فیس بُک گروپ اور ان کا دلچسپ بیان —- شوکت نیازی

0
  • 71
    Shares
فیس بک اکاؤنٹ بنانے اور رشتہِ ازدواج میں منسلک ہونے میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں میں ابتدائی چند ماہ مسّرت و انبساط کے لمحات ہوتے ہیں۔ فیس بک اکاؤنٹ بنانے کے بعد بھی ابتدائی چند ماہ ایک خوشگوار حیرت کے حامل ہوتے ہیں جب صارف اپنے قریبی عزیز و اقارب اور دوست احباب کو فیس بک پر پاتا ہے اور خود کو ان کی خوشیوں اور کامیابیوں میں شریک دیکھتا ہے ۔ پھر ہولے ہولے وارفتگی کا یہ دہکتا ہوا الاؤ اپنی حدّت اور شدّت کھونے لگتاہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ایک نیک اور پارسا فیس بک صارف دانستہ نا دانستہ طور پر ایک دلدل میں دھنسنے لگتا ہے۔ ۔ ۔ بالکل ایک معصوم شوہر کی مانند۔ ۔ ۔ یہ دلدل فیس بک گروپس کے نام سے جانی جاتی ہے۔
میں نے بھی ابتداء میں اپنی پسند اور دلچسپی کے مطابق گروپس میں شمولیت اختیار کی جیسے فوٹوگرافی، غیر ملکی ادب ، سیر و سیاحت، فلمیں وغیرہ۔ ۔ ۔ پھر رفتہ رفتہ دوست احباب دیگر گروپوں میں دعوت دیتے گئے یا خود ہی شامل کرتے گئے۔ اب میں مندرجہ ذیل گروپس کا ممبر ہوں ۔ ان کا مختصر بیانیہ ذیل میں درج ہے۔
فوٹوگرافی گروپ:
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ گروپ فوٹوگرافروں پر مشتمل ہے جو دوسرے فوٹوگرافروں کے جائزے اور تجزئے کے لئے اپنی تصاویر گروپ میں لگاتے ہیں۔ ساتھی فوٹوگرافروں کو اس شعبے میں نِت نئی جدّت سے آگاہ کرنے کے لئے اچھے فوٹوگرافر اپنے نئے سازوسامان کی خریداری کی تصاویر “نیو ایڈیشن اِن مائی گئیر” کے عنوان سے ضرور پوسٹ کرتے ہیں چاہے وہ کیمرے یا فلیش میں استعمال ہونے والے سیل کا پیکٹ ہی کیوں نہ ہو۔ مجھ جیسے نوآموز اور اناڑی فوٹوگرافر ہر تصویر کے نیچے کمنٹ میں پوچھتے ہیں کہ یہ تصویر کس کیمرے سے کھینچی گئی ہے؟ اگر جواب نائیکون میں آئے تو میں کہتا ہوں کہ کینن بہتر کیمرہ ہے۔ اس کے بعد ایک طویل بحث چھڑتی ہے کہ کون سا کیمرہ بہتر ہے۔ یہاں احساس ہوتا ہے کہ نائیکون کینن فیوجی سونی وغیرہ کیمرہ ساز کمپنیاں کم اور ذات برادری زیادہ ہیں جن کی توہین یا تحقیر پر بندوقوں کا نکلنا جائز ہے۔ ایسے بحث و مباحثے کے تدارک کے لئے اچھے فوٹوگرافی گروپ اب ہر تصویر کے ساتھ تاکید کرتے ہیں کہ تصویر سے متعلق تکنیکی معلومات بھی لکھی جائیں تاکہ اناڑی اور نوارد فوٹوگرافر تصاویر کھینچ کر تجربے سے سیکھنے کے بجائے صرف ان سیٹنگز کو کاپی کریں اور جلد از جلد لیجنڈ بننے کی جانب گامزن ہوں۔ کیمرے کا نام، ماڈل، کیمرے کی سیٹنگ، تصویر کا مقام، وقت، دن، شناختی کارڈ کا نمبر، میٹرک کی سند کی کاپی، شادی شدہ ہونے کی صورت میں بیوی یا شوہر سے فوٹوگرافی کرنے کے اجازت نامہ، کسی گریڈ سترہ کے افسر سے کریکٹر سرٹیفیکیٹ کی تصدیق شدہ کاپی، فوٹوگرافر کا قد، عمر، وزن، جوتے کا سائز اور صبح ناشتے میں کیا کھایا جیسی تفصیلات کا بیان لازم قرار پایا جاتا ہے۔
فوٹوگرافی گروپوں میں اخوّت اور ایثار کا مظاہرہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے جب ممبران بلا تکلّف ایک دوسرے کی تصاویر کاپی کرتے ہیں اور ان پر اپنا نام چھاپ کر گروپ میں پوسٹ کر دیتے ہیں۔ اچھی کیمرہ ساز کمپنیاں بھی اپنے صارفین کو متوجہ کرنے کے لئے فیس بک گروپ چلاتی ہیں۔ دیگر کمپنیوں کے بارے میں معلوم نہیں لیکن چونکہ راقم نائیکون کیمرہ استعمال کرتا ہے اس لئے جانتا ہوں کہ نائیکون پاکستان اپنے صارفین سے براہ راست رابطے میں رہنے کے لئے متعدد گروپ چلا رہی ہے جن میں متحرک اور معروف ترین گروپ یہ ہیں: نائیکون پاکستان، نائیکون اسلام آباد، نائیکون روالپنڈی، نائیکون ڈھوک حسّو، نائیکون جھنڈا چیچی ، نائیکون سواں اڈّا، نائیکون کھڈّا مارکیٹ ، نائیکون بھارا کہو وغیرہ وغیرہ۔ ۔ ۔
سیاحتی گروپ:
وطنِ عزیز میں امن و سکون کی روز بروز بہتر ہوتی صورتحال کا سب سے بہترین اشاریہ فیس بک پر سیاحتی گروپوں کی روز افزوں تعداد ہے۔ راقم اس وقت بلا مبالغہ تقریباً ساڑھے سات ہزار سیاحتی گروپوں میں شامل ہے۔ چوبیس ہزار کے قریب دیگر گروپوں میں شمولیت کے دعوت نامے تاحال قبولیت طلب ہیں۔ چونکہ تمام مذاہب اور ممالک کے قوانین و ضوابط کے مطابق کسی بھی سیاحتی سفر سے بغیر تصاویر کھینچے واپسی پر مکمل پابندی ہے اس لئے سیاحتی گروپوں اور فوٹوگرافی گروپوں میں متعدد دوست مشترک ہیں۔ غیر ترقی یافتہ قدیم دور میں سیاح دور دراز علاقوں میں جان جوکھوں میں ڈال کر شہروں کے میلوں جھمیلوں سے مِیلوں مسافت کے بعد قدرت کی صنّاعی سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ پورے قافلے میں شائد ایک ہی سیّاح کے پاس کیمرہ ہوا کرتا تھا۔ اور اس کیمرے کا رُخ قدرتی مناظر کی جانب ہوتا تھا۔ فی زمانہ فیس بک کے سیاحتی گروپوں کے ممبران کی اکثریت اسلام آباد سے ایک طویل اور دشوار گزار سفر کے بعد مری ایکسپریس وے پر گلوریہ جینز یا مارگلہ کی سنگلاخ اور آسمان کو چھوٹی ہوئی چوٹیوں پر مونال ریسٹورانٹ میں پہنچتے ہیں۔ چونکہ یہ علاقے تمام لوگوں نے دیکھ رکھے ہیں اور پہیّہ دوبارہ ایجاد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لئے فیس بک سیاحوں کے کیمروں کا رخ ان کے اپنے چہروں کی جانب ہی رہتا ہے۔ سیاح اپنی تصاویر میں سفر کی تاریخ لکھنے سے حتیٰ المقدور گریزاں رہتے ہیں۔ یوں پندرہ سال پہلے نتھیا گلی میں برفباری کے دوران کھینچی گئی تصویر ہر سال جنوری کے پہلے ہفتے میں “کولڈ آئس فالنگ ان نتھیا گلی رائٹ ناؤ” کے عنوان کے ساتھ دوبارہ پوسٹ کی جا سکتی ہے۔
سیاحتی گروپوں میں پوسٹ کی گئی تصاویر ممبران میں انتہائی مقبول رہتی ہیں۔ ایسی تصاویر کے نیچے کمنٹ میں سب سے زیادہ لکھا جانے والا کمنٹ ہوتاہے، “یار ہمیں بتایا بھی نہیں۔ ہم بھی ساتھ چلتے!” یہ لوگ انتقامی کارروائی کے طور پرگھر والوں کی جانب سے سبزی یا دہی لینے جاتے ہیں تو سیلفی کھینچ کر پوسٹ کرتے ہیں جس کا عنوان ہوتا ہے، “ڈِسکورنگ اولڈ ہیری ٹیج آف راجہ بازار!”
ہوٹل ریسٹورانٹ گروپ:
کسی زمانے میں شریف شرفاء گھر میں ہی کھانا کھانے کو ترجیح دیا کرتے۔ پھر جیسے جیسے ٹی وی ڈرامے مقبول ہوئے خواتین خانہ کو گھروں میں کھانا پکانے کے لئے وقت کم پڑنے لگا۔ انہی وجوہات کی بنا پر دفاتر جانے والے احباب کو گھر سے تیار دوپہر کا کھانا ملنا بھی قصّہ پارینہ ہوا۔ یوں ہفتے میں متعدد دفعہ ہوٹلوں اور ریسٹورانوں کا قصد ہونے لگا۔ چونکہ فیس بک صارفین کے لئے ہر وہ سانس گناہِ کبیرہ ہے جس کا دستاویزی ثبوت فیس بک پر نہ پایا جائے اس لئے کھانا کھانے کی نیّت سے گھر سے نکلتے ہوئے، ریسٹورانٹ یا کافی شاپ پر پہنچتے ہوئے، کھانے کے انتظار میں، دوران اور بعد میں متواتر سٹیٹس اپ ڈیٹ یا ترجیحاً تصاویر ہوٹل ریسٹورانٹ گروپ میں لگانا لازم قرار پایا۔ چند سالوں سے مارننگ شوز مقبول ہوئے تو خواتین خانہ نے ناشتہ بنانے سے بھی توبہ کر لی۔ احباب نے چائے خانہ، گلوریہ جینز، کافی پلانیٹ سے پہلی مرتبہ کافی پینے کے بعد کافی کے گلاس احتیاط سے گاڑی میں رکھ چھوڑے۔ روزانہ صبح نو بجے اور شام چار بجے کے قریب خالی گلاس ہاتھ میں تھامے سیلفی بعنوان، “اوہ مائی گاڈ ، کانٹ لِیو وِدآؤٹ مائی کافی!” پوسٹ کرنا مقبولیت کے بامِ عروج پر پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔
یاروں نے ہوٹلوں، ریسٹورانٹس اور کافی شاپس پر اپنی آراء پر مشتمل تبصرے لکھنا شروع کئے۔ ان میں فنِ طباخی یعنی کلینری آرٹس کے ماہر وہ احباب بھی شامل ہیں جنہیں بریانی اور پلاؤ میں فرق بیان کرتے ہوئے بھی کھانسی کا دورہ پڑتا ہے۔ لیکن چونکہ وہ اپنے تبصروں میں “اے ٹچ آف دِس”، “اے ڈیش آف دیٹ” یا ” اے وہِف آف دیٹ” جیسی انگریزی ترکیبات استعمال کرتے ہیں اس لئے قارئین کی صحت پر کچھ خاص اثر نہیں پڑتا اور وہ تبصرہ نگار کی جنس سے قطعِ نظر اسے نائیجیلا لاسن مانتے ھیں۔ اچھے تبصرہ نگار اپنے تبصروں میں “جسٹ لائیک شانز ایلیزے” یا “ریماینڈز می آف میڈیسن سکوئیر” یا کم از کم “ہذا المماثلت فی البرج الخلیفہ” ضرور تحریر کرتے ہیں۔
اگرچہ اس امر پر ابھی فیصلہ آنا باقی ہے کہ اطالوی پیزا ہاتھ سے کھانا چاہئیے یا چھری کانٹے سے لیکن روشن خیال اور تعلیم یافتہ طبقے کا ایک بڑا حصّہ غریب عوام سے یکجہتی کے طور پر اسلام آباد میں کھمبیوں کی طرح اگنے والے “نان سپاٹ ” یا ڈھابوں پر “ہالا پینو مولی نٹّیلہ” نان یا پراٹھے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے چھری کانٹا ضرور استعمال کرتے ہیں۔ راقم نے بھی چند سال پہلے ایک تبصرہ لکھ رکھا تھا۔ اب ہر ہفتے دس دن بعد ہوٹل ریسٹورانٹ اور چند ڈشوں کا نام بدل کر اپنے فیس بک گروپ میں پوسٹ کر دیتا ہوں۔
ٹریفک صورتحال اَپ ڈیٹس گروپ:
بلامبالغہ میری رائے میں فیس بک پر پائے جانے والے تمام گروپس میں مفید ترین وہ گروپ ہیں جو آپ کے متعلقہ شہر میں ٹریفک سے متعلق لمحہ بہ لمحہ تازہ ترین اطلاعات فراہم کرتے ہیں۔ گھر یا دفتر سے نکلنے سے پہلے ایک ہی نظر میں آپ جان سکتے ہیں کہ آپ کے راستے میں پڑنے والی سڑک پر ٹریفک کی کیا صورتحال ہے۔ کسی زمانے میں ٹرکوں بسوں کے ڈرائیور سامنے سے آنے والے ٹرک یا بس ڈرائیوروں کو ایک مخصوص اشارہ کیا کرتے تھے کہ آگے ٹریفک سارجنٹ کھڑا ہے ۔ سو پچاس کا نوٹ نکال کر ہاتھ میں پکڑ لو۔ آج کل یہی کام فیس بک پر ٹریفک اپڈیٹس گروپ کرتے ہیں۔ امداد ِ باہمی کے زرّیں اصول کے تحت ضروری اطلاعا ت بہم پہنچائی جاتی ہیں مثلاً “ائیرپورٹ روڈ پر نااہل کا روٹ لگا ہے۔” یا “سیونتھ ایونیو پر سپیڈ کیمرہ نصب ہے۔” موسم سرما میں مری یا نتھیا گلی میں موسم کی پہلی برفباری کے موقع پر ممبران ایک دوسرے سے راستوں پر ٹریفک کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ سب ایک دوسرے کو “آل کلئیر” کا جواب دیتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر سبھی مری کی جانب نکلتے ہیں اورچند گھنٹوں بعد ٹی وی پرخبر چلتی ہے، “مری ایکسریس وے پر دس ہزار گاڑیوں کا ہجوم ۔ لاکھوں سیّاح گاڑیوں میں محصور!”
ایک خامی جو اکثر ٹریفک صورتحال گروپوں میں دیکھنے میں آتی ہے وہ پوسٹوں پر دیر سے جواب دینا ہے۔ 2013 کے انتخابات کے دوران مال روڈ پر ٹریفک کی صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ایک بھائی نے کل رات ہی جواب دیا، “آل کلئیر برو!” گھریلو خواتین بھی ایسے گروپوں سے مستفید ہوتی ہیں۔ ایک خاتون نے ابھی ابھی پوچھا ہے ، “گائیز، وہاٹس دی سچوئیشن آن ایکسپریس وے ؟ میں نے واشنگ مشین لگانی ہے!”۔ خواتین اکثر “ریکمنڈیشن نیڈڈ” کے عنوان سے سستے آلو ٹماٹر بیچنے والے سبزی فروش کے بارے میں پوچھتی ہیں اور ادھیڑ عمر مرد ممبران کی جانب سے مدلّل اور درست جواب پاتی ہیں۔ عمومی طور پر مرد ممبران سبزی گھر پر لا دینے کی پیشکش بھی کرتے ہیں اور بلاک ہوتے ہیں۔
“اوہ ایم جی” یا “مُوآہ” گروپ:
ان گروپس کے قیام کا کوئی مخصوص مقصد نہیں ہوتا۔ اس گروپس میں صرف “گڈ مارننگ”، “گڈ ایوننگ”، “گڈنائیٹ” اور “جمعہ مبارک”، “عید مبارک”، “میری کرسمس”، “ھیپی ہولی” قسم کے تہنیتی پیغامات پوسٹ کئے جاتے ھیں۔ گروپ میں اکثر سماجی اور معاشی اہمیت کے حامل سوالات بھی پوچھے جاتے ہیں، مثلاً “سب بتائیں کہ انہوں نے کس رنگ کے کپڑے پہنے ہیں؟” یا “سب بتائیں کہ انہوں نے ناشتےمیں کیا کھایا ہے ؟”۔ ہر بات کے جواب میں ”اوہ ایم جی“ یا ”مُوآہ“ کا ایموجی لگانا لازم مانتےہیں۔ گروپ کے ارکان عمومی طور پر ادھیڑ عمر دوشیزاؤں اور پچاس پچپن سال کے کھلنڈرے نوجوانوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔
مرد ارکان کا کمال یہ ہے کہ گھرسے نکلنے اور گاڑی میں بیٹھنے کے درمیانی وقفے میں درجن بھر سیلفیاں پوسٹ کرتے ہیں۔ خواتین ملاقات کے دوران سلام دعا سے پہلے آسمان کی جانب بازو بلند کرتی ہیں اور سیلفی لینے کے بعد گال سے گال مَس کرتی ہیں اور ہوا میں بوسے پچکارتی ہیں۔ انسان دوستی کا یہ عالم ہے کہ کسی ریسٹورانٹ یا ہوٹل میں داخل ہوتے ہی گروپ میں پوسٹ کرتے ہیں، ”جسٹ چیکڈ اِن ایٹ دی سرینا۔ ۔ ۔ اینی باڈی اراؤنڈ ؟“ اگر اتفاق سے کسی جانب سے اثبات میں جواب آجائے تو لکھتے ہیں، ”اوہ ایم جی۔ ۔ ۔ آئی مینٹ سرینا فیصل آباد!“ انتہائی شستہ اور مہذب لوگ ہوتے ہیں۔ کسی متنازع موضوع پر گفتگو نہیں کرتے مثلاً مذہب، مسلک، سیاست، بال سیاہ یا سنہری کرنے والی کریمیں، گھٹنوں کے درد کا علاج، بڑھتے ہوئے پیٹ کو قابو میں رکھنے والی بیلٹ، وغیرہ۔ ۔ ۔ اگرچہ ان کے اپنے نام بھی ہوتے ہیں لیکن اکثر ایک دوسرے کو “ڈاھلنگ”، “شویٹوُ” یا “ھنی” کہہ کر پکارتے ھیں اور خوش ہوتے ہیں۔ فیس بک گروپس کی اس قسم میں میرے پسندیدہ گروپ “یوتھوپیا” اور “جا منحوس افراد” شامل ہیں۔
یہ فیس بک گروپس کے بارے میں تحقیقی تحریر کاپہلا حصّہ ہے۔ دوسرا حصّہ جلد ہی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے پیش کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: