غیر اندراج شدہ مدارس: ایک ٹائم بم ۔۔۔ تحقیقی رپورٹ

0

اسلام آباد (رپورٹ: شہزاد ملک ) حکومت ‘مقتدر حلقوں اور خود مدار س کے تعلیمی بورڈز نے ملک بھرمیں قائم13ہزار572 سے زائد غیررجسٹرڈ مدارس کو قانونی دائرہ کار میں لانے کا کوئی انتظام نہیں کیا ‘مدارس میں اصلاحات ‘جدید نصاب سازی اور رجسٹریشن سمیت دیگر اہم امور کی انجام دہی کے لئے اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے رہنمائوں سے اجلاس کئے جاتے ہیں ‘آئی ٹی ایم پی میں موجود 5وفاق بورڈزپہلے سے 70 فیصد حکومتی و اداروں کی ایما کے مطابق ہیں ۔دانش کی جانب سے تیار کی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 16دسمبر2014کے بعد ملک بھر میں جاری دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں تیزی لانے کئے اقدامات شروع کئے گئے جس کے لئے باقاعدہ مختلف نوعیت کے آپریشن شروع کئے گئے تھے ۔جن میں بعض اداروں میں پائی جانے والی کمیوں کوہتاہیوں اور کمزوریوں کو دور کرنے یا ان کا سدباب کرنے کی بھی حکمت عملی شامل تھی ۔جس کے بعد فورا بعد ملک بھر میں اپیکس کمیٹیاں تشکیل پائی تھیں جن میں دیگر درجنوں اہم امور کی طرح مدارس کی رجسٹریشن و نگرانی کے علاوہ ان میں اصلاحات کا پہلو بھی شامل تھا ۔رجسٹرد و غیر رجسٹرڈ مدرسوں کا معاملہ بھی وفاقی حکومت کے ساتھ چل رہا تھا جس کیو جہ سے مذہبی جماعتوں کے قائدین واتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے منتطمین کی جانب سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا ۔اپیکس کمیٹیوں کے فیصلوں کی روشنی میں سندھ حکومت کی جانب سے سب سے زیادہ فعال ادا کرنے کی کوشش کی گئی تاہم اس میں مدارس کی اصلاحات کے حوالے سے کی جانے والی قوانین سازی کو بھاری اکثریت کے ایوان سے منظور کرالیا گیا مگر اس میں صریحا مدارس کو بند کرنے کی پالیسی نظرآنے کی وجہ سے ملک بھر سے سخت ردعمل آیا جس کے بعد مذکورہ قانون سازی میں ترمیم کو موخرکردیا گیا تھا ۔

وفاقی حکومت کی جانب سے اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے ساتھ درجنوں اجلاس منعقد ہو چکے ہیں جن میں مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ ’مدارس میں جدید نصاب کی شمولیت کا معاملہ ‘مدارس کی رجسٹریشن کو تجدید کا معاملہ ‘ان کے سالانہ آڈٹ و ذرائع آمدنی کے معاملے سمیت دیگر شامل ہیں ۔تاہم اس میں غور طلب پہلو یہ بھی ہے کہ مدارس کا معاملہ اٹھاویوں ترمیم کے بعد وزارت سے محکمے اوقاف کے حوالے ہو جانے سے بھی مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھنے کے خدشات ہیں ،مدارس کی ملک بھی میں پانچ بڑی نمائندہ تنظیموں میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان ‘وفاق تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان ‘وفاق المدارس السلفیہ ‘ رابطۃ المدارس منصورہ ‘وفاق المدارس الشیعہ ہیں ۔ان میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا ہیڈ آفس ملتان میں ہے جبکہ یہ دیوبندی مدارس کا بورڈ ہے ۔وفاق المدارس العربیہ پاکستان میں 21ہزار 633مدارس رجسٹرڈ ہیں جن میں 14لاکھ 24ہزار 875طلبہ جبکہ 7لاکھ 50ہزار 383 طالبات زیر تعلیم ہیں۔بریلوی مسلک کی نمائندہ مدراس کی تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان8ہزار980مدراس ‘جماعت اسلامی کے رابطۃ المدارس میں 922 مدارس ‘وفاق المدارس السلفیہ اور وفاق المدارس الشیعہ میں بھی سینکڑوں مدارس ہیں ۔ واضح رہے کہ لال مسجد کا آپریشن ‘سانحہ راجا بازار و راولپنڈی ‘مدراس کی رجسٹریشن ‘ْغیر ملکی طلبہ و طالبات کی پاکستانی مدارس میں تدریس ‘نصاب میں جدید فنون و عصری علوم کو شامل کرنے سمیت ددیگر اہم مسائل کے حل کے لئے مشرف کے عہد حکومت میں مدراس کی رجسٹریشن کے لئے سوسائٹی ایکٹ میں سیکشن 21کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد ماضی کے نائن الیون کے بعد کے واقعات کی وجہ سے تمام مسالک کے مدراس کے نمائندہ تعلیمی بورڈز ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اتحاد تنظیمات مدراس پاکستان کے مشترکہ پلیٹ فارم سے جدو جہد شروع کردیں تھیں ۔تاہم ان مدارس کے تعلیمی بورڈ سمیت ملک بھر کے کسی بھی معتبر ادارے کی جانب سے ملک بھر میں موجود ہزاروں مدراس اور ان کے لاکھوں طلبہ و طالبات کوکسی بھی قانونی دائرے میں لانے پر سنجیدہ اقدام نہیں اٹھائے ہیں ۔

ان مدارس میں مولانا شہزاد ،مولاناراویل تاج کے وفاق اتحاد المدارس مردان بورڈ کے تحت تقریباً 2000مدراس ہیں۔مفتی عبدالقوی کے مدارس کے تعلیمی بورڈ وفاق المعارف ملتان کے تحت تقریباً260 مدراس و مکاتب ہیں ۔مولانا عبدالرحیم کے وفاق نظام المدارس رحیمیہ بورڈ واقع بھاولنگرمیںتقریبا50مدارس ہیں ۔مولانا سہیل احمد کی نگرانی میں لاہور رائیونڈ کے تبلیغی جماعت مرکز کے مدرسہ کی ملک بھر میں تقریباً 100مدارس و مکاتب ہیں ۔لاہور تنظیم اسلامی پاکستان کے ڈاکٹر عاطف سعید کی نگرانی میں قائم قرآن اکیڈمی کے تقریباً2مدارس اور20 تربیت گاہیں ہیں۔ڈاکٹر فرحت نسیم ہاشمی کی نگرانی میں قائم الہدیٰ انٹر نیشنل فاونڈیشن لاہورکی ملک بھر میں 8تربیت گاہیں و مدارس ہیں۔صوفی غلام محمد کی نگرانی میں قائم مدرسہ شاہ ہمدان صوفیہ ، سلسلہ نوربخشیہ کے سکردو گلگت، بلتستان میں تقریباً5مدارس ہیں ۔کرنل (ر)طاہر محمودکی نگرانی میں قائم سلسلہ نقشبندیہ کے’مقصود العلوم،(اسلامی روحانی مشن) کے تقریباً 7تربیت گاہیںہیں ۔ اشاعت التوحید والسنہ کی فکر کے مدارس ملک بھر میںموجود ہیں جن کی کل تعداد تقریباً 11000کے قریب ہے ۔ مگر ان میں 4 سے5 مختلف چھوٹے چھوٹے وفاقات کے نام سے) کام کر رہے ہیں۔جن میںوحدت المدارس الاسلامیہ ،پنج پیر صوابی کے تحت کم و بیش 1000مدارس ہیں جن کے نگران اعلی مولانا محمد طیب پنج پیرہیں ۔مولانا خبیب الرحمن اعوان کی نگرانی میں وفاق الجامعات ، منڈی بہاوالدین کے تحت کم و بیش 116مدارس ہیں۔انہی کے ماتحت اسلامک اوپن ایجوکیشن سسٹم،منڈی بھا الدین بھی ہے جو عصری امتحانات میں تعاون کی خدمات فراہم کرتا ہے۔اس کے علاوہ مولانا عطا ء اللہ بند یالوی کی نگرانی میں جمعیت اشاعت التوحید والسنہ سرگودھا کے تحت لڑکوں کے لیے تقریباً500حفظ و ناظرہ وکتب کے مدارس ہیں ۔جمعیت اشاعت التوحید والسنہ سرگودھا، لڑکیوں کے لیے تقریباً 2000مدراس ہیں جن میں لڑکیوں کو دو سالہ نصاب پڑھایا جاتا ہے۔گلگت اور آزاد کشمیرمیں جماعت اشاعت التوحید والسنہ کے تقریباً1500مدارس ہیں جن کا بھی علیحدہ ہ وفاق ہے۔سید مودودی انٹر نیشنل انسٹیٹیوٹ ، لاہور کی بھی تربیت گاہیں اور تعلیمی ادارے ہیں۔ڈاکٹر طاہر القادری کے منہاج المدارس لاہورکے مختلف شہروں میں 16مدارس ہیں ۔پیر کرم شاہ الازہری کی نگرانی میںجامعہ محمدیہ غوثیہ بھیرہ ، سرگودھا کے تحت103مدارس ہیں ۔قاری خان سمیرکی نگرانی میں لکی مروت میںدرجنوں مدارس جامعہ تعلیم الاسلام، تجوڑی میں ہیں۔مولانا حسنین عباس گردیزی کا جامعۃ الرضا بارہ کھو، اسلام آبادکا مدرسہ بھی شامل ہے ۔اس کے علاوہ کئی خانقاہیں ایسی ہیں جن کے ماتحت بھی مکاتب اور مدارس خدمات انجام دے رہے ہیں۔جن میں درگاہ گولڑہ شریف‘درگاہ عید گاہ شریف‘درگاہ مانکی شریف‘حق باہو ، اور دیگر خانقاہیں بھی موجود ہیں۔مجموعی طور ہر ان 13ہزار572مدارس ومکاتب ہیں ۔جن کے حوالے سے حکومت ‘مقتدر حلقوں اور خود مدار س کے تعلیمی بورڈ کی جانب سے ہزاروں مدارس کے لاکھوں طلبہ وطالبات کے لئے کوئی حکمت عملی مرتب نہ کرنا لمحہ فکریہ ہے ۔

________________________

Shahzad Malik has been rendering his highly valuable services in the field of journalism and has started journalism

during his educational time, The News Tribe (TNT) one of the leading news agency in the world was the first platform

and after that he joined FM 105 (The largest FM Network in Pakistan) as a News Editor, moreover he also worked

with FM 103 (affiliated with BBC) and FM 99 Islamabad (Radio News Network). After getting command in Radio

World he joined Roze News as a Anchor, In 2015 he joined Royal News as an anchor an In 2016 he joined Capital

TV as an anchor. Currently he is working as Senior Investigating Reporter In Online Daily News Agencies Islamabad.

Shahzad Malik believes in to promote quality education in the rural areas of Pakistan. He strongly believes that “IF

ONE CAN LEARN, EVERYONE CAN LEARN” and if the rural area’s students given the result oriented

comprehensive computer education than there is not doubt to make the youth to progressive and prosperous.

Because without computer education no one can imagine to compete worldly challenges.

Shahzad Malik is Masters in International Relations from University of Karachi and he is also certified in psychology

of achievement double your productivity, procrastination and how to cope with stress. He is also certified in different

computer courses and different courses of mass communication. He has worked as an anchor person in different FM

Radios in Pakistan. Currently he is working as an anchor person with Radio News Network FM 99 Islamabad.

Can be reached at: Shahzadmalik1010@gmail.com

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: