گریہ، جشن اور عمران خان ایک مکالمہ — رفیع اللہ میاں – اقبال خورشید

0
  • 90
    Shares

اقبال خورشید
برادرم، اب جب کہ ہمارے انگوٹھوں پر لگا ووٹ کاسٹ کرنے کا داغ مٹ گیا ہے، اور دھاندلی کا شور حکومت کے قیام کی زور میں دبنے لگا ہے، میرے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ وہ دوست، جو الیکشن کے نتائج پر جشن منا رہے ہیں، اور وہ جو مایوس ہیں، کیا ادراک رکھتے ہیں کہ دونوں ہی صورتوں میں ان کا طرز عمل بے معنی ہے کہ وہ ہونے والے فیصلے میں بے وقعت ہیں، جیسے گزرے ہوئے کل میں بے وقعت تھے، اور ویسے آنے والے کل ہوں گے۔ ایسے میں تم اس گریے اور جشن کو کتنا بامعنی خیال کرتے ہو؟

رفیع اللہ میاں
بہت دل لگتا سوال ہے۔ یہ سوال اس سب ہنگامے کی پشت پر موجود منظر کا بھی سوال ہے۔ مجھے اچھا لگا کہ تمھاری طرف سے یہ بامعنی سوال آیا ہے۔ جس کی موجودہ صورت حال میں توقع کم ہی ہوسکتی ہے۔ ہم در اصل ایک عرصے سے اپنی قومی زندگی کی معنویت کی تلاش میں بھٹکنے والے ہجوم کی طرح سے زندگی گزار رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس بے معنویت کا احساس و ادراک بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ بہ طور جشن مناتے فرد اور بہ طور گریہ کرتے فرد، ہم اس تمام سیاسی ہنگامے میں عبد اللہ دیوانے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔

اقبال خورشید
اس بے حیثیتی میں ووٹ کی پرچی اور داغ دار انگوٹھے پر جشن منانا یا گریہ کرنا، یاروں کو مبارک باد دینا یا احباب کو طعنے دینا، بے معنی معلوم ہوتا ہے، البتہ یہ سوال مجھے ضرور ستاتا ہے کہ مستقبل میں یہ جو نیا سیٹ اپ آرہا ہے، عمران خان کے روپ میں، دل لگی کے لیے کہنے دو، امت مسلمہ کا نیا لیڈر ابھرا جا رہا ہے، جو کرکٹ کے پس منظر کے باعث بین الاقوامی شہرت کا حامل ہے، اس سے جو امیدیں وابستہ کی گئی ہیں۔
اس تناظر میں کیا مستقبل میں بھی اس جشن اور گریے کا، مبارک بادوں اور احباب کو طعنے دینے کا سلسلہ جاری رہے گا؟
یعنی یہ منقسم معاشرہ، عمران حامی، عمران مخالف گروہ یوں ہی ایک دوسرے سے الجھتے رہیں گے یا کچھ روز میں دھول بیٹھ جائے گی؟

رفیع اللہ میاں
اقبال، میرے خیال میں یہ ایک ایسا ہی تجربہ ہے جیسے پہلی بار پاکستانی ووٹرز کو ذوالفقار علی بھٹو کے انتخابی نشان کے سامنے مہریں لگاتے اور انگوٹھے سیاہ کرتے ہوئے ہوا تھا۔ ایک انقلابی لہر تھی جو لوگوں کو امیدیں وابستہ کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہر کچھ عرصے بعد یہ لہر باقاعدہ طور پر پیدا کی جاتی ہے تاکہ لوگ بے معنویت کے گہرے گڑھے میں گر کر کچھ ایسا نہ کر بیٹھیں جس کی مقتدرہ قوتوں کو توقع نہ ہو۔
بھٹو نے بھی آتے ہی بیرون ملک اتحادی سرگرمیوں میں ہاتھ ڈال دیا تھا۔ عمران بھی ایک نئے دور کا نئے انداز کا بھٹو لگ رہا ہے۔ عوام کو تو ہمیشہ پانچ سال بعد ہی معلوم ہوتا ہے کہ کرپشن کی گئی، سو عوام کو کچھ سرگرمیوں کے ذریعے انگیج رکھا جائے گا اور عمران ایک اور بھٹو بنیں گے۔

اقبال خورشید
یہ عمران کے لیے پُر خطر ہے، بے پناہ امیدوں کا بوجھ، گو وہ غیرمرئی ہوتی ہیں، کمر جھکا دیتا ہے، کاندھے چھیل دیتا ہے، خیر، خود عمران بھی چاہیے گا کہ اس کا انجام بھٹو والا نہ ہو، اور شاید ہمارا یہ اندیشہ قبل از وقت ہو، مگر عمران مجھ جیسے قنوطی کی توقعات کے برعکس کچھ مثبت اقدامات کے ذریعے بہتری کا امکان پیدا کرسکتا ہے، جو ہمارے ذہنوں کو کچھ راحت فراہم کریں، ہم کچھ سکون کا سانس لیں اور آگے بڑھیں کہ دنیا کے دیگر ممالک کے مانند ترقی کی خواہش بہ ہرحال ہمارے دلوں میں بھی پنپتی ہے، البتہ سیاسی انجینئرنگ اور الیکشن میں مداخلت کے خاتمے کی نہ تو مجھے امید نظر آتی ہے، نہ ہی میں ایسی کوئی امید رکھتا ہوں۔
یہ تیسرا پارلیمنٹ ہے، جس نے پانچ برس پورے کیے، لگا تار تیسرا الیکشن۔ ۔ ۔ تو اگر اب بھی سیاست میں مداخلت جاری ہے، تو قصور وار فقط عمران نہیں، بلکہ وہ بڑی جماعتیں ہیں، جو عرصے سے اقتدار میں رہیں، مگر جمہوریت کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہیں۔

رفیع اللہ میاں
ایک عام ووٹر کے ناتے میں عمران سے زیادہ اپنے اور اپنی آنے والی نسل کے مستقبل کے لیے فکر مند ہوں۔ بہ ظاہر تبدیلی کی جو فضا بنائی جا رہی ہے، میں خود بھی اس کا شکار ہو رہا ہوں، یعنی مجھے بھی امید ہو گئی ہے کہ ہو سکتا ہے کچھ تبدیلی آئے۔ ہم بہ حیثیت قوم دراصل انھی امیدوں پر چلائے جا رہے ہیں۔ یہ ان قوتوں کی کام یابی ہے جو ہمیشہ ہمارے مستقبل کے ساتھ کھیل جاتی ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ دو تین پارلیمنٹوں کے بس کی بات نہیں ہے یہ۔ یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ اگلی پارلیمنٹ کیا ہوگی؟ تم حیران ہو گے اگر میں یہ کہوں کہ میری نگاہ اس نئی پارلیمنٹ پر نہیں بلکہ چوتھی پارلیمنٹ پر ہے۔ تیسری سے چوتھی پر جانے والا وقت بہت اہم ہو گا، جو حقیقی سطح پر کچھ تبدیلی کی صورت گری کر سکے گا۔ وجہ یہ ہے کہ ووٹرز کو ایک اور اہم تجربہ ہو چکا ہوگا۔

اقبال خورشید
امید تو توانا نہیں، اور قطعیت کے ساتھ کچھ کہنا کم از کم میرے لیے ناممکن ہے، البتہ یہ خواہش ہے کہ انتخابات کا سلسلہ جاری رہے، اور یہ عمل اب پانچ برس بعد ہی رونما ہو، ایک بار پھر ہم گھروں سے نکلیں، اپنے انگوٹھوں کو داغ دار کریں، نشانات پر مہریں لگائیں، اور اس پر بے معنی جشن اور گریہ کریں، ایک دوسرے کو مبارک باد دیں اور طعنے بھی۔
خواہش فقط یہ ہے کہ یہ عمل جاری رہے۔ ایک اور پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرے، ایک اور الیکشن ہو۔ شاید۔ ۔ ۔ شاید اس عمل کا تسلسل اس بے معنویت کو کچھ کم زور کر دے۔

رفیع اللہ میاں
میں اس بات سے متفق ہوں کہ بے معنویت کو اسی جمہوری عمل کی معنویت ہی کے ذریعے کم کیا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: