دیر میں جماعت اسلامی کی شکست کے اسباب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضیاء الرحمان

0
  • 111
    Shares

انتخابات کا دنگل اکھاڑ پچھاڑ کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ کئی بڑے برج دھڑام سے زمیں پر آ گرے۔ بہت سوں کے خوابوں کے شیش محل چکنا چور ہو گئے۔ وہ سونامی جو 2013 میں دیر کے پہاڑوں سے ٹکرا کر خاموش لہر بن چکی تھی اس دفعہ پوری سیاسی بساط ہی الٹا گیا۔ میرے تجزیے کے مطابق دیر لوئر اور اپر میں الیکشن کے یہ نتائج توقعات کے عین مطابق ہیں جن کا اظہار وقتاً فوقتاً میں کرتا رہا (ان مضامین کا لنک)۔ اصل میں دیر میں تحریک انصاف کی جیت جماعت اسلامی کی اندرونی ہار کا نتیجہ ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جس خطرے کی چاپ ہم تین سالوں سے سن رہے تھے جماعت اسلامی کے اکابرین نے اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی اور مجرمانہ خاموشی کے مرتکب ہوئے۔

17 جون 2018 کو اسی ویب سائیٹ پر ایک مضمون کا اختتام میں نے اس الفاظ میں کیا تھا۔

’’اگر ’جماعت اسلامی‘ اور ’جماعت اسلامی بچائو تحریک‘ کے درمیان مصالحتی کوششیں ناکام ثابت ہوتی ہیں تو ایک طرف 2018 کے الیکشن میں جماعت اسلامی دیر لویئر سے ہاتھ دھو بیٹھے گی تو دوسری طرف جماعت اسلامی کو دوبارہ ہولڈ حاصل کرنے کیلئے انتھک محنت اور کافی زیادہ عرصہ درکار ہوگا جو کہ موجوہ صورتحال میں ناممکن نظر آتا ہے‘‘۔

جب جب ہم نے دیر کے زمینی حقائق کا آئینہ دکھانے کی کوشش کی تب تب اہل جماعت نے ہم پر راندہ درگاہ ہونے کا الزام لگایا۔ کچھ سرپھرے ’’یوتھیا‘‘ ہونے کی پھبتی کسنے لگے لیکن کسی کو بھی جواب دینے کے بجائے ہم نے خاموشی سے 25 جولائی کا انتظار کیا۔ امید رکھتا ہوں سب کو جواب مل چکا ہوگا۔

عزیز و اقارب اور دوستوں کے بے حد اصرار پر الیکشن سے ایک مہینہ پہلے ہم نے قلم و قرطاس سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ اب جبکہ الیکشن اور کرسی کا غبار بیٹھنے لگا ہے تو پھر سے قلم سنبھال لیا۔

جماعت اسلامی کے حوالے سے تلخ زمینی حقائق کا اظہار اپنے وقت پر میں نے بار ہا کیا ہے لیکن ابھی ان وجوہات کا ایک اجمالی خاکہ قارئین کے نذر کرنا چاہتا ہوں۔ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ مسائل کے نشاندہی کے بجائے حل پر زیادہ توجہ دینی چاہئے۔ اسی لیئے زیادہ کوشش یہی ہوگی کہ مسائل کے حل پر ڈیبیٹ ہوجائے۔

سراج الحق کے امیر منتخب ہوتے ہی موافق اور مخالف سنجیدہ حلقوں میں یہ بازگشت سنائی دے رہی تھی کہ سراج الحق جماعت اسلامی کے گوربا چوف ثابت ہونگے اور اس بحث کے کئی پہلو ہیں۔

اولاً یہ کہ جماعت اسلامی ایک عالمگیر تحریک ہے۔ جس کی اپنی ایک تاریخ، روایات، دستور اور مزاج ہے۔ جس کے چلانے کیلئے ایک قوی قوت فیصلہ رکھنے والے شخص کا ہونا ضروری ہے جو غیر معمولی حالات میں غیر معمولی فیصلے کرنے کی جرات رکھتا ہوں۔ لیکن سراج صاحب ’’سب اچھا ہے‘‘ کے فلسفے پر جماعت کو چلانے کی تگ و دو کرتے رہے جو کسی بھی صورت تحریک کے مزاج سے میل نہیں کھاتا۔

ثانیاً جماعت کے قیام سے منور حسن کے دور تک اسمبلی میں کمزور پوزیشن کے باوجود جماعت کے امیر کی رائے اور بیانیہ کو سنجیدہ لیا جاتا تھا اور بدترین مخالفین بھی اس حقیقت کا اظہار کرتے تھے لیکن سراج صاحب کی بے منزل اور لاحاصل عوامی سیاست کے جتن میں سنجیدگی کا عنصر بھی زائل ہو گیا۔ عوامی اجتماعات میں بے محل، مزاحیہ اور کمزور قسم کے بیانات نے رہی سہی کسر بھی پوری کر لی۔

کرسی اور اقتدار کی لت جماعت کے صفوں میں زہر گھول گئی۔ جس کی وجہ سے ضلعی شوری بدترین قسم کی گروپنگ اور لابنگ کا شکار ہوگئی، جو بہت سے مخلص اپنوں کے بچھڑنے پر منتج ہوا۔

2013 میں حکومت کا حصہ بننے کے بعد جن نمائندوں کو عہدوں سے نوازا گیا انہی میں سے چند ایک پر سنگین قسم کے الزامات لگا کر بارہا مرکزی نظم تک شواہد پہنچائے گئے لیکن ہر سطح کا نظم مجرمانہ خاموشی کا مرتکب ہوا جس کی وجہ سے پورے علاقے میں جماعت کی بدنامی ہوئی اور میرے تجزیے کے مطابق شکست کا اہم نکتہ یہی ہے۔

2013 میں کمزور پوزیشن میں تحریک انصاف کے ساتھ حکومت بنانے کا فیصلہ جماعت کے کمزور فیصلوں کا آغاز تھا جو کہ آگے بڑھتے ہوئے ایم ایم اے کے بحالی پر منتج ہوا۔ اگر جماعت ایم ایم اے کے بجائے تحریک انصاف کے ساتھ ملکی اتحاد یا سیٹ ایڈجسمنٹ پر غور کرتی تو یہ ان کیلئے بہت بہتر ہوتا جس کا اظہار ہم نے اسی وقت کیا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کُرسی کا خمار مزید جولانی کا تقاضا کرتا ہے۔

منتخب نمائندوں کی اپنے علاقوں میں کارکردگی بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے جس کا واضح ثبوت عنایت اللہ کا اپنی سیٹ پر شاندار فتح ہے۔ وگرنہ عنایت اللہ کی وزارت سے تگڑی وزارت مظفر سید کے پاس تھی۔ بد قسمتی یہ کہ مجموعی طور پر دیر پہ اپنی اجارہ داری سمجھنے کی سوچ جماعت کو لے ڈوبی ہے۔

شکست کی وجوہات میں ایک اہم وجہ جماعت کی دعوتی اور فکری آبیاری سے دوری بھی ہیں۔ ارکان کی دھڑا دھڑ بھرتی سے عوام کا اعتماد جاتا رہا۔ ہر حلقے میں سینکڑوں ارکان بغیر کسی دستوری اور فکری عمل کے بھرتی کیے گئے جو کہ عوام میں جماعت کی جگ ہنسائی کا باعث بن گیا۔

تحریک کیلئے دستور ایک اہم دستاویز ہوتی ہے اور دستور ہی وہ واحد شے ہے جو کہ تحاریک میں شخصیت پرستی کا راستہ روکتی ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حد سے زیادہ مصلحت اور قوت فیصلہ کی کمی کے باعث دستور کے ساتھ لیڈر شپ کے سطح پر سرعام کھلواڑ ہوتا رہا اور ایک مرتبہ پھر چوٹی کے لوگ مصلحت کے شکار ہوکر خاموش تماشائی بنے رہے۔ جن لوگوں نے آواز اٹھانے کی کوشش کی ان کو سائیڈ لائن کیا گیا یا اسی دستور کا طوق گلے میں ڈال کر چپ کرایا گیا۔

میرے خیال کے مطابق بہت سے ارکان اور جماعتی عہدےداروں کو لابنگ، گروپنگ اور بد نظمی کا واضح پتہ تھا لیکن وہ مصلحت کے شکار ہو کر خاموش رہے۔ میں پورے وثوق کے ساتھ کہتا ہوں اگر وہ مل کر توانا آواز اٹھاتے تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے لیکن بد قسمتی کی انتہاء دیکھے کہ ان میں سے اکثر کمر کس کر دفاع کے لئے میدان میں اتر گئے اور مختلف فورمز پر مصلحت کے شکار ساتھی تحریک کے ساتھ کھلواڑ کا دفاع کرتے نظر آئے جو مزید بگاڑ کا باعث بنا۔

ویسے تو بیانات کی حد تک جماعت موروثی سیاست سے پاک ہے لیکن دیر اپر کے زمینی حقائق بدترین قسم کی موروثی سیاست کی مثال ہیں۔ ماضی قریب میں صاحبزادہ ثناءاللہ، صاحبزادہ صبغت اللہ اور ملک حیات خان تازہ ترین مثالیں ہیں جو کہ اپر دیر میں شکست کی بنیادی وجہ ثابت ہوا ہے۔

شکست کے وجوہات کا یہ ایک اجمالی خاکہ تھا جو میں نے قارئین کے سامنے پیش کیا لیکن اب بھی وقت ہاتھ سے گیا نہیں ہے۔ ابتدا میں عرض کیا تھا دیر میں تحریک انصاف کی فتح اصل میں جماعت اسلامی کی اندرونی ہار اور شکست و ریخت کا نتیجہ ہے۔ دیر میں تحریک انصاف کے موجودگی سے انکار ممکن نہیں لیکن میں دیر کے لوگوں کے مزاج اور تحریکی وابستگی سے بخوبی واقف ہوں۔ اگر جماعت ایک نئے سرے سے کام شروع کرے تو باآسانی دیر کے قلعے کی بھاگ ڈور سنبھال سکتی ہے لیکن اخلاص اور زمینی حقائق کا ادراک بنیادی شرط ہے۔ مسائل کے حل اور آئندہ کیلئے ممکنات پر انشاءاللہ اگلے مضمون میں بحث ہو گی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: