راہرو —- جاوید احمد غامدی پر فاروق عادل کا خاکہ

0
  • 141
    Shares

رات کے سائے گہرے ہوئے تو ہاشمی صاحب ۱ ؎ کے ہاں مہمانوں کی آمد شروع ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اُن کا گھر لوگوں سے بھر گیا۔ ۲۳۔ اے دارالرحمت ۲ ؎ میں اس طرح کے اجتماعات معمول تھے لیکن اُس روز لوگوں کا جوش و خروش کسی قدر زیادہ تھا۔یہ لوگ ذوق و شوق کے ساتھ مہمان خاص کے منتظر تھے جو وقت مقررہ پر میزبان کے ہمراہ اجتماع گاہ میں داخل ہوئے اور نہایت سنجیدگی کے ساتھ اپنی نشست پر جلوہ افروز ہوگئے۔ یہ غامدی صاحب تھے لیکن واضح رہے کہ اُس زمانے میں وہ غامدی کے نام سے معروف نہ تھے، انھیں علامہ کے لقب سے یادکیاجاتا تھا۔علامہ صاحب کا رنگ گورا، بال سیاہ اور گھنگریالے، ناک کے نیچے ہلکی مونچھیں اور چہرہ بالکل صاف، ظاہر ہے کہ یہ بات آسانی کے ساتھ ہضم نہ کی جاسکتی تھی لہٰذا سوال ہوا:

’’آپ نے ڈاڑھی کیوں نہیں رکھی؟‘‘۔
’’کوئی مجھے ایک دم بال اُگانے کانسخہ بتا دے تو میں یہ مطالبہ ابھی پورا کردوں‘‘۔
اس سفاکانہ بے ساختگی نے معترضین کے منہ بند کردیے۔ یادداشت اگر ساتھ دے رہی ہے تو علامہ صاحب کی عمر اس وقت ٹھیک بائیس برس تھی، انھوں نے بی اے کر رکھا تھا اور جماعت اسلامی کے وابستگان انھیں امید بھری نظر سے دیکھا کرتے تھے۔ مولانا مودودی ؒان دنوں گردے کی تکلیف میں مبتلا تھے اور سقوط ڈھاکہ کے صدمے کے بعد تو انھیں دل کا دورہ بھی پڑ چکا تھا، اس لیے پریشانی یہ تھی کہ اگر کوئی اونچ نیچ ہوگئی تو مولانا جیسی بھاری بھرکم شخصیت کی جگہ کون لے گا؟ یہی سبب تھا کہ یہ نوجوان اہلِ جماعت کی امیدوں کا مرکز بن گیا۔ جماعت اسلامی کے مخلصین اپنی سوچ میں کچھ ایسے غلط بھی نہ تھے، یہ نوجوان تھا ہی ایسا، بات چیت میں روانی، گفت گو میں علمی جاہ و جلال اور تقریر میں دلیل کا وزن:

’’کیا علم ہے صاحب اور کیسا انداز بیاں!‘‘۔
لوگ مرعوب ہوکر کہا کرتے۔
’’بھئی یہ تو مولانا کا جانشین ہے جانشین!‘‘۔

اُن کے چہرے پر ٹوٹ کر برسنے والی سنجیدگی اور اندازِ نشست و برخاست اس تاثر کو مزید گہرا کردیتا۔ ہاشمی صاحب ہی کے ہاں ایک نشست میں کسی سوال پر انھوں نے اپنی کہانی بیان کی جس میں بڑے نشیب و فراز تھے۔ یہ ایک ایسے نوجوان کی کہا نی تھی جس نے زمانۂ قدیم کے بزرگوں کی طرح علم کی تلاش میں کٹھن راہوں کا انتخاب کیا۔

کچھ ہی عرصے کے بعد جماعت اسلامی اور علامہ صاحب کے راستے جدا ہوگئے جس کسی نے بھی یہ خبر سنی سکتے میں آگیا۔ اس کے بعد کچھ ایسی باتیں سننے میں آئیں جو زیادہ خوش گوار نہ تھیں۔

مولانا مودودیؒ کے گھر نماز عصر کے بعد روزانہ ایک نشست ہواکرتی تھی جس میں وہ اپنے عقیدت مندوں کے سوالوں کے جواب دیا کرتے،کہا گیا کہ علامہ صاحب نے بھی ایسی نشست شروع کردی،وہ مولانا ہی کی طرح سر پر جناح کیپ پہنتے، ان ہی جیسی کھونڈی (Walking Stick) ہاتھ میں لے کر چلتے اور جماعت کے اُن بزرگوں کو بھی خاطر میں نہ لاتے جن کی بزرگی اور قربانیاں مسلّم تھیں۔ رشتوں کی شکست وریخت میں تصویر کا یہ صرف ایک ہی رخ ہے۔ اس کے مقابلے میں غامدی صاحب کا موقف یہ ہے کہ انھوں نے مولانا مودودیؒ کے تصور دین سے اختلاف کیا تو فریقین کے راستے جدا ہوگئے۔

مولانا مودودیؒ کے گھر نماز عصر کے بعد روزانہ ایک نشست ہواکرتی تھی جس میں وہ اپنے عقیدت مندوں کے سوالوں کے جواب دیا کرتے،کہا گیا کہ علامہ صاحب نے بھی ایسی نشست شروع کردی،وہ مولانا ہی کی طرح سر پر جناح کیپ پہنتے، ان ہی جیسی Walking Stick ہاتھ میں لے کر چلتے۔

جماعت اسلامی سے راہیں جدا کرلینے والوں کے لیے ڈاکٹر اسرار احمد نے ایک ٹھکانہ بنا رکھا تھا لیکن جاوید صاحب نے ایک پامال راہ پر چلنے کے بہ جائے نیا راستہ اختیار کیا اور مولانا امین احسن اصلاحی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کر کے بحرِ علم میں غوطہ زن ہو گئے۔ شاید یہی زمانہ تھا جب ’’نوائے وقت‘‘ میں ان کے کالموں کی اشاعت شروع ہوئی لیکن ایک مقبول عام اخبار بھاری بھرکم علمی زبان کی تاب نہ لا سکا، میں سوچتا ہوں کہ یہ اچھا ہی ہوا کیوں کہ آگے چل کر انھوں نے جو راہ اختیار کرنی تھی، کالم نگاری ا سے کھوٹا کردیتی۔

کچھ عرصے کے بعد میرے ایک بزرگ چوہدری صفدر علی ان سے وابستہ ہوئے تو مجھے اس پر حیرت ہوئی جس پر انھوں نے کہا کہ اس الجھن کی سلجھن لاہور میں ہے۔ جاوید صاحب ان دنوں لاہور ریلوے اسٹیشن کے عقب میں تیزاب احاطہ کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہا کرتے تھے۔ نچلے متوسط طبقے کی آبادی میں ہونے کے باوجود یہ مکان جاوید صاحب کے نفیس ذوق کا آئینہ دار تھا۔ مولانا مودودیؒ کی طرح اس گھر کا ڈرائینگ روم بھی صاحب خانہ کا ڈرائینگ روم، دفتر اور غور وفکر کا مقام تھا جس میںوہ درمیانے سائز کی ایک نفیس میزکے پیچھے سادہ سی کرسی پر تشریف رکھتے تھے۔ میری ان سے پہلی تفصیلی ملاقات اسی جگہ ہوئی، ایک سوال پر انھوں نے اپنے مستقبل کے منصوبوں کا اعلان ان الفاظ میں کیا:

’’میں اب وہ کام کروں گا جس کی مسلمانوں کو ضرورت ہے‘‘۔
’’یعنی؟‘‘
’’یعنی یہ کہ میں علماء کی ایک جماعت تیار کروں گا جودنیا کو دین کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرسکے، چلئے باقی باتیں کھانے پر ہوں گی‘‘۔

جاوید صاحب نے اپنی بات درمیان میں چھوڑتے ہوئے کہا اور ہم دفتر سے اٹھ کر گھر کے اندر یعنی لاؤنج میں جا بیٹھے جہاں بھاپ دیتا ہوا گرم پلاؤ ہماری اشتہا میں اضافہ کر رہا تھا۔ کھانے کے دوران جاوید صاحب نے اپنی بات وہیں سے شروع کی جہاں سے ا س کا سلسلہ ٹوٹا تھا، انھوں نے کہا کہ جب ہمارے تیار کردہ علما اپنے عہد کے مسائل کا جائزہ لے کر دین حنیف کی تعلیمات کی روشنی میں ان کا حل پیش کرنے کے قابل ہوجائیں گے تو ہم ایک جماعت بنائیں گے جس میں عام لوگوں کو بھی شمولیت کی دعوت دی جائے گی۔ مجھے میرے سوال کا جواب مل گیا۔ یہ آرزو بھی کچھ ویسی ہی تھی جس کی خاطر پٹھان کوٹ میں دارالسلام ۳ ؎ نامی بستی بسائی گئی تھی۔ اس عظیم الشان سفر کی ابتدا میں چوہدری صفدر صاحب جاوید صاحب کے پہلے نمایاں ساتھی تھے لیکن ان بزرگوں کی دوستی زیادہ پائیدار ثابت نہ ہو سکی، رجم کی سزا کے مسئلے پر اختلاف پیدا ہوا تو پہلے تو قلم و قرطاس کے ذریعے اس کا اظہار ہوا پھر راہیں جدا ہو گئیں۔

جاوید صاحب سے یہ ملاقات میرے لیے ذاتی طور پر بہت یاد گار رہی، اس کے کئی اسباب تھے۔ پہلی وجہ تو جاوید صاحب کا مزاج تھا جس کی نفاست سے میں آج بھی متاثر ہوں۔ دوسرے، مجھے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی شخصیت کا مہمان بننے کی سعادت حاصل ہوئی۔ تیسرے، انھوں نے مجھے اپنی ایک کتاب ’’اسلام کا سیاسی نظام‘‘ تحفتاً عطاکی اور آخری بات یہ کہ وقتِ رخصت جاوید صاحب سے مصافحہ نہ ہوسکا، حالاں کہ وہ ہمیں رخصت کرنے کے لیے گھر سے باہر چبوترے تک تو تشریف لائے لیکن اس طرح ہاتھ باندھے کھڑے رہے کہ ہاتھ بڑھا کر میں ان سے مصافحہ کرنے کی جرأت ہی نہ کرسکا۔

اسی ملاقات میں،میں نے نوخیزوں کی سی ناتر اشیدہ بے ساختگی کے ساتھ ان سے پوچھا تھا:

’’آپ ٹیلی ویژن پر کیوں نہیں آتے؟‘‘۔
’’میں ٹیلی ویژن پر آنا پسند نہیں کرتا۔‘‘
انھوں نے ہمیشہ کی طرح دوٹوک جواب دیا۔
’’وہ کیوں؟‘‘۔

اس پر انھوں نے کہا کہ بہت سا وقت ضائع ہوجاتا ہے، میک اپ کرانا پڑتا ہے اور مقررہ وقت سے بہت پہلے ٹیلی ویژن اسٹیشن جانا پڑتا ہے، بہتر ہے کہ یہ وقت کسی مناسب کام یعنی تعلیم و تحقیق پر صرف کیا جائے۔ جانے کیا سبب تھا کہ جاوید صاحب میرے دل کی کیفیت بھانپ گئے، کہا کہ آپ کے ذہن میں مولانا مودودیؒ کا خیال آرہا ہوگا کہ آخر وہ بھی تو ٹیلی ویژن پر آجایا کرتے تھے۔ میرا جواب اثبات میں پاکر کہنے لگے کہ اُن کے ساتھ ایسے مسائل نہ تھے، ٹیلی ویژن والے خود چل کر ان کے گھر آتے اور ان سے وقت کے طلب گار ہوتے، ہمارا معاملہ دوسرا ہے۔

مستقبل کے علمی منصوبوں کے بارے میں؛میں نے سوال کیا تو فرمایا:

’’میرے پیش نظر زمانہ جاہلیت ۴ ؎ کی شاعری ہے،اس کا مطالعہ کرلیا تو جانئے کہ وہ زبان سمجھ میں آگئی جس میں قرآن حکیم نازل فرمایا گیا۔اس مطالعہ کے بعد قرآن کی تفسیر لکھنے کا ارادہ ہے‘‘۔

دو ڈھائی برس کے بعدجاوید صاحب سے میری دوسری ملاقات بھی اسی گھر میں ہوئی۔ ان دنوں ادب میرا اوڑھنا بچھونا تھا اوراس دھن میں اشفاق احمد کاشف۵؎ میرا ہمدم و دمساز تھا۔ ہم دونوں اکثر لاہور آتے اور بزرگ ادیبوں،شاعروں اور دانش وروں سے ادبی موضوعات پرگفتگو کرکے ان کے خیالات کو ریکارڈ کر لیاکرتے،ہم سمجھتے تھے کہ ہماری یہ کوشش ایک بیش قیمت ادبی خدمت ہوگی جو ہمارے جیسے نوآموز عشاقِ ادب کے لیے رہنمائی کا مستقل ذریعہ بن جائے گی۔ جاوید صاحب کا نام بھی ہماری فہرست میں شامل تھا، ہمارا خیال تھا کہ دینی حلقوں میں ادب کے بارے میں جو افراط و تفریط پائی جاتی ہے، اس سلسلے میں ایک روشن خیال مذہبی اسکالر کی حیثیت سے ان کے افکار تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوں گے۔ جاوید صاحب نے ہمارا خیر مقدم خوش دلی کے ساتھ کیا، ہمارے جذبے کی تحسین کی اور بات چیت پر آمادہ ہوگئے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ شرط بھی لگا دی کہ گفت گو ریکارڈ نہ کی جائے۔ ہمیں اپنا منصوبہ ناکام ہوتا نظر آیا تو ہم نے اشفاق احمد، عبدالعزیز خالد،نعیم صدیقی، شاید حنیف رامے اور بعض دیگر دانش وروں کی گفت گو کے ریکارڈ ان کی خدمت میں پیش کیے اور عرض کیا کہ افکار کے اس گل دستے میں آپ کے خیالات لوگوں کو ایک نئے ذائقے سے رو شناس کرائیں گے۔ اس لیے یہ بات چیت ریکارڈ ہو جائے تو ہمارے لیے ایک اعزاز ہوگا۔ انھوں نے مطالبہ تسلیم کر لیا اور اشفاق نے جو میری بائیں جانب بیٹھا تھا، ٹیپ ریکارڈر کا پلگ جاوید صاحب کی نشست کے قریب سوئچ بورڈ میں لگا دیا۔ پہلی ملاقات کی طرح یہ ملاقات بھی یاد گار رہی، جاوید صاحب نے جس میں ادب، اس کی اقدار اورمختلف نظریات کے بارے میں بڑی خوب صورت گفتگو کی لیکن جب بات چیت مکمل ہوگئی اور اشفاق سوئچ آف کرنے کے لیے جھکاتو بھونچا رہ گیا،پلگ اپنے کھانچے سے نکلا ہواتھا اور ٹیپ ریکارڈر ابتدائی چند منٹ کے بعد مکمل طور پر بے جان رہا تھا، اشفاق کا بیان ہے کہ تار سمیٹتے ہوئے اتفاقاً اس کی نگاہ میزبان پر پڑی تو اُن کا چہرہ اطمینان بھری مسکراہٹ سے چمک رہا تھا، ممکن ہے کہ یہ بدگمانی ہو مگر اس حادثے نے ہمیں بہت دکھی کیا۔

تھوڑے ہی عرصے کے بعد جاوید صاحب نے’’خیال و خامہ‘‘ کے عنوان سے ایک بار پھر کالم نگاری شروع کردی۔ یہ پہلی بار تھی جب انھوں نے اپنے نام کے ساتھ تخلص یعنی’’ غامدی‘‘ کا اضافہ کیا۔ انھوں نے یہ تخلص کیوں اختیارکیا، اس کا پس منظر دل چسپ ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے جد امجد کانام ان کے نام کا حصہ بنے۔ وہ کوئی عام آدمی ہوتے تو اپنے نام میں نور یا الٰہی کے الفاظ کا اضافہ کر کے مطمئن ہو جاتے مگر یہ تو جاوید صاحب تھے، ندرت جن کی فکر اور مزاج کا حصہ ہے۔ان کے دادا نور الٰہی صاحب پاک پتن شریف کے ایک نیک نام اور قابل احترام بزرگ تھے، اپنے تنازعات کے فیصلوں کے لیے لوگ ان پر اعتبار کیا کرتے، جاوید صاحب نے اس بزرگ کی اسی خوبی کو اپنی پہچان بنانے کا فیصلہ کیا اورایک عرب قبیلے کے نام ’’غامد‘‘ کی رعایت سے غامدی بن گئے، یہ قبیلہ بھی ان کے دادا ہی کی طرح نیک نام اور قابل احترام تھا۔

یہ بھی پڑھئے: مولانا مودودی، جماعت اور مولانا اصلاحی: غامدی صاحب کے جواب میں

 

کم و بیش یہی زمانہ ہے جب جاوید صاحب نے الانصار المسلمون کے نام سے ایک جماعت قائم کی۔ مولانا وصی مظہر ندوی اس کے سربراہ اور غامدی صاحب سیکریٹری جنرل تھے۔ یوں انھوں نے اپنے طے شدہ اہداف میں سے ایک بڑے ہدف کی طرف پہلا قدم اٹھا دیا۔ تخلص کی طرح جماعت کے نام کے انتخاب میں بھی ان کی انفرادیت پسندی بروئے کار آئی لیکن یہ جماعت قومی اور علمی میدان میں کوئی نقش قائم کرنے سے پہلے ہی ماضی کا حصہ بن گئی۔ شاید اس کا سبب یہ ہو کہ جماعت کی قیادت کے لیے انھوں نے خود پر اعتماد کرنے کی بہ جائے مولانا وصی مظہر ندوی ۶؎  کا انتخاب کیا۔ مولانا ندوی ایک قابل لیکن مہم جو بزرگ تھے جنھوں نے جماعت اسلامی سے علیحدگی کے بعدخوب نام پیدا کیا اور بہت سے سیاسی تجربات کیے، نسبتاً پس منظر میں رہ کر بھاری بھرکم علمی اور فکری خدمات کی انجام دہی ان کے مزاج سے مطابقت نہ رکھتی تھی۔

غامدی صاحب سے میری آخری ملاقات ایک ٹیلی ویژن چینل۷ ؎ کے اسٹوڈیوز میں ہوئی جہاں ان دنوں وہ ایک پروگرام کیا کرتے تھے۔یہ ملاقات چوں کہ طویل عرصے کے بعد ہوئی تھی، اس لیے اس میں گرم جوشی کی وہ کیفیت مفقود تھی جوکسی ہمدم دیرینہ سے اچانک ملاقات کی صورت میں پیدا ہوجایا کرتی ہے۔ میں نے کچھ پرانے حوالے دیے تو انھوں نے گمبھیر سنجیدگی کے ساتھ ان کی تصدیق کی لیکن بات چیت آگے نہ بڑھ سکی۔ مشرقی پنجاب کے ایک جاگیر دار نے علامہ اقبالؒ کی خواہش پر پٹھان کوٹ میں ایک بڑا قطعہ اراضی مولانا مودودیؒ کے سپرد کیا تھا تاکہ وہ اس جگہ دین کی خدمت کے لیے ایک ادارہ قائم کرسکیں، اسی ’’تعلق‘‘ کے بھروسے پر وہ اپنے چند دوستوں کی معیت میں مولانا مودودیؒ کے ہاں تشریف لائے تاکہ گپ شپ ہوسکے لیکن مایوس لوٹے اور واپس جا کر علامہ اقبالؒ سے شکایت کہ مودودیؒ تو سیدھے منہ بات بھی نہیں کرتا۔علامہ اقبالؒ نے فرمایا:

’’وہ علم دین کا جویا ہے، گپ شپ کی عیاشی کا متحمل کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘۔

مجھ سے بھی ایسی ہی غلطی ہوئی تھی حالاں کہ میں تو چوہدری نیاز علی جیسا کوئی فراخ دل وڈیرا بھی نہ تھا۔ ان باتوں سے قطع نظر یہ حقیقت ہے کہ غامدی صاحب علومِ دینیہ کے ایک سچے طالب علم ہیں جنھوں نے مشکل راہوں کا انتخاب پوری ذہنی آمادگی کے ساتھ کیا اور ان پر ثابت قدمی کے ساتھ چلے، جس بات کو انھوں نے سچ جانا، برملا زبان پر لائے اور اس پر ڈٹ گئے۔ ان کی اسی خوبی نے انھیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز اور قابل احترام بنا دیا۔


حواشی:

۱۔  ہاشمی صاحب، مولانا حکیم عبدالرحمن ہاشمی جماعت اسلامی سرگودھا کے امیر اور نہایت شفیق بزرگ۔
۲۔  ۲۳۔ اے دارا لرحمت مولانا حکیم عبدالرحمن ہاشمی کی رہائش گاہ۔
۳۔ دارالسلام،مشرقی پنجاب میں واقع پٹھا ن کوٹ میں دارالاسلام نام کی یہ بستی علامہ اقبالؒ کی خواہش پر بسائی گئی تھی جس کے لیے ایک ممتاز زمیندار چو ہدری نیاز علی مرحوم نے ایک بڑا قطع اراضی مخصوص کر دیا تھاتا کہ بالغ نظر علمائے کرام دنیا کے جھمیلوں سے دور رہ کر فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کی خدمت انجام دے سکیں۔ علامہ اقبال ؒ نے یہ کام مولانا مودودی ؒ کے سپرد کیا تھا۔
۴۔  زمانہ جاہلیت، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سے پہلے کی شاعری۔
ٖٖٖ۵۔  اشفاق احمد کاشف، میرا دوست، مقیم امریکا،کتاب میں کئی مقامات پر اس کا ذکر موجود ہے۔
۶۔  مولاناسیدوصی مظہر ندوی، حیدر آباد کے سابق میئرو سابق نگراںوفاقی وزیر، یہ بزرگ ایک زمانے میں جماعت اسلامی میں تھے۔ علیحدہ ہو کر بھی مختلف پلیٹ فارموںسے سیاست میں حصہ لیتے رہے، وفات سے چند برس قبل متحدہ قومی موومنٹ کے حامی اوراس کی ذیلی تنظیم مہاجر رابطہ کونسل کے چیئرمین ہو گئے تھے۔مولاناندوی ایم کیوایم کے فلسفہ قومیت کو قرآن و سنت کی روشنی میںجواز فراہم کیا کرتے تھے۔
۷۔  ٹیلی ویژن چینل ’’آج‘‘ٹیلی ویژن، پرائیویٹ ٹیلی ویژن چینلوں میں اسے یہ اعزاز حاصل ہے غامدی صاحب نے سب سے پہلے اسی چینل کے لیے اپنے علمی اور فکری پروگرام ریکارڈ کرائے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: