قصہ بھاوا کے الیکشن لڑنے کا —– عابد آفریدی

0
  • 166
    Shares

دا قوم پہچان دے۔ ۔
لالٹین زمونگ نشان دے۔ ۔
دنگل میں کشتی کے وقت بجنے والی پنجابی ڈھول کی تھاپ کے ساتھ عوامی نیشنل پارٹی کے پشتو نعروں کی آواز دور سے قریب آتے آتے میرے دروازے پر رک گئی۔ ۔

نعروں و ڈھول کی آواز اسقدر تیز تھی کہ اگر بیس منٹ مزید اس شدت و گونج کے ساتھ گھر میں بہم داخل ہوتی رہتی تو گھر والوں کے ساتھ ساتھ پنگوڑے میں لیٹے شیر خوار بچے بھی بول اٹھتے: ” نر ولی بہادر ولی اسفند یار ولی”

اس سے پیشتر کہ میرا خیال سچ ثابت ہوتا اور میرا چھوٹا بیٹا جو ابھی پندرہ مہینے کا ہے معجزاتی طور پر بول پڑتا۔
پاپا!!!!!…… “جو مزہ لالٹین میں ہے وہ کسی اور میں کہاں؟”

ہم نے اس امر کے واقعہ ہونے سے قبل ہی دروازے کی جانب دوڑ لگادی۔

دروازہ کھولا تو حیرت کا جھٹکا لگا۔ استاد گرامی بہاولدین بھاوا سرخ لباس و سرخ چترالی ٹوپی پہنے ہاتھ بغلوں میں داب کر کمیونسٹ نعرے” ایشاء سرخ ہے” کا پیکر بن کر کھڑے تھے۔ ۔

یہ تو معلوم تھا کہ بھاوا زمانہ طالبعلمی سے نیشنلسٹ ہے مگر اس بات کا قطعا علم نہیں کہ آخر وہ کس گمان کے تحت عوامی نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے پر تیار ہوئے۔
“۔ مجھ سے کہا تھا “بچے دوران کمپین اپنے کمپین انچارج “آدم خان ” کو ساتھ لیکر تم سے ملنےآوں گا”

پینتالیس سالہ آدم خان بقول ہمارے علاقہ بزرگان کے ماضی قریب میں خاندانی مالشی تھا پھر جیب کترا بنا ان دنوں برائے نام کباڑیا ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو مکھن لگانا اس کا جاری پیشہ ہے۔

آدم خان کو جب علم ہوا کہ بھاوا اس بار الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو خدمت میں حاضر ہوئے ڈھیر سارے مکھن کے بعد بھاوا سے کہا “فہم فراست میں تو آپ اور غفار خان صاحب ایک برابر ہیں البتہ اگر آپ کی داڑھی مونچھیں چھوٹی کردی جائے تو شکل و صورت کے حوالے سے بھی مجھے آپ میں مستقبل کا غفار خان صاف صاف دکھائی دیتا ہے”۔

“اس بات پر بھاوا نے یہ سوچے بغیر کہ پینسٹھ سال کے بعد مستقبل نہیں فقط ماضی اپنی یادوں کے ساتھ پلٹ کر واپس آتا ہے۔ آدم خان کو سچا نیشلیٹ مان کر اپنا کمپین انچارج متخب کیا۔ اس دن سے آدم خان نے بھی بھاوا کو “باچا صیب” بلانا شروع کیا”

بھاوا میری داد و تحسین کے انتظار میں تاحال اسی طرح کمیونسٹ نعرے کا پیکر بنے کھڑا تھا۔ مشہور ریسلر روک کی طرح ایک انکھ اٹھائے مغربی افق کو یوں دیکھ رہا تھا جیسے کہنا چاہ رہا ہو۔ ۔

میرے حلیے روپ و رنگ کو دیکھ۔
مشرق سے ابھرتے سورج کو چھوڑ ۔
مغرب میں کٹتی پتنگ کو دیکھ۔

بھاوا کی باڈی لینگویج و اسٹائل کےتقاضے پر ایک نظر ہم نے بھی مغرب کی جانب دیکھا جہاں کوئی کٹتی پتنگ تو نظر نہ آئی مگر ڈوبتے سورج کی “سرخی” کو مائل بہ سیاہی ضرور دیکھا۔

ان افقی نظاروں کے دوران ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی میرے پیروں تلے زمین کھینچ رہا ہوں۔ ۔ نظر نیچے گھمائی تو مزید حیرت ہوئی، اس دنگلی ڈول پر کمپین انچارج آدم خان بجائے کشتی لڑتا، سامنے کھڑے بھاوا کو ہوا میں اڑ کر دولتی مارتا، ان کی ٹانگوں کے بیچ اپنا کندھا دےکر انھیں اوپر اٹھا کر زمین پر پٹختا، ان سب خیالات کے برعکس آپ موصوف اس جنگی تھاپ پر ناگن ڈانس پیش کرنے میں مصروف تھے۔

زمین پر رینگتے ہوئے ہاتھ ملا کر سانپ کا پھن بناتا، ہاتھوں کے اس پھن کو اپنے ماتھے کے قریب لیجاتا اور میرے گھٹنے پر ڈس مارتا، کچھ لمحے ڈسنے کے بعد وہی زمین پر لیٹے لیٹے ہی شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کو مسلتےہوئے ہمیں پیسے لٹانے کا اشارہ دیا۔

ہم ضرور آدم خان کی اس بے جوڑ فنی قابلیت پر کچھ روپیہ نچھاور کرتے مگر ہم یہ جانتے تھے کہ وہ بھاوا کو روز مکھن لگانے کے ساتھ ساتھ برابر چونا بھی لگاتا ہے۔ لہذا آدم خان کے اس رینگتے ہوئے مطالبے کو یکسر مسترد کیا اور اگے بڑھ کر بھاوا کو خوش آمدید کہا۔

الیکشن کا زمانہ غریبوں کا سنہرا دور ہوتا ہے۔ وہ غرباء جو عام حالات میں لنگر کھانے کے واسطے گھنٹوں لائن میں لگ کر دوران انتظار “چیل اڑی” یا سکہ اچھالتے ہوئے “چاند قد”(ٹیل اینڈ ہیڈ) کھیلتے ہیں۔ الیکشن کے وقتوں میں ان کے بھی تیور بدل جاتیں ہیں۔ ۔ اگر کوئی پیشکش کرے کہ “آو تمھیں جلسے میں اسپیشل کھانا کھلاتا ہوں” تو جواب میں کہتے “کھانا کھانے کے بھی پانچ سو لوں گا”۔

بھاوا اپنے جلسوں میں لوگوں کو متاثر کرنے لئے۔ ۔ رات بھر گاندھی جی کی اپ بیتی اور فلسفہ غفار خان کا مطالعہ کرتے۔ پھر اگلے دن رات کا سارا مطالعہ اور اس کا خالصہ خالی کرسیوں کو سناتے۔
پے در پے ناکام جلسوں کے بعد آدم خان اپنے مدعا پہ آیا۔ ۔ ۔ کہا “باچا صیب!!! “ان دنوں مفت میں لوگ دعوت تبلیغ والوں کی بات نہیں سنتے” میرا اور آپ کا یہ ہندو فلسفہ کون سنے گا” نوٹ چلائے نام بنائے۔
اس کے بعد آدم خان روز بھاوا سے فی کس پانچ سو روپے وصولتا “۔ ۔ بعض اوقات بندے خریدنے کے چکر میں خود بک جاتا۔ دو دو دن پرائے جلسوں میں نعرے مارتا رہتا جبکہ معتبر ذرائع کے مطابق آدم خان ” تمام بلکہ ہر کس و ناکس کو فقط ایک ٹوکن(ہیروین) نشے کے لئے جبکہ ڈیڑھ سو روپے کے عوض بھاوا کے پروگرامات میں شریک کررہا تھا۔

اس خرید و فرخت کے بعد بھاوا کا فلسفہ انسان دوستی سننے کے لئے لوگ تو دستیاب ہوگئے” مگر تمام شرکاء نشے کی خمار میں اونگھتے رہتے تھے۔ فلسفے کے چیدہ چیدہ نکات زیادہ تر شرکاء سو کر ہی سنتے” تقریر کے دوران ہر تھوڑی دیر بعد کوئی ایک معزز سامع اونگھتے جھولتے اپنی کرسی سے گرجاتا اور بقیہ تقریر وہی اوندھے منہ لیٹے ہی سننے پر اکتفا کرتا۔

ایک دن جب بھاوا کی تقریر کے دوران ایک ایک کرکے جلسے کے لگ بھگ ستاسی فیصد شرکاء اپنی نشستوں سے گر کر سجدوں میں چلے گئے تو آپ نے اپنی تقریر روک لی اپنے سامنے بنے انسانی ٹیلوں کودیکھتے ہوئے آدم خان کو گرج کر مخاطب کیا۔
“ابے بے غیرت!!! میں کیا انسداد منشیات مہم چلا رہا ہوں ہیروئنچیوں کو وعظ و نصیحت کا ٹھیکہ لیا ہے میں نے؟ مجھے قوم کو سنوارنا ہے جاہل انسان” ان زندہ لاشوں کو نہیں!
آدم خان جو گرے پڑے شرکاء کو گھٹنے و کہنیاں مارتےہوئے گالیاں دیتے اٹھا اٹھا کر کرسیوں پر پھینک رہا تھا بیزاری کے عالم میں کسی خچر کی طرح ہانپتے ہوئے بھاوا کو جواب دیتے بولا:
“باچا صیب!!! پانچ سو میں قوم نہیں صرف پوڈری ملتے ہیں اگر قوم کو سنوارنا ہے تو ریٹ بڑھاو پھر دیکھنا یہاں یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ و پروفیسر نہ لاوں تو میرا نام آدم خان نہیں کوئی چریا خان ہوگا۔

ایک ہیروینی نے جسے آدم خان نے جھنجھوڑتے ہوئے کھڑا کیا، اس رویئے پر احتجاج کیا ۔ گلے میں موجود تمام بلغمی رکاوٹوں کو چیرتی آواز میں بھاوا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مڑا یار یہ کونسا ایسا قائداعظم کا بچہ ہے جس کو ہم بیٹھ کر سنے” اس کے سامنے بیٹھو یا لیٹو کوئی فرق نیں پڑتا ہے۔

مالی حالات اونچی انسانی قیمتوں جبکہ پستہ قدروں کے پیش نظر بھاوا نے جلسے جلوس یہ کہہ کر ترک کردئے” کہ جہاں ادنیٰ شہری سے لیکر ایم پی اے تک ایم پی اے سے لیکر ایم این اے و سینٹرز تک سب بک جاتے ہوں وہاں کبھی فلسفہ و نظریات اپنی جڑیں مضبوط نہیں کرسکتے اس بیوقوف بستی کے لوگ مخالف سیاسی جماعتوں کے بارے میں اپنی نفرت چپقلش بغض و عناد کو ہی اپنا نظریہ سمجھتے ہیں”۔

نئی طرز میں انتخابی مہم چلانے کا فیصلہ ہوا جس پر مشاورت کے لئے بھاوا نے اپنی کابینہ کا ہنگامی اجلاس اپنے گھر طلب کیا کابینہ جس میں فقط ایک میں اور ایک آدم خان تھا، بھاوا کے گھر پہنچ گئے۔

نئے طرز عمل کے حوالے سے میں نے رائے دی کہ گھر گھر جاکر ووٹ مانگا جائے۔

جبکہ آدم خان انتہائی خطرناک مشورہ دیا کہا” تقریر کے ذریعے سیکورٹی اداروں کو اشتعال دلایا جائے۔ ہم نے فورا اس بات کی مخالفت کی۔ مگر آدم خان نے بطور دلائل منظور پشتین کی مشہوری اور جبران ناصر کی قلیل وقتی گرفتاری اور طویل وقتی چرچے کو پیش کیا۔
لاکھ سمجھانے کے باوجود بھاوا نے یہ کہہ کر آدم خان کی بات رکھ لی کہ الیکشن دو باتوں کے لئے لڑا جاتا ہے مشہوری و جیت کی خاطر، جیت تو ویسے بھی اپنی پکی ہے بس زرا مشہور ہوجائے تو کیا مسئلہ؟
منصوبہ تیار ہوا، آدم خان نامعلوم نمبر سے تھانے کو بذریعہ فون یہ اطلاع دے گا کہ بہاوالدین بھاوا نامی شخص اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا ہے اور کل مین چوک پر اداروں کے خلاف نعرے بازی و تقریر کریں گے۔

اگلے دن پلان کے مطابق بھاوا مقررہ وقت پر چوک پہنچ گئے آٹھ دس لوگوں کا جلوس بھی ساتھ تھا۔
میری ڈیوٹی خفیہ مقام سے بھاوا کی عین اس وقت وڈیو ریکارڈنگ کرنا تھی۔ ۔ جب آپ پولیس اہلکاروں کے چنگل و دھکم پیل کے بیچ انتہائی مشفقانہ و مدبرانہ انداز میں مسکراتے ہوئے میری جانب رخ کرکے کسی عظیم بہادر کشمیری راہنما کی طرح وکٹری کا نشان بنائیں گے۔
پھر یہ کلپ سوشل میڈیا پر اپلوڈ کیا جائے گا۔ ۔ تاکہ لوگ بھاوا کی شخصیت پر “ہش ہش” کرتے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
اسٹول پر چڑھ کر بھاوا نے اپنی تقریر شروع کردی “یہ جو دہشتگردی ہے” کے یکطرفہ نعرے لگائے” جس کا جواب خود ہی دیتے رہے۔
فون کا کیمرہ اسٹینڈ بائی پر لگا کر میں ذرا فاصلے پر آڑ میں کھڑا بھاوا کی حرکات دیکھ رہا تھا کہ اچانک گاڑیوں کی چیختی بریکوں کی آواز سنائی دی ان سے اترتے بوٹوں کی ٹاپیں کانوں میں پڑیں چہرہ موڑ کر دیکھا تو کیا اوسان کیا سب کچھ مجھ سے خطا ہوگیا، موبائل ہاتھ سے چھوٹ گیا، دل کی دھڑکن اسقدر تیز ہوئی کہ اس کی دہک دہک زبان پر محسوس ہورہی تھی۔
بیوقوف آدم خان نے اپنے زعم میں زرا زیادہ مشہوری کی خاطر پولیس کو چھوڑ کر رینجرز کو اطلاع کردی تھی۔
تین گاڑیوں سے بہ مثل پہاڑی چٹانوں کی طرح رڑتے اونٹ مارکہ لمبے چوڑے رینجر اہلکار اترے” ان کے تیور ان کے عزائم دیکھ کر میری زبان جو مکمل طور پر میری دھڑکن کے تابع ہوگئی تھی اس سے بھاوا کا نام “بھ وا وا وا کرکے نکلا۔
اہلکاروں کے ہاتھ میں بیلٹ اور ڈنڈے تھے” حیرت بھاوا کی غیرت پر یہ سب دیکھنے کے باوجود بھی اسٹول پر کھڑے رہے رینجر اہلکار ان پر ٹوٹ پڑے۔

مار کے دوران بچارے بھاوا حتی المقدور وکٹری کا نشان بنا کر میری تلاش میں ادھر ادھر ہر دو زوایہ میں گھومے مگر جلد ہی وکٹری والا ہاتھ کولھوں کو سہلاتے پایا گیا بیلٹ و ڈنڈوں کی وجہ سے وہ مدبرانہ و مشفقانہ تاثرات تو نہیں البتہ ان کے چہرے پر کرب و تکلیف ایسے اثار ضرور دکھائی دئے جیسے نرم گوشت کے ایک ہی حصے ایک نشانے پر چھوتی دفعہ چابک یا ڈنڈہ پڑتا ہے۔
میرے سوا وہاں موجود سب لوگوں نے اس منظر کو قید کیا سوشل میڈیا پر اپلوڈ کیا بس فرق یہ تھا کہ “ہش ہش” کی جگہ جگہ بھاوا کی وئی وئی اور لوگوں کی ھاھاھاھا نے لے لی۔

اس دوران آدم خان کی بھی نشاندہی ہوئی بطور ساتھی وہ بھی گرفتار ہوا رات بھر بھاوا اور آدم خان کو الٹا لٹکا کر اہلکاروں نے میٹرک تا سولہویں جماعت تک سارا مطالعہ پاکستان پڑھایا اور سمجھایا۔ دونوں راہنماوں نے بارہا یہ اعتراف کیا کہ یہ سب ڈرامہ تھا اور پاکستان سے بالخصوص اداروں سے محبت کے دعوے میں اپنے دور دور کے فوجی رشتے دار گنوائے۔
اگلے دن بھابھی کو لیکر ہم رینجر ہیڈ کوارٹر گئے بھاوا ایک خالی کمرے میں اپنے کولھوں کے نیچے تکیہ دے کر پڑے تھے۔ جبکہ آدم خان باہر بیٹھے رینجر انسپکٹر کے سر میں تیل لگا کر انتہائی خاندانی و ماہر مالشی کی طرح مالش دیتے ہوئے انسپکٹر کے سر سے پٹاخے نکال رہا تھا۔
بتایاگیا بھاوا کو الیکشن کے بعد چھوڑا جائے گا جبکہ اس کا ساتھ یہ مالشی تب تک اپنی مرضی سے یہی ہے اور فی کس پچاس روپے کے حساب سے تمام سپاہیوں کی مالش کیا کرے گا۔

الیکشن کے بعد بھاوا رہا ہوا ۔ ۔ وہ تمام جماعتیں سندھ سے ہار گئی تھی جن کے ہارنے کا لوگوں کو قطعا یقین نہیں تھا۔ بھاوا کی جماعت پورے پاکستان سے ہارگئی تھی۔ بھاوا کو ہمارے علاقے سے محض چار ووٹ پڑے تھے۔

آپ گاندھی جی کی کتاب کا ایک ایک صفحہ پاڑ کر صحن میں جلائی اگ میں ڈال رہے تھا زندگی میں پہلی بار آپ کی آنکھوں کو نم و افسردہ دیکھا۔
خود کو سنبھالتے ہوئے بھاوا سے کہا “خیر ہے بھاوا ہار جیت زندگی کا حصہ ہے”۔

جواب دیا: “جہاں لوگ ووٹ اور اپنا مستقبل چند روپیوں کے بدلے میں فروخت کرتے ہوں اس نگری میں الیکشن کی جیت ایسی ہے۔ جیسے دلالی کے مقابلے میں کوئی دلال عمدہ دلالی کا شرف حاصل کرکے جیت جائے”

میں اپنے ہارنے پر خوش ہوں اب تم جاسکتے ہوں”

میں جیسے ہی جانے کے لئے اٹھا تو بھاوا نے آواز دے کر روکا اور حکم دیا “اگر تو واقعی میرا ہونہار بچہ ہے!! تو پھر اسی صورت شکل دکھانا جب آدم خان کے بتیس میں سے سولہ دانت توڑ کر آجاو”۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: