سب تاج اچھالے جائیں گے: عمران سے اُمید ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد فاروق بھٹی

0
  • 113
    Shares

1984ء میں پہلی بار فیض احمد فیض کی یہ شاعری لاہور کیمپ جیل کے برآمدے میں شہید نواز خان کے ہونٹوں سے برآمد ہوئی، وہ ضیاءالحق کے مارشلائی دور میں طلبہ حقوق کے لئے آواز اٹھانے کے جرمِ بیگناہی میں پابندِ سلاسل تھے۔ نواز خان طبعاً بہت سُریلے، بہت شرمیلے تھے۔ ہوا یوں کہ طلبہ یونینز پر پابندی کو طلبہ نے نہ صرف یکسر مسترد کیا بلکہ کوڑے کھا کر، جیل میں جا کر مزاحمت کی لازوال داستاں بھی رقم کی۔ ان دنوں ہم اکثر اپنے کلاس فیلوز کے ساتھ گرفتار طلبہ سے ملاقات کے لئے کیمپ جیل اور کوٹ لکھپت جیل جایا کرتے تھے، ہر مرتبہ ملاقات میں نواز خان سے فرمائش کی جاتی اور وہ نعیم صدیقی، جالب اور فیض صاحب کا کلام گاتے۔

اس دوران ملاقات کے لئے آنے والے طلبہ سنگت کرتے، ہمرکاب ہو جاتے۔ نواز خان کے ساتھ امیرالعظیم، ضیاءالدین انصاری، وکیل انجم، حافظ طاہر اسلم، طیب شاہین اور بیشمار طلبہ رہنما بھی پابند سلاسل تھے۔ سب ملکر گاتے تو ایک جلسے کا سا ماحول بن جاتا۔ ان دنوں ایک پنجابی نظم ’’دیس میرا آزاد اے یارو، دور نالے جمہوری اے‘‘ بھی بہت مقبول ہوئی۔ شاید نواز خان کی آواز کا سوز تھا کہ اس غزل کے دوران ہمارے ذہنوں میں ایسے منظر اترتے جیسے ہمارے سامنے تاج اچھالے جا رہے ہوں، جیسے تخت گرائے جا رہے ہوں۔ جیسے خلق خدا راج کرنے کو آگے بڑھ رہی ہو۔

دورِ طالبعلمی ختم ہوا لیکن خواب مچلتے رہے، فیض کو سبقاً سبقاً پڑھا، جالب، ساحر لدھیانوی کو بھی۔ پھر تو جیسے ترقی پسند ادب اوڑھنا بچھونا بن گیا ہو۔ اقبال بانو کی آواز میں یہ کلام بارہا سنا، خلوت میں بھی جلوت میں بھی۔ ہر مرتبہ بجلی کڑکڑ کڑکتی محسوس کی۔ زمانہ رنگ بدلتا رہا اور پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ نکلا۔ جذبات حوادث زمانے کی نذر ہو گئے لیکن خواب مرے نہیں کہ خواب مرنے کے لئے جنم نہیں لیتے۔ انقلاب کی حسرت زیرِ زمین بہنے والے لاوے کی مانند ہوتی ہے جو بہتا تو رہتا لیکن سطح زمین پر خاموشی رہتی ہے، کبھی کبھی ریکٹر اسکیل پر اپنا وجود محسوس کرواتا ہے اور پھر ایک لمبی خاموش۔ کہیں گنجائش پائے تو کسی آتش فشاں سے پھوٹ پڑتا ہے۔ فیض کے کلام کی لگائی آگ شعلہ نہ بنے تو بھی دھیرے دھیرے سلگتی رہتی ہے۔

ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اُڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حرم کے سر اوپر
جب بجلی کڑکڑ کڑکے گی
جب ارضِ خدا کے کعبے سے
سب بُت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مردودِ حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے، حاضر بھی
جو ناظر بھی ہے، منظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلقِ خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

بس اللہ کرے پاکستان میں جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنان کے خواب تعبیر میں ڈھل جائیں، گرے سکیل اور بیرنگ نہ رہیں اور دعا ہے کہ عمران کے ہاتھوں میں ارتعاش نہ آئے، اس کے برش نیچے نہ گریں، کسی مصلحت کا شکار ہو کر وہ ’’مدینے کی ریاست‘‘ کے وعدے کو پس پشت نہ ڈالے۔

مجھے علم ہے کہ اگر وہ ڈیلیور نہ کر سکا تو اس سے توقعات وابستہ کرنے والے، اس کو یہاں تک لانے والے ’’عوام‘‘ ہی اس کی ٹیڑھ کو ’’سیدھا‘‘ کر دیں گے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: