اسلامی سیاست ناکام کیوں؟ — اسامہ الطاف

0
  • 26
    Shares

1453عیسوی میں سلطان محمد الفاتح کے ہاتھوں قسطنطنیہ کی آزادی کے بعد وہاں کے مفکرین، سائنسدان اور دانشور یورپ روانہ ہوگئے۔ مفکرین کی یورپ آمد کو جدید تاریخ (ماڈرن ہسٹری) کی ابتدا کہا جاتا ہے۔ جدید تاریخ مسلمانوں کے لیے نیک شگون ثابت نہیں ہوئی، یورپ میں مضبوط جمہورتیوں کے قیام اور صنعتی انقلابات نے مغرب کو مسلمانوں کے مقابلے میں سیاسی، عسکری اور معاشی طور پر کافی مضبوط کردیا۔ مغرب اور مسلمان ممالک کے درمیان طاقت کا توازن بگڑنے کے نتیجے میں “مغربیت” اسلامی ممالک کے تمام شعبہ ہائے زندگی پر غالب آگئی، حتی کہ مسلمان ذہن بھی مغربی تہذیب کے اسیر ہوگئے۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب ہزیمت شدہ مسلم معاشرہ ہر اجنبی نعرہ کو قبول کررہا تھا، مارکسزم اور قومیت کا خوب چرچا تھا، لبرل سوچ کو پذیرائی مل رہی تھی، عوام الناس کی اکثریت بنیادی دینی احکام سے بھی بے بہرہ تھی۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مصلحین کی کوششوں سے مسلمانوں کے ذہن اجنبی سحر سے آزاد ہونے لگے، ماکسزم، لبرلزم اور قومیت کے ضعیف تصورات کی حقیقت واضح ہونے لگی، اور رفتہ رفتہ اکثریت ان کھوکھلے افکارکے قیود سے آزاد ہوگئی۔ جدید تاریخ کی ابتدامیں اسلامی معاشرے کو لگنے والے دھچکے کے آثاراب کافی حد تک کم ہوگئے ہیں، تاہم سیاسی میدان میں خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد اسلامی سوچ کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکی، خلافت واپسی کی تحاریک ناکام ہوئی تو اسلامی سیاسی جماعتوں نے چھوٹے پیمانے پر ملکی سطح پر اسلامی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی، مختلف ممالک میں اسلامی سوچ کی حامل جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر یہ تجربہ بھی ناکام رہا، کچھ ممالک میں عوام نے اسلامی جماعتوں کو بالکلیہ مسترد کردیا، کچھ ممالک میں عوام نے موقع دیا لیکن اسلامی جماعتیں کار سرکار چلانے میں اور اپنا ایجنڈا نافذ کرنے میں ناکام رہی، اور کچھ ممالک میں اسلامی سوچ کی حامل سمجھی جانی والی جماعتوں نے نیم سیکولر حلیہ اپنا لیا اور اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرلیا۔ نتیجتا اسلامی دنیا میں چھوٹے یا بڑے پیمانے پر شریعت کے نفاذ کی کوئی قابل اتباع مثال قائم نہیں ہوسکی۔

اسلامی سیاسی جماعتوں کی ناکامی ان کی سیاسی سوچ کا نتیجہ ہے، بدقسمتی سے اسلام پسندوں کی اکثریت (عام مذہبی شخص سے سیاسی قائدین تک) سیاسی احداف کا صحیح تجزیہ کرنے سے قاصراور سیاسی منظر نامے کو پڑھنے سے عاجز نظر آتے ہیں، لہذا قیادت کے فیصلے بھی سیاسی عدم بصیرت پر مبنی ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف متعلقہ جماعت سیاسی طور پر کمزور ہوتی ہے بلکہ مجموعی طور پر اسلامی سیاسی جماعتوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔

پاکستان میں متحدہ مجلس عمل کا قیام اسلامی جماعتوں کی سیاسی عدم بصیرت کی ایک مثال ہے، پاکستان میں مذہبی حلقوں کی نمائندہ دو بڑی سیاسی جماعتیں ہیں، جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام کی قیادت کی غیر سنجیدگی، غیر شفافیت، اور سابقہ کردار کی بنیاد پر ان سے اسلامی سیاست میں کوئی قابل ذکر اقدام اٹھانے کی امید معدوم ہے، قائد جمعیت کی حیثیت ملک کی دو بدنام پارٹیوں کی قیادت کے درمیان ایلچی کی ہے۔ اس کے برعکس جماعت اسلامی کی قیادت میں اخلاص اور حب الوطنی کا پہلو زیادہ نظر آتا ہے اور جماعت کی قیادت کا دامن بدعنوانی کے الزامات سے بھی پاک ہے، لیکن سیاسی عدم بصیرت کا عارضہ جماعت اسلامی کی قیادت کو بھی لاحق ہے، جس کی وجہ سے جماعت کی عوامی مقبولیت انتہائی کم ہے۔ متحدہ مجلس عمل کاقیام اس عارضہ کی علامت ہے، جماعت اسلامی گزشتہ انتخابات کے بعد قومی سطح پر اپوزیشن کی صف میں کھڑی ہوئی، خیبر پختونخوا میں قومی اپوزیشن کی فعال جماعت کے ساتھ اتحادی حکومت تشکیل دی اور چار سال اپنی پالیسی پر عمل در آمد کیا، اب جب انتخابات میں صرف چند ماہ باقی رہ گئے تو جماعت اسلامی کی قیادت نے قلابازی کھائی اور حکومتی صف میں شامل جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کرلیا، صوبائی سطح پر جس حکومت کا جماعت اسلامی حصہ تھی، انتخابات میں جماعت اسلامی اسی حکومت کے خلاف کھڑی ہوگی!! جماعت اسلامی کی قیادت کا خیال ہے کہ ووٹر اس سیاسی مذاق کو مذہب کے نام پر قبول کرلیں گا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جماعت اسلامی کا ووٹر سے یہ پہلا مذاق نہیں ہے، اس سے قبل جماعت اسلامی اپنی سیاسی حریف مسلم لیگ ن سے آزاد کشمیر کے الیکشن میں اتحاد کرچکی ہے، اسپیکر اور چیئرمین سینٹ کے انتخاب میں بھی جماعت اسلامی نے اپنے اصولوں کی خلاف ورزی کی، وجہ یہ بیان کی گئی کہ جماعت نے شخصی میرٹ پر ووٹ ڈالا، یہ سبب ہی جماعت کی سیاسی عدم بصیرت کو ظاہر کرتا ہے، جو شخصیت کو اس کی پارٹی سے علیحدہ دیکھتی ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت کے مبہم مواقف کی بنا پر ووٹر جماعت کو سنجیدہ نہیں لیتا، دیگر جماعتیں اقتدار کے حصول کے لیے اصول پامال کرتی ہیں جبکہ جماعت اسلامی اس بد سلیقہ انداز سے اصول توڑتے ہیں کہ ان کے ہمدرد بھی بد ظن ہوجاتے ہیں، یہاں کارکنان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قیادت کے غلط فیصلوں پر مؤاخذہ کریں، لیکن بدقسمتی سے جذباتی کارکنان قیادت کے فیصلے کے پیش نظر اپنے سابقہ حلیفوں کی کردار کشی اور نئے حلیفوں کے دفاع میں مصروف ہیں، جس کو دیکھ کر شبہ ہوتا ہے کہ سیاسی عدم بصیرت کا لاحقہ سرطان کی طرح پوری تنظیم میں ہی پھیلا ہوا ہے۔

عالمی سطح پر اسلام پسندوں کی سیاسی عدم بصیرت کی مثال ترکی صدررجب اردگان سے والہانہ محبت و عقیدت کا جذبہ اور ان کو مثالی قائدکی تصویر میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔ اردگان کے لیے اسلام پسندوں کے معیار اور اصول تبدیل ہوجاتے ہیں، پاکستان میں امریکی ہوائی اڈے قائم کرنے اور امریکی جنگ میں شرکت کرنے پر مشرف کو کٹھ پتلی حکمران کا لقب دیا گیا (جو کہ کافی حد تک صحیح تھا)، نواز شریف نے جب پاکستان کو لبرل ملک بنانے کی خواہش کا اظہار کیا تو سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہوگیا (ہونا بھی چاہیے تھا)، عمران خان کو جلسوں میں موسیقی کا رواج عام کرنے پر کڑی تنقید کا سامنا ہوتا ہے (اور ہونا بھی چاہیے)، لیکن انہی تین “جرائم” کا ارتکاب جب اردگان کرتا ہے تو نامور علماء بھی حیلے تلاش کرتے ہیں، بہانے گڑھتے ہیں اور اردگان کے دفاع میں گویا قمر الزمان کائرہ کا روپ دھارلیتے ہیں!! ترکی میں امریکی ہوائی اڈہ آج بھی موجود ہے جہاں سے شامی معصوموں پر بمباری ہوتی ہے، ترکی کے وزیر اعظم اعتراف کرچکے ہیں کہ’ امریکا نے جب افغانستان میں مدد طلب کی تو ہم نے بغیر لیت ولعل کے اپنے فوجی روانہ کیے ‘جو آج تک وہاں مسلمانوں کے قتل میں شریک ہے، شام کو تباہ کرنے والے ایران اور روس سے ترکی کی برادرانہ تعلقات ہے، اور تینوں ممالک ایک دوسرے کے حلیف سمجھے جاتے ہیں، اسرائیل اور ترکی کے درمیان تجارتی، تعلیمی، سفارتی ہر طرح کے تعلقات بحال ہیں، جبکہ ہمارے جذباتی اسلام پسند اردگان کی بیت المقدس سے متعلق صرف تقریر کا ترجمہ سن کر عش عش کرتے ہیں۔ ترکی کی شامی شہر عفرین میں حالیہ کاروائی بھی اردگان حمایتی میڈیا پروپیگنڈا کا موضوع رہی، حالانکہ یہ کاروائی شامی حکومت نہیں کردوں کے خلاف تھی جو کہ شام، ایران، عراق اور ترکی کے مشترکہ حریف ہیں! اسلام پسندوں کی سیاسی عدم بصیرت سے اردگان اور دیگر موقع پرست اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، پھر وقت گزرنے کے بعد اسلام پسندوں کو ہوش آتا ہے کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوگیا، یا بالفاظ دیگر یہودی سازش، خفیہ ہاتھوں اور عالمی طاقتوں نے اپنا کام کردکھایا۔

اسلامی سیاست کی ناکامی ہر مسلمان کے لیے المناک ہے، لیکن اس ناکامی کے پیچھے اسلام پسندوں کی ہی منحرف سیاسی سوچ کارفرما ہے، جس دن یہ سوچ صحیح ہوگئی، اسلامی سیاست بھی کامیاب ہوجائی گی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: