انوکھا لاڈلا ۔ کھیلن کو مانگے چاند رے —- مستنصر حسین تارڑ

0
  • 378
    Shares

گرمیوں کے حبس آلود موسم تھے۔ ہوا ٹھہری ہوئی تھی اور ہمارے اوپر جو آسمان کا گنبد قوس ہوتا تھا اس میں دمکتے ستارے بھی ٹھہرے ہوئے تھے میں شائد پانچ برس کا تھا۔ اپنے ابا جی کے پہلو میں چارپائی پر لیٹا ایک بچے کی حیرت سے ستاروں کو تکتا جاتا تھا۔ وہ میری سحر زدہ آنکھوں میں اترتے جاتے تھے۔ جب میں نے کہا ’’ابا جی، کیا یہ ستارے میری مٹھی میں آ سکتے ہیں کیا میں انہیں حاصل کر سکتا ہوں؟‘‘ تو انہوں نے جو کہا وہ میرے تقریباً اسی برس کے ضبط شدہ دماغ میں ابھی تک نقش ہے۔ بیٹے اگر تم طے کر لو، مکمل طور پر نیت کر لو کہ ہاں میں یہ ستارے حاصل کر سکتا ہوں توڑ کر لا سکتا ہوں تو ایسا ہو جائے گا۔ میں نے اگلی کچھ راتیں بستر پر لیٹے ہوئے آسمان میں ٹانکے ہوئے ستاروں کو پوری نیت اور ارادے سے حاصل کرنے کی کوشش کی پر ایسا نہ ہوا تو میں نے ابا جی سے شکائت کی تو وہ کہنے لگے نہیں تمہاری نیت مکمل نہ تھی۔ تمہارے یقین میں کمی تھی ورنہ ایسا ہو جاتا۔

عمران خان کی تقریر بھی ایک چھوٹے سے بچے کی معصوم تقریر تھی وہ پاکستان کو سنوارنا چاہتا ہے۔ خوبصورت بنانا چاہتا ہے خاک نشینوں کو تخت پر بٹھانا چاہتا ہے۔ اداروں کو مضبوط کرنے کا خواہش مند ہے۔ اس ریاست کو میرے پیارے رسولؐ کی مدینے والی ریاست جیسی بنانے کی آرزو کرتا ہے۔ انصاف کے وعدے کرتا ہے ایک سادہ سفید شلوار کرتہ، شکنوں بھرا وہ گویا آسمان سے ستارے توڑ لانے کے وعدے کرتا ہے جو ناممکن ہے اسے ممکن بنانا چاہتا ہے اور ہاں اس کے چہرے پر دشمنوں کو زیر کرنے والا کوئی تکبر نہیں۔ البتہ اس نے اپنے سفید بال خوب کالے کئے ہوئے ہیں۔

ہماری جھولیوں میں اگر پاکستان کے مستقبل کا کوئی ایک درخشاں ستارا بھی آ گرتا ہے تو یہی کافی ہے۔ عمران خان کوئی مسیحا نہیں ہے جو مردوں کو زندہ کر دے البتہ ایک ایسا شخص ہے جو پاکستان کے اب تک ادھڑ چکے، نوچے جا چکے بدن کو مزید نہیں نوچے گا۔ اس کے درد کی دوا کرے گا۔

ہم پہلی بار ایک متوقع وزیر اعظم کو پرچیوں سے پڑھتے بغیر تقریر کرتے سن رہے ہیں۔ بلکہ یہاں تک کہ ہمارے وزیر اعظم ایسے کہ صدر اوباما سے ملاقات پر امریکی صدر کا پورا نام بھی ایک پرچی سے پڑھ رہے ہیں اور پھر کہتے ہیں آئیے آلو قیمہ کھاتے ہیں ۔عمران خان کی تقریر ایک پانچ برس کے بچے کی تقریر تھی۔ وہ ناممکن کو ممکن بنانے کی خواہش کرتا ہے آسمان سے تارے توڑنا چاہتا ہے مجھے اس کی نیت پر ذرہ بھر شک نہیں اس کے ایمان کی پختگی پر شک نہیں۔ پر ایسا ہو گا نہیں جیسے شیکسپئر نے کہا تھا کہ ویئر از سم تھنگ لائن ان دے سٹیٹ آف ڈنمارک۔ ایسے ہی یہ جو پاکستان کی ریاست ہے اس میں بہت کچھ گلا سڑا اور بدبودار ہے۔ وہ اس بدبو سڑاند کو مکمل طور پر کبھی ختم نہیں کر سکتا۔ البتہ ایک معمولی سا فرق لا سکتا ہے اور ہمارے لیے یہی کافی ہو گا۔

یہ کسی کنفیوشس نے نہیں شائد میں نے ہی کہیں لکھا تھا کہ انسان اگر طے کر لے کہ مجھے چاند چاہیے تو چاند نہ سہی ایک آدھ ستارا تو اس کی جھولی میں آ گرتا ہے۔ عمران خان کی بلکہ ہماری جھولیوں میں اگر پاکستان کے مستقبل کا کوئی ایک درخشاں ستارا بھی آ گرتا ہے تو یہی کافی ہے۔ عمران خان کوئی مسیحا نہیں ہے جو مردوں کو زندہ کر دے البتہ ایک ایسا شخص ہے جو پاکستان کے اب تک ادھڑ چکے، نوچے جا چکے بدن کو مزید نہیں نوچے گا۔ اس کے درد کی دوا کرے گا۔ ماڈل ٹاون پارک میں سویر کی سیر مجھ پر بہت انکشاف کرتی ہے۔ اس پارک میں کووں کا راج ہے اس کی وجہ ماڈل ٹائون میں شریفوں کی موجودگی شاید نہیں۔ میرے دوست بھی گواہ ہیں کہ جب کوئی بھولا بھٹکا خوش نما پرندہ پارک کی ہریاول میں بسیرا کرنے کی خاطر آ نکلتا ہے اور اس کے پروں کے رنگ بہت شوخ اور نرالے ہوتے ہیں تو کوے اس پر یلغار کر دیتے ہیں۔ اسے نوچتے ہیں حملہ آور ہو جاتے ہیں، اکثر ہلاک کر ڈالتے ہیں اور کبھی کبھار وہ بے چارہ نوچے ہوئے بدن کے ساتھ جان بچا کر فرار ہو جاتا ہے۔ پارک میں کوا راج ہے۔

پاکستان کے پارک میں کبھی ایک رنگین پنچھی ذوالفقار علی بھٹو نام کا آیا تھا۔ بھلا کووں کی سلطنت اسے کیسے برداشت کرتی۔ سبھی اسے نوچ کھانے پر آمادہ ہو گئے۔ بائیں بازو کے متعصب اور تنگ نظر دانشور مذہبی جماعتیں، بہت سے جنرل حمید گل، یہاں تک کہ ہمارے پیارے اڈیالہ جیل کے قیدی کے روحانی اباجی نے اسے پھانسی پر چڑھا دیا۔ درست کہ یہ رنگین پرندہ بھی قدرے قصور وار تھا۔ کرسی کے تکبر میں آ گیا۔ میاں صاحب کے روحانی والد صاحب کو دھمکی دی کہ میں تمہاری مونچھوں سے اپنے بوٹوں کے تسمے بنائوں گا۔ لیکن وہ پھانسی کا سزا وار تو ہرگز نہ تھا۔ وہ پھندے پر جھولا تو جنرل جیلانی کے لے پالک نے مٹھائیاں بانٹیں اور عہد کیا کہ میں مونچھوں والے کے نظریے کو لے کر آگے بڑھوں گا۔ عمران خان بھی ایک ایسا ہی رنگین پروں والا پرندہ ہے خواب دیکھنے والا، ستاروں کو مٹھی میں بھر لینے والا پنچھی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ کوئوں نے اسے جینے نہیں دینا۔ کوے اس کے اتنے بیری ہیں کہ اگر وہ مدینہ منورہ میں قدم رکھتا ہے تو ننگے پائوں چلتا روضہ رسولؐ پر حاضر ہوتا ہے تو اس پر بھی اس پر پھبتیاں کسی جاتی ہیں۔

یقین جانیے کہ جب میں مدینے کی گلیوں میں اترا تو خواہش یہی تھی کہ ننگے پائوں چلوں لیکن سوچا کہ لوگ کیا کہیں گے۔ ایک رندہے اور پارسا بننے کی اور اداکاری کرتا ہے، یوں بھی کوشش کی تو پائوں میں کنکر چبھے تو پھر سے چپل پہن لی۔ مجھ میں شائد عمران خان ایسی عقیدت نہ تھی۔ مجھے یقین ہے کہ کسی نہ کسی کوے نے جب وہ عمرے کے لیے گیا تھا اس کے احرام پر بھی اعتراض کیا ہو گا کہ وہ کاندھے سے ڈھلکا ہوا تھا۔

میرے ایک نوجوان دوست سلمان نے ملائشیا سے فون کر کے کہا کہ تارڑ صاحب آج ایک سردار نے ہنس کر کہا شکر ہے پاکستان کو ایک ایسا وزیر اعظم مل گیا جو پرچیوں کے بغیر بھی تقریر کر سکتا ہے تو میں نے سلمان سے کہا کہ اس احمق سکھ سے کہو کہ کیا تمہیں بھٹو یاد نہیں جس نے شملہ میں اپنی جادوگری سے اندرا گاندھی ایسی شاطر عورت کو بیوقوف بنا لیا تھا یا پھر اسے یاد کرائو بھٹو کی مشرقی پاکستان کے سانحے کے حوالے سے یو این او کی تقریر۔ ہم ہمیشہ سے ایسے نہ تھے پرچیاں پڑھنے والے نہ تھے۔ اب کوّے غل کر رہے ہیں۔ کائیں کائیں کر رہے ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن کی تشکیل انہوں نے خود کی اور اب احتجاج کر رہے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:
عمران خان اور صنف نازک کا جنون —– ڈاکٹر مریم عرفان

عمران خان: احمقانہ یقین کی ایک اور لازوال داستان ۔۔۔۔۔۔۔۔ خبیب کیانی

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: