آخر فیمنزم کا قصہ کیا ہے————– ممتاز رفیق

0

عو رت کو کیا بیراگ سوار ہوا کہ وہ تمام کام کاج چھوڑ کر عورتوں کے حقوق کا پرچم اٹھا کرمیدان عمل میں نکل آئی؟ عورت میں یہ تبدیلی برسوں کے جبر و استحصال کے بعد وقوع پذیر ہوئی یہ صدیون پرانی کتھا ہے پدرسری نظام نے جب اسے دیوار سے لگانے کی ہر ممکن کوشش میں ناکام ہو کر اس کے وجود کو ہی مٹانے کی سازشیں شروع کردیں تو اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے اسے جس کے دم سے کائنات میں رنگ بکھرے ہوئے تھے اور جوزمین کی طرح زرخیز اور حسین تھی مجبور ہو کر میدان میں اترنا پڑا- عورت کی یہ تحقیر اور توہین کب سے جاری ہے اس کا اندازہ قائم کرنے کے لیے میں آپ کو اس دور میں لیے چلتا ہوں جب انسان جھاڑیوں میں رہتا اور بش مین کھلاتا تھا یعنی وہ لوگ جو جھاڑیوں میں اقامت رکھتے تھے اور قبیلوں کی شکل میں رہتے تھے-ایسے ہی ایک قبیلے کے چیف نے عورتوں کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے ہرزہ سرائی کی کہ عورتوں کو اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ بچے پیدا کریں اور مرد کی خدمت کریں- یہ رائے اس دور کے مردکی عورتوں کے حوالے سے ان کی حیثیت کے تعین کے حوالے سے کافی ہے یہ پدر سری نظام کے پیروکاروں کا بھیانک چہرہ تھا اور خیال رہے یہ وہ دور تھا جب انسان نےنہ تو اناج پیدا کرنا سیکھا تھا اور نہ ہی پہیہ بنایا تھا اس وضاحت کی ضرورت مجھے اس لیے محسوس ہوئی تاکہ یہ ثابت کرسکوں کہ عورت پر جبر و استحصال کوئی کل یا پرسوں کاقصہ نہیں ہے-

مین نے عرض کیا تھا کہ عورتوں کے وجود کو نابود کرنے کی کوشش تک کی گئی تو قرون وسطی میں اس دور کو یاد کیجیئے جب کلیسا کو اقتدار پر غلبہ حاصل تھا اس زمانے میں کلیسا کے اشارے پر( جو پدر سری نظام کا سب سے بڑا حامی تھا) ان گنت عورتوں کا قتل عام کیا گیا ان بے گناہ عورتوں پر کاہنہ یا جادو گر ہونے کے الزام میں اس ظلم کو روا سمجھا گیا- اس قتل عام سے جو عورتیں بچ گئیں انہیں غلام بنا لیا گیا اور ان کے نیلام عام ہوئے- کیا کسی زندہ انسان کی اس سے بڑھ کر بے حرمتی ممکن ہے؟ یہ تو اس دور کی باتیں ہیں جب انسان اپنی بھوک بھرنے کے لیے کچھ بھی کرسکتا تھا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس دور میں انسان اور درندوں میں صرف ان کی ساخت کا فرق تھا لیکن کیا جدید دور میں عورت کے حوالے سے رویے میں کوئی فرق پیدا ہوا؟ اس کا جواب اس تانیتی ادب میں مل سکتا ہے جس کے تحت نظموں اور افسانوں میں ہمیں خواتین تخلیق کاروں کی صدائے احتجاج سنائی دیتی ہے اس کے علاوہ دنیا بھر میں عورتوں سے مردوں کا ناروا سلوک ظاہر کرتا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدلا بلکہ اس ناروائی میں اور شدت آگئی ہے ہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جبر و استحصال کی شکج بدل گئی ہے جس کی ایک نظیر مغرب میں عورت کو حقوق کا جھانسہ دے کر آزادی اور مرد کی ہمسری کے دھوکے میں رکھ کر اسے برہنا کردیا گیا یہ عورت پر جنسی جبر کی ایک شیطانی ذہانت کی مثال کہی جاسکتی ہے- سوال یہ ہے کہ جب عورت مرد کے مقابلے مین جسمانی لحاظ سے کم زور ہونے کے علاوہ کسی طور کم نہیں ہے تو اسے اس متواتر ظلم و جبر کا نشانہ کیسے بنایا گیا اور وہ یہ سب خاموشی سے کیوں برداشت کرتی رہی یا یہ کہیئے کہ اگر اس نے احتجاج کیا بھی تو وہ کامیابی سے دوچار کیوں نہیں ہوا؟ ہم دیکھتے ہیں کہ ادب کے میدان میں لاتعداد خواتین تخلیق کار ایک تواتر سے آواز احتجاج بلند کر رہی ہیں۔ یہاں یہ ضمنی سوال سر اٹھاتا ہے کہ کیا میدان ادب میں کی جانے والی ان کوششوں سے خواتین کے حقوق حاصل کرنے کا مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے؟ یہ سوال میں برصغیر ہند و پاک کی عورت کے تناظر میں کیا جو شاید دنیا میں سب سے زیادہ پدر سری نظام کے ظلم کی چکی میں پس رہی ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ ادب کی جانے والی ان کوششوں سے شہرہ معاشرے میں معاشرت رکھنے والی خواتین کو قابل قدر آگاہی حاصل ہوتی ہے اور اسے منظم اور متحرک ہونے کی ایک راہ نظر آتی ہے- اس سلسلے میں ابھی حال میں ڈاکٹر نسترن احسن فتیحی کی کتاب ” ایکو فینمزم” اس حوالے سے ایک قابل قدر کام ہے- اپنی کتاب میں ڈاکٹر صاحبہ ایکو فیمنزم کی اصطلاح کی تشریح کرتے ہوئے خواتین کے حقوق میں سب سے بڑی رکاوٹ سرمایہ دارانہ نظام کو قرار دیتی ہیں انہوں نے سرسری انداز میں مذہب کو بھی اس کا ذمہ دار بتایا ہے میں سرمایہ داراں نظام کے حوالے سے عرض کروں گا کہ یہ نظام تو خود دم توڑ رہا ہے یہ کوئی مضبوط رکاوٹ نہیں بن سکتا ہاں صدیوں پرانے اعتقاد بلاشبہ اس حوالے سے سب سے بڑی رکاوت اور پدرسری نظام کے سب سے اہم سہولت کار ہیں- نسترن فتیحی نے اپنی کتاب میں انقلابات عالم پر بھی تفصیلی اظہار خیال کرتے ہوئے ان انقلابات میں عورت کے قائدانہ کردار کا تذکرہ کیا ہے- میں یہ سمجھتا ہوں کہ دنیا میں کہیں بھی عورت کی پرجوش اور ولولہ انگیز شرکت کے بغیر کوئی انقلاب کامیابی سے دوچار ہو ہی نہیں سکتا۔ اس حوالے سے انقلاب روس کا حوالہ اہم ہو گا جس کی کامیابی کی وجوہات کو ہم میکسم گورکی کی کتاب ‘ماں’ کے مطالعہ کے بغیر نہیں سمجھ سکتے- اس کتاب میں تفصیل سے انقلاب میں عورت کے اس کلیدی کردار کا تزکرہ کیا ہے جو اس انقلاب کی کامیابی کی بنیاد ثابت ہوا- یہاں ہمیں اسپین میں خالصتا عورتوں کے انقلاب کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے جس نے دنیا میں ایک حیران کن نظیر قائم کی اس کے علاوہ ماوزے تنگ کے انقلاب چین کو بھی بھلایا نہیں جاسکتا جس میں عورتوں نے لازوال قربانیوں کے علاوہ انقلاب کی کامیابیوں میں فیصلہ کن کردار ادا کیا- ڈاکٹر صاحبہ ایکو فیمنزم میں خواتین کوجدوجہد کی دعوت دیتی ہیں لیکن انہیں یہ تعلیم نہیں کرتیں کہ جدوجہد آغاز کرنے سے قبل انہیں کیا تیاریاں کرنی چاہیں-

میں نہیں سمجھتا کہی ایک ناخواندہ عورت انقلابی جدوجہد میں کوئی قائدانہ کردار ادا کرسکتی ہے اس لیے علم وہ ہتھیار ہے جو اس جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے اور پھر کیا معاشی خود مختاری حاصل کئے بغیر عورت کسی آزادی کا تصور کرسکتی ہے؟ میں بات کو سمٹتے ہوئے کہنا چاہتا ہوں کہ عورت انقلاب برپا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے لیکن اسے اس جدوجہد کا آغاز مکمل تیاریوں کے بعد کرنا چاہیئے- مجھے یقیق ہے کے جب اس انقلاب کا آغاز ہوگا تو مجھ ایسے لاتعداد غیر جانب دار اور باشعور مرد عورتوں کے شانہ بہ شانہ اس جدوجہد میں شریک ہوں گے- 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: