میں کس جماعت کا ہوں؟ —- محمد تہامی بشر علوی

0
  • 101
    Shares

جس ذہن کو زندگی میں کبھی اپنی انفرادی شخصیت کا تجربہ نہ ہو پایا ہو، اس کے لیے یہ تصور قریباً ناممکن ہی ہو جاتا ہے کہ کسی شخص کا غیرجماعتی وجود کیسے ممکن ہے؟

پھر جہاں خود فراموشوں کی اک اچھی خاصی تعداد آباد ہو چکی ہو، وہاں فرد کی کسی انفرادی حیثیت کا ادراک بھی ممکن نہیں رہتا۔

اب معاملہ سیاسی ہو یا مذہبی لوگوں کے دیکھنے کا انداز یوں بن جاتا ہے کہ  “کون کس جماعت کا ہے؟”۔

برسوں سے ایسی نفسیاتی کیفیت میں مبتلا لوگوں کے لیے کسی انسان کو “صرف فرد” کی حیثیت سے دیکھنا ناممکن ہی ہو جاتا ہے۔

چناں چہ وہ جب کسی مذہبی یا سیاسی معاملہ پر کسی کے خیال کو جانتے ہیں تو ذہن اس طرف نہیں جاتا کہ کہی گئی بات کیا ہے اور وہ کس دلیل پر کہی جا رہی ہے۔ ایسے میں ذہن جاتا بھی ہے تو اس طرف ہی جاتا ہے کہ جس معاملہ میں کوئی بات کہی گئی ہے وہ کس جماعت کے حق میں کہی گئی ہے۔

اب اگر وہ بات ان کی اپنائی گئی کسی جماعت کے حق میں محسوس ہو تو وہ سمجھنے کے تکلف کے بغیر ہی تائید کریں گے اور اگر بات ان کے جماعتی تعصبات کے مطابق محسوس نہ ہو رہی ہو تو بن سمجھے مخالفت پر اتر آئیں گے۔

ایسے ذہنی ماحول میں کوئی بات اپنی ذات میں درست یا غلط نہیں ہوتی بلکہ کسی جماعتی عصبیت کی بنیاد پر رد یا قبول ہوتی ہے۔ فلاں بات قبول ہے، اس دلیل کے ساتھ کہ وہ میری جماعت کے حق میں ہے،جبکہ فلاں بات رد ہے اس لیے کہ وہ دوسری جماعت کے حق میں کیوں ہے؟

اس روش پر جینے والے انسانوں کی عقلی زندگی مکمل تباہ ہوجاتی ہے۔ ایسی زندگی میں زندگی کے نام پر جو چیز بچ پاتی ہے اسے جذباتی زندگی کا نام دیا جا سکتا ہے۔ یہ زندگی پھر “کنٹرولڈ بائی مائنڈ” ہونے کی بجائے “کنٹرولڈ بائے ایموشنز” ہوتی ہے۔ یہ زندگی “ریزن بیسڈ” ہونے کی بجائے “ایموشن بیسڈ” ہو جاتی ہے۔

ایسے افراد چوں کہ ذاتی زندگی سے محروم ہو جاتے ہیں، اس لیے وہ اپنے وجود کے احساس کے لیے کسی نوعیت کی جماعتی زندگی اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ عقلی زندگی تباہ ہو جانے کے بعد وہ کسی جماعت سے کوئی عقلی وابستگی بھی نہیں رکھ پاتے۔ وہ کسی جماعت سے وابستگی بھی جذباتی بنیادوں پر رکھ پاتے ہیں۔

ایسی زندگی کے پھر اپنے لوازمات ہوتے ہیں جن کی تفصیل یہاں ممکن نہیں۔ البتہ ایسی جذباتی زندگی کا ایک اہم وصف یہ ہوتا ہے کہ جلد ہی پرستش کے جذبات میں ڈھل جاتی ہے۔ اسے جو ماننا ہوتا ہے کسی بے عیب معبود کی طرح ماننا ہوتا ہے اور پورا ماننا ہوتا ہے۔ اور جسے رد کرنا ہوتا ہے مکمل رد کرنا ہوتا ہے۔ اس نوعیت کی جذباتی کیفیات جس قسم کا نفسیاتی مزاج تشکیل دیتی ہیں اسے “ردّ کل یا قبول کل” کی نفسیات کہا جا سکتا ہے۔

پرستش کے جذبات عشق کے جذبات ہی کی ایک صورت ہوتی ہے۔ اپنی معشوقہ جماعت یا فرد کو مکمل قبول کرنا ایسے فرد کی مجبوری بن جاتا ہے۔ وہ اپنی معشوقہ جماعت کی معمولی خوبیوں کو غیر معمولی ثابت کرے گا اور خامیوں کی تاویل کر کے جماعت سے عشق نبھائے گا۔ یہیں پر بس نہیں وہ ہرفرد سے یہی چاہتا ہے کہ وہ اس کی معشوقہ جماعت سے وابستہ ہوں اور اسی عشق کے ساتھ وابستہ ہوں جس میں وہ مبتلا ہے۔ دوسروں سے وابستگی کی ایک سطح عقلی بھی ہوتی ہے۔ اس وابستگی کی علامات یہ ہوتی ہیں کہ ایسا انسان کسی جماعت یا فرد سے وابستہ ہونے کے بجائے اس جماعت یا فرد کی خوبیوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ اسے کوئی خوبی اپنی وابستگی کے دائرے سے باہر بھی مل رہی ہو تو بلاتامل قبول کر لیتا ہے۔ اس نے چوں کہ اپنی اپنائی گئی شخصیت یا جماعت کی پرستش نہیں کرنی ہوتی اس لیے اس کے لیے ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنی جماعت یا شخصیت کی بعض چیزیں قبول کر لے اور بعض رد کر دے۔ اسے اپنے وجود کے احساس کے لیے کسی غیر میں ضم ہو جانے کی مجبوری لاحق نہیں ہوتی۔اس لیے وہ کہیں ضم ہو کر اسے معصوم باور کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ اس کا ممدوح مجروح ہونے سے اس کی اپنی شخصیت مجروح نہیں ہوتی۔ وہ کہیں منسلک ہو کر بھی اپنے انفرادی وجود سے محروم نہیں ہو جاتا۔ اس کے ہاں رد و قبول کا معیار کوئی دلیل ہوتی ہے نہ کہ کوئی جذباتی وجہ۔ اس کے برعکس عقلی وجود سے محروم، “ردِّ کل یا قبول کل” کے مزاج کا حامل فرد اپنی انفرادی ذات کو کسی غیر میں مکمل ضم کر لیتا ہے۔وہ اس خبط میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس کے ممدوح کی خوبیاں گویا اس کی خوبیاں ہیں اور اس کے ممدوح پر نقد گویا اس پر نقد ہے۔ بلکہ وہ غیرچوں کہ اس کاقائم مقام معبود  ہے اس لیے اسے بے عیب دیکھنا اور دکھانا اس کا جذباتی تقاضہ بن جاتا ہے۔وہ اپنی ذات میں ہی اپنی شخصیت کو فنا کر کے “جیالے” کے روپ میں ظہور کر لیتا ہے۔

کہا جا سکتا ہے کہ ایسا فرد اپنی انفرادیت کو فنا کر کےایک قسم کی غیر زندگی جی رہا ہوتا ہے۔

جس سماج میں انفرادی زندگی سے محروم کثرت میں ہوں تو وہاں انفرادی زندگی کاتصور ہی ختم ہوجاتا ہے۔ ایسے سماج میں کسی ایسی انفرادیت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی جسے کسی بھی نوعیت کی اجتماعیت کی تائید حاصل نہ ہو۔ ایسے سماج کا فرد اس سوال سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا کہ ” آپ کسی مسئلہ پر کس طرح سوچتے اور کیا رائے رکھتے ہیں”۔ کسی رائے کو جاننا اس کی دلچسپی میں شامل ہی نہیں ہوتا۔ اس کا سؤال شروع ہی یہاں سے ہوتا ہے کہ

“آپ کس جماعت سے ہیں یا آپ کس جماعت کی تائید کرتے ہیں”۔ گویا سائل یہ فرض کر چکا ہے کہ یہ تو طے ہے کہ کسی جماعت کا ہونا ضروری ہے بس یہ واضح کر دیا جائے کہ آپ کی جماعت کون سی ہے۔

میں ذاتی طور پر کسی انفرادیت کش اجتماعیت کے تصور کا قائل نہیں ہوں، اس لیے اس سوال کو اپنے سے متعلق نہیں پاتا۔ میری دلچسپی کسی زیرِ بحث مسئلہ پر درست تر رائے تک پہنچنا ہوتی ہے نہ کہ کسی جماعت یا فرد کی تائید یا تردید۔

میں ایسی اجتماعیت افوڈ نہیں کر سکتا جو میری انفرادیت کی قاتل ثابت ہو۔

میرے ہاں اجتماعیت کا جو تصور انسانوں کے لیے موزوں بلکہ ناگزیر ہے، اس طرح کی اجتماعیت ہماری مذہبی یا سیاسی جماعتوں میں فی الحال موجود نہیں۔ جس طرز کی اجتماعیت کا روپ ہماری مذہبی و سیاسی جماعتوں نے دھار رکھاہے اس سے وابستگی کی کم از کم شرط بھی، شرفِ انسانی سے محرومی ہے جس کی مجھ بشر ذات میں تاب ہی نہیں۔

انھی مجبوریوں کی وجہ سے میں کسی جماعت کو مکمل طور پر نہیں اپنا سکتا۔

اس تفصیل کے بعد خلاصہِ کلام یہ ہوا کہ:

“الحمد للہ میرا عقلی وجود چوں کہ ابھی سلامت ہے۔ میں کسی جماعت کا حصہ اپنے عقلی وجود کے ہمراہ ہی بن سکتا ہوں۔ جس کا تقاضہ یہ ہو گا کہ جماعتوں کے منشور اور پالیسی میں میری رائے کی پوری اہمیت ہو۔ مجھے حق حاصل ہو کہ جماعت کے منشور یا پالیسی سے اختلاف کر سکوں۔ چوں کہ موجودہ مذہبی یا سیاسی جماعتوں میں عقلی وجود کے ہمراہ شمولیت ممنوع ہے۔ یہ تمام جماعتیں درحقیقت ” عقل فری جیالوں کا کلب” بنی ہوئی ہیں۔ میں چوں کہ انسان ہوتے ہوئے جیالہ نہیں بن سکتا۔ سو اس لیے کسی جماعت کا باقاعدہ رکن بننے سے معذور ہوں۔ میرے لیے ایسے میں جو ممکن ہے وہ یہی کہ جس جماعت میں جو اچھائی موجود ہو اس کا اعتراف کر لوں اور جس کی جس پالیسی سے اختلاف ہو وہ بھی کر گزروں۔ یہ ممکن ہے ایک مسئلہ میں ایک جماعت کا موقف درست ہو اور دوسرے مسئلہ میں دوسری جماعت کا۔ میں چوں کہ جماعتی امور میں “ایموشن بیسڈ” اپروچ کا حامل نہیں ہوں اس لیے میرا معیار “اپنی جماعت کا فیور” نہیں ہے۔ لہذا میں “درست اور غلط” کے معیار کو سامنے رکھ کر کسی مسئلہ پر اظہار خیال کیا کرتا ہوں۔ جب آپ کو یہ محسوس ہو رہا ہوتا ہے کہ کل میں نے ایسی بات کہی جو آپ کی جماعت کے فیور کی ہے اور پھر کوئی ایسی بات کہی جو اس کے فیور میں نہیں ہے تو یہ نہ سوچا کی جیے کہ میں کل آپ کی جماعت کا تھا اور آج کسی اور جماعت کا ہو گیا۔ بس اتنا سوچ لیا کی جیے کہ جہاں آپ کی جماعت کی تائید کی گئی وہاں اس کا موقف درست تھا اور جہاں تائید نہ کی گئی وہاں میری رائے میں اس کا موقف درست نہ تھا۔ میں چوں کہ جیالہ نہیں ہوں اس لیے کسی جماعت کے بارے میں “قبولِ کل” کی نفسیات مجھ میں نہیں ہیں۔ اگر آپ بھی اپنا عقلی وجود تحلیل کر لینے کے بعد کسی جیالے کی سی زندگی جی رہے ہیں تو یہ بات بھی آپ نہیں سمجھ سکیں گے۔ایسے میں آپ بھی مجبور اور میں بھی مجبور۔ امید ہے سوال کا جواب ہو گیا ہو گا”

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: