بدلتے رستے: فیض، شیخ ایاز اور جمال نقوی — عزیز ابن الحسن

0
  • 196
    Shares

فیض کے بارے میں پروفیسر فتح محمد ملک کا ایک مضمون “فیض: انقلابِ چین سے انقلابِ ایران تک” حال ہی میں “دانش” میں چھپا ہے جسکا لبِ لباب کچھ انکے اور کچھ روسی دانشور لُدمیلا وسیلیئوا کے الفاظ میں یہ ہے کہ

لینن انعام سے سرفراز ہونے کی بدولت سوویٹ یو نین میں بار بار آنے جانے اور وہاں کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کے مشاہدات اور تجربات نے اُن کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا اور سوویت انقلاب کی بنیاد پرستی اور چینی انقلاب کی ترمیم پسندی نے فیض صاحب کے اشتراکی آدرشوں کو بری طرح مجروح کر دیا تھا۔

اب فیض صاحب کا مزاج ہی ایسا تھا کہ انہوں نے نہ تو کبھی اشتراکی نعرہ بازوں کیطرح کھل کے نعرے لگائے تھے اور نہ ہی وہ بعد میں اس سے کھل کر اعلانِ بغاوت کرسکتے تھے اسلیے ہوسکتا ہے کہ فیض کے بارے میں یہ رائے سابقہ ترقی پسندوں اور حالیہ لبرلز کو حقیقت کی درست ترجمانی کے طور پر قبول کرنے میں کچھ عار ہو لیکن یہ تو حقیقت ہے کہ اشتراکیت پسندوں کی مطلوب کھلی اور ننگی نعرہ باری نہ کرنے کی پاداش میں فیض صاحب علی سردار جعفری جیسے گاڑھے ترقی پسندوں کے شدید عتاب کا شکار سن ساٹھ کے عشرے میں ہی ہوچکے تھے۔

عزیز ابن الحسن

ایسی مثالیں ہمارے اپنے ہاں بھی متعدد ہیں کہ آخر آخر بعض نامور اہل قلم نے اپنے اشتراکی مثالیوں کی شکست سے دوچار ہوکر جب اپنا رخ بدل لیا تو ان کے سابقہ ترقی پسند مداحوں نے پہلے تو ان سے فاصلہ پیدا کرلیا اور ان کے مرنے کے بعد انکے اس انحراف پر پردہ ڈالنے اور انکے بعد کے خیالات چھپانے کی باضاطہ کوششیں تک کیں۔ سندھی کے معروف دانشور شاعر شیخ ایاز کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ جب انہوں نے اپنے سابقہ خیالات سے رجوع کر کے مذہب اور تصوف کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا تو اسکے اثرات انکی آخری دور کی شاعری تک میں آگئے تھے اور انہوں نے مناجات لکھنی شروع کی تھیں جنکا اردو ترجمہ ایک صوفی مزاج سندھی لکھاری جناب محمد موسٰی بھٹو نے کیا تھا۔ لیکن شیخ ایاز کی ان مناجاتی رنگ نظموں کا ذکر شیخ صاحب کے سابقہ انقلابی ترقی پسند مداحوں کے ہاں بہت کم ملتا ہے۔ آنکا تعارف آج بھی جب کرایا جاتا ہے تو ایک مزاحمتی ترقی پسند شاعر کے طور پر کرایا جاتا ہے نہ کہ ایک ایسے متلاشئ حق کے طور پر جو اپنے سابقہ نظریات پر خطِ تنسیخ پھیر چکا تھا۔

آج یہ سب کچھ یاد آنے کی تقریب یہ ہوئی کہ فیسبک کے بقول گزشتہ برس آج ہی کے روز راقم نے پروفیسر جمال الدین نقوی پہ ایک شذرہ لکھا تھا جسمیں اشتراکیت سے انکی کایاکلپ کا ذکر کیا تھا۔ فیض اور پروفیسر نقوی میں اشتراک و امتیاز کا پہلو یہ ہے کہ دور بیٹھ کے اشتمالی و اشتراکی نظریات کا مطالعہ کرنا ایک بات ہے اور اشتراکی بہشتیوں کا حال اندر سے دیکھ کر اپنی رائے بنانا دوسری بات۔ فیض اور پروفیسر صاحب دونوں نے لینن کا دیس جب اندر سے دیکھا تو اثرات دونوں پر قدرے یکساں ہوئے، مگر فیض کے مزاج کے دھیمے پن نے اسکا اظہار ضروری نہ سمجھا بس انکے شاعرانہ روئیے میں غیر محسوس سی تبدیلی آگئ جسکے اشارے فتح محمد ملک کے مذکورہ مضمون اور لُدمیلا وسیلئیوا کی کتاب “پرورشِ لوح و قلم، فیض: حیات اور تخلیقات” میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ جبکہ اسکے برعکس پروفیسر نقوی نے اپنے خیالات میں آنے والے انقلاب کا حال خود اپنے قلم سے اپنی یساریت کو پسِ پشت ڈال کر Leaving the Left Behind میں ببانگِ دہل لکھ دیا تھا۔

سندھی دانشور شیخ ایاز نے سابقہ خیالات سے رجوع کر کے مذہب اور تصوف کو اوڑھنا بچھونا بنالیا تو اسکے اثرات انکی آخری دور کی شاعری تک میں آگئے اور انہوں نے مناجات لکھنی شروع کیں۔ لیکن ان کی ان نظموں کا ذکر شیخ صاحب کے سابقہ انقلابی ترقی پسند مداحوں کے ہاں بہت کم ملتا ہے۔ آن کا تعارف آج بھی ایک مزاحمتی ترقی پسند شاعر کے طور پر کرایا جاتا ہے نہ کہ ایک ایسے متلاشئ حق کے طور پر جو اپنے سابقہ نظریات پر خطِ تنسیخ پھیر چکا تھا۔

اس سے پہلے کہ بعد کے آنے والے یساری انقلابی یا لبرلز شیخ ایاز کی کایاکلپ کی طرح پروفیسر نقوی کے منقلب خیالات کی داستان بھی چھپانے لگیں آئیے پروفیسر مرحوم کی دوسری برسی کے موقع پر انکی خوبصورت نثر میں لکھی کتاب پھر سے پڑھیں۔

جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہےــ

سال بھر پہلے میں نے جب اس کتاب کا عنوان دیکھا تو اسکے مفہوم سے زیادہ اسکے صوتی آہنگ نے مجھے جکڑ لیا تھا: Leaving the Left Behind۔ آپ ہی کہیے اتنا پُر تأثر اور بولتا ہوا عنوان کسی کتاب کا دیکھا ہے؟

میں تب پروفیسر جمال الدین نقوی کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا تھا۔ انکے بارے میں جو کچھ معلوم ہوا اسی کتاب سے ہوا۔ پاکستان میں بائیں بازو کی کیمونسٹ آئیڈیالوجی، اس سیاست کے نشیب و فراز اور کسی فرد کے باطن میں خوابوں اور حقیقتوں کے تصادم سے پیدا ہونے والے آئیڈیلز کی ٹوٹ پھوٹ کی کہانی ایک اندر کے آدمی کی زبانی ایک نہایت دلچسپ اسلوب اور صوتی تجنیس والی نثر میں پڑھنی ہو تو اس کتاب سے بہتر کتابیں کم ہی ملیں گی۔
کتاب کا ذیلی عنوان بھی معنیاتی ثروت مندی کو لفظی کھیل کے ساتھ بیان کرنے کا شہکار ہے:

An autobiographical tale of political disillusionment that took life’s momentum away from the myopic politics of Right and Left to the enlightened concept of Right and Wong۔

میں نے چاہا تھا کہ اس ذیلی عبارت کا ترجمہ کردوں مگر لفظوں کا خون کیے بنا یہ ممکن نظر نہ آیا۔

پروفیسر نقوی کی زندگی دیگر ترقی پسند ادبا کی طرح قہوہ خانوں میں دھواں اڑانے اور ڈرائینگ رومز میں انقلاب کے نعروں میں نہیں گزری بلکہ وہ نظری اور عملی طور پر بھی اپنے یساری آدرشوں کو روبہ عمل لانے کی جدو جہد میں سرگرم رہے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر انہوں نے حکومتی قید و بند کے مصائب بھی جھیلے اور بغاوت و غداری کے مقدموں بھی ملوث کیے گئے مگر یہ صعوبتیں انکے نظریات کو متزلزل نہ کر سکیں۔

لیکن سویت یونین کے چند روزہ سفر و قیام کے دوران انہوں نے اس جنتِ ارضی میں اشتراکی معیشت و سماج کے اپنے سنہری سپنوں کو جب بری طرح ٹوٹتے دیکھا تو کیمونسٹ نظریات، ان تصوارات سے وابستہ مفادات کے حامل کچھ افراد اور اپنی چار دہائیوں کی زندگی کو از سرِ نو چھاننا شروع کردیا۔ اسی کشمکش نے انہیں بائیں بازو کی کوتاہ اندیش سیاست سے دور کردیا اور وہ لیفٹ و رائٹ تصورات کے بجائے رائٹ (حق) اور رانگ (باطل) کی اصلطلاحات میں سوچنے لگ گئے۔
پروفیسر نقوی انگریزی ادبیات کے استاد تھے مگر حیرت ہے کہ پاکستان کیمونسٹ پارٹی کے اتنے فعال متحرک کارکن و رہنما کی زندگی اور کام کا اردو کی نظریاتی و ادبی سیاست میں کبھی کوئی خاص ذکر سننے میں نہیں آیا حالانکہ انکے ادبی ذوق اور نظریاتی وابستگی کا یہ حق تھا کہ اردو کے ترقی پسند نصاب و ادب میں انکی ان تھک وابستگی اور جہدِ مسلسل کا کماحقہُ اعتراف کیا جاتا۔

پروفیسر نقوی کی اس خود نوشت کے علاوہ راقم کے علم میں کبھی انکی کوئ کتاب نہیں آئ لیکن حقیقت یہ ہمارے بائیں بازو کے نظریاتی ادیبوں نے بھی انکا کوئ خاص ذکر کرنا پسند نہیں کیا۔

ایک مکتبِ فکر کا خیال ہے کہ ۲۰ ویں صدی کے نٍصف دوم میں مابعد جدیدیت کے بینر کے نیچے جو تصورات ابھرے یہ چند ایسے ہی سابقہ ترقی پسند و لیفٹسٹ دانشوروں کے آدرشوں کی شکست سے پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی جوانیاں انسانی آزادی مسرت مساوات اور غیر طبقاتی سماج کی تعمیر کے لیے تاریخ معیشت اور سیاست کے نئے خوابوں میں رنگ بھرنے میں لٹادی تھی مگر انسانی تاریخ کے عظیم ترین مادی تجربے نے سویت یونین کی تباہی (جو کچھ آنکھوں نے بہت پہلے سے بھانپ لی تھی) کی صورت میں ان کے خوابوں کو التباس و فریب بنادیا۔ تب انمیں سے کچھ تو گوشہ گیر ہوگئے اور کچھ نے اس جہانِ کاف و نون کے بڑے بڑے بیانیوں بشمول (مذہب و مارکسیت) کے فرسودہ و ناقابلِ ناقابلِ عمل ہونے کی نوحے پڑھنے شروع کردیے تھے۔ ایسے میں ہمارے ہاں کے سابقہ ترقی پسندوں میں سے بھی اکثر نے اپنی امیدوں کا آخری سہارا مارکسیت چھوڑ مغربی لبرلزم کو بنالیا۔

یہ نہیں کہ یہ سب کچھ جمال نقوی کے ہاں بھی ہے۔ کہنا صرف یہ ہے کہ ختمِ درد عشق کے لمحات بڑے کربناک ہوتے ہیں۔ اس کرب کو اور اسکے تجزیے کو ہمیں پروفیسر جمال نقوی کی داستان میں بڑی توجہ سے پڑھنا چاہیے۔

پروفیسر نقوی الہ آباد میں پیدا ہوئے اور نوجوانی ہی میں کراچی آگئے۔ اسلامیہ کالج میں بی اے میں داخلہ لیا جہاں انہیں کچھ پرانے شناسا چہرے نظر آئے تھے۔ اس زمانے میں ہمارے عہد کے دو معروف اساتذۂ ادب و تنقید پروفیسر کرار حسین اور محمد حسن عسکری بھی اسی کالج کے شعبۂ انگریزی سے وابستہ تھے۔ ذرا دیکھیے پروفیسر نقوی نے اسلامیہ کالج کراچی کو یاد کرتے ہوئے اپنی محولہ آپ بیتی میں چند جملوں میں ان اساتذہ کی کیسی سچی اور پُرلطف تصویر کھینچ دی ہے:

Then there was M۔H۔ Askari, the ‘scholar gypsy’ who was considered an effective ‘labor-saving device’ because during his lectures he used to tell every thing said by every body about every thing۔ His lectures all but eliminated the need to consult any other book۔ The best of the lot, without much of a contest, was Karrar Hussain۔ He never had a book in hand, but his extempore lectures used to cast spell on the class۔ (P۔ 023)

پچھلے برس اسی مہینے میں پروفیسر جمال الدین نقوی کا کراچی میں بعمر ۸۵ برس انتقال ہوگیا تھا۔ مگر اپنے انتقال سے پہلے وہ بقائمی ہوش و حواس رائٹ لیفٹ کی بحثوں کو چھوڑ حق کے راستے پر ہولیے تھے۔

دعا ہے اللہ ان تمام متلاشینِ حق کے درجات بلند کرے۔


یہ بھی ملاحظہ کیجئے: سرخ سلام : کامریڈ جام ساقی کی یاد میں —– شاہد اعوان

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: