نینو ٹیکنالوجی کی حشر سامانیاں : ایک  آسان تعارف ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمایوں مجاہد تارڑ

0
  • 56
    Shares

شام 8 بجے کا وقت ہے۔آپ کسی  غیر آباد ویرانے میں  بنے ایک چھوٹے سے گھر کی چھت پر بیٹھے ہیں۔مطلع  صاف ہے،  یعنی ابر آلود نہیں ۔ آسمان  کی جانب نگاہ اٹھائیں تو چاند اور  ستارے صاف  دیکھے جا سکتے ہیں۔چاند چونکہ زمین سے  قریب ہے، اِس لیے بڑا دِکھتا ہے۔ستارے چھوٹے دِکھتے ہیں چونکہ وہ بہت دور دور ہیں حالانکہ وہ سب چاند سے کئی گُنا بڑے ہیں۔اب آپ کے پاس ہی  ایک طاقتور دور بین رکھی ہے۔ یکلخت آپ اپنی آنکھیں اس کے عدسے  میں گاڑ دیتے ہیں۔ اب وہ چھوٹے ستارے بھی فٹ بال یا اس سے  بھی کچھ بڑے  حجم میں دکھائی دینے لگتے ہیں۔ یعنی  بہت دور سے چھوٹی نظر آتی اشیا  دوربینی  عدسے کی مدد سے بڑی دکھائی دینے لگتی ہیں۔

اسی طرح، خوردبین یعنی مائیکرو سکوپ  قریب کی چھوٹی اشیا کو بہت بڑا بنا کر دکھاتی ہے۔چیونٹی یا مچھر کو ایک خورد بین کے عدسے سے دیکھیں تو اُن کی جسامت   ایک بکرے جتنی بڑی دکھائی دے گی۔اپنا ہاتھ اس عدسے کے نیچے رکھ دیں تو  ننّھی ننّھی باریک لکیریں جو موٹی لکیروں کے بیچ مشکل سے نظر آتی ہیں، بڑی بڑی شاہراہوں کا رُوپ دھار لیں گی۔ اگر ہاتھ گندا ہے، تو اُس پر  چھوٹی چھوٹی مخلوقات اِدھر سے اُدھر حرکت کرتی نظر آئیں گی۔ انہیں سائنس کی زبان میں بیکٹیریا  یا جراثیم کہتے ہیں۔ کھانے سے پہلے ہاتھ اسی لیے دھو نا ہوتے ہیں کہ صابن  جراثیم کُش ہے۔یہ  اپنی قوت سے انہیں ہٹا دیتا ہے، ورنہ وہ چپکے رہتے ہیں۔

اب آگے بڑھتے ہیں۔ ایک تسبیح میں 100 دانے ہوتے ہیں۔اگر آپ سے کہا جائے کہ ایک دانا توڑ کر اس کے 100 چھوٹے دانے  بنا دو، پھر اُن پر کچھ رنگ و  روغن بھی کر دو۔ دس چھوٹے دانوں پر ہرا رنگ، دوسروں پر نیلا پیلا ۔۔۔ تو آپ ہنس دیں گے۔اگر میں آپ کو بتاؤں کہ کچھ دیر پہلے میں کچن میں تھا جہاں میں نے چینی والا جار کھولا۔ چینی کا ایک دانا نکالا۔پھر اس کے 100 ٹکڑے کیے۔ وہ سو ٹکڑے چولہے کے پاس رکھے ہیں۔ اب آپ جاؤ اور اُن میں سے 10 ٹکڑے اٹھا کر لے آؤ تو آپ میری ذہنی حالت پر شک کریں گے۔اگر کوئی آپ سے کہے کہ کپڑے کا ایک تھان ماچس کی ڈبیا میں بند کر دو تو آپ اسے مذاق  ہی سمجھیں گے۔اسی طرح اگر کوئی آپ سے کہے کہ  ایک چاقو ہاتھ میں پکڑو۔ پھر جیسے ایک  کیک سے سلائسز بناتے ہو،آپ اپنے موبائل فون کو اوپر سے نیچے چاقو سے باریک  کاٹ کر 100 موبائل فونز بنا  لو۔ پھر ایک  فون اٹھا کر ساتھ لیجاؤ جو کسی  ڈاکو کو نظر نہیں آئے گا  جسے وہ گن پوائنٹ پر چھین سکےتو  آپ اسے ناممکن ہی سمجھو گے۔ مگر اب ایسا ممکن ہو چکا ہے۔ جی ہاں، سو فیصد ممکن! اور اس میں ایک فیصد بھی جھوٹ نہیں۔ کیسے؟ اِس کیسے کا جواب حاصل کرنے کو اب ہم اگلے مرحلے میں داخل ہوتے ہیں۔بتدریج آگے بڑھیں گے۔  بیچ کی دو چار  باتیں سمجھنا ہوں گی۔

دیکھیں، آپ کا اپنا وجود اور آس پاس جتنی اشیا بھی آپ دیکھتے اور استعمال کرتے ہیں، سب  باریک ذرّات سے مل کر بنی ہیں جیسے ایک عمارت اینٹوں سے مل کر بنتی ہے۔ایک اینٹ مٹی  کے اکٹھا ہونے سے۔اور مٹی مزید چھوٹے ذرّات سے۔اب اس مِٹی کا ایک ذرّرہ مزید باریک ذرّات سے مل کر بنا ہوتا ہے جو انسانی آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان باریک ترین ذرّوں کو سائنس کی زبان میں ایٹمز کہا جاتا ہے۔ ساری زمین، اور اس پر موجود اشیا ایٹموں یعنی باریک ذرّات سے مل کر بنی ہیں۔کھانا جو ہم کھاتے ہیں، کپڑے جو ہم پہنتے ہیں، عمارتیں اور گھر جن میں ہم رہتے ہیں، حتٰی کہ ہمارےاپنےجسم بھی اِنہی ذرّوں یعنی ایٹمز کے مجموعوں سےبنے ہیں۔ آپ نے سنا ہو گا ہمارا جسم بہت سے باڈی سیلز سے مل کر بنا ہے۔یہ ایک باڈی سیل بہت سے مالیکیولز سے مل کر بنتا ہے۔جبکہ ایک مالیکیول بہت سے ایٹمز یعنی زیادہ چھوٹے ذرّات  مل کر بناتے ہیں۔جب  ایک جیسے ما لیکیولز اکٹھے ہو جائیں تو وہ ایک ٹشو بناتے ہیں۔بہت سے ایک جیسے ٹشوز اکٹھا ہو کر ایک عضو بناتے ہیں۔ اسی طرح جو ٹھوس اشیا ہم آس پاس دیکھتے ہیں وہ بھی ایٹموں کے مجموعوں سے بنتی ہیں۔ یہ مجموعے جب زیادہ تعداد میں اکٹھا ہوتے اور جڑتے ہیں، تب ہمیں  کسی شے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نظر آتا ہے۔

یہ ایٹم  یعنی باریک ترین  ذرّرہ انسانی آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ حتٰی کہ اس عام خورد بین سے بھی جسے  بچے ایک سکول کی لیبارٹری میں استعمال کیا کرتے ہیں۔ ایسی خورد بین یا مائیکرو سکوپ جو اِن ذرّات  یا ایٹمز کو انفرادی طور پر دیکھ سکے صرف 30 برس پہلے ایجاد ہوئی۔ اسے STM یعنی  scanning tunneling microscope کہا جاتا ہے۔ اس کا ایک اور نام AFM  بھی ہے، یعنی  اسے atomic force microscope بھی کہا جاتا ہے۔ جب سائنسدانوں کو ایک درست آلہ یا مشین مل گئی، تو نینو سائنس یا نینو ٹیکنالوجی نے گویا جنم لے لیا، اگرچہ ابھی اسے  بچپنے اور لڑکپن کے ادوار سے گذر کر جوان ہونا تھا۔

‘نینو’ یونانی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ‘بہت چھوٹا’۔جب ہم لفظ نینو سائنس بولتے ہیں تو اس کا مطلب ہے  کسی شے یا مادّے کو نہایت چھوٹی جسامت میں سٹڈی کرنا۔ جب ہم نینو ٹیکنالوجی کا لفظ بولتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کسی شے یا مادّے کی نہایت  چھوٹی مقدار کو استعمال کرنے کے قابل ہو جانا۔ ایسا تب ممکن ہوتا ہے جب آپ کے پاس   مطلوبہ  آلات ہوں۔ جیسے کیک بنانے کیخاطر ہمیں ایک کوکنگ رینج چاہیئے۔ کپڑے دھونے کو واشنگ مشین۔ بالکل اسی طرح ، نینو ٹیکنالوجی میں ایسی مشینیں  اور ایسے آلات استعمال ہوتے ہیں  جو نہایت چھوٹی جسامتوں یا  باریک ذرّات کو نہ صرف دیکھ سکیں، بلکہ اُن پر  اثر انداز بھی ہو سکیں۔ یعنی انہیں بدل سکیں،  توڑ سکیں،  نئی ترتیب سے جوڑ سکیں۔ اور اُن پر ہماری خواہش کیمطابق کوئی عمل  کر سکیں۔

اب آپ اوپر دی گئی مثالوں پر غور کریں۔ تسبیح  یا چینی کے ایک دانے کو توڑ کر 100 باریک دانے۔ پھر ان باریک دانوں کو  الگ الگ  دیکھ سکنے، سٹڈی کر سکنے، اور ان پر کسی قسم کا کوئی عمل کر سکنے کی صلاحیت ہی نینو سائنس یاورنینو ٹیکنالوجی ہے۔یہ اسقدر چھوٹے سکیل یا پیمانے پر کام کرنا ہے کہ ناقابلِ تصوّر ہے۔ انٹرنیشنل سسٹم آف یونٹس نے اِسقدر چھوٹی جسامتوں کو ماپنے کے پیمانے بنا ڈالے ہیں تا کہ کام کرتے ہوئے، اور ایکدوسرے کی بات سنتے ہوئے آسانی رہے۔تو اس پیمانے کے مطابق  کسی شے کے  چند ایٹمز  یعنی باریک ذرّے ایک قطار میں کھڑا کریں۔ ان کی ایک مخصوص تعداد ایک نینو میٹر کہلائے گی۔جیسے کسی شے کے 3 عدد ایٹمز ایک نینو میٹر بنائیں گے۔ ایک دوسری شے کے 4 یا 6 ایٹمز مل کر ایک نینو میٹر بنائیں گے۔ہماری اِس نارمل دنیا کا ایک میٹر کتنا بڑا ہوتا ہے؟ تین اعشاریہ تین فٹ یعنی 3.3  فٹ۔ ایک لمبے آدمی کے بازو برابر  ایک میٹر ہے۔اگر میں آپ سے کہوں، اس ایک میٹر کے 100 چھوٹے حصے بنائیں تو آپ ایسا کر سکتے ہیں۔ پھر میں آپ سے کہوں ، ایک میٹر کے 1000 حصے بنا دیں تو یہ بھی ممکن ہے۔ اگرچہ زیادہ تردّد ہے۔ آپ  میٹر والے راڈ پر ایک ہزار باریک لائنیں لگا دیں گے جیسے ایک فٹ والے  رُولر یا فٹّے یا سکیل پر ہمیں سینٹی میٹر اور مِلی میٹر والی لائنیں نظر آتی ہیں ، لیکن ایسا کرتے میں magnifying glass  یعنی محدّب عدسہ بھی ضرور استعمال کریں گے جو چھوٹی اشیا کو بڑا کر کے دکھاتا ہے۔ پھر میں آپ سے کہوں، ایک میٹر کے اس راڈ کے 5000  حصّے بنا کر دکھاؤ یعنی اس راڈ پر پانچ ہزار باریک لائنیں لگا کر دکھاؤ  تو آپ سیدھے ہو کر بیٹھ جائیں گے ۔ آپ مجھے کہیں گے، بھائی صاحب اپنی حد میں رہو۔ میں کہوں گا، جلدی کرو۔

اس کے بعد اس پر دس ہزار لائنیں لگانی ہیں۔ پھر 20 ہزار۔ پھر 50 ہزار۔ پھر ایک لاکھ۔ اس کے بعد 10 لاکھ لائنیں۔ پھر ایک کروڑ لائنیں۔ پھر 10 کروڑ لائنیں۔۔۔ تو آپ بس ہنستے ہی چلے جائیں گے، اور پکار اٹھیں گے کہ یہ تو نرا ہوا سے کھیلنے والی بات ہوئی۔اب اس  حیرت انگیز  بلکہ ناقابلِ یقین حقیقت پر غور کریں۔ ایک نینو میٹر جس میں 3 یا 4 یا 6 ایٹمز ہو سکتے ہیں،  اس کی لمبائی ہماری  نارمل دنیا کے ایک میٹر کا ایک ارب واں حصّہ ہے۔یعنی ایک میٹر کے راڈ پر ایک ارب لائنیں لگائیں۔ ان میں سے ایک لائن سے دوسری لائن تک کا فاصلہ ایک نینو میٹر ہے۔ گویا  یہ  نِرا ہوا سے کھیلنے والی بات ہوئی۔یعنی جو شے  دکھائی ہی نہیں  دے  رہی، اس  پر  کسی نوع کا کوئی کام کرنا تو درکنار، اس پر بات بھی کیسے کی جائے! مگر حقیقتاً ایسا ہی ہے۔آپ کے سر کا ایک بال کتنی باریک  شے ہے۔ اس کی موٹائی 80 ہزار نینو میٹر کے برابر ہے۔ اخبار والا کاغذ کتنا پتلا سا نظر آتا ہے۔اس کی موٹائی میں  ایک لاکھ نینو میٹرز ہوتے ہیں۔ ایک انچ میں دو کروڑ 54 لاکھ نینو میٹرز ہوتے ہیں۔ اس کو یوں بھی سمجھ لیں کہ  کھیلنے والی گولی یعنی ٹوائے  ماربل  اگرایک نینو میٹر  کے برابر ہوتی تو  زمین کا کُل حجم ایک میٹر کے برابر ہوتا، یعنی سوا تین فٹ۔ تو گویا نینو ٹیکنالوجی کیا ہوئی؟ مادّوں یا اشیا کی اِس قدر چھوٹی جسامتوں  پر کام کرنا جو آپ کے ایک بال سے بھی دس ہزار گنا زیادہ چھوٹی ہیں۔

بات یہاں ختم نہیں ہو جاتی۔ بلکہ ایک زیادہ خاص بات اب یہ ہے کہ جب مادّوں کو اس حد تک چھوٹاکیا جاتا ہے تو ان کی خصوصیات میں ڈرامائی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ یعنی یہ چھوٹے ذرّے جب کسی بڑی جسامت کے اندر جڑے ہوئے تھے، اس کا حصہ تھے تو اِن کا فنکشن کچھ اور طرح کا تھا۔ باقی ذرّوں کیساتھ ملکر ایک بڑی جسامت کو سپورٹ کرتے جانا۔گاڑی جس طرف چلتی، یہ بھی اسی طرف جانے پر مجبور۔جیسے ایک میوزک بینڈ میں آپ کی ڈیوٹی کسی خاص مقام پر  ‘ہا، ہُو’ کرتے ہوئے دوسرے میوزیشنز کی آواز میں آواز ملا دینا ہو اور بس۔لیکن جونہی آپ کو انفرادی طور پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے تو پتہ چلے کہ آپ تو خود  ایک پورے فتح علی خاں ہو۔خود آزادانہ طور پر  ایسا اچھا گا سکتے ہو کہ کیا بات! اسی طرح کوئی اور شخص کسی قوال  گروپ سے اٹھ کر ڈسکو ڈانس کرنا شروع کر دے۔

پتہ چلے بندہ تو پورا مائیکل جیکسن ہے۔ وہی شخص  اگلے روز کسی مقام پر  6 بالز پر 6 چھکّے لگا کر ایسی کرکٹ کھیلے کہ سب کو ورطہِ حیرت میں ڈال دے۔اس سے اگلے روز کوئی آرٹیکل لکھ  کر تہلکہ مچا دے۔بالکل اِسی طرح، چھوٹے ذرّوں  تک جب اترا جاتا ہے تو اُن کی  صلاحیت و طاقت خاصی مختلف نظر آتی ہے۔ اُن کی  یہی طاقت و  صلاحیت نینو ٹیکنالوجی  (یعنی بہت چھوٹی یا باریک ذرّات کو استعمال میں لا  کر کام کرنے  والی ٹیکنالوجی) کے شعبے میں مختلف نئی صنعتی مصنوعات کی تخلیق کا سبب بنتی ہے۔جیسے آپ 5000 فوجیوں والی پلٹون میں سے 200 فوجی الگ کر لیں۔ پھر انہیں کسی مقام پر کھدائی  کرنے کے کام پر لگا دیں۔دوسو  فوجیوں کا ایک اور گروپ لوہے کے بڑے بڑے راڈز اٹھا کر پُل کی ایک سائیڈ پر فِکس کرنے کے کام پر مامور ہو جائے۔ اب ایسے آلات دستیاب ہو گئے ہیں کہ باریک ذرّات کو کنٹرول میں لا کر اُن کی جداگانہ صلاحیّتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئےایسی اشیا بنا ڈالیں جن کی جسامت بھی کم ہو اور طاقت و صلاحیت بھی زیادہ۔آپ کے ہاتھ میں جو ٹچ سسٹم موبائل فون ہے، یہ نینو ٹیکنالوجی ہے۔ یا جب ہم کیش ڈسپنسر یعنی اے ٹی ایم مشین کے سامنے کھڑے ہو کر اس کی سکرین پر انگلیوں سے مَس کرتے ہیں تو یہی نینو ٹیکنالوجی استعمال  کیا کرتے ہیں۔جب اسے سالہا سال برتا تو سائنسدانوں نے نوٹ کیا کہ اِس میں بھی کچھ پرابلمز آ رہے ہیں۔ ٹچ سسٹم تو پھر بھی ایک پریکٹیکل شے ہے۔ انگلی سے مس تو کرتے ہی ہیں نا۔ اب البتہ ٹچ لیس سسٹم بنا لیا گیا ہے۔

عملی اعتبار سے وہ بھی ایک پریکٹیکل شے ہی ہے، تاہم، ذرا جادوئی سا فلیور آ جاتا ہے۔ ٹچ سکرینیں کچھ وقت گذر جانے کے بعد وائرس اور بیکٹیریا کے لیے ٹرانسمشن پاتھ بن جاتی ہیں، یعنی اُن میں وائرس آ جاتا ہے جس سے وہ سست رفتار ہو جاتی یا  عجیب عجیب حرکتیں کرنا شروع کر دیتی ہیں، جیسے کوئی بندہ کملا سا ہو جائے، یا وہ بعض اوقات بند ہو جاتی ہیں۔اب سائنسدانوں نے ایسی سکرینیں بنا ڈالی ہیں  جو نان سٹرکچرز ہیں۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ جب آپ کی انگلیاں سکرین سے قرب ہوتی ہیں تو سکرین کی الیکٹریکل اور آپٹیکل پراپرٹیز از خود بدل جاتی ہیں۔ سادہ سا مطلب یہ ہے کہ اس نئی سکرین  پر لگے باریک ترین ذرّات کی ٹریننگ اس طور کی گئی ہے کہ وہ  اِس ڈیوٹی پر مامور ہیں کہ جب انسانی ہاتھ قریب آئے تو سکرین پر دکھائی دینے والا منظر بدل کر کچھ اور ہو جائے، یعنی ایک نیا منظر پیش کر دے۔دیکھیں، چھوٹا ہونے کا مطلب کمزور ہونا نہیں ہوتا۔ نپولین بونا پارٹ ایک دبلا پتلا چھوٹے سے قد کا بندہ تھا۔ مگر دیکھیں اس میں کیسی عظیم  توانائی بھری تھی۔ چھوٹے ذرّات میں  بے پناہ  طاقت  بھی ہے، اور وہ وزن میں ہلکے بھی ہیں۔

دو کلو دودھ سے بھری ایک دیگچی میں لیموں کے تین چار قطرے گرا دیں تو دودھ پھٹ جاتا ہے۔ یہ لیموں والا محلول ایک نیچرل شے ہے جو اللہ نے بنائی ہے۔ نینو ٹیکنالوجی کی مدد سے ہزاروں اقسام کے محلول انسان اب خود بنا سکتا ہے۔ حتٰی کہ انہیں ڈرائی کر کے ٹیبلٹ یا گولی کے بطور ٹھوس شکل بھی دے سکتا ہے۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ میڈیکل سٹورز پر ایسی  بے ذائقہ ٹیبلٹس دستیاب ہیں جنہیں بدبودار پانی میں  ڈالا جائے تو بد بو  ختم ہو جاتی ہے۔ وہ پانی میں موجود ایکسٹرا مادوں کو توڑ پھوڑ دیتی اور انہیں سطحِ زمین پر یا جس برتن میں وہ پانی ہے ، اس کی سطح پر لیجا کر اکٹھا کر دیتی ، بٹھا دیتی ہیں۔اسی طرح، اب ایسی ٹیبلٹس یا محلول تیار ہونے جا رہے جو سمندر کے کھارے پانی تک کو میٹھا بنا ڈالیں گے۔ متحدّہ عرب امارات یا سعودی عریبیہ وغیرہ میں اب تک تو بڑے بڑے پلانٹس کام کرتے  رہے ہیں جو سمندری پانی کو  desalinize کر کے  drinkable بنایا کرتے۔

اب نینو ٹیکنالوجی یہی عمل بالکل چھوٹے حجم والے پلانٹ یا بس دو کلو محلول یا دس عدد ٹیبلٹس کی مدد سے انجام دے ڈالی گی۔ اِن کی طاقت بے پناہ ہو گی۔ جیسےچار پانچ میٹر لمبا ایک میزائل جب ہٹ کرے تو ایک پہاڑ یا ایک پورا شہر اڑا کر رکھ دے۔ بالکل اسی طرح وہ کینسر جرثومے جو ایک خاص سٹیج پر پہنچ کر زیادہ ڈھیٹ ہو جاتے یعنی ناقابلِ علاج بن جایا کرتے اور کسی کی جان لے لیتے تھے، اب انہیں زیادہ طاقتور  محلولوں اور ادویات وغیرہ کی مدد سے فنا کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔ جو ڈیٹا ایک لیپ ٹاپ میں سما سکتا ہے، اس سے 100 گنا زیادہ  ڈیٹا  پیاز کے چھلکے ایسی باریک جھلّی  جتنی ڈیوائس اپنے اندر سمو لیا کرے گی، اور اس میں فنکشنز بھی زیادہ ہوں گے۔ اور اس کی بیٹری بھی سالہا سال چل سکے گی۔ یوں سمجھیں، آپ اپنے موبائل فون پر جو پلاسٹک کور چڑھاتے ہیں، بلکہ سکرین پر جو سکرین سیور کی تہہ چڑھاتے ہیں، اب وہی آپ کا موبائل فون ہو گا اور وہ اسی طرح لچکدار سی شیٹ ہوا کرے گی۔ اور یہ کہ اس میں بھی ہزارہا قسم کی ورائٹی ہو گی۔

تو نینو ٹیکنالوجی کیا ہے؟ باریک ترین ذرّات پر  ایسا کنٹرول کہ آپ اُن کی طاقت و توانائی کو، اُن کی  چھوٹی  اور بے وزن جسامت کو نئے آلات اور فارمولوں کی مدد سے حسبِ خواہش استعمال میں لا کر کم وزن،  زیادہ پائیدار، زیادہ موثر اشیا بنا  کر فائدہ اٹھا سکیں۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے جو میٹیریل تیار ہو گا وہ فولاد سے بھی کئی گنا زیادہ مضبوط ہو گا۔ اس سے جو آٹومیٹک سسٹمز وجود میں آ رہے ہیں، وہ زیادہ تر  با صلاحیت اور قابلِ بھروسہ ہوں گے۔ ایسا کاغذ جو بندوق کی گولیوں کو گزرنے نہیں دیتا تیّا ر کیا جاچکا ہے۔ اب ٹینس کی گیند کو پائیدار بنانے کے لئے اس کی بیرونی سطح پر ایک مخصوص نینو مادّے کی تہہ چڑھائی جا تی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سرجیکل ٹُولز  یعنی جراحی کے آلات کو بھی نینو مادّے کی تہہ کے ذریعے مزید مضبوط کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دیگر دھاتوں کو بھی۔ اب کاروں اور دیگر موٹر گاڑیوں کی بیرونی سطح پر بھی نینو مادّوں کی تہہ چڑھائی جاتی ہے تاکہ انہیں خراشیں پڑنے سے محفوظ رکھا جاسکے۔کیا کچھ ممکن نہیں؟ لباس بنانے میں بھی نینو ٹیکنالوجی کا  استعمال اپنی طاقت آزما رہا ہے۔ زیا دہ مضبوط، زیادہ پائیدار کپڑا جس پر داغ نہ بیٹھ سکے۔ نیز، ایسا کپڑا جسے پہن کرگرمی کا احساس نہ ہو، اور گرم موسم کی مناسبت سے  ٹھنڈک کا احساس ملے۔ دیکھیں، اب شمسی شعاعوں سے محفوظ رکھنے والی کریمیں بھی آ چکیں۔ اور  دیگر سامانِ  حسن و آرائش بھی جو نینو ٹیکنالوجی کے زیرِ اثر بہتر معیار کا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق  نینو ٹیکنالوجی سے قوت پا کر بنی اب تک تقریباً دو ہزار اشیامارکیٹ میں آ چکی ہیں۔ مستقبل قریب میں زیادہ بہتر اشیا، نئے ایڈوانس ورژن کیساتھ آ موجود ہوں گی۔ یہ پاکٹ سائز وائرلیس  پاور بینک جس سے آپ لیپ ٹاپ یا موبائل فون کی بیٹری چارج کر لیتے ہیں، یہ کیا ہیں؟ یہ نینو ٹیکنالوجی کا کمال ہے۔ گاڑی کی سطح  اور اس کے شیشوں پر جو تہہ لگا کر اسے  بلٹ پروف  بنا دیا جاتا ہے، نینو ٹیکنالوجی ہے۔یہ نواع و اقسام کے چپکنے والے ٹیپ بھی نینو ٹیکنالوجی ہے۔ یعنی مختلف میٹریل، اشیا، اور ڈیوائسز  کو نینو ٹیکنالوجی کی مدد سے اب  ایٹموں اور مالیکیولوں کے پیمانے پر تیار کیا جارہا ہے۔ امریکہ کی ایم آئی ٹی یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دوچار برسوں میں ہی  نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے امریکی فوجیوں کے لیے سامان ایک سے دوسری جگہ لیجانا بہت آسان ہو جائےگا۔ موجودہ صورتحال میں ایک فوجی کو  پندرہ بیس کلو وزن  کا بوجھ اٹھا کر چلنا پڑتا ہے۔ عنقریب یہ وزن  پندرہ بیس گرام تک آ جائے گا۔

(جاری ہے)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: