موت ہی چارہ ساز ہے اب تو – جویریہ سعید

0

کسی کی خود کشی کی خبر انسان کو اندر تک ہلا ڈالتی ہے. اس دنیا میں میسر تمام نعمتوں میں زندگی سب سے قیمتی  نعمت ہے. یہ وہ شے ہے کہ جس کے لئے انسان اپنا مال، دولت، مرتبہ اور کبھی کبھی اپنی عزت اور اپنے پیاروں تک کو  قربان کرنے کو تیار ہو جاتا ہے. اسی لئے ہم لرز کر رہ جاتے ہیں کہ ایسا کون ہے جو خود اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کے درپے ہو.

ایسی کسی  خبر کے لئے پہلا ردعمل خوف ہوتا ہے. موت انسان کے لئے دنیا کی سب سے بھیانک حقیقت ہے.ایک ایسی  بےرحم پراسراراور ناقابل شکست قوت ، جو انسان کو اس کی ساری محبوب چیزوں کے درمیان سے، ایک انجان دنیا کی طرف ، بڑی بےدردی  سے گھسیٹ کر لے جاتی ہے. رشتے ناتے، خواب، خواہشیں ، آرام آسائش، چمکیلے دن ، پرسکون راتیں، پیاروں کی آغوش، ٹھنڈی ہوائیں ، نرم گرم موسم ، زندگی کی رونقیں اور جینے کے سو بکھیڑے .موت کا بھیانک پنجہ روح و بدن سے ان سب کو نوچ کر الگ کر دیتا ہے اور انسان کو تاریکی کی دنیا کا راہی اور مٹی کی خوراک بنا دیتا ہے. پھر جو اپنی مرضی سے جان لینے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں زندگی سے دامن چھڑانے کے لئے بہت جارحانہ اور خطرناک طریقوں کو اختیار کرنا پڑتا ہے. زندگی کو الوداع کہنے کا ایسا بہیمانہ انداز ہمیں دہشت زدہ کردیتا ہے.

دوسرا رد عمل نفرت کا ہے. الہامی مذاہب خصوصا اسلام اور عیسیٰایت میں یہ ایک بڑا گناہ ہے، اور گناہ کرنے والوں کو ہم نفرت سے دیکھنے کے عادی ہیں خصوصا اگر ہم خود اس گناہ  سے بچے ہوے ہوں، خواہ  کسی اور قبیح تر مرض میں گرفتار ہوں. نفرت اس لئے بھی کی جاتی ہے کہ خود کشی کرنے والے کو ہم کم ہمت، بزدل اور خودغرض سمجھتے ہیں.

سر دست، ہماری بحث اس سے نہیں کہ یہ گناہ ہے یا نہیں، اور ہے تو کیوں. ہمارا مدعا تو اس اسرار کی کھوج لگانا ہے کہ انسان اس قدر تکلیف دہ اور خوفناک عمل کا ارتکاب کرتا ہی کیوں ہے.کیونکہ محض جائز اور ناجائز ہونے کی بحث ہمیں اس  دردمندی اور حساسیت سے بے پروا کردیتی ہے جو اس تکلیف دہ صورتحال سے گزرنے والے شخص کے احساسات اور دکھوں کو سمجھنے اور اسے اس خوفناک عمل سے بچانے کی کوشش کرنے کے لئے ضروری ہیں.   اس ضمن میں  دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ خود کشی کو گناہ سمجھنے والے ہوں یا انسان کا ذاتی حق اور انتخاب ، ہر گروہ  اس بات پر متفق ہے کہ ایسے شخص کی  جان بچانے اور مدد کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے. ، مگر اس کوشش کے لئے جس گہری نظر، دردمندی  اور حساسیت کی ضرورت ہے ، وہ کمیاب ہے .

خودکشی کے کسی  واقعے کا ایک ردعمل اور بھی ہے، اوروہ ہے بےپناہ دکھ کا احساس . مگر اس قیمتی احساس سے عموما وہ دوچار ہوتے ہیں جن کے پیارے اس کے نتیجے میں ان سے جدا ہوے ہوں. دکھ کو ہم قیمتی اس لئے سمجھتے ہیں کہ یہی وہ داعیہ ہے جو مدد کرنے پر آمادہ کرتا ہے. اور دکھ اس وقت ہوتا ہے جب ایسا شخص ہمارے لئے اہمیت رکھتا  ہو اور اس تکلیف دہ فیصلے کے پس پردہ احساسات اور عوامل سے ہم آگاہ ہوں.

اس ضمن میں سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ خود کشی اچانک ردعمل کا نتیجہ نہیں ہوتی.بلکہ  کسی ناقابل برداشت درد اور بے حد تکلیف دہ صورتحال سے ایک عرصے تک لڑنے کے بعد اس سے نجات حاصل کرنے کےلیے  سوچے گئے طریقوں میں سے ایک سوچا سمجھا انتخاب ہوتی ہے.

 اس درد کی صورت گری میں واقعات کی خارجی شکل سے زیادہ داخلی کرب کا کردار ہوتا ہے.  نفسیاتی کرب کسی بھی جسمانی درد سے زیادہ شدید ہوا کرتا ہے.خود ہی سوچیے کتنے لوگ ڈپریشن سے اور کتنے لوگ اپنڈکس یا لبلبے کے درد سے بے حال ہو کر خودکشی کرتے ہیں.   بے انتہا مایوسی،  پچھتاوے، شرمندگی ، غم و غصہ ، اداسی اور اپنے رائگاں ہونے کا احساس اس کرب کو دو آتشہ کردیتا ہے.  انسان اکثر اوقات مرنا نہیں چاہتا بلکہ اس نفسیاتی کرب سے نجات چاہتا ہے. شدید کرب میں مبتلا اس شخص کی کیفیت کچھ ایسی ہوتی ہے جیسے وہ کسی تاریک جنگل میں گھر گیا ہو، نہ روشنی کی کوئی کرن دکھائی  دیتی ہو اور نہ باہر کو نکلنے والا کوئی راستہ.  اس کربناک صورت حال کا ذمہ دار وہ کبھی خود کو سمجھتا ہے اور کبھی دوسروں کو ایسے میں یہ غصہ کبھی خود پر ہوتا ہے اور کبھی ان دوسروں پر جن کے سامنے وہ بے بس ہوتا ہے. یہ کرب اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو محدود کر دیتا ہے. بے بسی اور مایوشی کی کیفیت میں  اسے کوئی راہ نظر نہیں اتی، حالات کے صرف منفی پہلو اس کے سامنے ہوتے ہیں، اور نجات کا کوئی اور راستہ موت کے سوا اسے سجھائی  نہیں دیتا.

 انسانی شعور اس خیال کی مزاحمت کرتا ہے. خود کشی کے خیالات رکھنے والا شخص ایک عرصے تک متذبذب رہتا ہے. کروں یا نہ کروں؟ ہو سکتا ہے وہ کئی بار سڑک پر سے بے احتیاطی سے گزرا ہو اور اچانک ہی واپس دوڑکر اپنے گھر میں گھس گیا ہو، کئی بار مٹی کے تیل کی بوتل ہاتھ میں اٹھا کر یا منہ تک لے جا کر اس نے واپس رکھ دی ہو، کہ اپنے ننھے بچوں کی صورتیں اس کے ذھن میں لہرائی ہوں. کئی بار گاڑی کو بے دردی سے کھائی میں گرا دینے کی شدید خواھش کو اس نے اس لئے دبایا ہو کہ اسے یاد آیا  ہو کہ خدا کہتا ہے کہ وہ مہربان ہے ، اور وہ مجھ سے محبت کرتا ہے. کبھی پنکھے سے رسی باندھ کر اس کا حلقہ گردن سے اس لئے نکالا ہو کہ اس کی ماں یا بیوی یا دوست کا فون آگیا کہ تم کہاں ہو؟ مجھے تم سے ملنا ہے.

خود کشی کو مدد کی التجا بھی کہا جاتا ہے. جی ہاں! کچھ  لوگ مرنے کی خواھش کے ساتھ خود کشی کی کوشش  نہیں کرتےبلکہ  یہ دراصل مدد کے  حصول کی لاشعوری خواھش کا اظہار بھی ہوسکتی ہے. خیال رہے کہ اسے خواہ مخواہ  توجہ حاصل کرنے کی کوشش  کے مترادف نہ سمجھا جاۓ. اس لیے کہ اس کا محرک حقیقی اور شدید نفسیاتی کرب ہوتا ہے اور یہ کوشش جان لیوا بھی ہو سکتی ہے.

خود کشی کے حوالے سے دو بڑے مغالطے اور بھی ہیں. ایک یہ  کہ جو مرنے کی باتیں کرتے ہیں، وہ حقیقتا خود کشی کی کوشش نہیں کرتے ، کیونکہ "جو گرجتے ہیں ، وہ برستے نہیں!” اور دوسرا یہ کہ اگر آپ کسی شخص سے اپنے اس وجدان کی بنا پر ، جو آپ سے کہتا ہے کہ یہ شخص اپنی جان لینے کے بارے میں سوچ رہا ہے،  اس بارے میں سوالات کر کے جاننا چاہیں گے ، تو آپ کی یہ گفتگو اسے خود کشی کرنے کے بارے میں سوچنے کا سبب بن جاۓ گی. تحقیق یہ بتاتی ہے کہ جو خود کشی کی خواھش کا اظہار کرتے ہیں، یا کھلے چھپے الفاظ میں موت کی خواہش ظاہر کرتے ہیں، وہ جلد یا بدیر ایسا کر گزرتے ہیں. اس لئے ایسے کسی بھی اظہار یا گفتگو کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے. اسی طرح، سوال پوچھنے سے آپ کسی کو مر جانے پر مجبور نہیں کر سکتے. زندگی اتنی قیمتی شے ہے کہ کسی کے محض تذکرے سے کوئی اس سے جان نہیں چھڑانا چاہے گا. خود کشی کا فیصلہ تو ایک مدت تک اذیت ناک کیفیت میں مبتلا رہنے کے بعد، واحد اور قابل عمل راہ نجات بن کر ظاہر ہوتا ہے. لہٰذا سوال پوچھا جانا چاہیے. دردمندی، حساسیت اور آہستگی سے دل مضبوط کر کے پوچھنا چاہیے کہ کیا تم موت کے بارے میں سوچ رہے ہو؟ اور کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ تم خود کشی کرنا چاہتے ہو؟

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے پیاروں کے لئے وہ سننے والا کان اور رونے والا کندھا بن سکیں. خصوصا نوجوانی میں جذبات میں طغیانی بھی ہوتی ہے، انسان اپنی شناخت اور اپنے وجود کی اہمیت سے متعلق سوالوں اور الجھنوں سے لڑ رہا ہوتا ہے، لمحہ موجود کا فسوں اس پر زیادہ گہرا ہوتا ہے، اور دور رس اور پائیدار نتائج کے مقابلہ میں عارضی ہی سہی، فوری حصول یا نجات اس کو زیادہ اپیل کرتا ہے. مصلحت اندیشی اور اصول زمانہ کی پابندی اس کو قائل نہیں کرتی. ایسے میں کچھ ان لوگوں کی ضرورت ہے جو جذبات کی طغیانی اور سیمابی کیفیت کا ادراک کر کے ان کو سنبھالنے میں مدد کر سکیں. تحقیق کے مطابق نوجوان اور اوسط عمر کے لوگ زیادہ خود کشی کرتے ہیں. عورتیں مردوں کے مقابلے میں زیادہ کوشش کرتی ہیں مگر مردوں کی کوشش زیادہ ہلاکت خیز ہوتی ہے کیونکہ وہ زیادہ جارحانہ طریقے استعمال کرتے ہیں.

اگر  آپ کسی ایسے کو جانتے ہیں جو ایسی کسی صورتحال سے گذر رہا ہو، تو اسے محض گنہہ کا احساس دلا کر استغفار کرنے کا کہہ کر "ہش چپ” نہ کروا دیجیے. کیونکہ جو انسان کرب سے گزرتا ہے، وہ خدا سے بھی خفا ہوسکتا ہے، اور خفگی میں کسی کو یہ پروا نہیں ہوتی کہ وہ اسے کس چیز سے روکا گیا ہے. بلکہ وہ خفا ہو کر خود کو تکلیف دینے کی زیادہ کوشش کرسکتا ہے. آپ اس کی بات توجہ اور ہمدردی سے سنیے. اس کی تکلیف کو چھوٹا یا کسی اور کی تکلیف سے کم تر جتانے کی کوشش بھی نہ کیجیے. کیونکہ بانجھ ہونے کے دکھ، قرض میں دبے ہونے کی مشکل ، جنسی زیادتی کا شکار ہونے  کی اذیت ناک کیفیت یا دل کے مرض میں مبتلا ہونے کے درمیان کس کا دکھ زیادہ ہے یا کم، اس کو جانچنے کا  کوئی پیمانہ انسان اب تک دریافت نہ کرسکا. ہر ایک کے لئے اپنا درد سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے. اس کی تائید کیجیے. اور ایسے لوگوں خصوصا تجربہ کار لوگوں سے اس کو ملوانے کی کوشش کیجیے جو اس میدان میں باقائدہ کام کرتے ہوں، مثلا ڈاکٹر، ماہرین نفسیات، کونسلر ، اس کی حساسیت کو سمجھنے والے علماء و ائمہ کرام وغیرہ.

انسان ہونے کے ناتے ، میرا ہر شخص سے رشتہ ہے، اور شاید درد اور غمگساری کا رشتہ سب سے مضبوط ہوتا ہے. مجھے یاد رہتا ہے کہ  خدا اپنی کتاب میں کہتا ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی ، اس نے گویا ساری انسانیت کو بچا لیا. بچانے کے لئے احساس سب سے پہلا قدم ہے. مجھے خوشی  ہو گی اگر میری یہ تحریر کسی کے جذبات کے تاروں کو چھیڑنے میں کامیاب ہو جاۓ.  

 

   

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: