طلبہ اور والدین: ایک ضروری اعلان سنیئے ——- احمد الیاس

0
  • 115
    Shares

پاکستان کی موجودہ نوجوان نسل وہ پہلی نسل ہے جو لاکھوں کی تعداد میں ملک کی دو سو سے زائد سرکاری و نجی جامعات کا رخ کررہی ہے۔ پاکستان جیسی آبادی اور حالات رکھنے والے ملک میں سالانہ معاشی نمو کم از کم چھ سے سات فیصد ہو تب ہی ان نوجوانوں کے لیے امید کی کچھ حقیقی کرن پیدا ہوسکتی ہے۔ ورنہ لاکھوں میں ڈگریاں لیتے یہ نوجوان سماجی انتشار کا ایندھن بن جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں معاشی نمو چار فیصد کے قریب ہے جس کے سبب باعزت روزگار کے مواقع اذیت ناک حد تک محدود ہیں۔ ان حالات میں شوق کی خاطر کچھ پڑھنا یا ‘انسان سازی’ والی تعلیم کی لگژری افورڈ کرنا یوں بھی مشکل ہے۔ رہی سہی کسر ہم سے پچھلی نسلوں کی رجعت پسندانہ سوچ اور لاعلمی پوری کردیتی ہے۔

میں کئی ذہین اور زندگی سے بھرپور نوجوانوں کو جانتا ہوں جن کو معقول رہنمائی دستیاب نہ ہونے اور غلط قسم کے سماجی و خاندانی دباؤ نے ضائع کردیا۔ یہاں میں پسماندہ طبقے اور اشرافیہ کو نظر انداز کرکے تھوڑی دیر صرف مڈل کلاس کی بات کروں گا۔

خرابی سیکنڈری سکول میں مضامین کے انتخاب سے شروع ہوتی ہے۔ ایک انتہائی غلط تصور والدین اور بچوں کے دماغوں میں بیٹھ گیا ہے کہ صرف سائنس مضامین پڑھنے والا بچہ ہی لائق ہوتا ہے اور آرٹس مضامین نالائقوں کے لیے ہیں۔ اس سے ایک تو نوجوان نسل شہریت، تاریخ اور ادب وغیرہ سے بالکل ہی بیگانہ ہوجاتی ہے، مزید یہ کہ سائنس بھی انگریزی میں ہونے، بے ہودہ طریقے سے پڑھائے جانے اور نمبروں کی دوڑ میں فقط امتحانی نکتہ نظر سے رٹوائے جانے کے سبب کچھ بھی بچوں کے قلب و ذہن میں نہیں بیٹھتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں علم تخلیق کرنے والے سائنسدان پیدا نہیں ہوتے۔ انجینئیرز کے نام پر مکینکس اور الیکٹریشنز اور ڈاکٹرز کے نام پر رٹی رٹائی دوائیاں تجویز کرنے والوں کی ایک کھیپ ضرور نکلتی ہے۔

جب بچے سائنس مضامین کے ساتھ سیکنڈری سکول پاس کرلیتے ہیں تو اکثریت کا داخلہ میڈیکل اور انجینئرنگ میں نہیں ہوتا۔ یہاں پر بچوں سے ایک اور بلنڈر کروایا جاتا ہے۔ انہیں گمراہ کرکے بزنس ایڈمنسٹریشن یا اکاؤنٹنگ میں بھیج دیا جاتا ہے، خواہ ان کا ان مضامین کی طرف کوئی میلان ہو یا نہ ہو۔ اول تو ہر بچے کو سائنس پڑھانی ہی نہیں چاہیے، اور اگر سیکنڈری سکول میں پڑھا لی ہو تو انہیں سائنس مضامین میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کر کے ریسرچ اور ایکیڈیمیا میں جانے دینا ہی مناسب ہے، بجائے 180 ڈگری کا یوٹرن دلوا کر ایک بالکل مخلتف سمت لے جانے کے۔ اور پھر مخلتف سمت بھی وہ جو یا تو بی بی اے کی طرح بہت ہی زیادہ پڑھی جانے کے سبب اپنا سکوپ کھو چکی ہے یا اکاؤنٹنگ کی طرح اکثر بچوں کے لیے خوفناک حد تک مشکل، خشک اور تقریباً ناممکن ہے۔ کمپیوٹر سائنس بھی بہت سے بچوں کو پڑھوائی جاتی ہے جو کہ ہر بچے کے بس کا روگ بھی نہیں اور نہ ہی اس فیلڈ میں خاطر خواہ روزگار دستیاب ہے۔

ان غلط رویوں کی ایک وجہ تو مڈل کلاس کی روایتی مقابلہ بازی اور بہتر مادی زندگی کی خواہش ہے جو بچوں پر ان کی قوت برداشت سے زیادہ بوجھ لاد دیتی ہے، اور اس کے ساتھ والدین، بچوں حتیٰ کہ اساتذہ کی دیگر آپشنز سے لاعلمی بھی ایک فیکٹر ہے۔ بچے جس نوعیت کی دلچسپیاں رکھتے ہیں ان سے متعلق کوئی معقول اور اچھا روزگار فراہم کرنے والا شعبہ اکثر موجود ہوتا ہے۔ مثلاً کئی لڑکے لڑکیاں جو اداکاری، گلوکاری، فوٹو گرافی اور ویڈیو گرافی یا بولنے، لکھنے اور سیاست وغیرہ کا شوق رکھتے ہیں جرنلزم، فلم اینڈ ٹی وی، ماس کمیونیکشن یا پبلک ریلشنز وغیرہ پڑھ کر میڈیا اور متعلقہ شعبوں میں جاسکتے ہیں۔ یہ شعبے پاکستان میں پھل پھول رہے ہیں اور روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مگر یہاں آنے والے کئی لوگ بغیر مطلوبہ میلان کے یہاں آجاتے ہیں اور اس شعبے کے لیے موزوں لوگ دیگر شعبوں میں چلے جاتے ہیں۔ یوں اس جانب آنے والے اور نہ آسکنے والے بچوں کی انفرادی زندگیاں تو خراب ہوتی ہی ہیں، اجتماعی طور پر ان شعبہ جات کا معیار بھی گرجاتا ہے۔ یہی معاملہ فائن آرٹس، ڈیزائن اور آرکیٹیچر نیز لینگویجز یا قانون و سیاسیات سمیت کئی شعبوں کا ہے۔ ان شعبوں میں بہت سے روزگار پیدا ہوچکا ہے یا کیا جاسکتا ہے مگر مناسب رہنمائی نہ ہونے کے سبب موزوں طبعیت رکھنے والے بچے یہاں نہیں آپاتے۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان کا فرسودہ نظام تعلیم: عماد قریشی

 

بچوں، والدین، تعلیمی ادارے اور ریاست۔۔۔۔ سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیمی منصوبہ بندی میں زیادہ سمجھداری کا مظاہرہ کریں۔ اس سلسلے میں بچے کے میلان سے قریب ترین ہی کوئی ایسا شعبہ تلاش کیا جائے جس میں اس کے لیے روزگار کے مواقع بھی ہوں۔ بھیڑ چال یا اِدھر ادھر کے مشوروں کے تحت اسے کسی ایسی راہ پر نہ چلا دیا جائے جو اس کی استطاعت سے زیادہ مشکل، اس کو عطاء کردہ صلاحیتوں سے مختلف یا بہت ہی زیادہ عام اور گھسی پٹی ہو۔

نوجوانوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو  ٹٹول کر اپنی حقیقی دل چسپیاں تلاش کریں۔ اس علم یا ہنر کو ڈھونڈیں جس میں انہیں خوشی ملتی ہو۔ اگر وہ اسے ڈھونڈ لیتے ہیں تو انہیں اس سے متعلق کوئی نہ کوئی ایسی راہ ضرور مل جائے گی جس سے وہ باعزت روزگار حاصل کرسکیں۔ لازم ہے کہ نصابی کتابوں کے بوجھ تلے اپنی شخصیت کو مسلنے نہ دیا جائے۔ اپنی انفرادیت اور حقیقی شخصیت کی تلاش اور عقلمندانہ و حقیقت پسندانہ طریقے سے تحفظ ہر انسان کا فرض ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: