طیفا ان ٹربل: فلم ریویو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ظاہر محمود

0
  • 28
    Shares

رضوان بھائی نے یاد کیا اور ہم لاہور آوارد ہوۓ، ان کے ہاں ایک شاندار ضیافت اڑائی اور پھر ایک ادنی سی خواہش کا اظہار کیا کہ طیفے کے بڑے چرچے سنے ہیں، سو وہ دیکھنی ہے- مال روڈ سارا گھوم کے جب سینما پہنچے، رات کے بارہ بجنے والے تھے مگر فیمیلز اور دیگر افراد کا بہت بڑا ہجوم دیکھ کہ آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، فورٹریس میں کسی سینیما پہ نہ کوئی ٹکٹ ملی نہ کوئی اگلا شو، سب بکنگ پہ چل رہا تھا خیر ایم ایم عالم پہ جا کے ایک سینما پہ پونے ایک کا شو ملا- وہاں پر بھی بے تحاشا لوگ اور فیمیلز کا تانتا بندھا ہوا تھا، خواہش تو پہلے بھی تھی مگر اب مزید تجسس ہوا کہ ایسا کیا ہے جو عوام ایک پاکستانی فلم پہ فدا ہوۓ جا رہی ہے-

فلم دیکھنے پہ معلوم ہوا کہ “طیفا ان ٹربل” واقعی لالی ووڈ میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے، مجھے اسکی شہرت کی چار وجوہات سمجھ میں آئیں، رنگین کردار، خوبصورت لوکیشنز، فل میڈیا کمپین اور یہ احساس کہ پاکستانی اداکار اتنی اچھی پرفارمنس دکھا رہے ہیں- مزاحیہ پن نے بھی دلچسپی پیدا کیے رکھی- پنجابی اور اردو زبان کو دلچسپ مکالموں اور باہمی ہم آہنگی کے ذریعے مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا، جابجا پاکستانی ثقافت، مقامی تاریخی مقامات اور روایات و اقدار کا پرچار کیا گیا جو کہ میرے خیال میں فی الوقت سینما انڈسٹری بحال کرنے کا سب سے بڑا مقصد ہونا چاہیے- چکوال، اسلام آباد اور پتوکی کا ذکر لالی ووڈ کو لاہور اور کراچی سے باہر تک پھیلانے کے لیے ایک مناسب طریقہ تھا- اپنے اپنے علاقے کا نام سن کر وہاں کے لوگوں کی سینما بحالی کے لیے ہمدردیاں اور توجہ حاصل کی جا سکتی ہے۔

علی ظفر نے اوور آل شاندار اداکاری کی مگر آخر پہ جب اس نے تین چار کردار اکٹھے ایک ہی فریم میں کیے تو اوور ایکٹنگ کا گمان ہوا- پولینڈ کی جھیل میں جو رقص کیا وہ اس فلم کا سب سے خوبصورت حصہ تھا- فلم کے گیت بہت ہی زبردست اور شاندار ہیں- مایا علی کا انگریزی میں گایا گیا گانا اور آئٹم سانگ بہترین اور لمبے عرصے تک یاد رکھے جانے والے گانے ہیں- مایا علی نے جاندار اداکاری اور بہترین ایکسپریشنز سے اپنے آپ کو مستقبل کی اے کلاس فلموں کا موزوں ترین انتخاب ثابت کیا- فیصل قریشی نے اپنے مزاحیہ کردار کے ساتھ خوب انصاف کیا، بٹ صاحب، بلو بٹ اور اس کی امی نے بھی اچھا پرفارم کیا مگر جاوید شیخ کو شاید کھل کر اپنے فن کے اظہار کا موقع نہیں ملا-

تکنیکی طور پر اس میں بے تحاشا غلطیاں سامنے آئیں، ابتداً مایا علی کی شادی اور بٹ صاحب کے مکالموں کو بے تحاشا کٹ لگا کر جس طرح سنکرونائز کرنے کی ناکام کوشش کی گئی انتہائی فضول اور نامناسب ہے- سب سے بڑا مسئلہ تو فریمنگ کا رہا، اکثر فریمز ٹیڑھے، بھدے، ایک طرف کو جھکاؤ کیے ہوئے تھے، ایک جگہ تو حد ہی ہو گئی ایک فریم باقاعدہ شیک کر رہا تھا، ڈبے میں ایک فائٹ کے دوران صحیح گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے مگر آس پاس سواریاں بڑے اطمینان سے بیٹھی دکھائی گئیں- پولینڈ میں جب کلاک ٹاور کے پاس علی ظفر اور مایا علی پکڑے جانے لگے تو حیران کن طور پر فیصل قریشی نجانے کہاں سے ایک مشہور کمپنی کے میٹرس سے بھرا ٹرک لے آۓ، یقیناً انہیں اس سپانسر کی تشہیر کا کوئی متبادل طریقہ اپنانا چاہیے تھا-آخری حصے میں ایک خنجر کے وار سے علی ظفر کی بنیان پھٹنے کے ساتھ ساتھ زخم بھی ہوا جو کچھ ہی لمحوں بعد غائب ہو گیا اور سب سے بڑی غلطی تو یہ تھی کہ جب مایا علی پُل پہ چلتی ٹرین سے گر کر بہتے پانی میں گری تو علی ظفر تو اسے بچانے کیلئے کود گیا مگر اس کا باپ اور دیگر افراد اچانک اس کے پاس نجانے کیسے آ گئے حالانکہ جہلم کے جس پل سے ٹرین گزرتی دکھائی گئی اس کے ساتھ ہی لمبی سرنگ ہے اور دور دور تک کوئی ریلوے سٹیشن بھی نہیں، یہ بات میں اپنی ذاتی معلومات سے نہیں بتا رہا بلکہ وہیں ڈرون سے لیے گئے دو تین شاٹس سے واضح ہوئی-

ٹرین سے کودنے والا سین آگے پیچھے ہو گیا، جب ٹرین پُل سے کافی آگے نکل چکی تو مایا علی کو گرایا گیا، اچانک یوں لگتا ہے جیسے وہ خشکی پہ گرے گی مگر ایک پروجیکٹائل کی صورت میں وہ پانی میں ہی گرتی ہے نیز ٹرین سے کودتے وقت کروما کو بھی اچھی طرح استعمال کرنے میں بری طرح ناکامی ہوئی- بیک گراؤنڈ میوزک کو دس میں سے آٹھ عشاریہ دو پوائنٹس دینا چاہوں گا، یہ کافی حد تک بہتر تھا بلکہ ایک دو جگہ پر حیران کن حد تک اچھا بی جی ایم استعمال کیا گیا- ساؤنڈ بھی کلئیر تھی، جو بھی ایکشن ری ایکشن ہوا اس کو واضح طور پر سنا جا سکتا ہے، خیال گھسا پٹا ہے، وہی پرانا پن ہے، یہی خیال پہلے بھی حال ہی میں ریلیز ہونے والی کسی فلم میں تھوڑے بہت ردوبدل سے فلمایا گیا تھا- بہرحال اگر ایک کامن مین کے طور پر دیکھیں تو یہ ایک کامیاب اور اچھی فلم ہے، میرے خیال میں آپکے پیسے پورے کرے گی اور آپ کو ضرور سینما جا کر دیکھنی چاہیے- آخری بات یہ کہ جب پندرہ بیس کروڑ روپے فلم بنانے پہ لگا دئیے تو آخر پہ پانچ دس ہزار روپے کسی اچھے رائٹر کو دے کر فلم کا نام ہی کوئی مناسب رکھوا لیا جاتا- بہرحال ایسی فلمیں پاکستانی سینما بینوں کے لیے امید کی نئی کرن ہیں- امید کرتے ہیں کہ آئندہ نئے خیالات، سماجی مسائل اور ٹیکنالوجی کو بھی عنوان کیا جائے گا اور اس سے بہتر فلمیں شائقین کو دیکھنے کو ملیں گی-

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: