اور قبائلی علاقوں کیلئے ٹیسکو وغیرہ شامل ہیں۔

سی۔پی۔پی۔اے: CPPA
تین سال پہلے تک تمام ڈسکوز براہ راست آئی۔پی۔پی۔ز سے بجلی خریدتے تھے لیکن ان کے درمیان سپلائیز، ریٹس، ادائیگی اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ جیسے معاملات ہمیشہ تنازعات کا شکار رہتے تھے۔

ان مسائل کے حل کیلئے تین سال قبل نیپرا نے اپنے ماتحت سینٹرل پاور پرچیز اتھارٹی کے نام سے ایک کثیرالمقاصد کمپنی بنائی ہے جو آئی۔پی۔پی۔ز سے بجلی خرید کر ڈسکوز کو فراہم کرتی ہے اور ڈسکوز سے رقوم لیکر آئی۔پی۔پی۔ز کے بل ادا کرتی ہے۔

علاوہ ازیں فئیر مارکیٹ پالیسی کے تحت آئی۔پی۔پی۔ز کے درمیان مسابقت کا رجحان پیدا کرنا، پرائیویٹ انرجی سیکٹر کو بڑھانا اور بجلی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ریسورسز تلاش کرنا یہاں تک کہ اسے بجلی امپورٹ کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔

ٹی۔ڈی۔ایس: TDS  ٹیرف ڈیفرینس سبسڈی
مرکزی حکومت جب صحت، تعلیم، زراعت، صنعت یا کسی اور شعبے کو فی یونٹ پرائس میں کسی حد تک رعایت دینا چاہے تو اصل قیمت اور رعایتی قیمت کا درمیانی فرق وہ اپنے بجٹ سے ادا کرے گی، اس درمیانی فرق کو سبسڈی کہا جاتا ہے۔

مرکزی گورنمنٹ نے بلوچستان، گلگت اور آزاد کشمیر میں زرعی استعمال کی بجلی پر نوے فیصد رعایت اور ملک گیر سطح پر صنعتی استعمال کی بجلی پر تین روپے فی یونٹ کی رعایت بھی دی ہوئی ہے۔

ایک ٹیوب ویل سال بھر میں اندازاً 75000 روپے کی بجلی استعمال کرتا ہے لیکن رعایتی طور پر ان کا ریٹ 7000 روپے فکس ہے باقی کا فرق حکومت ادا کرتی ہے۔

ٹی اینڈ ڈی لاسز: T&D Losses
بجلی میں کئی قسم کے لاسز آتے ہیں جنہیں ٹیکنیکل اور ڈسٹریبیوشن لاسز کہا جاتا ہے، ہم صرف دو تین مخصوص عوامل پر بات کریں گے، پہلا اسٹینڈرڈ لاس ہے جو برقی رو پہنچانے والی تاروں کی مزاحمت سے پیدا ہوتا ہے، اسلئے بجلی کے تار سلور یا تانبے سے بنائے جاتے ہیں تاکہ فریکشن کم سے کم ہو، یہ لاس ایک فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔

پھر یہ جو کھمبوں پہ تاروں کے گُچھے بنے ہوتے ہیں، ٹرانسفارمرز کا کنزیومر سے دور ہونا، میٹرنگ اور ریڈنگ کی کمزوریاں بشمول پرانے یا فالٹی میٹرز اور پاور فیکٹر کا عنصر، یہ سب مل ملا کے ٹیکنیکل لاسز میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں جس کی شرح ہمارے ہاں کم و بیش 10 فیصد ہے۔

پاور فیکٹر لاسز کیا ہیں:
بجلی کی تھری فیز موٹر اپنے ڈیزائن کی بنیاد پر عموماً ہر فیز سے ایک جیسا کرنٹ کھینچنے کی پابند ہوتی ہے لیکن جہاں انڈکشن لوڈ، ٹارک لوڈ یا کوئی خرابی شامل ہو جائے وہاں یہ موٹریں یا ائیرکنڈیشنر ہر فیز سے مختلف درجے کا لوڈ کھینچ رہے ہوتے ہیں، یہ صورتحال بجلی سپلائی کے نظام میں ایک ایسا انتشار پیدا کرتی ہے جس کی بنا پر کسی فیز پہ وولٹیج کم ہو جاتے ہیں اور کسی پہ زیادہ آجاتے ہیں۔

انجنئیرنگ کی ڈیفینیشن کو ایک طرف رکھ کے انڈکشن لوڈ کو ہم استری کے بوجھ سے اور ٹارک لوڈ کو چارہ کترنے والے ٹوکے کے جھٹکے سے باآسانی سمجھ سکتے ہیں، یہ دونوں چیزیں بجلی کے محکمے کو 05 فیصد تک نقصان دیتی ہیں اور اسی قدر نقصان کنزیومر کا بھی ہوتا ہے۔

انڈسٹری میں اس فیکٹر کی کریکشن کیلئے ایک کنٹرول پینل لگا دیا جاتا ہے، جہاں یہ پینل نہ لگا ہو وہاں میٹر پر اس نقصان کی ری۔ایکٹیو ریڈنگ آجاتی ہے جس کے مطابق کنزیومر سے پاور فیکٹر پینلٹی وصول کرلی جاتی ہے لیکن رہائشی علاقوں میں اس نقصان کو پورا کرنے کا کوئی اہتمام نہیں حالانکہ عوام اپنے گھروں پہ پاور فیکٹر ڈیوائس لگا لیں تو جہاں ان کے بلوں میں پانچ سے دس فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے وہاں علاقے میں جا بجا ایک فیز کا نہ آنا، کھمبے پر جمپر کا بار بار جل جانا اور کسی ایک فیز پر لو یا کسی پر ہائی وولٹیج آنے کی تکلیف سے بھی نجات مل جائے گی۔

اس کے علاوہ سب سے اہم فیکٹر چوری کا ہے جس کی شرح ہر ڈسکو کے کچھ علاقے میں 80 فیصد تک موجود ہوتی ہے لیکن جب ملک گیر ایوریج لیں گے تو بھی یہ 40 فیصد تک ہوگی، اس میں دیگر مذکورہ لاسز بھی جمع کر لیں تو کل نقصان 55 فیصد سے زائد بنتا ہے جس کے پیسے ریکور ایبل نہیں ہوتے۔

سرکولر ڈیبٹ کیا ہے: Circular Debt
سرکلر ڈیبٹ حقیقت میں وہ گردشی قرضہ ہوتا ہے جو باہمی لین دین کی بنا پر کسی ایک محکمے کی طرف سے دوسرے پر، دوسرے کی طرف سے تیسرے اور تیسرے کی طرف سے کسی چوتھے محکمے کے سر پہ چڑھا ہوتا ہے۔

یہ کیسے سروائیو کرتا ہے اور کیسے ختم ہوتا ہے، پہلے ہم اس کی ایک جھلک دیکھ لیتے ہیں پھر سرکلر ڈیفیسٹ یا گردشی خسارے پر بات کریں گے۔

ریسورسز پیدا کرنے والے سرکاری محکمے اپنے اپنے خرچے پر مختلف اشیاء پیدا کرکے ان اداروں کو بیچتے ہیں جو عوام تک یوٹیلٹیز پہنچانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں، جیسے کہ:

او۔جی۔ڈی۔سی۔ایل گیس پیدا کرکے سوئی سدرن و نادرن کو دیتی ہے۔
سوئی سدرن و سوئی نادرن گیس کمپنیز آئی۔پی۔پیز کو گیس فراہم کرتی ہیں۔
پاکستان اسٹیٹ آئل آئی۔پی۔پیز کو ایل۔این۔جی و فرنس آئل دیتا ہے۔
آئی۔پی۔پیز اپنی بجلی سی۔پی۔پی۔اے کو بیچتے ہیں۔
سی۔پی۔پی۔اے یہ بجلی ڈسکوز کو فراہم کرتی ہے۔

پھر یہ ڈسکوز ایک طرف عوام کو سپلائیز دیتے ہیں اور دوسری طرف سرکاری محکموں کو دیتے ہیں جن میں اسٹیٹ آئل، ریفائنریز، سوئی گیس، ٹیلیفون، پانی، مرکزی و صوبائی ادارے، وزارتیں اور پولیس وغیرہ سب کچھ شامل ہیں۔

مہینہ ختم ہونے پر یہ سب ادارے اپنے اپنے کسٹمرز کو اپنے بل بھیج دیتے ہیں، اب ہونا یہ چاہئے کہ جس طرح سپلائرز نے اجناس کی ترسیلات اوپر سے نیچے کو دی ہیں اسی طرح تمام کسٹمرز بھی ان کا بل وصول ہونے پر ان کی پیمنٹس نیچے سے اوپر کو روانہ کر دیں تاکہ اگلے ماہ پھر سے سروسز ملنا شروع ہو جائیں۔

یہ پراسس جب سال بھر چلتا رہے تو کسی کیلئے بھی کوئی تکلیف پیدا نہیں ہوتی لیکن ان سرکاری محکموں کے مابین ایک تو یہ مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے کہ محکمہ صحت، تعلیم، بلدیات، پولیس، منسٹریز اور دیگر محکموں کو جب سرکار کی طرف سے فنڈز کا اجراء بروقت نہیں ہوگا تو وہ اپنا بجلی، گیس اور فون کا بل بھی وقت پر ادا نہیں کر پائیں گے، پھر تاخیری معاملات میں انٹر۔ڈیپارٹمنٹل سیٹلمنٹس کا بھی کافی دخل ہوتا ہے۔

مثال کے طور پہ:
اگر ایک ڈسکو کا ایک کروڑ روپیہ ٹیلیفون والوں کی طرف نکلتا ہے تو وہ فونز کا بل نہیں دیں گے، اسی طرح فون والوں کا جب نوے لاکھ ڈسکو کی طرف نکلتا ہو گا تو وہ بھی یہی چاہیں گے کہ آپ صرف دس لاکھ روپے لے کر اس حساب کو نیٹ۔آف کر لیں، اس باہمی لین دین کو طے کرنے اور سیٹلمنٹ کی منظوری لینے کے دوران جو وقت صرف ہوتا ہے وہ لامحالہ پیمنٹس میں تاخیر کا باعث بنتا ہے۔

ان حالات میں ڈسکوز جب سی۔پی۔پی۔اے کو پیمنٹ نہیں کر پاتے تو وہ بھی آئی۔پی۔پیز کا کلیم سیٹل نہیں کر پاتی، جب آئی۔پی۔پیز کو بجلی کی قیمت نہیں ملے گی تو وہ بھی آئل کمپنی اور گیس کمپنیز کے بل وقت پر ادا نہیں کر پائیں گے۔

جب اسٹیٹ آئل کو ریکوری نہیں ملے گی تو وہ بھی بروقت ایل۔این۔جی، کروڈ آئل یا فرنس آئل نہیں خرید پائے گی، اس گیپ کے دوران اگر کمرشل امپورٹر آئی۔پی۔پیز کو فرنس آئل سپلائی کرے گا اور وہ بھی اپنا پلانٹ رواں رکھنے کیلئے اوپن مارکیٹ سے آئل خرید لیں گے تو پھر اس کا لازمی اثر پرائس پر بھی آئے گا، یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ پروویژنل پرائس پر بجلی فراہم کرتے ہیں پھر ایک معینہ مدت میں خریدے گئے مہنگے سستے آئلز کو ایوریج کرکے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ نکالتے ہیں۔

ممکن ہے اگر آئی۔پی۔پیز کو فوراً رقوم ملتی رہیں تو وہ اوپن مارکیٹ کی بجائے کنٹرولڈ مارکیٹ سے نقد خریداری کرکے چار آنے سستی بجلی دے دیں۔

بہرحال سرکولر ڈیبٹ ان سرکاری محکموں کے درمیان ایکدوسرے کے بلوں کی ادائیگی میں تاخیر کی بنا پر پیدا ہوتا ہے، جب یہ ڈیبٹ صرف ریسیو۔ایبل رقوم پر ہی مشتمل ہو تو اسے خسارہ نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ ایک خلاء ہوتا ہے جو پیمنٹس وصول ہو جانے سے بلآخر پُر ہو جاتا ہے۔

اس ٹائپ کا سرکولر ڈیبٹ یا گردشی قرضہ دنیا میں ہر جگہ موجود ہوتا ہے، جس ملک میں ایماندار لوگ، قابل مینجمنٹ اور گڈ گوورنینس ہو وہاں یہ صرف ایک خلاء کی طرح سے ہوتا ہے اور یہ خلاء مسلسل چلتا رہتا ہے یعنی ہر محکمے نے ہر وقت دوسرے محکموں کے پیسے دینے ہوتے ہیں جو ایک ترتیب کیساتھ ادا بھی ہوتے رہتے ہیں۔

لیکن اگر وہ سب ہر ماہ کی پانچ تاریخ کو ہر حال میں اپنے اپنے واجبات حتمی طور پر ایکدوسرے کو ادا کر دیں تو ان کے ہاں یہ خلاء یکسر ختم ہو جائے گا یعنی سرکولر ڈیبٹ نیٹ۔آف یا زیرو ہو جائے گا۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ نیشنل سرکلر ڈیبٹ یا گردشی قرضہ دنیا بھر میں ایسے ہی چلتا ہے اور یہ کوئی تشویش کی بات نہیں البتہ سرکلر ڈیفیسٹ یا گردشی خسارہ سخت تشویش کی بات ہے۔

سرکلر ڈیفیسٹ یا خسارہ کیا ہے:
ہمارے اس سرکل میں، ڈسکوز کے علاوہ، ہر ایک محکمہ پرافٹ میں چل رہا ہے، ڈسکوز کو ہرسال ملک گیر سطح پر 55 فیصد خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ صورتحال ملک کے ہر ریجن میں ایک جیسی ہے جو درج ذیل چند مثالوں سے ظاہر کی گئی ہے۔

پیپکو کے سربراہ کے مطابق ان کے ریجن میں 8631 فیڈرز ہیں، جس میں سے 5367 فیڈر پر پیمنٹ لاسز صرف 10 فیصد ہیں جبکہ باقی 3264 فیڈرز ایسے ہیں جہاں پیمنٹ لاسز کی مقدار 80 فیصد سے بھی زائد ہے۔

سیپکو کے سربراہ کے مطابق سکھر ریجن میں 487 فیڈرز ہیں جن میں 51 فیڈرز پر لاسز صرف 10 فیصد ہیں جبکہ 299 فیڈرز پر لاسز 80 فیصد سے بھی زائد ہیں۔

حیسکو کے سربراہ کے مطابق ان کے ریجن میں 409 فیڈرز ہیں، جن میں صرف 118 کی رپورٹ اچھی ہے اسلئے انہیں لوڈ شیڈنگ سے فری رکھا ہوا ہے جبکہ باقیوں کا حال وہی ہے جہاں پیمنٹ لاسز کے باعث آٹھ دس گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ کرنا پڑتی ہے۔

پیسکو کے چیف کیمطابق ان کے پاس 906 فیڈرز ہیں جن میں سے 18 فیڈرز فاٹا کیلئے ٹیسکو کیساتھ شئیر کئے جاتے ہیں، اس رینج میں بھی 205 فیڈرز ایسے ہیں جن پر لاسز کی مقدار 50 فیصد ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اس بات کو ای۔سی۔سی نے اپنی 2014 کی رپورٹ میں یوں بیان کیا ہے کہ

“سرکلر ڈیبٹ کیش کی وہ گمشدہ مقدار ہے جو ڈسکوز کے نقصانات کی بنا پر سسٹم سے غائب ہو جاتی ہے”۔

کمیٹی نے اس کی تین وجوہات بیان کی ہیں۔
اول یہ کہ بجلی کی اوور۔آل ایوریج کاسٹ اگر 12 روپے فی یونٹ بنتی ہے تو بھی حکومت یہ کہتی ہے کہ عوام کو بجلی 10 روپے یونٹ میں ہی دو۔

دوسرے نمبر پہ حکومت اپنے سوشیو۔اکنامک آبجیکٹیوز کی بنیاد پر ایگریکلچر، صنعت، فاٹا، بلوچستان اور آزاد کشمیر کیلئے مزید ریٹ کم کر دیتی ہے اور درمیانی فرق اپنے ذمے لے لیتی ہے۔

تیسرے نمبر پر یہ کہ پہلے والے دونوں اقدامات اس خوش فہمی کی بنیاد کئے جاتے ہیں کہ جب ہم ڈسکوز سے 100 فیصد ریکوری کرلیں گے اور لائن لاسز کو 15 فیصد پر لے آئیں گے تو دس روپے یونٹ میں دی گئی بجلی بھی اتنا ریوینیو دے دے گی کہ اسے حقیقی کاسٹ کیساتھ ریشنلائز کیا جائے تو حکومت کو وہ ٹی۔ڈی۔ایس کی رقم بھی ڈسکوز کو دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

مگر حقیقت میں جب لائن لاسز حتمی طور پر پندرہ کی بجائے 19 فیصد تک آتے ہیں اور ریسیو۔ایبل رقوم بھی صرف 89 فیصد تک ریکوور ہو پاتی ہیں تو لائن لاس+ریکوری لاس+ٹی۔ڈی۔ایس لاس، یہ کل ملا کے 47 فیصد لاس بن جاتا ہے۔
(یہ 47 فیصد لاس 2014 تک کا ہے، نیا حساب آنے والی گورنمنٹ ہی ڈسکلوز کر پائے گی)

اس ایک فیصد لاس کی مالیت 10 ارب روپیہ بنتی ہے یعنی 47 فیصد لاس کا مطلب ہے 470 ارب روپے کا نقصان جو کہیں سے ریکوور نہیں ہو سکتا۔

ان اعدادوشمار کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ تین اطراف سے مار پڑتی ہے، ایک تو ریکوری پوری نہیں ہوتی، دوسرا ٹیرف حقیقی بنیادوں پر چارج نہیں ہوتا اور تیسرا یہ کہ سبسڈی کی گنجائش نہیں ہوتی پھر بھی مقبولیت حاصل کرنے کی خاطر سبسڈی دے دی جاتی ہے۔

ٹریبیون کے مطابق سینٹ کی سپیشل کمیٹی کے سربراہ شبلی فراز صاحب کے بقول پاور ڈویژن کے 573 ارب روپے مارکیٹ سے ریسیو ایبل ہیں، ان میں سے 384 ارب ان طاقتور عناصر کی طرف ہیں جو دھونس کیساتھ بجلی بھی مسلسل لے رہے ہیں اور رقم بھی نہیں دیتے، انہیں فائنانشیل دہشت گرد قرار دے کر ان کیخلاف اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے تحت کاروائی کرنی چاہئے۔

چوری کے حوالے سے ٹریبیون کا کہنا ہے کہ ڈسکوز نے بجلی چوروں کیخلاف 11800 درخواستیں دائر کی تھیں مگر سیاسی مداخلت کے باعث 79 کے علاوہ کسی ایک پر بھی ایف۔آئی۔آر نہیں کاٹی گئی۔

ٹریبیون کے مطابق 31۔جنوری۔2018 تک پاور سیکٹر کے 800 ارب روپے ان۔ڈیبٹ تھے، ان حالات میں ڈسکوز اپنے نقصانات کی بنا پر سی۔پی۔پی۔اے کو پیمنٹ نہیں کر پاتے، وہ آئی۔پی۔پیز کو پیمنٹ نہیں کرپاتی، آئی۔پی۔پیز آئل اور گیس سیکٹر کو پیمنٹ نہیں کر پاتے۔

اس ڈیڈ۔لاک کی بنیاد پر اس سرکل میں۔
او۔جی۔ڈی۔سی۔ایل کے 292 ارب پھنسے ہوئے ہیں۔
آئل مارکیٹ کے 226 ارب پھنسے ہوئے ہیں۔
پی۔ایس۔او کے 316 ارب سٹک۔اپ ہیں۔
سوئی سدرن گیس کے 205 ارب ریسیو۔ایبل ہیں

سیکنڈ لاسٹ گورنمنٹ نے لوڈ۔شیڈنگ+500 ارب کا سرکلر ڈیبٹ چھوڑا تھا جسے آنے والوں نے قرضہ اٹھا کے بیل آؤٹ کیا پھر انہوں نے لوڈ۔شیڈنگ+1000 ارب کا سرکلر ڈیبٹ چھوڑا ہے جسے آنے والی گورنمنٹ قرض اٹھا کے بیل آؤٹ کرے گی اور نہ جانے آگے کیلئے کیا چھوڑ کے جائے گی۔

ایک ڈسکو کے سربراہ کا کہنا ہے کہ میرے ریجن کے پاس 5000 میگا واٹ بجلی اٹھانے کی سکت ہے مگر میں صرف 2100 میگاواٹ اٹھا رہا ہوں تاکہ ضروری اوقات میں ریجن کو بجلی فراہم کر دوں اور باقی اوقات میں شیڈنگ کئے رکھوں، اس کی وجہ وہی ہے کہ عوام کو کم سے کم چوری کا موقع فراہم کیا جائے۔
(یہ بات اس سربراہ نے اتنے صاف الفاظ میں نہیں کہی بلکہ جس انداز میں کہی ہے اس کے بین السطور یہی مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے)

اس آخری کی۔نوٹ کے بعد اس مسئلے کا سیدھا سا حل یہ ہے کہ شبلی فراز صاحب کی طرح تین عدد سچ بولیں۔

پہلا یہ کہ بجلی صرف ایک ہفتے میں پوری ہو سکتی ہے لیکن جب 24 گھنٹے بجلی آئے گی تو پچاس سے ساٹھ فیصد چوری شدہ بجلی کا بل کون دے گا جو آج آدھی بجلی پہ 1000 ارب روپے بنتا ہے تو پوری بجلی پر یہ خسارہ 2000 ارب سے بھی زائد کا بنے گا۔

دوسرا سچ یہ بولیں کہ بجلی کی کاسٹ اگر 10 روپے بنتی ہے تو عوام کو 7 روپے میں دیں گے اور اس کا فرق بزنس پہ ڈال کے کمرشل کو 11 اور انڈسٹری کو 12 روپے میں دیں گے، ریلیف کی گنجائش نہیں ہے اسلئے سبسڈی کسی کو نہیں مل سکتی، ساتھ ہی ساتھ مزید سستی بجلی بنانے کی کوشش بھی کریں گے۔

تیسرا سچ یہ بولیں کہ چار سو ارب کی بجلی جو عوام الناس و عوام الخاص دونوں مل کر چوری کر لیتے ہیں انہیں شبلی فراز صاحب کے بقول لیگل ایکشن اور قوم کے روبرو لایا جانا چاہئے۔

یہ تین جڑیں نہ کاٹی گئیں تو عوام آنے والے ہر دور میں اسی طرح حیران رہے گی کہ بجلی پوری ہونے کے بعد غائب کیوں ہو جاتی ہے اور جانے والی گورنمنٹ اتنا بڑا سرکلر ڈیبٹ کیوں چھوڑ جاتی ہے۔

ما و خاکِ رہگذر بر فرقِ عریاں ریختن
گُل کسے جوید کہ اُو را گوشۂ دستار ہست

ہم ہیں کہ رہگزر کی خاک اپنے ننگے سر میں ڈالنے کا شغل کر رہے ہیں، پُھول تو وہ تلاش کرے جس کے پاس پھول ٹانکنے کیلئے دستار بھی ہو۔

۔میرزا غالب۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: