رنگت، موٹاپا، قد اور حسن کی محرومیاں —– ارشد محمود ملک

0
  • 24
    Shares

ہم میں ہر کسی کو کوئی نہ کوئی احساس محرومی (کمتری) لاحق رہتا ہے۔ ایسا احساس ہونا چاہئیے یا نہیں یہ بحث طلب ہے۔ مالک و محکوم کا ایک رشتہ ہے اس کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہر شخص کمزور ہے محروم ہے۔ ہمیں ہر لحظہ اپنی کمزوری اور مالک کی بڑائی کا احساس رہنا چاہئیے مگر یہ کبھی بھی ناشکری کی حد تک نہیں جانا چاہئیے۔ پاکستان میں ناشکری کی حدوں کو چھوتا یہ احساس قومی سطح پر بھی محسوس کیا جا سکتا ہے اور انفرادی سطح پر بھی۔

پاکستان کے تین طاقتور ترین عہدیداران مطمئن نظر نہیں آتے۔ ایک کو اپنے ادارے کی کمانڈ کے علاوہ پالیسی سازی کا اختیار چاہئیے۔ دوسرے کو کو انصاف مہیا کرنے سے زیادہ لوگوں کی خدمت کرنے میں دلچسپی رہتی ہے۔ وزیراعظم بھی پالیسی سازی کے بجائے ’’اگلی مرتبہ حکومت کیسے حاصل کی جا سکتی ہے‘‘ کی منصوبہ بندی میں اپنا وقت مکمل کر دیتا ہے۔ یہ بظاہر ریاستی امور ہیں اور ان کا فرد سے تعلق نہیں بنتا مگر ریاست محض فیصلے ہی نہیں کرتی بلکہ وہ سماجی ماحول کی پرورش کرتی ہے۔ اس مضمون میں انفرادی سطح پر پائی جانے والی محرومیوں سے متعلق چند باتیں عرض کرتا ہوں۔ زیادہ تر محرومیاں خود ساختہ ہوتی ہیں یا پھر معاشرے کی دین ہیں۔ مگر کچھ محرومیوں کا مداوا ممکن نہیں۔ ایسے محروم طبقات ہماری نظروں سے اوجھل رہتے ہیں اور ایک الگ ہی دنیا میں دم توڑ دیتے ہیں۔

گوری رنگت کو جہاں حسن کی علامت سمجھا جاتا ہے وہاں سانولی رنگت چاہے کتنی ہی پرکشش کیوں نہ ہو حسن کے دیسی معیار پر پورا نہیں اتر سکتی۔ لڑکیاں تو اس مسئلے کو زیادہ ہی حساس لیتی ہیں۔ سانولی رنگت آنے والے دور کی فکر میں باقاعدہ کالی ہو جاتی ہے۔ کیا یہ مسئلہ واقعی اہم ہے؟ کیا گورا رنگ ہی تمام اچھائیوں کی جڑ ہے؟ اس کا سیدھا جواب ہے کہ نہیں۔ رنگت ہمیں محض کسی محفل میں بطور انٹری پاس متعارف کرا سکتی ہے۔ پائیداری خود اعتمادی اور کردار کی بلندی کو ہی حاصل ہے۔ افریقی اور جنوبی ہندوستان کی کالی اور سانولی خواتین وسطی ایشیا میں بھرپور اعتماد کے ساتھ ملازمت اور کاروبار کرتی ہیں۔ رنگت ان کے پیشہ ورانہ امور میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ ایسے کسی مسئلے میں سب سے پہلے خوف کو شکست دینی سیکھنی چاہئیے۔ جس روز خود سے جیت جائیں اس دن سے لے کر معاشرہ خود شکست تسلیم کر لے گا۔ اپنے حسن کو خود سے محسوس نہ کرنا بھی زیادتی ہے۔

موٹاپا پہلے پہل صحتمندی کی علامت سمجھا جاتا تھا مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ مرد و خواتین یکساں طور پر اس سے ہراساں معلوم ہوتے ہیں۔ بعض لوگ جو تھوڑے سے موٹے ہو کر زیادہ پرکشش محسوس ہو سکتے ہیں وہ بھی زمانے کی دیکھا دیکھی ڈائیٹنگ کی مشقت میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ چونکہ زیادہ تر ڈائٹنگ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ہی شروع کر دی جاتی ہے جو آگے چل کر کئی طرح کی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔ موٹاپا کا فیصلہ نہ ہی ہمیں خود کرنا چاہئیے اور نہ ہی دوستوں کو یہ حق دیا جا سکتا۔ بلکہ جب تک ڈاکٹر ہمارے وزن کو موٹاپا نہ کہہ دیں ہمیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم آنے والے ازدواجی تعلقات (رشتہ) کو لے کر جتنا فکر مند رہتے ہیں ان کی کامیابی یا ناکامی میں ایسے عوامل آٹے میں نمک کے برابر ہوتے ہیں۔ ہلکی ورزش، نیند اور کھانے میں توازن بھی تب تک ہمارے جسم کو متوازن نہیں بنا سکتا جب تک ہماری سوچ شکر گزاری والی نہیں ہو گی۔ غیر ضروری توجہ ذہنی اذیت کا باعث بنتی ہے۔

عورتوں میں نسوانی حسن کی کمی (یہ محض قیاس بھی ہو سکتی ہے) اور پرکشش نہ ہونے کا مغالطہ اور مردوں میں جنسی کمزوری کا احساس بھی ہمارے معاشرے کا عمومی حصہ ہیں۔ حالانکہ نوے فیصد خواتین پرکشش ہوتی ہیں اور اتنے ہی فیصدی مرد بھی جنسی طور پر صحت مند ہوتے ہیں۔ بس خوداعتمادی کا فقدان اور غیر اخلاقی لٹریچر اس احساس کو قوت پہنچاتا ہے۔ مناسب وقت پر شادی ایسے احساس کی تدفین کا سب سے بہترین علاج ہے۔

پست قامت ہونا بھی احساس محرومی پیدا کرتا ہے۔ لوگوں کا منفی رویہ اور ہزاروں طرح کے دئیے گئے نام اس احساس کو مزید پختہ کرتے ہیں۔ اس مسئلے کا تعلق سوچ سے زیادہ حقیقت سے ہوتا ہے۔ بہت سے ایسے کام جو عام آدمی کر سکتا ہے ان میں یہ جسمانی ساخت رکاوٹ بنتی ہے۔ اگر ہم میں سے کسی شخص کی روزمرہ مصروفیات میں خلل نہیں آتا تو وہ پست قامت نہیں ہے بلکہ اس کے احساس کا تعلق سوچ سے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کو بھرپور زندگی نہیں گزارنی چاہئیے۔ بس خوف کو شکست دیجئے لوگوں کا سامنا پورے اعتماد سے کیجئیے یہ کمی یا کمزوری آپ کی طاقت بن جائے گی۔

مخنث یا ہیجڑے ہمارے معاشرے کے محروم ہی نہیں بلکہ مظلوم طبقے کے لوگ ہیں۔ ان کی یہ کمی یا کمزوری لاعلاج ہے۔ یہاں سوچ بدلنے سے حالات نہیں بدل سکتے۔ ان کی محنت زندگی کی رونق نہیں لوٹا سکتی۔ جب محرومی کا عالم یہ ہو تو اس وقت ان افراد سے زیادہ ذمہ داری معاشرے اور ریاست پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کے لئے باعزت زندگی گزارنے کا بندوبست کریں۔ ابھی تک تو انہیں ہم انسان سمجھنے سے قاصر ہیں۔ باعزت زندگی تو شاید اگلہ مرحلہ ہے۔ ہمیں اپنے اجتماعی رویے پر نظرثانی کی اشد ضرورت ہے۔ میں پہلے جس دفتر میں کام کرتا تھا وہاں فلپائن سے ایک مخنث ریسٹورنٹ کی فرینچائز پر سیلز مین تھا۔ انتہا کا محنتی و مستعد ہر گاہک پر نظر۔ اس نے بتایا کہ وہ گریجویٹ ہے اور بہترین روزگار کا حامل ہے۔ وہ اکیلا ہی نہیں بیسیوں لوگ فلپائن میں اس کی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلے حالات قابل رحم تھے مگر اب بہت کچھ تبدیل ہو گیا ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ تربیت نے ایک الگ ہی ورک فورس پیدا کر دی ہے۔ میڈیا میں میک اپ آرٹسٹ، ہئیر ڈریسر، میوزک انڈسٹری کے ہنر مند آرٹ کالجز میں ایک بڑا حصہ اس جیسے لوگوں سے بھرا پڑا ہے۔ اس نے جب پوچھا کہ پاکستان میں میری برادری کے لوگ کیسے رہتے ہیں تو میں فقط اتنا کہہ سکا کہ رقص کرتے ہیں خوشیاں بانٹتے ہیں۔ اس نے جب یہ کہا کہ خوشیاں بانٹنے والوں کے غم شمار نہیں ہوتے کیا وہ بھی خوش ہیں تو میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ یہ جواب مجھ سمیت میرے معاشرے، میری ریاست کے پاس بھی نہیں ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: