اعتراف: سیاستدان کی ’’تبدیلی‘‘ —- طاہر علی خان

0
  • 37
    Shares

میں ایک سیاسی رہنماء ہوں۔ میرے لاکھوں کروڑوں کارکن اور حامی ہیں۔ کچھ عرصے سے میرے طرزعمل سے ملک وقوم کا نقصان ہورہا ہےاور جمہوری قوتیں بدنام ہورہی ہیں۔ میرا ضمیر مجھے مسلسل ملامت کر رہا ہے۔ اس لیے اب میں نے کچھ اعترافات اور توبہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

مصنف

میری عادت رہی ہے کہ میں خود کسی سیاسی و مذہبی رہنماء کے پاس جاتا ہوں نہ رابطہ کرتا ہوں۔ اس طرح کوئی رہنماء بیمار ہوجائے تونہ اس کے پاس جاتا ہوں نہ فون کرتا ہوں۔ اب میں سب سےرابطہ کرنے میں پہل کروں گا اور سب کی عزت کروں گا۔

میں اپنے سیاسی مخالفین اورنقادوں کو چور، ڈاکو، لٹیرے، ڈیزل، غدار وطن، ہندوستانی واسرائیلی ایجنٹ، اسلام دشمن حتیٰ کہ کافرتک قرار دیتا آیا ہوں اگرچہ میرے پاس ان باتوں کے لیےکوئی ثبوت بھی نہیں ہوتا۔ یہ سلسلہ آج سے روک رہا ہوں۔ اپنے سب کارکنوں کو بھی الزام تراشی کی سیاست سے اجتناب کرنے کی استدعا کرتا ہوں۔

مجھے پتہ ہے یہ جو میں اپنے مخالفین پر اربوں کھربوں لوٹنے اور ملک دشمنوں سے سازباز کرنے کا الزام لگاتا ہوں اس میں بھی کوئی حقیقت نہیں ہےتاہم اپنے سیاسی فائدے کے لیے میں لگاتار یہ الزام دہراتا آیا ہوں۔ مجھےمعلوم ہے میری ان باتوں سے نوجوان نسل کے ذہنوں میں ان رہنماٶں کےخلاف زہر بھرگیا ہے۔ اب تلافی کا وقت آگیا ہے۔ میں ان سب سے معافی مانگتا ہوں اور اپنے پیروکاروں اور سب کے سامنے برملا اعتراف کرتا ہوں کہ میرے پاس ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں۔ بغیر ثبوت کے الزام لگانا قانون، اخلاق اور شریعت سب کی رو سے نامناسب ہے اس لیے میں یہ تمام الزامات واپس لیتا ہوں۔ آئندہ ایک ذمہ دار رہنماء کے طور پر اس کام سے میں بھی اجتناب کروں گا اور آپ سب بھی۔

میں نے ناحق قوم کو اپنے اور دوسروں کے حمایتی کیمپوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ جومیرے ساتھی ہیں انہیں میں ایماندار اور محب وطن جبکہ اپنے مخالفین اور ان کے حمایتیوں کو میں بے ایمان، زر خرید، وطن دشمن اور گدھے کہتا رہا ہوں۔ یہ سلسلہ میں فوری طور پر روک رہا ہوں کیونکہ جمہوریت اور آزادئ رائے اپنی مرضی کے رہنما کے انتخاب اور اس کی حمایت کے بغیر بیکار محض ہے۔

اپنے سیاسی فائدے کےلیے میں جھوٹا پروپیگنڈہ کرتا آیا ہوں۔ اس کےلیے ہزاروں لوگوں پر مشتمل باقاعدہ سوشل میڈیا ونگ بنایا ہوا ہے۔ جس نے بھی میرے یا میری پارٹی کے خلاف لکھا یا بات کی، اس کوبدنام کرنے کےلیے اپنے سوشل میڈیا ونگ اور پارٹی کے لاکھوں کارکنوں کو اشارہ کرکےاس کے پیچھے لگاتا آیا ہوں۔ اب یہ سلسلہ بھی روک رہا ہوں۔ اب ہمیں ہر شخص کی عزت کا خیال رکھنا ہے چاہے وہ حامی ہے یا مخالف۔

یہ نہایت قابل افسوس بات ہے کہ اس ملک کے اداروں کو میں نے ہر ممکن طریقے سے اپنا غلام بنانے کی کوشش کی۔ یہ نہ ہو سکا تو انہیں مخالفین کا ایجنٹ اور زرخرید قرار دیا۔ ہر ایماندار سرکاری افسر اور اہلکار، جو میرٹ پر کام کرتا اور یوں میرے لیے خطرہ ہوسکتا تھا، کو میں نے چوروں اور ڈاکووں کا ساتھی گردانا۔ یہ طرزعمل بھی اب روک رہا ہوں۔ یہ سب ہمارے بھائی ہیں۔ یہ سب ادارے ہمارے پاس آنے والی نسل کی امانت ہیں۔ ان کو ترقی دینا اور ان کی نیک نامی میں اضافے کے لیے کوشاں رہنا ہر ایک کا فرض ہے۔

میرا ایک اورقبیح طرزعمل یہ ہےکہ میں بڑا خود غرض واقع ہوا ہوں۔ انتخابات میرے لیے تبھی آزادانہ، منصفانہ اور شفاف ہوتے ہیں جب میں اور میری پارٹی جیت جائیں ورنہ پھر جھرلو، الیکشن نہیں سیلیکشن، آراوز کا الیکشن، پینتیس پیکچر، سیکورٹی اداروں کی مداخلت اور عظیم الشان دھاندلی کی اصطلاحات استعمال کرکے نتائج کو مسترد کرنا، دوبارہ الیکشن کے لیے تحریک چلانا اور دھرنے دینا میرا معمول رہا ہے۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ عوام کے فیصلے کے مطابق اپنے مخالفین کی فتح اور مینڈیٹ کو مانوں گا، ان کو فوری مبارکباد دوں گا اور کبھی دوبارہ انتخابات اورمنتخب حکومت کو ہٹانے کے لیے تحریک نہیں چلاوں گا۔

ایک سیاستدان ہوتے ہوئے بھی میں پارلیمنٹ، جمہوریت، انتخابات، سیاسی نظام اور حکومتی اداروں کو گالیاں دیتا آیا ہوں۔ جمہوریت اور پارلیمنٹ کے خلاف غیر جمہوری ملکی اور بیرونی قوتوں سے سازباز کرتا رہا ہوں۔ ہر نظام میں خرابیاں اور کمزوریاں ہوتی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جذباتی باتیں اور تعمیم اختیار کرتےہوئےنظام کے سارے مظاہر کو کرپٹ، غلط اورجعلی قرار دیا جائے۔ یہ عادت بھی چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ہم سیاسی تبدیلی واصلاح کے لیے کوششیں کر رہے ہیں لیکن یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے لیے کی جانے والی کوششوں کا نتیجہ تب ملک و قوم کے لیے مثبت نکلتا ہے جب ان سے پہلے سماج میں شعور، ہمدردی و قربانی، تحمل، رواداری، حق کے لیےکھڑے ہونے اور ایمانداری کی صفات راسخ ہوجائیں، ہم اپنے مفاد کے لیے بس سیاسی تبدیلی کی رٹ لگاتے رہے۔ نوجوانوں کو اپنے مفاد کے لیے احتجاج و ہیجان کا رسیا بنایا۔ اگرچہ ہم ایک آئین و قانون کے حدود میں کام کرنے والی پارٹی ہیں لیکن نوجوانوں کے سامنے خود کو انقلابی اور فوری ‘‘عوامی انصاف’’ پر یقین کرنے والی تنظیم کے طور پرمتعارف کروایا۔ سرکاری اداروں اواہلکاروں پر ان سے حملے کروائے۔ آج کے بعد مگر ہم ایسا نہیں کریں گے۔ اب سماجی و سیاسی اصلاح دونوں کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔

میں سیاست تو یہاں کر رہا ہوں لیکن میرے اکثر اثاثے بیرون ملک پڑے ہوئے ہیں۔ ان اثاثوں کی بابت یہاں کوئی ادارہ پوچھے تومیں اپنی سیاسی پارٹی کے بل پر ایسی کوشش کو انتقامی کارروائی قرار دے کر بچنے کی کوشش کرتا آیا ہوں۔ اس سے کام نہ چلے تو پھر متعلقہ ادارے پر تابڑ توڑ حملے کرکے اسے دفاعی پوزیشن پر لے جانے کی کوشش شروع کر دیتا ہوں۔ ورنہ پھر ایک بڑا وکیل کرکے اور تاخیری حربے اختیار کرکے احتساب سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس کے بعد اپنی تعلیم اور ذہانت کو استعمال کرتے ہوئیےمسلسل جھوٹی اورباربار تبدیل ہونے والی باتیں کرکے تفتیش کاروں کو چکرانے کی سعی کرتا آیا ہوں۔ اب میں نے اپنے سارے اثاثے ملک واپس لانے اور ان پر واجب الادا پورا ٹیکس دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ابھی تک اپنی پارٹی میں اصلی جمہوریت اور آزادئ رائے کو پنپنے نہیں دیا ہے۔ پارٹی کو صرف اپنا فین کلب بنایا ہے۔ جس نے بھی مجھ پر تنقید کی ہے یا پارٹی میں اصلاحات کے لیے آواز اٹھائی ہے تو خوشامدی ٹولے کی انگیخت پر اس بیچارے کو پارٹی میں کھڈے لائن لگایا یا بے عزت کرکے نکالا ہے۔ ایک سیاسی جمہوری رہنماء کے لیے یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ وہ خود کو تنقید و احتساب سے بالاتر قرار دےکر آمر بن جائے۔ آئندہ آپ میرے طرزعمل اور پارٹی سیاست میں اس حوالے سے بھی خوشگوار تبدیلی محسوس کریں گے۔

میرے ملک و قوم کے خلاف جب دہشت گردوں نے خونی کھیل شروع کیا تو اپنی جان کی سلامتی اور سیاسی فائدے کے لیے ان کے خلاف قومی آواز کا حصہ نہیں بنا۔ دہشت گردوں پر تنقید کی جرأت مجھ میں تھی نہیں اس لیے ذہن میں آیا کیوں نہ اس سفاکیت کو بلیک واٹر، موساد اور را کی کارستانی اور اسلام دشمنوں کی سازش قرار دے سرے سے تنقید کی ضرورت ہی ختم کردوں۔ یہ نسخہ کارگر ثابت ہوا۔ عوام میں کنفیوژن تو پیدا ہوئی مگر دہشت گرد اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے ہمیں اپنا نمائندہ بھی قرار دیا۔ مجھے احساس ہے ایسا کرکے میں نے اپنی قوم کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا۔ اب میں قوم کے ساتھ ہوں گا اور دہشت گردوں کو اپنا دشمن سمجھوں گا۔


مصنف فری لانس صحافی ہیں، رواداری، احترام انسانیت اور امن کے پرچارک ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: