تبدیلی اور عمران خان کا امتحان —– محمد حسین ہنرمل

0
  • 52
    Shares

انتخابات میں ہار کے فوراً بعد دھاندلی کا نعرہ لگانا ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں کی مجبوری بہت کم اور عادت زیادہ بن چکی ہے۔ اس نعرے کا سہارا لینا تو ان جماعتوں کی بے شک مجبوری ہے جس کو ملنے والی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے، جو کہ بہت کم ہے تاہم حقیقی ہار کے باوجود اپنے آپ کو یہ سہولت دینے والے سیاستدانوں کی اب بھی کوئی کمی نہیں۔

دھاندلی کا نعرہ ایک ایسا مظلومانہ نعرہ ہے جس کی آڑ میں کام چور اور بدعنوان سیاستدان اپنے ماضی کی خرابیوں کو بڑی آسانی سے چھپا لیتے ہیں۔ پچیس جولائی کو ہونے والے انتخابات کے نتائج آنے پر بھی مسلم لیگ ن سے لے کر پیپلز پارٹی، اے این پی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی تک اور ایم ایم اے سے لے کر پاک سرزمین پارٹی، ایم کیو ایم اور خادم رضوی کی تحریک لبیک تک سبھی نے دھاندلی کانعرہ بڑی شد و مد سے لگا کر نتائج ماننے سے انکار کر دیا۔ ان انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف فاتح جماعت بن کر ابھری ہے۔ حالانکہ انتخابات سے قبل کیے گیے ہر سروے کا لب لباب بھی یہی تھا کہ پی ٹی آئی اس مرتبہ حکمران جماعت بن کر ابھر سکتی ہے۔

لطف کی بات تو یہ بھی ہے کہ بلوچستان میں ایم ایم اے اور اے این پی کے کامیاب امیدواروں کے ہاں یہی سب سے شفاف انتخابات ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں ان جماعتوں کی قیادت اتنی دل برداشتہ ہے کہ احتجاجاً بلوچستان اور کے پی کے کو بند کروانے کی دہائیاں دیتے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن پچھلے انتخابات میں ایک سو چھبیس جنرل نشستوں میں سے اب کی بار مشکل سے اس کی نصف نشستوں کو بچا سکی۔ مسلم لیگ ن کی طرح باریاں لینے والی جماعت پیپلزپارٹی کو بھی ایک نیم کوٹہ سکے کی مانند عوام کی اکثریت نے مسترد کرکے بہت کم ووٹ ڈالا۔ ایم ایم اے کے صدر مولانا فضل الرحمن کا خواب کو بھی ان کی اپنی کمزور کارکردگی اور روایتی سیاست نے شرمندہ تعبیر ہونے نہیں دیا ۔ پچھلے سال نوشہرہ کے علاقے اضاخیل میں جے یو آئی کا صد سالہ تاسیسی کانفرنس انہی انتخابات کی خاطر مقررہ تاریخ سے ایک سال پہلے سے منعقد کروا کر لاکھوں لوگوں کو اکٹھا کرنے کا بندوبست کیا تھا۔ امام کعبہ کو خصوصی طور پر بلایا اور عیسائی مذہب کے بشپ کو بھی اپنے ساتھ اسٹیج پر بٹھا کر دنیا کو یہ روشن خیالی کا تاثر بھی دے دیا۔ شاید ماضی کے ایم ایم اے کی طرح اب کی بار بھی مولانا صاحب کا خیال خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے کا تھا لیکن ہوا یوںکہ ان کو اپنے ہی علاقے ڈی آئی خان کے این اے اڑتیس اور این اے انتالیس سے بھی پی ٹی آئی کے امیدوار شکست دے گئے۔

عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت صرف اس لئے پشتون تحفظ مومنٹ کی مخالفت کرنے لگی تھی کہ پچیس جولائی کے دن ملنے والی نشستوں سے کہیں ان کو محروم نہ کیا جائے، لیکن اس کے باوجود بھی ہار ان کی مقدر بنی۔ لطف کی بات تو یہ بھی ہے کہ بلوچستان میں ایم ایم اے اور اے این پی کے کامیاب امیدواروں کے ہاں یہی سب سے شفاف انتخابات ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں ان جماعتوں کی قیادت اتنی دل برداشتہ ہے کہ احتجاجاً بلوچستان اور کے پی کے کو بند کروانے کی دہائیاں دیتے ہیں۔

پاک سرزمین پارٹی کو اسٹبلشمنٹ نواز جماعت کے نام سے مشہور تھی، اور سب کا خیال تھا کہ سندھ میں یہی جماعت کلین سویپ کرے گی لیکن نتائج آنے پر مصطفی کمال بھی ہاتھ مَلتے رہ گئے۔ بلوچستان میں محمود خان اچکزئی بھی نہ صرف کوئٹہ کی نشست ہار گئے بلکہ اپنے ہی آبائی علاقے کی نشست بھی گنوا بیٹھے۔ مسلم لیگ ن سے اپنی راہیں جدا کر کے چوہدری نثار علی خان کو اپنے اوپر کتنا اعتماد تھا وہ چوہدری نثار علی جو مسلسل آٹھ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن رہے، تاہم نویں مرتبہ قسمت نے یاوری نہیں کی۔

علامہ خادم رضوی نے چند نشستوں کی خاطر پیارے آقاﷺ کے نامہ اطہر کو کہاں کہاں مسلم لیگ ن کے خلاف بطور کارڈ استعمال نہیں کیا، لیکن ان کا بھی دھڑن تختہ ہو گیا۔ یہ سب وہ جماعتیں تھیں جن کے ووٹ بینک کو ان کی اپنی کمزور کارکردگی اور مایوس کن ساکھ نے متاثر کر دیا ورنہ جس نے بھی خلق خدا کو کچھ نہ کچھ ڈلیور کیا ہے، اسے اس کا صلہ ان انتخابات میں بھی ضرور ملا ہے۔

جہاں تک بدعنوانی کا سوال ہے تو انتخابات سے پہلے سیاسی انجنیئرنگ اور چناو کے عمل کے دوران بے ضابطگیاں ضرور ہوئیں۔ غیر مجرب آر ٹی ایس سسٹم کے استعمال میں پریذائیڈنگ آفیسران کو بروقت انتخابی نتائج بھجوانے میں مشکلات ضرور پیش آئیں لیکن میرا نہیں خیال کہ پورے انتخابی عمل کو مخصوص قوتوں نے اپنے ہاتھ میں لے کر اپنی مرضی کے بندے لائے ہو۔ یورپی یونین اور کامن ویلتھ کی مبصر مشن کی رپورٹ میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن پر تعینات فوجی اہلکاروں نے سوائے پریذائیڈنگ آفیسران کی معاونت کے انتخابی عمل میں کوئی مداخلت نہیں کی ہے۔

پی ٹی آئی کی جیت کیلئے بے شک پہلے سے ایک ماحول بنایا گیا لیکن سچی بات یہ ہے کہ اسٹیٹس کو سے تنگ عوام باالخصوص نوجوانوں کے سامنے پی ٹی آئی کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا۔ بہت سی کمزوریوں کے باوجود بھی کے پی کے میں اس جماعت کی پانچ سالہ خدمات کا ہر دوسرا تیسرا شخص اعتراف کر رہا ہے۔ سینٹ کے گزشتہ انتخابات کے دوران لگنے والی منڈی میں بکنے والوں سے درگزر کرنے کی بجائے پارٹی سے فارغ کرنا اور پانچ سالہ حکومت میں ہونے والی بعض کمزوریوں کے اعتراف نے عمران خان کا گراف مزید اونچا کردیا۔

کاش! ہمارے سیاستدان دھاندلی کا واویلا کرنے کی بجائے غلام احمد بلور کی طرح ایک قابل مدح روایت قائم کرتے جنہوں نے کھلے دل سے انتخابی نتائج کو قبول کیا۔ بے شک جن حلقوں کے نتائج کی شفافیت پر پھر بھی اگر کسی کو کلام ہے تو وہ عمران کی پیشکش کو سنجیدہ لے کر وہاں پر نئے سرے سے گنتی کا مطالبہ کرے، نہ کہ ماضی کی طرح احتجاجی تحریکوں کی روایت کو پھر سے زندہ کرنا۔ بہرکیف عمران خان کا وزارت عظمیٰ کا خواب شرمندہ تعبیر ضرور ہو ا، تاہم ان کا اصل امتحان ابھی سے شروع ہوا ہے۔

کیونکہ پاکستان کو اس وقت نہ صرف معاشی دیوالیہ پن کا سامنا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اسے تنہائی کا سامنا ہے۔ افغانستان اور ہندوستان جیسے ہمسایہ ملکوں سے تعلقات بھی تسلی بخش نہیں ہیں اور دہشتگردی سے مکمل طور پر بھی ہمیں نجات نہیں ملی ہے۔ گو کہ سلجھنے اور حل کرنے کیلئے تھوک کے حساب سے مسائل اور چیلنجز خان صاحب کی راہ تھک رہے ہیں، ، خدا کرے کہ وہ ان تمام تر چیلنجزسے نمٹنے میں سرخرو ہوں۔ آمین

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: